میں سوچ رہا ہوں یہ محبت کیا ہے؟
میں سوچ رہاں ہوں یہ محبت کیا ہے؟ محبت چیز کیا ہے اور یہ ہوتی کیوں ہے؟ محبت کی شکل یا پiمانہ؟ یہ احساس ہے؟ جذبہ یا پھر نفسیاتی مسئلہ؟ محبت کی جاتی ہے؟ ہوجاتی؟ یہ فطری عمل ہy یا مجبوری؟ محبت کے متعلق دین سائنس اور دیگر علوم کا کیا کہنا ہے؟ مشاہدے کی نگاہ سے دیکھیں تو ایسے اور انگنت سوال جواب طلب ہیں۔ دین محبت کے متعلق رہنمائی کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ محبت کا احساس انسانی فطرت میں خود اس کے پروردگار نے دیا ہے اور وہ اس جذبے سے سرشار ہو کر رہے گا۔
اور یہ (بھی) اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کی طرف سکون پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی، بیشک اس (نظامِ تخلیق) میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔ (سورۃ الروم۔ آیت 22 ) نبی کریم ﷺ نے تعلیمات دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو نکاح کی طاقت رکھے وہ شادی کر لے اور جس میں طاقت نہ ہو وہ روزے رکھے۔
سائنسی اعتبار سے یہ جذبہ کرہ ارض کی ہر ذی روح مخلوق میں موجود ہے، سائنسی ماہرین کے مطابق محبت دماغ میں رونما ہونے والی کیمیائی تبدیلی ہے، طب یونان محبت کو دیوانگی جبکہ ماہر نفسیات اسے فطری کشش قراردے رہا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق محبت کرنے والے کے دماغ میں مختلف اقسام کے ہارمون پیدا ہوتے ہیں۔ نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ محبت کرنے والا لاشعوری طور پر جنسی کشش میں مبتلا ہوتا ہے۔ جبکہ علم ریاضی میں محبت کے اصول جمع یعنی یکجا یا متحد کرنے کے اصول کا نام دیا جا رہا ہے۔
ایک طرف شاعر اور ادیب، دانشور محبت کو سب سے لطیف اور پاکیزہ جذبہ قراردیتے ہیں تو دوسری جانب محبت کو اندھا لکھتے ہیں۔ کیا واقعی محبت اندھی ہوتی ہے؟ کچھ لکھاری اور محققین محبت کی یہ تعریف دے رہے ہیں کہ محبوب پر خود کو نچھاور کرنے اور اس کی اطاعت ہے۔ ایک طرف ڈراموں کا شور دوسری طرف فلمی فرضی کہانیاں جس نے سماج میں تعمیر کے بجائے زوال برپا کردیا ہے، اس حقیقت سے دور ی اور خیالی چمک نے معاشرے کو بگاڑ کے سوا اور کچھ نہیں دیا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر محبت کی شادیاں ناکام رپورٹ ہو رہی ہیں نفسیاتی ماہرین کا اس سے مطعلق کہنا ہے کہ ناکام رشتہ کا بنیادی سبب توقعات پر پورا نا اترنا ہے۔ ماہر نفسیات کے مطابق دیرپا محبت وہ ہوتی ہے جو لمبے عرصے کے میل ملاپ اور ایک دوسرے کی خوبیاں اور خامیاں قبول کرنے سے پروان چڑھتی ہے۔ محبت شادی کے بعد شریک حیات سے کی جائے تو راحت تا حیات آپ کی بن جاتی ہے، یہ محبت کا رشتہ ہو تو فیصلہ بھی آپ کے حق میں ہوتا ہے۔ شادی سے پہلے محبت کے متعلق ایک حدیث نبی کریم ﷺ کا مفہوم ہے کے آپ نے روزہ رکھا ہو اور بس کچھ دیر بعد افطار کا وقت ہوا چاہتا ہے اور آپنے رواز توڑ دیا۔ شادی سے پہلے محبت کا نتیجہ عزت اور عظمت کی دھجیاں اڑنے خاندان والوں کی عزتوں پر سوال اٹھنے اور ہجر میں جلنا ہی ملتا ہے۔


