رسمی وزیر اعظم کی رونمائی اور آئی ایس پی آر کا ہدایت نامہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان شاید دنیا کی واحد ’جمہوریت‘ ہے جس میں ایک آئینی صدر کے علاوہ اب ایک ’آئینی یا رسمی وزیر اعظم ‘ کی باقاعدہ رونمائی کی جارہی ہے۔ اس وقت اس محیر العقل کارنامہ کا مظاہرہ امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں ہورہاہے۔ جہاں کام کی باتیں کرنے اور امریکی حکومت کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لئے تو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید امریکی دارالحکومت میں موجود ہیں لیکن ہاتھی کے دانتوں کی طرح پاکستان میں جمہوریت کا ڈھونگ دکھانے کے لئے وزیر اعظم عمران خان اس وفد کی قیادت کررہے ہیں۔

میڈیا کے علاوہ عام سمجھ بوجھ رکھنے والا کوئی بھی شخص چونکہ یہ تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہے کہ پاکستان میں اس وقت طاقت کا جو توازن تشکیل دیا گیا ہے اور ایک پیج اور سول ملٹری اشتراک کے نام سے جو سیاسی ڈاکٹرائن متعارف کروائی گئی ہے، اس میں منتخب وزیر اعظم یا پارلیمنٹ کا اس کے سوا کوئی کردار باقی رہ گیا ہے کہ جمہوریت کی رسم پوری کرنے کے لئے بعض افراد کو یہ عہدے تفویض کئے گئے ہیں۔ یہ لوگ خود کو اپنے بااختیار ہونے کا یقین دلانے کے لئے بار بار اس کا اعلان بھی کرتے رہتے ہیں۔ یہ اعلان کبھی براہ راست اپنے اختیار کا ذکر کرکے یا پھر دشمنوں کو ختم کرنے کا اعلان کرکے کیا جاتا ہے۔ ا ور کبھی قومی اسمبلی کے اسپیکر  ’سیلکٹد یا نامزد‘ کو غیر پارلیمانی لفظ قرار دے کر ایوان میں استعمال کرنے پر پابندی کے ذریعے اس کا مظاہرہ ضروری سمجھتے ہیں ۔ لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود وہ سچائی چھپائے نہیں بنتی  جو پاکستانی سیاست کے کوٹھے پر چڑھ کر بول رہی ہے۔ اسی لئے شاید اب اس کام کے لئے بھی فوج کی مدد طلب کی گئی ہے۔

سرکاری وفد کے ساتھ گئے ہوئے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے واشنگٹن میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے پاکستانی صحافیوں کو مطلع کیا ہے کہ امریکہ کا دورہ کرنے والے پاکستانی وفد کی قیادت جنرل قمر جاوید باجوہ نہیں بلکہ وزیر اعظم عمران خان کررہے ہیں۔ اس لئے ان پر توجہ مبذول کی جائے اور انہی کو فوکس کیا جائے۔ چونکہ عمران خان گزشتہ برس ملک میں منعقد ہونے والے انتخابات میں کامیابی کے بعد قومی اسمبلی کی اکثریت سے اعتماد کا ووٹ لے کر ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے۔ لیکن پیپلز پارٹی کے نوجوان چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسی وقت ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات بھانپ لئے تھے اور عمران خان کو مبارک بار دیتے ہوئے انہیں وزیراعظم سیلیکٹ ہونے پر مبارک باد بھی پیش کی تھی۔

 اس وقت تو اس مبارک باد کو خوش دلی سے قبول کرلیا گیا تھا تاہم یہ عہدہ سنبھالنے کے نو ماہ بعد عمران خان کو احساس ہؤا کہ دراصل اس لفظ کے ذریعے ان پر طنز کی گئی تھی یا ان کے اختیارات کا مذاق اڑایا گیا تھا۔ اس پر انہوں نے اپوزیشن لیڈروں کے خلاف بھڑاس ایک تو یوں نکالی کہ اپوزیشن کے زیر حراست ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا طریقہ رکوایا اور اس کے ساتھ ہی میڈیا پر یہ پابندی عائد کی گئی کہ وہ کسی ایسے سیاسی لیڈر کا انٹرویو نشر نہیں کرسکتا جو کسی الزام میں سزا یافتہ ہو یا جس کے خلاف کسی الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہو۔ یہ نیک مقصد پورا کرنے کے لئے ملکی کابینہ کو الیکٹرانک میڈیا کنٹرول اتھارٹی پیمرا کو بتانا پڑا کہ اس کے ’اختیارات‘ کیا ہیں اور انہیں کیسے استعمال کرنا چاہئے۔ اس پر بھی تسلی نہیں ہوئی اور نامزد کی گونج پیچھا کرتی محسوس ہوئی تو قومی اسمبلی کے اسپیکر کو وزیر اعظم کو ’منتخب‘ ثابت کرنے کے لئے لفظ نامزد کو غیر پارلیمانی قرار دینا پڑا۔

ستم ظریفی مگر یہ ہے کہ لغت یا سیاسی اصطلاحات کا استعمال حکومت یا قومی اسمبلی کے اسپیکر کی مرضی کا محتاج نہیں ہے۔ الفاظ کا استعمال اور سیاسی طریقہ کار کی تفہیم واقعاتی صورت حال کے مطابق ہی ہوتی ہے۔ وزیر اعظم کے اختیار کو اس لفظ سے نہیں ماپا جاسکتا کہ انہیں منتخب کہا جارہا ہے یا نامزد سمجھا جارہا ہے بلکہ اس حقیقت حال کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ملک میں پالیسی بنانے اور فیصلے کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے۔ اس حوالے سے فوج کا کردار اور اہمیت چونکہ روز بروز واضح ہوتی جارہی ہے ، اس لئے نامزد یا کٹھ پتلی وزیر اعظم کا نعرہ اپوزیشن لیڈروں کا تکیہ کلام ہی نہیں ہےبلکہ ملکی اور عالمی سیاسی تجزیہ نگار بھی اس بات کو سمجھنے لگے ہیں کہ پاکستان میں اختیارات کا مرکز کہاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیر اعظم کی امریکی دارالحکومت میں آمد سے پہلے میڈیا کو یہ بتایا کہ اعلیٰ فوجی قیادت بھی ان کے ہمراہ ہوگی تو بہت سے چہروں پر زیر لب مسکراہٹ دیکھی جاسکتی تھی۔

امریکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی کے لئے پاکستان سے مزید تعاون کا خواہشمند ہے۔ امریکہ کے متلون مزاج صدر ٹرمپ کو اگلے برس ہونے والے انتخابات سے پہلے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا اعلان کرنے کی جلدی ہے اور یہ کام اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک دوحہ میں زلمے خلیل زاد کے ساتھ مذاکرات کرنے والے افغان طالبان کے نمائیندے امریکہ کی خواہش کے مطابق صدر اشرف غنی کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کا آغاز نہ کریں۔ دوسرے لفظوں میں افغانستان کے موجودہ سیاسی نظام کو جائز تسلیم کرتے ہوئے اسلامی آئین نافذ کرنے کی تکرار بند نہ کردیں۔ صدر ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں کا خیال ہے کہ یہ مقصد صرف پاک فوج کے تعاون سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ اگر پاکستان کے وزیر اعظم اپنے آرمی چیف کو ہمراہ لئے بغیر صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لئے پہنچ جاتے تو امریکہ کو اس سے کیا فائدہ حاصل ہو سکتا تھا؟ کیا وزیر اعظم افغان مذاکرات کے حوالے سے کوئی ایسا وعدہ کرنے یا کسی ایسے فیصلہ پر عمل کروانے کا اختیار رکھتا ہے جسے فوج قبول کرنے پر آمادہ نہ ہو؟ اس لئے جنرل قمر جاوید باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا اس موقع پر موجود ہونا ضروری تھا۔

اس صورت میں میڈیا بیچارا کیا کرے۔ وہ تو اسی کی طرف دیکھے گا اور اسی سے صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کرے گا جو معاملات کی فہم رکھنے کے علاوہ ان پر دسترس و اختیار بھی رکھتا ہو۔ میجر جنرل آصف غفور نے ضرور اپنی سی کوشش کی ہے لیکن ان کی باتیں اور رہنما اصول زمینی حقائق تبدیل کرنے کی طاقت نہیں رکھتیں۔ شاید یہ پاک فوج کے ترجمان کا مقصد بھی نہیں ہے۔ کیوں کہ فوج کو اس بات پر شرمندگی یا پشیمانی نہیں ہے کہ وہ قومی مسائل اور معاملات میں قائدانہ اور فیصلہ کن کردار ادا کررہی ہے۔ آئی ایس پی آار کے سربراہ کی خواہش صرف یہ ہے کہ پروٹوکول کے مطابق وزیر اعظم کو پاکستانی وفد کا اسی طرح قائد مانا جائے جس طرح پاکستان میں صدر مملکت کو کسی اختیار کے بغیر نشست و برخواست اور پروٹوکول میں تعظیم و ترجیح دی جاتی ہے۔

پاکستان میں دراصل آئینی صدر کے بعد آئینی یا رسمی وزیر اعظم سے کام لینے کا تجربہ کیا جا رہا ہے۔ میڈیا چونکہ اس تجربہ کی تفصیلات سے پوری طرح آشنا نہیں ہے ، اسی لئے وہ بھاری بھر کم پاکستانی وفد میں شامل صاحبان اختیار کو ہی خبر اور تبصرے کا موضوع بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ میجر جنرل صاحب نے اسی کوتاہی کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اختیار خواہ کہیں بھی ہو لیکن اسمبلی نے عمران خان کو وزیر اعظم منتخب کیا ہے، اس لئے پروٹوکول کا تقاضا ہے کہ توجہ انہی پر مبذول رہنی چاہئے ۔ جیسے صدر ٹرمپ فوٹو سیشن تو عمران خان کے ساتھ ہی کریں گے، معاملات خواہ جنرل باجوہ کے ساتھ طے ہوں۔ اسی طرح میجر جنرل آصف غفور نے صحافیوں کو ’مثبت رپورٹنگ اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ‘ ادا کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

پاکستانی جمہوریت میں وزیر اعظم کی رسمی حیثیت تسلیم کرتے ہوئے ملک کے صحافیوں کو یہ اندازہ بھی ہونے لگے گا کہ میجر جنرل آصف غفور صرف فوج کے ترجمان ہی نہیں ہیں بلکہ قومی مفاد اور مثبت رپورٹنگ کے خد و خال سمجھانے کے منصب پر بھی فائز ہیں ۔ اس لئے ان کی بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ معاملات کو واقعات اور خبر کے حوالے سے دیکھنے کے عادی صحافیوں کو شاید یہ نیا انتظام سمجھنے اور اصطلاحات کی تفہیم میں کچھ وقت لگے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1262 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali