عمران خان اب امریکہ کے ساتھ بھی ’ایک پیج‘ پر: خدا خیر کرے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم امریکہ کا سہ روزہ طوفانی دورہ کرنے کے بعد پاکستان روانہ ہوچکے ہیں۔ اس دورہ کو متعدد وجوہات کی بنیاد پر یاد رکھا جائے گا اور اس کے اثرات آنے والے وقت میں بھی محسوس کئے جاتے رہیں گے۔ لیکن وزیر اعظم کا یہ کہنا کہ پاکستان بھی امریکہ کی طرح علاقے میں امن کا خواہش مند ہے ، واقعاتی لحاظ سے درست رائے نہیں۔

پاکستان بلاشبہ علاقے میں امن چاہتا ہے۔ افغانستان میں قیام امن سے پاکستان کے لئے دہشت گردی اور انتہاپسندی میں قابو پانا آسان ہو جائے گا۔ اس طرح افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا راستہ بھی ہموار ہوسکتا ہے جس سے پاکستان ایک غیر ضروری معاشی اور سیاسی ذمہ داری سے نجات حاصل کرسکتا ہے۔ تاہم امریکہ کے بارے میں یہ کہنا درست بیان نہیں ہو سکتا کہ اسے بھی افغانستان میں امن کی خواہش ہے۔ امریکی حکومت افغان امن معاہدہ کی آڑ میں وہاں سے اپنی افواج نکالنے کے لئے بے چین ہے۔ اسی لئے امریکہ افغان طالبان سے بات چیت پر آمادہ ہؤا ہے۔ یہ بات چیت صدر ٹرمپ سمیت امریکی قیادت کی سیاسی مجبوری ضرور ہے لیکن اسے امن کی خواہش قرار دینا، امریکہ کے عزائم اور صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا۔

عمران خان نے اسلام آباد روانگی سے قبل واشنگٹن کے ایک معروف تھنک ٹینک یونائیٹڈ اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف پیس (یو ایس آئی پی) میں تقریب سے خطاب کے دوران خود ہی ایران کے خلاف جنگ کی صورت حال کے بارے میں متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ باقی ممالک کو اس بات کا اندازہ ہے یا نہیں کہ ایران کے ساتھ تنازع کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ عراق جیسا نہیں ہو گا۔ یہ اس سے کہیں زیادہ برا ہو گا۔ اس کے پاکستان پر بھی منفی اثرات ہوں گے۔ اس سے دہشتگردی بڑھے گی اور لوگ القاعدہ کو بھی بھول جائیں گے‘۔

 پاکستانی وزیر اعظم کی اس بات اور تجزیہ سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا لیکن انہیں یہ بھی یاد ہو گا کہ امریکی صدر نے ان کے ساتھ گفتگو میں ایران کو ’جھوٹا‘ قرار دیتے ہوئے عمران خان سے پوچھا تھا کہ ’آپ تو جھوٹ نہیں بولیں گے‘ ۔ اس پر عمران خان نے یقین دہانی کروائی تھی کہ پاکستان جو وعدہ کرے گا اس پر پورا اترے گا۔ گزشتہ پندرہ برس کے دوران رونما ہونے والے واقعات کو خواہ کیسے ہی بیان کرنے کی کوشش کی جائے لیکن جب بھی کسی معاملہ پر فریقین کے درمیان اختلافات، براہ راست الزام تراشی تک پہنچ جائیں تو ا س میں صرف ایک ملک قصور وار نہیں ہوتا۔ انہیں محض یہ کر کہہ کر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ سابقہ حکومتیں زمینی حقائق سے امریکی لیڈروں کو آگاہ کرنے میں ناکام رہی تھیں ۔ اور اب عمران خان نے یہ بیڑا اٹھایا ہے کہ صدر ٹرمپ اور امریکی لیڈروں کو اس خطے کی حقیقی صورت حال سے آگاہ کیاجائے۔

صدر ٹرپ کی طرف سے بات صرف ایران کے خلاف جنگ کا ماحول پیدا کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ عمران خان کے ساتھ ملاقات کے دوران ہی امریکی صدر نے یہ بھی کہا تھا کہ ’عمران خان جانتے ہیں کہ میرے پاس اس مسئلکہ کو فوری حل کرنے کا دوسرا راستہ بھی ہے۔ میں دس دن میں افغانستان کو تباہ کرکے اس مسئلہ کو حل کرسکتا ہوں ۔ البتہ اس میں دس ملین لوگ مارے جائیں گے۔ میں یہ نہیں چاہتا‘۔ ایک خوشگوار سفارتی ملاقات میں کسی ملک کو تباہ کرنے کی بات کرنے والا کوئی بھی لیڈر امن پسند کے علاوہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

 ڈونلڈ ٹرمپ خود کو امریکی مفادات کا سب سے بڑا محافظ سمجھتے ہیں اور اس مقصد کے لئے کسی بھی ملک کو تباہ کرنے اور جنگ مسلط کرنے پر آمادہ و تیار رہتے ہیں۔ ایران کے خلاف حالات کشیدہ کرنے اور تصادم تک پہنچا نے کی تمام تر ذمہ داری امریکی صدر پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے سابق صدر باراک اوباما کی ضد میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدہ سے علیحدگی اختیار کی تھی اور اب مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب اور اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے جنگی ماحول پیدا کرچکے ہیں۔ یہ جنگ مسلط کی گئی تو بلا شبہ مشرق وسطیٰ اور برصغیر کے وسیع علاقوں میں اس کے دیرپا اثرات محسوس کئے جاتے رہیں گے۔

ماضی میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان بداعتمادی کا حوالہ دیتے ہوئے عمران خان نے اسے امریکہ کی غلط فہمی قرار دیا کہ پاکستان اس کے ساتھ ڈبل گیم کررہا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ صدر ٹرمپ سے ان کی ملاقات کے بعد حالات تبدیل ہوچکے ہیں اور’ اب پاکستان اور امریکہ ایک صفحے پر ہیں‘۔ اس ایک صفحہ پر البتہ جلی حروف سے یہ لکھا ہے کہ پاکستان، افغان طالبان کو کابل میں امریکہ کی نافذ کردہ حکومت کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ کرے گا تاکہ امن معاہدہ کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہوسکیں۔ گویا پاکستان کے بارے میں وہائٹ ہاؤس اور امریکی حکومت اسی وقت تک مثبت اور حوصلہ افزا باتیں کرے گی جب تک افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے لئے پاکستان کردار ادا کرتا رہے گا۔ یا جب تک یہ محسوس کیاجاتا رہے گا کہ پاکستان کی مدد کے بغیر طالبان سے معاملات کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

یہی وجہ ہے کہ یو ایس آئی پی میں گفتگو کے دوران بھی عمران خان نے یہ وعدہ کرنا ضروری سمجھا ہے کہ ’ امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد اب وہ پاکستان واپس جا کر طالبان کی قیادت سے ملاقات کریں گے اور ان پر زور دیں گے کہ وہ افغانستان میں قیام امن کے لیے افغان حکومت سے براہ راست بات چیت شروع کریں‘۔ طالبان اس پر راضی ہوگئے تو پاکستان واقعی امریکہ کی نظر میں حلیف اور عمران خان ہیرو کا درجہ پائیں گے لیکن یہ قیاس بھی کرلینا چاہئے کہ اس مقصد میں ناکامی کی صورت میں ٹرمپ انتظامیہ کا طرز عمل کیا ہوگا۔

افغان امن معاہدہ کے ایک نکاتی ایجنڈے پر ہونے والے اس دورے کے مقاصد کو خواہ جتنا بھی پھیلا کر بیان کیا جائے لیکن پاکستانی قیادت کو کسی صورت امریکہ کے علاوہ طالبان کے حوالے سے اپنی مجبوریوں کو فراموش نہیں کرنا چاہئے ورنہ امریکہ کے ساتھ ایک صفحہ پر ہونے کا دعویٰ ڈبل گیم کے پرانے الزامات میں تبدیل ہوتے دیر نہیں لگے گی۔ امریکہ کے اہداف واضح ہیں۔ اسے افغانستان کا مسئلہ حل کرنے کے لئے پاکستان کی ضرورت ہے اور وہ چاہتا کہ پاکستان، افغانستان کو طویل عرصہ تک ’اسٹریجک ڈیپتھ ‘ قرار دینے اور سمجھنے کے بعد اب اپنی حکمت عملی تبدیل کرے۔ اور مستقبل میں طالبان کے ذریعے کابل حکومت کومسلسل دباؤ میں رکھنے کا خواب دیکھنا بند کردے۔ اس حوالے سے کئے جانے والا ہر نیا وعدہ ماضی میں پاکستانی حکمت عملی میں تبدیلی کی طرف اٹھتا قدم ہو گا۔ واضح رہے کہ ماضی کی افغان پالیسی بھی فوج نے تیار کی تھی اور اب بھی اسی کو فیصلہ کرنا ہے کہ افغانستان کو پاکستان کے دفاع کے لئے ضروری سمجھتے ہوئے وہ کتنی ڈھیل دینے کے لئے تیار ہے۔ اس میں پاکستان کی پارلیمنٹ یا منتخب حکومت کاکردار نہ ہونے کے برابر ہے۔

تاہم عمران خان سے ملاقات کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیر اعظم کی طرف سے کشمیر میں ثالثی اور افغانستان کو دس روز میں نیست و نابود کرنے کی جو باتیں کی ہیں ان کی وجہ سے نئی دہلی سے کابل تک تردید، بے چینی اور احتجاج کی ایک لہر ضرور پیدا ہوئی ہے۔ اسی طرح عمران خان نے اس دورہ کے دوران جوش خطابت میں بعض ایسی باتیں کی ہیں جو متعدد نئے سوالوں کو جنم دیں گی اور ایک نئی بحث کا موضوع بنیں گی۔ ان باتوں میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ مئی 2011 میں اسامہ بن لادن تک پہنچنے کے لئے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی ویکسین مہم نے نہیں بلکہ آئی ایس آئی نے امریکہ کو معلومات فراہم کی تھیں۔ عمران خان لگے ہاتھوں اگر یہ بھی بتا دیتے کہ القاعدہ کے لیڈر اور دنیا کے بدنام ترین دہشت گرد کو ایبٹ آباد میں پانچ برس تک کس نے محفوظ رکھا تھا تو اس بارے میں سب سوالوں کے جواب سامنے آجاتے۔

عمران خان نے علاقے میں دہشت گردی کے فروغ کا ایک ہی سبب بتایا ہے کہ نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کا حلیف بننے کا فیصلہ کیا تھا جس کی وجہ سے ناراضگی پیدا ہوئی اور دہشتگردی میں اضافہ ہؤا۔ یہ مؤقف مسائل کی آسان تفہیم کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے طرز عمل سے ملتا جلتا ہے۔ شاید اسی لئے کہا جارہا ہے کہ دونوں لیڈروں میں ملاقات کے دوران گاڑھی چھننے لگی ہے۔ اللہ اس دوستی کا انجام بخیر کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1260 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali