اختلافی آرا: رہ آب سے ابھی سنگ خارا ہٹا نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مہذب معاشرے اعتدال پسندی کے وصف سے مزین ہو کر اپنے خیالات، نظریات اور رجحانات میں انتہا پسندی کے سامنے بند باندھتے ہیں۔ معاشرے میں اختلاف ایک فطری امر ہے اور اس کا اظہار ایک بنیادی انسانی حق گردانا گیا ہے۔ یک رنگی فطرت کا قانون ہے اور نا ہی انسانی ذہن کی ساخت کسی ایک نظریے کے سانچے میں ڈھلی ہوتی ہے کہ تمام انسان ایک طرح کی سوچ اور خیال کے حامل ہوں۔ معاشروں میں اظہار رائے کی آزادی نظریات اور خیالات کی بوقلمونی کی ترجمانی کرتی ہے۔

افسوس صد افسوس کہ ایک مہذب اور اعتدال پسند معاشرے کے وہ تمام اوصاف ہمارے ہاں عنقا ہیں جو اختلافی آراء کو پہلو بہ پہلو جینے کی اجازت دیتے ہیں۔ پاکستانی معاشرہ اس وقت ایک فکری ہیجان اور انتشار کا شکار ہے جس میں مخالفانہ آراء رکھنے والے کچھ ایسے باہم دست و گریبان ہیں کہ شائستگی اور اخلاقیات کے سارے قاعدے اور قرینے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ ملک میں گزشتہ گیارہ برسوں سے ایک جمہوری عمل رواں دواں ہے لیکن یہ عمل نام کا جمہوری ہونے کے علاوہ اپنے اندر جمہوریت اور آزادی رائے کی ایک بھی خصوصیت نہیں رکھتا۔

آج حالت اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ جو جس قدر بدزبان اور بد لحاظ ہوگا وہ اپنے ہم خیال طبقے میں اس قدر ہی مقبول و معروف ہوگا۔ سیاست کی بات ہی لے لیں۔ موجودہ وقت میں ہر منہ پھٹ اور بد تہذیب شخص اپنی قیادت کی آنکھوں کا تارا ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی جماعت کے کارکنان میں مقبول ہو گا۔ فیاض الحسن چوہان کی جب جے جے کار ہوتی ہے تو پھر صمصام بخاری ایسے شائستہ انداز میں اختلاف کرنے والے کی دال کیسے گل پائے گی۔ جب شیخ رشید کی زبان سے بد تہذیبی اور غیر شائستہ کلمات کو درجہ شرف قبولیت بخشا جائے گا تو پھر خوش اخلاقی سے اختلاف کرنے والے کسی دوسرے شخص کو کیسے برداشت کیا جائے گا۔

جب رانا ثناءاللہ، عابد شیر علی، طلال چوہدری کی قبیل کے اشخاص کے حوالے مخالفین کو رگیدنے کا مشن کیا جائے گا تو پھر بیچارے ان شریف النفس نواز لیگیوں کو کون گھاس ڈالے گا جو اختلاف کرتے ہوئے اخلاقیات کا دامن اپنے ہاتھ سے نہیں گرنے دیتے۔ نجی ٹی وی چینلوں نے بھی تہیہ کر رکھا ہے کہ جو جس قدر بڑا بد تمیز اور بد زبان ہوگا وہی ان کا ٹاک شو میں مہمان ہو گا۔ جو بد کلامی میں دوجہ کمال کو پہنچا ہوگا وہ ٹی وی اسکرین کی زینت بنے گا۔

سوشل میڈیا نامی فورم نے تو بد تمیزی اور بد تہذیبی کے نئے مواقع فراہم کر دیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اختلافی آراء گالی و دشنام کی زد میں کچھ اس طرح آتی ہیں کہ انسان کے لیے اپنی عزت بچانا مشکل ہو جائے۔ سوشل میڈیا پر اختلافی آراء کا معاملہ اس نوع سے بھی گھمبیر ہے کہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے ”مجاہدین“ برہنہ شمشیریں لے کر کسی پر غداری اور کسی پر کفر کے فتوے لگانے میں ذرا برابر تامل بھی نہیں کرتے۔

آج معاشرے میں انتہا پسندی کے رجحانات و نظریات اگر کھلے سانڈ کی طرح دوڑتے پھرتے ہیں تو اس پر ان نام نہاد قائدین کو الزام دینا جائز ہوگا جو قوم کی سیاسی، مذہبی اور فکری قیادت کے بزعم خود دعویدار رہے ہیں۔ ان صاحبان قیادت نے فرد اور قوم کی تعمیر تو خیر کیا کرنی تھی انہوں نے اسے مزید بگاڑ کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ ماضی بعید میں جھانکنے کی بجائے ماضی قریب کو ہی لے لیں۔ وہ سیاسی قیادت جو اس وقت حیات ہے ان کا ماضی اور حال ملاحظہ کر لیں تو معاشرے میں مخالفین کے خلاف گھٹیا ہتھکنڈوں اور بازاری زبان کی ساری حقیقت سامنے آ جائے گی۔

نوے کی دہائی میں میاں نواز شریف اور ان کے حواریوں نے بے نظیر بھٹو اور ان کی والدہ نصرت بھٹو کے بارے میں جو انتہا پسندانہ رویہ اپنایا وہ ان کے اور ان کے حواریوں کے ان بیانات سے لگایا جا سکتا ہے جسمیں گھٹیا اور بازاری زبان کے ساتھ ساتھ ملک دشمنی کے الزامات بھی شامل تھے۔ وقت نے کروٹ بدلی تو نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کو ایسی زبان کا سامنا کرنا پڑا جب ان کی مخالف سیاسی جماعت تحریک انصاف نے انہیں یوں رگیدا کہ مخالفت گھٹیا پن کو چھونے لگی۔

ایسا نہیں ہے کہ نواز شریف اینڈ کمپنی نے عمران خان کو بخش دیا ہو اور کسی صوفی کی طرح اہنے نفس پر قابو پالیا ہو۔ نواز شریف اینڈ کمپنی نے عمران خان کی سیاسی مخالفت میں ان کی ذاتی زندگی تک کو نہ بخشا اور ایسی گل افشانی کی کہ ان سطور میں انہیں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ مذہبی جماعتوں نے تو انتہا پسندی کو فروغ دینے میں دوسروں سے زیادہ حصہ ڈالا۔ فقط مولانا فضل الرحمان کے بیانات ہی اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ عمران خان کی حکومت یہودی لابی کی حکومت ہے۔

مولانا سیاسی اختلاف میں اس سطح تک گر سکتے ہیں تو پھر ان کے عشاق تو ان سے بھی دوچار قدم آگے بڑھ کر فتوے دینے میں مستعد ہوں گے۔ عمران خان نے بھی مولانا فضل الرحمان کے معاملے میں کچھ کم کسر نہ ڈھائی اور انہیں مولانا ڈیزل کے لقب سے پکار کر ان کی تحقیر کرنے کی حرکت خان صاحب جیسے فرد کو زیب نہیں دیتی۔ مذہبی آراء میں اختلاف تو اس درجے انتہا پسندی کا شکار ہو چکا ہے کہ ذرا سا اختلاف نہ ہوا اور ادھر جھٹ سے شمشیریں نکل آتی ہیں اور بعد واقعات میں بہت سے معصوم جان تک سے گزر گئے۔

آج معاشرہ انتہا پسندی کی آگ میں جل کر بد صورت و کریہہ صورت ہو چکا ہے تو اس کے پس پردہ ایک فرد کی تعمیر نہ ہونے کا سبب ہے کہ جس کے باعث یہ قوم ایک شدت پسند ہجوم کے سوا کچھ نہیں۔ چند اعتدال پسند آوزیں اگر ہیں بھی تو وہ بہت نحیف و نزار اور کسی نے آواز بلند کی بھی تو اسے دبانے میں دیر نہیں لگائی جاتی کیونکہ نقار خانے میں اب بھلا کون طوطی کو آواز بلند کرنے کی اجازت دے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •