مزید کتنا اختیار چاہیے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے مہربان دوست، ہزارہ رینج کے آر پی او، محمد علی بابا خیل کا شمار خیبر پختون خوا پو لیس کے ایماندار اور فرض شناس افسران میں ہوتا ہے، وہ ذاتی طور پہ سماجی اقدار سے آشنا اورنہایت باوقار شخصیت کے مالک ہیں، بابا خیل پولیس میں آنے سے کچھ عرصہ قبل صحافت سے بھی وابستہ رہے، اسی لئے پولیس سروس جوائن کرنے کے بعد بھی انہوں نے خود کو لکھنے پڑھنے سے منسلک رکھا تاہم اب ان کی تحریروں کے موضوعات پولیسینگ اور پولیس اصلاحات تک محدود رہ گئے ہیں۔

بلاشبہ وہ ایک باکمال افیسر کی طرح پولیس کے مسائل کی نشاندہی اوراپنے ادارے کے مفادات کی ترجمانی کا حق ادا کرتے ہیں۔ 21 جولائی کے انگریزی روزنامہ ڈان میں چھپنے والے اپنے تازہ مضمون (Sisyphus task) میں انہوں نے سندھ اسمبلی کی طرف سے پولیس ایکٹ 1961 کو ریپیل کر کے پولیس آرڈر 2002 کی جولائی 2011 کی سطح پہ دوبارہ بحالی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے برصغیر میں پولیس اصلاحات کے پورے عمل کو کارلاحاصل قرار دیا، اپنے آرٹیکل میں انہوں نے انڈین نشنل پولیس کمشن 1979۔81 کی تجویز کردہ اصلاحات اور 2005 میں سنٹرل گورنمنٹ کی طرف سے بنائی گئی سولی سوراب کمیٹی کے پیش کردہ ماڈل پولیس ایکٹ کی ناکامی کا وبال بھی مقننہ اور سیاسی قیادت کے سر ڈالتے ہوئے نہایت تاسف کا اظہار کیا۔

مضمون نگار پولیس کے کام میں مبینہ سیاسی مداخلت اور درپیش ہمہ جہت مسائل کا ذکر تو نہایت تفصیل سے کرتے ہیں لیکن پولیس کی کارکردگی اور جوابدہی کے کسی میکانزم کی وضاحت سے دانستہ پہلوتہی کر جاتے ہیں۔ پولیس ریفارمز کی بات ہرکوئی کرتا ہے لیکن کس قسم کی اصلاحات اور کون سے ماڈل کی پیروی کرنی ہے اس میں کافی ابہام پایا جاتا ہے، خود پولیس والے جب ریفارمز کی بات کریں توانکی مراد ایسی داخلی خود مختاری ہوتی ہے جو جوابدہی کے ہر نظام سے بالاتر ہو، حتّی کہ صوبہ کے چیف ایگزیکٹیو کی بازپرس کو بھی وہ سیاسی مداخلت تصور کرتے ہیں۔

بابا خیل جب سندھ کے نئے پولیس ایکٹ پہ تنقید کرتے ہیں تو ان کا بھی اصل ہدف اس ایکٹ کے تحت وزیراعلی کو دیے گئے اختیارات ہیں۔ اس حقیقت سے محمدعلی باباخیل سمیت ہر کوئی واقف ہے کہ پی ٹی آئی کی ناتجربہ کار قیادت نے خیبر پختون خوا میں پولیس ایکٹ دوہزار سترہ/ اٹھارہ کی منظوری کے ذریعے لامحدود اختیارات تفویض کر کے پولیس کو سسٹم سے ماوراءکر دیا لیکن پھر بھی پولیس ڈلیور نہیں کر سکی۔ سنہ دوہزار سے قبل آئی جی پولیس ہوم سیکریٹری کے ماتحت ہوتا تھا لیکن آج آئی جی پی سے چیف سیکریٹری اور وزیراعلی بھی پوچھ نہیں سکتے، پچھلے دور میں پی ٹی آئی، ایم این اے علی محمد خان کو سوال جواب کرنے کی پاداش میں مردان پولیس کے ہاتھوں بے آبرو ہونا پڑا، یہ بات ذاتی طور پہ میرے علم ہے کہ پشاور میں تھانوں کے ایس ایچ اوز کسی صوبائی وزیر کی فون کال وصول نہیں کرتے۔

پولیس کے مالیاتی امور اور ترقیوں و تبادلوں کے نظام پہ آئی جی پی پوری طرح حاوی ہیں، چیف سیکریٹری تو اٹھارہ اور اس سے اوپر والے گریڈ کے افسرکا تبادلہ وزیر اعلی کی پیشگی اجازت کے بغیرنہیں کر سکتا لیکن آئی جی پی کو 20 گریڈ کے ڈی آئی جیزکی تبدیلی و تعیناتی کا حتمی اختیار حاصل ہے۔ پولیس کو رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ سے بھی استثنٰی دیا گیا، کوئی شہری ان سے معمول کے کرائم کا ڈیٹا بھی نہیں مانگ سکتا۔ پولیس آرڈر 2002 میں نہتے شہریوں کے خلاف پولیس کی جارحیت کے سدباب کے کے لئے پبلک سیفٹی کمشن کا قیام شامل تھا لیکن بیس سال ہونے کو آئے پولیس نے پبلک سیفٹی کمشن بننے نہیں دیا، بلکہ مصالحتی کمیٹوں کے ذریعے متوازی عدالتی نظام کھڑا کرکے خودسری کی انتہا کر دی۔

سنہ دوہزار سترہ کے ایکٹ میں شامل پبلک سیفٹی کمشن کے ممبران کے انتخاب کے لئے ڈسٹرک اینڈ سشن ججز کی سربراہی میں سکرونٹی کمیٹیوں کے قیام کو ہائی کورٹ میں چیلنج کروا کے غیر معینہ مدت کے لئے حکم امتناعی حاصل کر لیا گیا، اس سے قبل جب صوبائی حکومت نے ڈپٹی کمشنرز کو سفیٹی کمشن کا سیکریٹری بنانے کا تہیہ کیا تو پولیس نے مزاحمت کر کے منتخب اتھارٹی کو گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کر دیا، اب کہتے ہیں سول افیسرز نہیں بلکہ کسی کنٹریکٹ ملازم کو تین سال کے لئے پبلک سیفٹی کمشن کا سیکریٹری بنایا جائے، گویا پولیس خود کو عوام، ریاست یا حکومت کے سامنے جوابدہ بنانے کو تیار نہیں، یہ طرز عمل قانون فطرت کے منافی اوراس عالمگیر سچائی سے متصادم ہے جسمیں اختیارات کے حامل ہر شخص کو کسی نہ کسی اتھارٹی کے سامنے جوابدہ لازمی ہونا چاہیے، خاصکر ڈنڈے کو تو آزاد چھوڑنا شرف آدمیت کی تذلیل کے مترادف ہو گا لیکن پولیس ہر قانونی حدودسے مبّرا اور جوابدہی کے ہرمیکانزم سے نجات کے لئے ہاتھ پاوں مار رہی ہے۔

انسداد رشوت ستانی ڈیپارٹمنٹ پہ پولیس خودقابض ہے، پی ٹی آئی حکومت نے انٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کو پولیس سے الگ کرنے کی جسارت کی تو اسے باغیانہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ علی ہذالقیاس، اس سب کے باوجود بھی عمران خان کو توقع تھی کہ سیاسی اتھارٹی کے جائز کنٹرول سے مطلق آزادی اورلامحدود اختیارات کی حامل خیبر پختون خوا پولیس کچھ ڈلیورکرے گی تو ان کی سیاسی ساکھ بہتر ہو جائے گی لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا، گزشتہ چھ سالوں میں کرائم ریٹ بڑھتا رہا، چوری، ڈکیتی، موٹر سائیکل چھننے اوراغواءبرائے تاوان کی وارداتیں کنٹرول ہوئیں نہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور ایرانی پٹرول کی ترسیل کا دھندہ بندکیا جا سکا، صوبہ بھر میں پولیس گھروں، دکانوں اور موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں کی ایف آئی آر درج کرنا بھول گئی، اگر کوئی متاثرہ شہری ایف آئی آر کے اندراج پہ اصرار کرے تو شک کو بنیاد بنا کے اس کی بیوی، بچوں اور قریبی رشتوں داروں کو دھر لیا جاتا ہے، جس کے بعد مجبوراً شریف شہری کوایف آئی آر کے اندارج سے دستبردار ہونا پڑتاہے۔

صلاحیت اور ڈلیوری کا عالم یہ ہے کہ جو پولیس پشاور میں ٹریفک نظام نہیں چلا سکتی، وہی پولیس ہم سے چاروں صوبوں کی غیرمشروط و غیر محدود کمانڈ طلب کرتی ہے۔ ہم پی ایس پی افسران کی بات تو نہیں کر سکتے کہ وہ تنقید اور جوابدہی کے ہر عمل سے بالاتر ہیں، یہاں ہم صرف گیارہ سے سترہ گریڈ کے ان رینکرز کی بات کریں گے جن کی ناگوار حیثت اورتکلیف دہی کی قیمت (Nuisance value) اور معیار زندگی دیکھ کے ہم احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں، چودہ گریڈ کے ایس ایچ کے پاس متعدد ایکٹس تلے ساڑھے چار سو سے زیادہ اختیارات ہیں، وہ قتل کے ملزم کوشخصی ضمانت پہ چھوڑنے اور کسی بھی شہری کو 107 میں گرفتار کرنے کا اختیار رکھتا ہے، اب تو پولیس کو دیکھتے ہی گولی مارنے (Shoot to kill) کا اختیار بھی مل گیا ہے۔

دوہزار چار، پانچ میں پشاور پولیس کے ایک انسپکٹر نے عدالت میں تلخ نوائی کے بعد سیشن جج کے خلاف تھانہ میں آیف آئی آر درج کر ڈالی، بعد میں اعلی افسران نے مداخلت کر کے شریف النفس جج کی عزت بچائی، دوہزار تین میں ایس ایچ او کینٹ نے ڈیرہ اسماعیل خان کے پہلے اور نہایت طاقتورضلع ناظم لطیف اللہ خان علیزئی کے خلاف ایف آر دے کر جنرل مشرف کے ضلعی حکومتوں کے پورے نظام کی چولیں ہلا ڈالیں۔

خیبر پختون خوا پولیس کے اچھی شہرت کے حامل، با اصول اور بہادر پولیس افسر، جسے حال ہی میں دہشتگردوں نے شہید کردیا، کا آبائی گھر بنوں میں تھا لیکن ان کے زیراستعمال پشاور کے پوش ایریا حیات آباد اور اسلام آباد میں بھی دو بنگلے تھے۔ نیب سمیت احتساب کا کوئی ادارہ ایسا ہے جو صرف رینکرزپولیس افسران کی تنخواہ اورمعیار زندگی میں مماثلت تلاش کر سکے۔ اگرجرائم کی افزائش نہ ہوتی تو پولیس والے امیر نہیں ہو سکتے تھے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اسلم اعوان کی دیگر تحریریں
اسلم اعوان کی دیگر تحریریں