ہارس ٹریڈنگ کا فلسفہ حرام و حلال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پارلیمان کے ایوان بالا میں چیئرمین کے خلاف پیش ہونے والی تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کے دوران جو منظر نامہ ابھرا وہ ہماری ملکی تاریخ میں انوکھا اور اچھوتا واقعہ نہیں کہ جس پر پاکستانی انگشت بدنداں ہوں۔  شیکسپیئر نے کہا کہ دنیا ایک اسٹیج ہے جہاں فقط کردار بدلتے رہتے ہیں۔  پاکستان کی پارلیمان بھی ایک اسٹیج ہے جہاں فقط کرداروں کی تبدیلی کے سوا کوئی حقیقی اور جوہری تبدیلی ابھی تک ظہور پذیر نہیں ہو سکی۔

 سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف حزب اختلاف کے اتحاد کی تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی اور حکومت پر ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے اراکین کی وفاداریاں بدلنے کا الزام پارلیمانی تاریخ میں حیران کن نہیں۔  حیران کن امر فقط یہ ہے کہ تحریک انصاف بھی اب پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی صف میں آن کھڑی ہوئی جن کی تاریخ ہارس ٹریڈنگ اور انتخابات میں ”چمک“ سے شرمناک حد تک داغدار ہے۔  تحریک انصاف جو ”صاف چلی، شفاف چلی“ کے نعرے سے سیاست کے میدان کار زار میں کودی اب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کا پرتو بن چکی ہے۔

میاں نواز شریف جنہیں آج ”ووٹ کو عزت دو“ کا تصور ہلکان اور بے چین کیے جا رہا ہے انہیں بلاشبہ اس ملک میں روہے پیسے کے بل بوتے پر سیاسی وفاداریاں بدلنے کا سرخیل گردانا جا سکتا یے۔  ردائے سیاست میں چھانگا مانگا نامی سیاست کا بدصورت پیوند میاں نواز شریف نے اپنے ہاتھوں سے لگایا۔ اس کا تذکرہ اتنا مکروہ اور بد مزا ہے کہ یہ ان تمام کرداروں کی نام نہاد پارسائی اور معصومیت کا بھرم کھول دیتا ہے جو آج ووٹ کے تقدس کا علم بلند کرتے پھرتے ہیں۔

پی پی پی نے ہارس ٹریڈنگ کے بدبودار کلچر کو کیسے فروغ دیا اس کا مظہر 1993 ء کے انتخابات کے بعد موجودہ خیبرپختونخواہ اور سابقہ صوبہ سرحد میں مسلم لیگ نواز اور اے این پی کی مخلوط حکومت کے خلاف اس کا اقدام تھا۔ اس مسلم لیگی حکومت کے بننے کے کچھ ماہ بعد بے نظیر بھٹو کی مرکزی حکومت نے مسلم لیگ جونیجو اور آزاد اراکین کے ساتھ مل کر مسلم لیگی وزیر اعلیٰ سید صابر شاہ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی۔ اس وقت پی پی پی کے صوبہ سرحد میں سرخیل آفتاب شیرپاؤ نے دعویٰ کیا کہ ہمیں مسلم لیگ نواز کے اراکین اسمبلی کی بھی حمایت حاصل ہے۔

پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے صوبائی اسمبلی کے 28 اراکین کو لاہور اور آٹھ کو کراچی منتقل کردیا۔  کراچی میں ان اراکینِ کی تیتر، بٹیر، بریانی اور مچھلی سے خاطر تواضع کے ساتھ ساتھ ان کی تفریح طبع کے لیے دوسرے انتظامات بھی کیے گئے۔  نواز شریف نے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو ملک دشمن، آئین کش اور جمہوریت کش اقدامات کا الزام دیا۔ اس تحریک عدم اعتماد کو پیش کرنے کے لیے اراکینِ اسمبلی کو تین ہیلی کاپٹروں میں پشاور لایا گیا اور دوبارہ انہیں محفوظ ٹھکانوں پر پہنچا دیا گیا۔

تحریک پر رائے شماری کے روز اراکین کو چارٹرڈ طیارے پر پشاور لایا گیا۔  اسمبلی کی کارروائی  شروع ہونے کے بعد گالم گلوج اور ہاتھا پائی کا شکار ہوگئی اور حالات اس صدر سنگین ہوئے کہ سرحد میں گورنر راج کا نفاذ کرنا پڑا۔  ہارس ٹریڈنگ کی مکروہ روایت نوے کی دہائی کے بعد جنرل مشرف کے دور میں بھی شدومد سے جاری رہی جب پیپلز پارٹی میں پیٹریاٹ کے نام سے ایک گروپ کی وفاداریاں بدل کر قاف لیگ کی حکومت کو بیساکھیاں فراہم کی گئیں۔

مشرف آمریت کے بعد جب ملک میں ایک جمہوری دور کا آغاز ہوا تو خوش فہمیوں کے شکار اس ملک کے عوام نے جمہوری روایات کے خوش کن تصورات پی پی پی اور مسلم لیگ نواز سے باندھے۔  یہ تصورات اس وقت چکنا چور ہوئے جب پی پی پی نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے ذریعے نواز لیگی حکومت کو بدلنے کے لیے فارورڈ بلاک تخلیق کرنے کی ناکام کوشش کی اور اس خفت کو مٹانے کے لیے پی پی پی سے گورنر راج کا گناہ بے لذت سرزرد ہوا۔  اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں میں بلوچستان کی لیگی حکومت کے خلاف آصف زرداری کی مہم جوئی کی بد صورت یادیں تو ابھی ذہنوں سے محو ہی نہیں ہوئیں کہ جس پر آصف زرداری نے برملا فخر کا اظہار کیا۔

ثنا اللہ زہری کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو کامیاب کروانے کے لیے سیاسی وفاداریاں تبدیل کروانے میں آصف زرداری آلہ کار بن کر بالادست قوتوں کی خوشنودی کے طالب تھے۔  اپنے تمام تر سیاسی زیرک پن اور چالاکیوں کے باوجود آصف زرداری اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ انہیں استعمال کرنے والی قوتیں ان سے زیادہ طاقت ور اور زیرک ہیں جو کسی بھی سیاسی فرد یا جماعت کو استعمال کرنے کے بعد اے ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیتی ہیں۔

اج آصف زرداری کے فرزند بلاول بھٹو زرداری سینیٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ اور سیاسی وفاداریوں کے بدلنے پر شعلہ بداماں ہیں لیکن وہ دوسروں کو الزام دینے سے قبل اپنے والد کی جانب سے اس نوع کے ہتھکنڈوں پر بھی شرمساری کا اظہار کریں تو ان کے اخلاص پن کا پتا چل سکے۔  مریم نواز بھی سینیٹ میں سیاسی وفاداریاں بدلنے والوں پر چیں بہ چیں ہیں انہیں بھی پہلی فرصت میں اپنے والد کی جانب سے ہارس ٹریڈنگ کے حربوں کے استعمال پر ندامت کا اظہار کرنا چاہیے۔

ان کا یہ فعل ان کے حسن اخلاص اور صاف نیتی کا ثبوت ہو گا کہ وہ پاکستان میں اس نوع کے حربوں اور ہتھکنڈوں کے خلاف اپنے پرائے کی تمیز کیے بغیر نعرہ زن ہیں۔  سب سے بڑھ کر وزیر اعظم عمران خان کے سیاسی کردار پر جتنا بڑا حرف سینیٹ کے واقعے سے آیا ہے وہ ہمارے زوال پذیر سیاسی کلچر میں ایک نیا لیکن تعفن زدہ اضافہ ہے۔  وزیر اعظم عمران خان کی سیاسی اور اخلاقی ساکھ سینیٹ میں تحریک عدم اعتماد پر سیاسی وفاداریاں تبدیل کروانے کی وجہ سے بری طرح مجروح ہو چکی ہے۔  ماضی میں ہارس ٹریڈنگ کے ناقد عمران خان کی ناک کے نیچے یہ کھیل کھیلا جائے تو دل کہہ اٹھتا ہے

تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی

وہ تیرگی جو مرے نامہ اعمال میں تھی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •