کشمیریو! جاگدے رہنا ساڈے تے نہ رہنا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا کی خوش قسمتی سمجھیں یا بدقسمتی ان کا لیڈر مودی جیسا کٹر ہندو اور آر ایس ایس کا لے پالک ہے۔ انڈیا جو ستر سالوں سے ساری دُنیا کو سیکولر ملک اور جمہوری ملک کا چورن بیچتا رہا۔ مودی جیسے انسان کے آنے سے بہرحال وہ سارا چورن دھڑن تختہ ہوگیا۔ اور انڈیا ایک سیکولر ملک کے بجائے ہندو ملک بن کے سامنے آگیا اور یہ بات بُہت سے ملکوں کے آنکھیں کھولنے کو کافی ہے۔ دُنیا کے خود ساختہ بڑی طاقتیں اُن کے لیڈرز جتنے بھی انڈیا کے گُن گائیں انڈیا کو بڑی طاقت سمجھیں ایک سیکولر ملک جانیں۔

مودی سرکار اپنی پالیسی اور حرکات سے بہرحال دُنیا کی اکثریت کو یہ سمجھاتی جارہی ہے کہ انڈیا ایک ہندو ریاست ہے اور باقی مذاہب کے لوگ یا تو ہندو بن جائیں یا پھر ان پر زمین تنگ کر دی جائے گی۔ اور جہاں تک کشمیر پر انڈیا کے آئین کے اندر 370 اور 35 C جیسے آرٹیکل جیسی شقیں ڈال کر انڈیا نواز کشمیری کُچھ نہ کُچھ آسرا رکھے ہوئے تھے۔ پانچ اگست کو وہ پردہ بھی مودی سرکار نے گرا دیا۔ اگر پہلے کُچھ لوگ انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں انڈیا کے ہمنوا تھے۔

خودساختہ الیکشنز میں حصہ لیتے تھے۔ امن کی بات سیاسی بات مذاکرات کی بات کرتے تھے۔ مودی سرکار کے گذشتہ فیصلے نے اس راہ کو اس سوچ کو مٹی میں ملا دیا۔ غالباً کم از کم دو عشروں سے پاکستان نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کو کسی بھی قسم کی ”امداد اور سہولت“ دینی بند کردی ہے۔ زیادہ سے زیادہ امداد پی ٹی وی پے نو بجے کی خبروں میں موسم کے حال سے پہلے کشمیر کی تازہ ترین صورت حال پے ہومیو پیتھک قسم کی بیان بازی ہی رہ گئی ہے۔

باقی گذشتہ دس سال میں پی پی اور ن لیگ کے دور میں جے یو ایف کے فضل الرحمن جیسے ”بین الاقومی امور اور مدبر“ کو کشمیر کمیٹی چیرمین لگا کر گویا کشمیر کے بارے میں حکومتی سنجیدگی کا اظہار روز روشن کی طرح عیاں ہوگیا۔ گذشتہ دس سالوں میں کشمیر کا مسئلہ عالمی طور پر کیا اجاگر ہونا تھا۔ خبر بلکہ یہ ہے موصوف چیرمین کشمیر کمیٹی اس عرصہ میں 43 لاکھ کی لسی پی گئے (گویا لسی پی کے۔ ) اب جبکہ انڈین حکومت نے کشمیر کو باقاعدہ اور قانونی طور پر انڈیا کے اندر ضم کردیا اور کشمیریوں سے آئینی طور جو وعدے اور لولی پاپ دیا ہوا تھا۔

اس پر لکیر ہی پھیر کر گویا اپنی طرف سے سارا مسئلہ حل کردیا۔ لیکن کہتے ہیں ہنوز دلی دور است۔ بظاہر لگتا نہیں کہ مسئلہ حل ہوا بلکہ مزید گھمبیر ہوا ہے۔ اس سارے قضیے کو لے کے پاکستان جس کی خارجہ پالیسی بلکہ سالمیت کا دارومدار کشمیر کا معاملہ ہے (اگر یہ بات ٹھیک نہیں تو انڈیا سے جنگیں کیوں لڑیں ) ہم کہاں کھڑے ہیں۔ دُنیا کے ممالک ہمارے بات کو سنجیدہ لیتے ہیں یا نہیں ہماری خارجہ پالیسی بالکل ناکام ہے۔ یا پھر کامیاب ترین ہے۔

اس بات کو ایک طرف رکھ کے صرف مشترکہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں جو کشمیر کی موجودہ صورت حال پر بُلایا گیا بطور تبرک چاول کے چند دانے چیک کریں۔ (لیڈران کی گفتگو اور سنجیدگی ملاحظہ کریں۔ ) وزیراعظم فرماتے ہیں انڈیا ہمارے ساتھ مذاکرات نہیں کرنا چاہتا۔ اس بات کا تو میرے دوست ”ماسٹر“ کو گذشتہ کافی سال سے پتہ ہے۔ اس میں نئی بات کیا ہے۔ پھر وزیراعظم اپوزیشن لیڈر کی طرف اشارہ کر کے کہتے ہیں کہ آپ کہیں تو انڈیا پر حملہ کردوں۔

ہمیں اپوزیشن لیڈر کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ ان کے وجہ سے ہم جنگ سے بچ گئے اگر اپوزیشن لیڈر کہتے کہ وزیراعظم کو کہ بسم اللہ کرو۔ ہماری تو پھر الحمد اللہ ہو جانی تھی۔ پھر اپوزیشن لیڈر فرماتے ہیں کہ مودی کے ہاتھ توڑ دیں گے (زرداری کا پیٹ پھاڑ دوں گا۔ یاد آگیا) پھر ہماری نوجوان پارٹی چیرمین نے وہی روایتی ماضی کی باتیں بھٹو صاحب نے کشمیر کے لئے یہ کیا بی بی نے وہ کیا۔ سابق صدر فرماتے ہیں۔ میں ہوتا تو دبئی جاتا پھر روس جاتا چائنہ جاتا اور آخر میں ایران جاتا۔ (لیکن جانا انہوں نے صرف دبئی ہی تھا باقی آپ سمجھدار ہیں ) اور آخری دن کے جوائنٹ سیشن میں حکومتی ارکان اور اپوزیشن ارکان نے بجائے کشمیر اور کشمیریوں کے معاملے کو ہائی لائٹ کرنے ایک دوسرے کو لتاڑا ایک دوسرے کو گالیاں دیں اور جتنی کم تعداد میں ارکان کی شرکت اور سنجیدگی تھی۔ جو پیغام یہاں سے دُنیا کو جانا چاہیے تھا اس کے الٹ ہی جائے گا۔ اور پریشان ہونے ہی بالکل ہی ضرورت نہیں ہے کیونکہ دُنیا نے کافی عرصہ ہوا ہمیں سیریس لینا چھوڑ دیا ہے۔

کشمیری عشروں سے ظلم سہہ رہے ہیں اور وہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں ہومیو پیتھک بیانات سے ان کے دُکھ کم نہیں ہوں گے۔ ہاں اگر کبھی کشمیریوں کے مصائب کم کیے اگر ہوئے تو وہ ماضی کی طرح صرف ہماری عسکری قیادت ہی کوئی جگاڑ یا پنگا (آپ کو عسکری قیادت اور جگاڑ اور پنگا جیسے الفاظ سے اختلاف ہوسکتا ہے۔ ) لے سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کے خود ساختہ لبرلز کی اکثریت مسئلہ کشمیر کو فوج کا مسئلہ اور دوسرے لفظوں میں ”سر درد“ سمجھتی ہے۔

اس لئے ہمیں لگتا ہے ہماری عسکری ادارے کشمیر کے معاملے کو لے کر شاید بُہت آگے تک چلے جائیں۔ لیکن ہمارے لولی لنگڑی جمہوریت کے قلعہ پارلیمنٹ میں کی گی تقاریر، سنجیدگی، اراکین کی حاضری ایک دوسرے کو چور ڈاکو کہنا اور گالم گلوچ۔ کشمیریوں کو ایک واضح پیغام ہمارے سیاسی نمائندوں کی طرف سے گیا۔ کشمیریو! جاگدے رہنا ساڈے تے نہ رہنا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •