حکومت پاکستان کی کشمیر پالیسی کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان کی سرکردگی میں پاکستانی حکومت پوری سرگرمی سے کشمیر کے معاملہ پر سیاست کرنے میں مصروف ہے۔  اس ماہ کے شروع میں بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے شروع ہونے والی سرکاری مہم جوئی اب تک جاری ہے۔  اور روزانہ کی بنیاد پر بیانات اور ٹوئٹ پیغامات کے ذریعے نریندر مودی کی ہندو انتہا پسندی، مقبوضہ کشمیر میں انسانی صورت حال، اقوام متحدہ میں کامیابی اور سرحدوں کی حفاظت کے دعوؤں میں ایسا خون گرما دینے والا ماحول پیدا کردیا گیا ہے کہ اصولی سیاسی اور سفارتی معاملات پر سوال کرنے اور مباحثہ کا آغاز نہیں ہو سکتا۔

ملک کے عام شہری اپنے مسائل پر حکومت کی توجہ حاصل کرنے کے لئے اس جوش و خروش کے کم ہونے کا انتظار کرنے پر مجبور ہیں جبکہ ملک کا ہوشمند اور سوچنے سمجھنے والا طبقہ یہ جاننے کی کوشش کررہا ہے کہ کشمیر کے نام پر اٹھائے گئے بیان بازی اور الزام تراشی کے طوفان کا انجام کیا ہوگا۔ کب یہ جوش و ولولہ کم ہو اور کب یہ جانا جاسکے کہ موجودہ حکومت کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے کون سی نئی حکمت عملی تیار کررہی ہے۔  بھارت کے وزیر اعظم نے تو 5 اگست کے صدارتی حکم کے ذریعے کشمیریوں کو حاصل خصوصی آئینی حقوق ختم کرکے اور اگلے ہی روز مقبوضہ کشمیر کو دو وفاقی اکائیوں میں تقسیم کرنے کا بل منظور کرواکر اپنی طرف سے کشمیر کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل کردیا ہے۔

اسی لئے وزیر اعظم عمران خان کی الزام تراشی اور پاکستان کی مسلسل پروپیگنڈا مہم جوئی کے باوجود 15 اگست کی تقریر میں بھارتی وزیر اعظم نے پاکستان کا ذکر کرنے یا کوئی دھمکی دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ حالانکہ یہی نریندر مودی چند ماہ پہلے تک پاکستان کا حوالہ آتے ہی منہ سے شعلے برسانے لگتے تھے۔  نریندر مودی کی اس نرم روی کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اپنے تئیں وہ کشمیر کا مسئلہ حل کرچکے ہیں۔  اب اس موضوع پر پاکستان کا حوالہ دینے یا اسے فریق سمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

یہ ایک علیحدہ سوال ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے باشندے بھارتی حکومت کے اس یک طرفہ فیصلہ پر کس رد عمل کا اظہار کریں گے اور وہاں سامنے آنے والے احتجاج اور مظاہروں کے نتیجہ میں حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔  ان میں سب سے بنیادی بات یہی ہے کہ کئی لاکھ فوج کی موجودگی میں جب کشمیری عوام کے احتجاج کو دبانے کی کو شش کی جائے گی تو کس قسم کا قومی یا عالمی رد عمل سامنے آئے گا۔ اس وقت تک تو بھارتی حکومت پر کشمیر میں مکمل لاک ڈاؤن کرنے، ایک کروڑ کے لگ بھگ لوگوں کا دنیا سے رابطہ منقطع کرنے اور انہیں گھروں میں قیدی بنانے کا الزام عائد ہوتا ہے۔

 دو روز پہلے سلامتی کونسل کے رکن ممالک کے مشاورتی اجلاس کے بعد اقوام متحدہ میں بھارتی مندوب سید اکبر الدین نے یہ کہہ کر اس کا جواب دینے کی کوشش کی ہے کہ کشمیریوں کو دہشت گردی سے بچانے کے لئے وہاں پر سیکورٹی سخت کی گئی ہے اور مواصلاتی رابطے منقطعکیے  گئے ہیں۔  چند روز پہلے بھارت کے اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں دائر ہونے والی پٹیشن کا جواب دیتے ہوئے یہی مؤقف اختیار کیا تھا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے اس یقین دہانی کے بعد حکومت کو مزید دو ہفتے کی مہلت دی تھی۔

اس دوران مقبوضہ وادی میں کچھ سہولتیں جزوی طور سے بحال کرنے کی گئی ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی احتجاج اور تصادم کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔  عوامی احتجاج کے بعد سری نگر اور متعدد دوسرے علاقوں می دوبارہ کرفیو نافذکرکے ایک بار پھر لوگوں کو گھروں میں بند کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔  ریاست میں البتہ سوموار سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔  اگر اس فیصلہ پر جزوی طور سے بھی عمل ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ شہری زندگی بحال ہونے لگتی ہے، تب ہی وہاں پیدا ہونے والے حالات کے بارے میں کوئی رائے قائم کی جاسکے گی۔ اکثر کشمیری لیڈر حراست میں ہیں اور کشمیریوں کے حق خود اختیاری کی حمایت کرنے والی بعض پارٹیوں پر پابندی بھی عائد ہے۔  اس لئے خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد وہاں پر سیاسی احتجاج منظم ہونے اور اس کی گونج نئی دہلی اور دنیا کے دیگر دارالحکومتوں تک پہنچنے میں وقت لگے گا۔

برصغیر اور بھارت کے زیر تسلط کشمیر کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ہر ذی شعور کو یہ اندازہ ہے کہ بھارتی حکومت کے یک طرفہ فیصلوں اور سیاسی ڈائیلاگ کا راستہ بند کرنے کے بعد سیکورٹی کے نام پر کشمیریوں کی زندگی اجیرن کرنے کی حکمت عملی سے وادی میں غم و غصہ میں اضافہ ہوگا۔ وہاں پر اگر کچھ عناصر نئی دہلی سے کوئی اچھی امید قائم کرتے تھے تو اب ان میں شدید کمی واقع ہوچکی ہے۔  اس کے باوجود یہ سمجھنا بھی مشکل نہیں ہونا چاہیے کہ سیاسی قیادت کی غیر موجودگی اور غیر معمولی سیکورٹی انتظامات کی وجہ سے سیاسی احتجاج اور مظاہرے منظم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ کشمیریوں کے لئے طویل اور جاں گسل جد و جہد کا ایک تاریک اور مشکل دور شروع ہؤا ہے۔  انہیں پورے حوصلہ و صبر سے اس کا مقابلہ کرنا ہے تاکہ آزادی کی صبح تک ان کی رسائی ہو سکے۔

اس سیاسی جد و جہد کے راستے میں بہت سی رکاوٹیں ہیں۔  ایک تو سیاسی قیادت کی غیر موجودگی میں نظم و ضبط قائم اور تحریک کو پرامن رکھنے کا بنیادی اور اہم ترین چیلنج درپیش ہوگا۔ ایسے میں اگر انتہا پسند عناصر نے کشمیریوں کی ناراضگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گردی جیسے اقدمات شروعکیے  تو سیاسی حقوق کی جد و جہد کو تشدد اور دہشت کا نام دے کر دبانا اور مسترد کرنا آسان ہوگا۔ مودی حکومت نے نہایت چالاکی سے کشمیریوں کی موجودہ سیاسی قیادت کو ’غیر فعال‘ کیا ہے۔  اب بھارتی جنتا پارٹی اور مرکزی حکومت کی پوری کوشش ہوگی کہ کسی طرح کشمیر سے ایسے لوگ تلاش کرلئے جائیں جو بی جے پی کے انتہاپسندانہ اور کشمیر دشمن ایجنڈے پر عمل درآمد کرنے میں اس کا ساتھ دے سکیں۔

یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ مودی اور اس کے ساتھیوں نے اس سلسلہ میں ضروری ہوم ورک کرلیا ہو گا اور آنے والے ہفتوں یا مہینوں میں کشمیر کے ایسے لیڈر سامنے آنے لگیں گے جو امن و تحفظ اور کشمیریوں کی فلاح وبہبود کے نام پر نئی دہلی کے ساتھ تعاون کرنے اور ایک نیا سیاسی منشور سامنے لانے کی کوشش کریں گے۔  اس طرح مودی سرکار اس اعتراض کا مداوا کرنے کی کوشش کرے گی کہ کشمیری لیڈر تو متفقہ طور پر مرکزی حکومت کے اقدامات اور جبری فیصلوں کے خلاف ہیں۔  برصغیر کے سیاسی کلچر کو دیکھتے ہوئے کسی کو بھی ایسی کسی نئی ’کشمیری قیادت‘ کے ظہور پر حیرانی نہیں ہوگی۔

تاہم اس میں شبہ کی گنجائش نہیں کہ نریندر مودی نے کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرکے، اپنی حکمت عملی اور مستقبل کا ایجنڈا واضح کردیا ہے۔  اب عملی طور سے پاکستان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات یا مواصلت میں کشمیر کو ایجنڈے سے مستقل بنیادوں پر ہٹانے کی کوشش کی جائے گی۔ گزشتہ دو ہفتے کے دوران عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے علاوہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے پرجوش وعدےکیے  ہیں اور بلند بانگ دعوے بھیکیے  گئے ہیں۔  لیکن عام پاکستانی اب تک یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ کشمیر پر نریندر مودی کے پالیسی شفٹ کے بعد پاکستان کی کشمیر پالیسی کیا ہے؟ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اب تک اس سوال کا جواب فراہم کرنے سے معذور دکھائی دیتی ہے۔

پارلیمنٹ کے اجلاس میں بھارتی اقدامات کی مذمت کے لئے ایک متفقہ قرارداد ضرور منظور کی گئی تھی لیکن قائد ایوان یا اپوزیشن لیڈر 70 برس سے دہرائے جانے والے نعروں سے ہٹ کر کوئی بات کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔  اس کے بعد سے وزیر اعظم کے تواتر سے بیانات اور ٹوئٹ پیغامات، شاہ محمود قریشی کی پھرتیوں یا آئی ایس پی آر کے سامنے آنے والے انتباہ کے باوجود یہ معلوم نہیں ہوپاتا کہ پاکستانی حکومت یا فوج موجودہ صورت میں کس طرح کشمیریوں کی مدد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔  یا نریندر مودی کی حکومت کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کا فیصلہ کرکے جو نیا چیلنج سامنے لائی ہے، اس کا سفارتی یا سیاسی طور سے کیسے جواب دیا جائے گا۔

اس ہنگامے میں کبھی بھارتی جارحیت کے اندیشے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔  کبھی بھارت میں بڑھتی ہوئی ہندو انتہا پسندی کا حوالہ دیتے ہوئے مودی کو ہٹلر ثابت کرنے کی بات کی جاتی ہے۔  کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ آئینی تبدیلی کے بعد نئی دہلی کشمیر کی مسلمان اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کردے گی۔ یا یہ کہ اس فیصلہ سے علاقے میں دہشت گردی میں اضافہ ہوسکتا ہے جس پر قابو پانا آسان نہیں ہو گا۔ آج وزیر اعظم نے بھارت کے جوہری ہتھیاروں کو نریندر مودی اور بی جے پی کی انتہا پسند حکومت کے ہاتھوں میں غیر محفوظ ہونے کی وارننگ دی ہے۔

ان تمام اندیشوں کے باوجود یہ واضح نہیں ہو پاتاکہ پاکستان کی کشمیر پالیسی کیا ہے؟ کیا ابھی تک ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ اور ’اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کیا جائے‘ کا مطالبہ ہی کشمیر پالیسی کی بنیاد ہے۔  یا مودی کے غیر روائیتی طریقہ سیاست کے جواب میں پاکستان کی کشمیر پالیسی کو بھی نئی صورت حال کے مطابق کسی نئی ڈاکٹرائن پر استوار کیا جائے گا۔

دبے لفظوں میں یہ متبادل بیان کیا جاتا ہے کہ آزاد کشمیر کی حکومت کو کشمیر کی اونر شپ دے کر زیادہ خود مختار حیثیت دی جائے تاکہ کشمیری خود کشمیر کی آزادی کا مقدمہ دنیا کے سامنے پیش کرسکیں۔  اس تجویز کو زیادہ پذیرائی حاصل نہیں ہے۔  دوسرا آپشن اقوام متحدہ کو فعال کرنا اور امریکی صدر ٹرمپ کی ’ثالثی‘ والی پیشکش کی مدد سے وہاں سے بھارت پر دباؤ میں اضافہ کے بارے میں ہے۔  ایک تجویز یہ بھی بیان کی جاسکتی ہے کہ افغان مذاکرات کو کشمیر کی صورت حال اور وہاں بھارت کے طرز عمل سے مشروط کردیا جائے۔

ان میں سے ہرتجویز کی اپنی قباحتیں ہوں گی اور شاید کوئی ایک حل اس مسئلہ کی سنگینی سے نمٹنے کے لئے کافی نہ ہو۔ لیکن حکومت کو جلد یا بدیر بہر حال اس سوال کا جواب تو دینا ہوگا کہ اس معاملہ پر اس کی حکمت عملی کیا ہے۔  موجودہ طرز عمل سے تو یہ لگتا ہے کہ کسی نشانے کے بغیر بیانات کے تیر داغے جارہے ہیں۔  اس سے یہ فائدہ تو ضرور ہؤا ہے کہ تحریک انصاف کی ایک سالہ کاکردگی پر کوئی سوال اٹھانے کی نوبت نہیں آئی اور عام لوگ ایک نئی جنگ کے خوف میں مبتلا کردیے گئے ہیں۔  لیکن کیا پروپیگنڈا کا یہ زور بھارت کو اپنا طرز عمل تبدیل کرنے میں کامیاب ہوسکے گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1262 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali