علیمہ خاں کی سلائی مشینیں، مریم نواز کے لندن فلیٹ اور فریال تالپور کے جعلی اکاونٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرپشن کے الزامات کی بات کی جائے تو پاکستان کی سیاست سے مردانہ زنانہ تفریق ختم ہوتی جا رہی ہے تاہم علیمہ خان (وزیر اعظم عمران خان کی بڑی بہن) کا معاملہ ذرا الگ ہے کہ وہ آزاد ہیں جبکہ دوسری دونوں (مریم نواز اور فریال تالپور) ، وزیر اعظم کی سیاسی مخالف ہونے کی بنا پرالزامات ثابت نہ ہونے کے باوجود جیل میں ہیں۔ حیران کن طور پر علیمہ خان امریکہ اور دبئی میں چار فلیٹوں کی مالک ہیں جبکہ مریم نواز پر ابھی صرف الزام ہے کہ ان کے لندن میں چار فلیٹ ہیں۔ نیب اور شہزاد اکبر کو فریال تالپور کی بیرون ملک جائیدادوں کا ابھی سراغ لگانا ہے۔ یہ ہے وہ تبدیلی اور برق رفتاری، تحریک انصاف جس کا دعویٰ کر رہی ہے۔ یہ پاکستان کی سیاسی ثقافتی اور سماجی اخلاقیات سے واضح انحراف (پی ٹی آئی کی زبان میں یو ٹرن) ہے، اور پاکستان کے عوام نے اسے قبول نہیں کیا۔

سیاست اور سیاسی اختلافات یہاں تاریخی طور پر مردوں کے میدان رہے ہیں تاہم یہ نیا رجحان مستقبل میں سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنیوں میں بدلتا ہوا نظر آتا ہے۔ تینوں معاملات کا الگ الگ تجزیہ کرتے ہیں :

اسی سال جنوری میں علیمہ خان کی ٹیکس ریٹرن دستاویزات انویسٹی گیٹو جرنلسٹ احمد نورانی کے ہاتھ لگیں، جس نے پتہ چلا کہ امریکہ کے یہ چاروں فلیٹ 2004 سے علیمہ خان کی ملکیت ہیں مگرٹیکس ریٹرنز میں ان کا ذکر 14 سال بعد یعنی 2018 میں کیا گیا۔ انہوں نے اس حوالے سے کوئی منی ٹریل بھی پیش نہیں کی اور نیب نے بھی اس بارے پوچھنے کی تکلیف نہیں کی۔ ان فلیٹوں کی مالیت 30 لاکھ ڈالر یا 48 کروڑ روپے ہے۔ یہ بدستور ایک معمہ ہے کہ ایک خاتون جنہوں نے 2016 میں 130794 روپے انکم ٹیکس جمع کروایا، بیرون ملک 48 کروڑ روپے کی جائیداد کیونکر بنا سکتی ہیں۔

ہماری تبدیلی ایف بی آر نے شاید انصاف کی نظر سے علیمہ خان کی ویلتھ سٹیٹمنٹ نہیں دیکھی، جس میں انہیں اپنی جائیدادوں کے حقیقی مالی وسائل پیش کرنا تھے۔ یہ واضح طور پر ایک آڈٹ کیس ہے۔ اگر موجودہ حکومت بلند اخلاقی معیار کا دعویٰ کرتی ہے تو کیا یہ مبنی بر انصاف نہ ہو گا کہ علیمہ خان صاحبہ کی دولت کے وسائل کا بھی تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے جس کا مطالبہ شریف اور زرداری خاندان سے کیا جاتا ہے؟

اس انکشاف سے قبل نواز شریف نے علیمہ خان کے دبئی میں فلیٹوں کا ذکر کرتے ہوئے اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس معاملے کا از خود نوٹس لیں۔ مختصر ٹرائل کے بعد چیف جسٹس نے واضح طور پر نیب اور جے آئی ٹی کو اس معاملے سے دور رکھتے ہوئے ایف آئی اے اور ایف بی آر کو یہ ذمہ داری سونپ دی کہ ان جائیدادوں کو ٹیکس ریٹرنز میں ظاہر نہ کرنے پر وہ جرمانے کا تعین کریں۔ مگر یہ سبھی یا ان میں سے کوئی ایک فلیٹ بھی کن ذرائع آمدن سے خریدا گیا، یہ کبھی اور کہیں بھی ظاہر نہیں کیا گیا۔

علیمہ خان نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے دبئی والا فلیٹ 2007 میں سات کروڑ روپے میں خریدا تھا۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ وہ دو کروڑ 94 لاکھ روپے بطور جرمانہ ادا کریں، جیسا کہ ایف بی آر نے متعین کیا۔ اس سال 25 جنوری تک انہوں نے اس کا کچھ حصہ ادا کیا، مگر جرمانے کی یہ رقم کتنی تھی؟ علیمہ خان، ایف بی آر یا سپریم کورٹ کی طرف سے اس بارے کچھ نہیں بتایا گیا۔ فرض کریں کہ انہوں نے اگر جرمانے کی یہ رقم پوری بھی ادا کر دی ہے تو ان کے لیے، ایف بی آر کے لیے یا سپریم کورٹ کے لیے اس کا اظہار کرنے میں کیا امر مانع ہے۔

جب میڈٰیا کی جانب سے علیمہ خان سے سوال کیا گیا کہ انہوں نے یہ رقم کیسے کمائی؟ تو ان کا جواب تھا ”سلائی مشینوں سے۔“ کاٹ کوم سورسنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام سے ٹیکسٹائل کے شعبے میں علیمہ خان کا غیر معروف بائنگ/کوالٹی ہاؤس پچھلے تین سال تک اوسطاً 20 لاکھ روپے ٹیکس دیتا رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس فرم کا بعد از ٹیکس منافع 60 لاکھ روپے کے لگ بھگ تھا۔ اس طرح فرم میں 50 فیصد کی حصہ دار ہونے کے ناطے علیمہ خان کی ماہانہ آمدن اڑھائی لاکھ بنتی ہے۔

ان کے لائف سٹائل کے مقابلے میں یہ معمولی آمدن ہے، چنانچہ یہ فلیٹ خریدنے کے لیے رقم کہاں سے آئی؟ اس کی منی ٹریل کہاں ہے؟ جیسا کہ ان کا بھائی عمران خان نواز شریف سمیت ہر ایک سے پوچھتا پھرتا ہے۔ کیوں نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر اور عدالتیں آمدن سے زائد اثاثوں کے اس کیس میں خاموش ہیں۔ وقتاً قوقتاً اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے منی ٹریل کے مطالبے کے سوا یہ معاملہ عملاً دم توڑ چکا ہے۔

مریم نواز شریف پر الزام ہے کہ وہ ایون فیلڈ میں چار اپارٹمنٹس کی مالک ہیں، جن کی مالیت سات ملین پاؤنڈ ہے۔ ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت نواز شریف کے آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس میں اعانت جرم میں مریم کو آٹھ سال قید کی سزا سنا چکی ہے۔ مریم، نواز شریف اور کیپٹن صفدر کی یہ سزا اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر دی اور بعد ازاں جنوری 2019 میں سپریم کورٹ نے بھی یہ معطلی برقرار رکھی۔

معاملہ جو بھی ہو یہ چار اپارٹمنٹ 1993۔ 96 کے دوران ایک ملین پاؤنڈ سے کم میں خریدے گئے تھے۔ پاکستان میں ہزاروں گھر ایسے ہیں جو اس سے زیادہ قیمتی ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کرائے گئے گوشواروں کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کا بنی گالا کا گھر چار ملین پاؤنڈ مالیت کا ہے۔ چوہدری شوگر ملز کیس میں نیب نے عید سے تین دن قبل، آٹھ اگست 2019 کو ایک بار پھر، بغیر کوئی جرم ثابت ہوئے، مریم نواز کو گرفتار کر لیا۔ جس جلد بازی اور جس انداز میں یہ گرفتاری ہوئی اس سے ظاہر ہے کہ یہ سوائے انتقامی کارروائی کے کچھ اور نہیں ہے۔ اس طرح کے بیہودہ الزام میں ان کی گرفتاری کا مقصد صرف ان کی اختلافی سیاسی تحریک پر روک لگانا ہے۔

بعد ازاں شاید اس گرفتاری کو سیاسی توازن دینے کے لیے آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور کو چاند رات کو پولی کلینک سے، جہاں وہ ہائی شوگر کے علاج کے لیے موجود تھیں، بے دردی و بے حسی کا مظاھرہ کرتے ہوئے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ یہ بلاول بھٹو کے لیے واضح پیغام تھا، جنہوں نے تین دن قبل مریم نواز کی گرفتاری پر وزیراعظم کو ”بے غیرت“ کا خطاب دیا تھا کہ وہ سابق صدر اور سابق وزیر اعظم کی رشتے دار خواتین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ کسی کو بھی علم نہیں ہے کہ فریال تالپور کے خلاف کیس کیا ہے۔ جعلی بینک اکاؤنٹس کی ایک ایسی اصطلاح ہے جس کی تفصیلات خود نیب کے پاس بھی نہیں ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسی انتقامی سیاست اور یک طرفہ انصاف دیکھنے میں نہیں آیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •