جنت کشمیر لہو لہان، ہزاروں نوجوان گرفتار، خواتین سے دست درازیاں
امرتیہ سین نے جموں و کشمیر کی مرکزی قیادت کو نظر بند رکھنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ کشمیر کے قائدین اور عوام کا نقطہ نظر سنے بغیر انصاف کیا جاسکے گا، آپ بہت سے رہنماؤں کو قید رکھیں گے تو کیسے جمہوریت کے ثمرات حاصل کریں گے، ہزاروں کشمیریوں کو قید کرکے اور ان کی آواز کو دبا کر بھارت عدل و انصاف نہیں کرسکتا، بھارتی حکومت جمہوریت کا گلا گھونٹ رہی ہے۔ امرتیہ سین نے کہا کہ مودی سرکار وہی کام کررہی ہے جو انگریزوں نے 200 سال تک ہندوستان میں کیا تھا، امن و امان برقرار رکھنے کے نام پر آبادی کو قید کرنا ٹھیٹ سامراجی بہانہ ہے، میں نے سوچا بھی نہ تھا کہ انگریزیوں سے آزادی کے بعد بھی ہم وہی سامراجی دور والی حرکتیں کریں گے اور شہریوں کو نظربند کریں گے۔ آرٹیکل 370 ختم ہونے کے بعد بھارت کے دیگر شہریوں کو کشمیر میں زمین خریدنے کی اجازت سے متعلق سوال کے جواب میں امرتیہ سین نے کہا کہ ہمیں کمشیریوں پر چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ اپنی زمین کسی کو دیتے ہیں یا نہیں، اس حوالے سے کشمیری فیصلہ کرنے میں حق بجانب ہیں کیونکہ یہ ان کی زمین ہے ”۔
سیاست دانوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور طلبہ لیڈروں نے بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار کا اگر دعویٰ کہ حالات ٹھیک اور عوام بھارتی اقدام سے خوش ہیں تو پھر کرفیو و پابندی کا کیا مطلب ہے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں امن کی صورتحال کو قابو رکھنے اور جہادی تنظیموں کی جانب سے کسی کارروائی کے امکانات کو مسترد کیا اور ایسے مودی سرکار کا جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیا۔
مودی سرکار عالمی برداری کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگانے کا مقصد مبینہ جہادی تنظیموں کی جانب سے ”اطلاعات“ پرکیا گیا ہے۔ کشمیری عوام اور عالمی برداری کے سامنے بھارت کے جھوٹ کا پول کھل چکا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کی اصل سازش کچھ اور ہے۔ پاکستان بھی مسلسل مودی سرکار کی مکارانہ سازشوں کے ممکنہ امکانات سے عالمی برداری کو آگاہ کررہا ہے کہ نریندر مودی مقبوضہ کشمیر میں سفاکیت و فسطائیت کا مظاہرہ کررہا ہے اور کشیدہ صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی مذموم سازش تیار کی ہوئی ہے۔
مودی سرکار کو بھی واضح کردیا ہے کہ وہ اپنے ایڈونچر کا شوق کا نتیجہ یاد رکھے۔ مقبوضہ کشمیر میں مودی سعکار کے عزائم پر پاکستان ہی نہیں بلکہ بھارت میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا کہنا ہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ آئیے ہم کشمیر میں انسانی حقوق اور امن کے لیے دعا کریں۔ سابق آئی اے ایس افسر اور انسانی حقوق کے ایک سینئر کارکن ہرش مندر نے کشمیریوں کے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”نہ صرف یہ کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی بلکہ یہ کام انتہائی توہین آمیز انداز میں کیا گیا۔
ان کے بقول اس قدم سے کشمیری عوام میں غصہ بھی ہے اور رنج بھی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس فیصلے سے کشمیری خوش ہیں تو پھر انھیں اپنی خوشی کے اظہار کا موقع کیوں نہیں دیا جا رہا۔ ہرش مندر کا کہنا ہے کہ کشمیری عوام کی ذہنی کیفیت کا اندازہ اس وقت لگے گا جب وہ باہر نکلنے کی پوزیشن میں ہوں گے ”۔ جے این یو طلبہ یونین کی سابق نائب صدر اور جموں و کشمیر پیپلز موومنٹ کی رہنما شہلا رشید نے ٹویٹ کر کے الزام عائد کیا کہ بھارتی فوج کے جوان گھروں میں گھس رہے ہیں اور نوجوانوں کو باہر نکال رہے ہیں۔
گھروں کی تلاشی کے نام پر راشن بکھیرا جا رہا ہے اور جان بوجھ کر چاول اور دیگر اشیا میں تیل ملایا جا رہا ہے۔ شہلا رشید نے فوج پر ٹارچر کرنے کا بھی الزام لگایا اور کہا کہ شوپیاں میں چار افراد کو کیمپ میں بلایا گیا اور ان سے ایذا رسانی کے ساتھ پوچھ گچھ کی گئی۔ ان کے آگے ایک مائک رکھ دیا گیا تاکہ ان کے چلانے کی آواز دور تک جائے اور لوگ ڈر جائیں۔ اس سے علاقے میں خوف و ہراس کا عالم ہے۔ دریں اثنا انسانی حقوق کے ایک سینئر کارکن اور میگسیسے ایوارڈ یافتہ سندیپ پانڈے کو ایودھیا میں کشمیر کے مسئلے پر نیوز کانفرنس نہیں کرنے دی گئی اور انھیں حراست میں لے لیا گیا۔ مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے کے خلاف سب سے توانا آواز بلند کرنے والے سابق وزیر داخلہ چدم برم کو بھی گرفتار کرلیا۔
پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر قومی سلامتی کونسل میں آئندہ کی حکمت عملی پر مشاورت کرکے عملی اقدامات پر عمل پیرا ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں مقبوضہ کشمیر کی عالمی متازع حیثیت تسلیم کیے جانے کے بعد ایک اہم پوزیشن پر آچکا ہے۔ چین کے ساتھ پاکستانی اقدامات سے بھارت کو عالمی برداری کے سامنے سفارتی محاذ پر ناکامی کا مسلسل سامنا ہورہا ہے۔ پاکستان نے سرد خانے میں بڑے مقبوضہ کشمیر کو بھرپور عالمی توجہ حاصل ہونے کے بعد اہم امور پر اقدامات اٹھانے کے فیصلے کرلئے ہیں جس میں دو اہم ترین اقدامات ہیں۔
جس میں سب سے اہم عالمی عدالت میں مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ لے جانے کا اصولی فیصلہ اور دوسری جانب جنرل اسمبلی اجلاس سے قبل مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ 09 ستمبرکو عالمی انسانی حقوق کمیشن میں اٹھایا جانا ہے۔ جنیوا میں منعقد ہونے والے انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس میں شرکت کے لئے پاکستان کی سابق سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ جنیوا روانہ ہوچکی ہیں۔ جہاں انسانی حقوق کمیشن کے رکن ممالک سے راوبط کرکے کشمیروں کی تحریک کے حق میں سفارتی کوششیں اور راہ ہموار کریں گی۔
اقوام متحدہ کا جنرل اسمبلی کے اجلاس ستمبر میں منعقد ہوگا اور پاکستان کے لئے ایک بڑا اہم موقع ہوگا جب کہ بھارتی وزیر اعظم 26 ستمبرکو خطاب کے بعدپاکستانی وزیر اعظم 27 ستمبر کو خطاب کریں گے۔ یہ وزیر اعظم عمران خان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پہلا خطاب ہوگا۔ امریکا و دیگر اہم ممالک سے سفارتی تعلقات میں وزیر اعظم کو عالمی ذرائع ابلاغ میں خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ اس لئے توقع ہے کہ وزیر اعظم مسئلہ کشمیر سمیت اہم ایشوز پر عالمی برداری و میڈیا کی بھرپور توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے نیز ان کے پاس اس بات کا موقع ہوگاکہ بھارتی وزیر اعظم کے خطاب کے بعد اُن کی تقریر ہوگی جس میں پاکستانی وزیر اعظم اپنے ہم منصب کی جانب سے جھوٹے پروپیگنڈوں اور الزام تراشیوں کا موثر جواب بھی دیں سکیں گے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


