انصاف کا ترازو متوازن کیسے رہے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ہونے والے جج جسٹس عظمت سعید کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس منعقد ہؤا۔ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے سبکدوش ہونے والے جج نے متنبہ کیا ہے کہ انصاف کے راستے کو کسی ’شارٹ کٹ‘ سے پامال نہ کیا جائے ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے ساتھی ججوں کو باور کروایا ہے کہ انہیں ’جوڈیشل انارکی اور انصاف‘ میں فرق کرنا ہوگا۔

ریٹائر ہونے والے جج کا یہ مشورہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی دیانت اور غیر جانبداری پر خود عدالت عظمیٰ کے ہی ایک جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوالیہ نشان لگایا ہے۔ جسٹس قاضی نے گزشتہ روز اپنے خلاف دائر صدارتی ریفرنس پر اپیل دائر کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ان کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت فل کورٹ میں کی جائے کیوں کہ انہیں چیف جسٹس کی غیر جانبداری پر شبہ ہے ۔ انہوں نے یہ شبہ اپنے خلاف ایک پرائیویٹ ریفرنس میں سپریم جوڈیشل کونسل کے ایک حالیہ فیصلہ میں چیف جسٹس کے نوٹ کی بنیاد پر ظاہر کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ انہیں ایسی سپریم جوڈیشل کونسل سے انصاف کی امید نہیں ہے جس کی سربراہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کرتے ہیں اور جو درخواست دہندہ کے خیال میں ان کے معاملہ میں متعصب اور جانبدار ہیں۔ اس لئے ان کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت فل کورٹ میں کی جائے۔

سپریم جوڈیشل کونسل نے گزشتہ ہفتہ کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ایک شخص کے ریفرنس کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا تھا کہ ا س میں جسٹس قاضی کے مس کنڈکٹ کے مناسب شواہد موجود نہیں ہیں۔ اس ریفرنس میں شکایت کی گئی تھی کہ اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کی خبر سامنے آنے کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت عارف علوی کو تین خطوط ارسال کئے تھے ۔ سپریم کورٹ کے جج کے خطوط کی تشہیر کو فاضل جج کا مس کنڈکٹ بتاتے ہوئے انہیں عدالت عظمی سے ہٹانے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے 19 اگست کے فیصلے میں واضح کیا تھا کہ یہ ثابت نہیں کیا جاسکا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر کو لکھے گئے خطوط کی تشہیر کی تھی ۔ اسی لئے انہیں جج کے مس کنڈکٹ سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔

 اس فیصلہ میں البتہ چیف جسٹس نے یہ لکھا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو صدر کے نام خطوط لکھتے وقت یہ علم تھا کہ ان کے خلاف صدر پاکستان نے سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھجوایا تھا۔ اس کے ثبوت کے طور پر چیف جسٹس نے فیصلہ میں بتایا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو انہوں نے خود اپنے چیمبر میں اس ریفرنس کے بارے میں آگاہ کیا تھا اور انہوں نے اطمینان سے اسے پڑھا تھا اور اس کے نوٹس بھی بنائے تھے۔ نوٹس بنانے کے لئے کاغذ قلم بھی چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فراہم کیا تھا۔ صدر کو لکھے گئے خطوط میں دیگر باتوں کے علاوہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے خلاف ریفرنس کی میڈیا میں تشہیر کے ذریعے ، ان کی کردار کشی کی گئی ہے لیکن انہیں اس ریفرنس کی کاپی فراہم نہیں کی گئی۔

 اب فل کورٹ سماعت کے لئے دائر کی گئی درخواست میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ چیف جسٹس نے اپنے چیمبر میں ان کے ساتھ جس ملاقات کا ذکر کیا ہے، اس کے بارے میں ملاقات کے آخر میں خود چیف جسٹس نے واضح طور سے کہا تھا کہ یہ ملاقات ’آف دی ریکارڈ‘ ہے۔ لیکن اس آف دی ریکارڈ ملاقات میں ہونے والی باتوں کو سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلہ کا حصہ بنا کر چیف جسٹس نے ان کے خلاف عدم احترام کارویہ اختیار کرتے ہوئے ، ان کے مؤقف اور ذات کی نفی کی ہے اور انہیں مسترد کیا ہے۔ اس طرح انہوں نے درخواست گزار کے خلاف تعصب اور جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلہ میں صدر کے نام خطوں میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے وزیر اعظم کی بیگمات اور بچوں کا حوالہ دینے کو بھی ’بد مذاقی‘ قرار دیا گیا تھا۔ البتہ جسٹس قاضی کی درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’ان کی بجائے وزیراعظم نے 36 برس سے درخواست گزار کی واحد بیوی اور ان کے دو بالغ بچوں کو اس معاملہ میں گھسیٹا۔ ان کی (جسٹس قاضی فائز عیسیٰ) اہلیہ اور بچوں کی غیرقانونی نگرانی کی گئی اور ملک کے انٹیلی جنس اداروں کے ذریعے ان کی ذاتی معلومات کو کھنگالا گیا اور اس مقصد کے لئے سرکاری وسائل صرف کئے گئے۔ نادرا، ایف آئی اے، پاسپورٹ اینڈ امیگریشن آفس، ایف بی آر اور وزارت داخلہ کے خفیہ ریکارڈ کو جانچا گیا۔ اور ان معلومات کو آدھا سچ بتاتے ہوئے جھوٹا ریفرنس دائر کرنے کے لئے استعمال کیا گیا۔ لیکن ایس جے سی کے حکم میں وزیر اعظم کے ان جرائم کو نظر انداز کرتے ہوئے الٹا ان کے ساتھ ہمدردی ظاہر کی گئی ہے‘۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدر عارف علوی نے اس بنیاد پر ریفرنس دائر کیا ہے کہ انہوں نے اپنی اہلیہ اور بچوں کی غیر ملک میں املاک کو ظاہر نہیں کیا تھا جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسی ٰ کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے بالغ بچوں اور اہلیہ کی املاک ظاہر کرنے کے پابند نہیں تھے۔ اس ریفرنس پر سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو شو کاز نوٹس جاری کیا تھا تاہم ابھی تک اس کی سماعت مکمل نہیں ہوئی۔ اس دوران دیگر لوگوں کے علاوہ پاکستان بار کونسل نے بھی سپریم کورٹ میں یہ درخواست دائر کی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی آؤٹ آف ٹرن سماعت کرنے کا اختیار نہیں تھا۔ درخواستوں میں اس طریقہ کو امتیازی اور متعصبانہ قرار دیاگیا ہے۔

جسٹس عظمت سعید کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس کے دوران بھی جسٹس قاضی فائز عیسی ٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج کے خلاف صدارتی ریفرنس کے معاملہ کا حوالہ بھی دیا گیا۔ پاکستان بار کونسل کے وائس چئیرمین سید امجد علی شاہ نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت عدلیہ میں ’مخالف آوازوں‘ کو خاموش کروانے کے لئے ناجائز ہتھکنڈے اختیار کررہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’کیا اداروں کو اپنے اختیار سے تجاوز کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے؟ کیا پارلیمنٹ اور عدالتیں آزادی سے کام کررہی ہیں؟‘ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر ادارے کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنے کا پابند کرے۔ اسی طرح سیاسی معاملات میں مداخلت سے بھی عدلیہ کی شہرت مجروح ہوتی ہے۔

ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے کردار پر اٹھائے گئے ان سوالات کا جواب آسان نہیں ہو سکتا۔ البتہ اگر انہیں درگزر یا نظر انداز کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک میں وہی ’جوڈیشل انارکی‘ جنم لے گی جس کی طرف خود عدالت عظمی سے سبکدوش ہونے والے جسٹس عظمت سعید نے اشارہ کیا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس، اس پر غور کے حوالہ سے اٹھائے گئے اعتراضات اور اس معاملہ میں چیف جسٹس کے کردار پر اٹھنے والے شبہات ملک کے پورے عدالتی نظام کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اس وقت معاملہ ایک جج کے خلاف ایک صدارتی ریفرنس یا عدالت عظمی کے ایک جج کی جانبداری سے زیادہ، بطور ادارہ سپریم کورٹ کی شناخت، وقار اور عزت و احترام کے بارے میں ہے۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ پر براہ راست الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت عظمیٰ کے ایک معزز جج نے وزیر اعظم پر ملکی اداروں کو غیر قانونی جاسوسی کروانے اور شہریوں کی ذاتی معلومات کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان الزامات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

جمہوریت، آئین کی پاسداری اور اداروں کی غیر جانبداری کے بارے میں معاملات پر غور کے دوران سپریم کورٹ کا ماضی میں کردار قابل تحسین نہیں رہا۔ آج اگر ملک میں جمہوریت کو مشکلات درپیش ہیں اور بعض ادارے اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہیں یا حکمران جماعت خود ہی آئین اور آئینی اداروں کا احترام کرنے پر آمادہ نہیں ہے تو کسی حد تک اس کی وجہ ملک کی سپریم کورٹ کے ماضی میں دیے گئے متعدد فیصلے بھی ہیں ۔ نظریہ ضرورت کے سہارے بنیادی اصولوں اور آئینی تقاضوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا معاملہ اگرچہ پیچیدہ اور مشکل ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ سپریم کورٹ کو ایک ایسا موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے سب جج مل کر ان سوالات کے دیانت دارانہ جواب تلاش کرتے ہوئے ملک میں انصاف کا راستہ ہموار کریں۔ اس موقع کو ضائع کیا گیا تو آج کی تاریخ میں بعض افراد کو بچایا جاسکتا ہے اور بعض کو ہتک آمیز طریقے سے ان کے عہدوں سے فار غ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن تاریخ کے صفحات کسی غلط روش کو معاف نہیں کرتے البتہ ان فیصلوں کی قیمت پوری قوم کو ادا کرنا پڑتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1280 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali