انڈو پاک ہم جنس جوڑے بیانکا مائیلی اور صائمہ کو شادی مبارک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کولمبیا کی کرسچن ہندوستانی خاتون بیانکا مائیلی اور مسلم پاکستانی خاتون صائمہ نے مشرقی روایات کے رنگ میں بس کر شادی رچا لی۔ ہنسوں کا یہ جوڑا ہم جنس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ معاشرہ انہیں کیا کہے گا۔ بڑے جوش و خروش سے ساری رسمیں تو مشرقی ہی تھیں لیکن ہم جنس شادی کا یہ رجحان مشرق کا دیا گیا نہیں بلکہ مغربی ثقافت کا یاد گار تحفہ ہے۔ اب ان کا جسم، ان کی مرضی، پر ہم تو کچھ کہہ نہیں سکتے، اب یہ بھی علم نہیں کہ انہوں نے پاک، انڈیا دوستی بڑھانے کی جانب کوئی قدم اٹھایا ہے یا کوئی ’لو جہاد‘ کی نئی شکل ہے۔ جب ہم جنس جوڑے نے باہم گرہ باندھنے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے اپنی اپنی ثقافتوں کو فوکس کرتے ہوئے اور روایتی تقاریب کا انعقاد کرکے یقینی طور پر ہم جنس حلقوں کے لئے تاریخی سپنا بنا دیا۔ خوبصورت خاتون صائمہ نے پھولوں کے لمس اور بھاری سونے کی کڑھائی کے ساتھ ہاتھی دانت کی ہاتھی دان ساڑی ڈونی، خوبصورت موتی کا ہار، انگوٹھی، مانگ ٹیکہ، سونے کی چوڑیاں اور موتی کڑاس کے ساتھ نظروں سے قتل کیا۔ یہ خوبصورت جوڑا جنوبی ایشین فیشن ڈیزائنر بلال حسین نے تیار کیا تھا۔

صائمہ اپنی سیاہ شیروانی میں اسی ڈیزائنر بلال حسین کے سونے کے رنگ اور رنگین کڑھائی کے ساتھ حیرت زدہ کرتی نظر آئیں۔ اس نے اسے ایک مماثل موتی مالا کے ساتھ تیار کیا تھا۔ نیز، اس نے سونے کے ہوا باز چشمے کے ساتھ سب کو گھائل کیا۔ خوبصورت جوڑی نے یادگار مہندی کی تقریب کا بھی اہتمام کیا، جسے انہوں نے گلابی رنگوں کے لباس میں جوڑا۔ بیانکا نے گلابی رنگ کا لہنگا پہنا تھا، صائمہ نے ایک خاکستری کرتا پاجامہ  زیب تن کیا جو گلابی بروکیڈ جیکٹ کے ساتھ تیار کیا ہوا تھا۔ خوبصورت جوڑے کی شادی کا اختتام ہوا اور یہ سرحدوں کے ماورا محبت کی بہترین ”مثال“ بن گئی ہے۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگیں ہوتی ہیں تو ہوتی رہیں، مقبوضہ کشمیر لہولہان ہوتا ہے تو ہوتا رہے۔ لیکن محبت کرنے والے اس جوڑے نے تو اپنی خواہشات کو ہی دیکھنا تھا۔ ہم جنس پرست خواتین ہوں یا مرد۔ انہوں نے پہلے کبھی نہ کسی کی سننی ہے اور نہ بعد میں کسی کی سنیں گے۔ انہیں مغربی و بھارتی معاشرے میں آزادی دی گئی ہے اس لئے اس آزادی کا بھرپور فائدہ اٹھاتے نظر آتے ہیں۔ ہاں، جہاں آزادی نہیں ہے وہاں یہی سب کچھ ہوتا ہے لیکن چپکے چپکے۔۔ اب اگر کوئی چپکے چپکے بھی اس طرح کی زندگی بسر کرنا چاہیے تو سماج کیا کرے۔

جب کوئی مسلمان، ہندو سے شادی رچائے تو اسلام کیا کرے۔ ہندو اگر مسلمان سے شادی رچائے تو ہندو مذہب کیا کرے۔ یہ انسان کا اپنا فلسفہ اپنی مرضی ہے، ان کے جسم کی مرضی ہے کہ کس کو سونپ دے۔ شاید انہوں نے اپنی بقا کے لئے کوئی راستہ تلاش کیا، لیکن نہیں، سائنس بتاتی ہے کہ یہ سب جینز کا مسئلہ ہے۔ تو پھر جب قدرتی طور پر جینز ہی سارے فساد کی جڑ ہے تو اس میں قصور کسی ہم جنس کا تو نہیں ہوا ناں۔

میں بیانکا اور صائمہ کی شادی میں شریک تو نہیں ہوا لیکن ایسی شادیاں دیکھی ضرور ہیں۔ ایسی دل فریب تصاویر اور خبر کا آنا بذات خود دلوں کو سقوط کرتا ہے کہ مردانہ وجاہت بھی ان قاتلوں پر وار نہ کرسکی لیکن کئی مردوں کو گھائل ضرور کر گئی ہوگی۔ کہا تو یہی جاتا ہے کہ دنیا میں سب سے خوبصورت و جاذب نظر ’مرد‘ ہوتے ہیں، ان کے اعضا و جسمانی ساخت کے حوالے سے انہیں دنیا کی خوب صورت و دلکش مخلوق کا اعزاز حاصل ہے۔

خواتین کے جسم غزل کی شاعری سہی لیکن اُس کی خوب صورتی، مردوں کے مقابل نہیں۔ مرد برادری میں بننے سنورنے کا ذوق نہیں وگرنہ چھریوں سے اپنے ہاتھ زلیخا کی سہلیوں نے ہی تو کاٹے تھے۔ بہرحال جنہیں بیانکا مائیلی اور صائمہ کی شادی پر دکھ ہے، ان کے لئے صبر کی دعا ہی کرسکتا ہوں۔ باقی جب آزادی نسواں اور کندھے سے کندھے ملانے کی رسم چلے تو انہیں مبارکباد تو دینی ہی پڑے گی۔ تو بیانکا اور صائمہ کی خوبصورت جوڑی کو مبارک، لیکن خیال رہے کہ راقم کا اس شادی سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

https://www.news18.com/news/buzz/love-trumps-borders-same-sex-couple-from-india-pakistan-tie-knot-in-fairy-tale-wedding-2290705.html

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •