امن کی کرن جاگی، اندھیارے بھاگے


\"edit\"خبر آئی ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ایک قریبی مشیر نے اسلام آباد کی ایک اعلی سطحی شخصیت سے رابطہ کرکے وزیر اعظم نواز شریف کو پیغام دیا ہے کہ بھارت اب پاکستان کے ساتھ اشتعال انگیزی میں مزید اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔ اگرچہ آج رات بھی لائن آف کنٹرول پر دونوں ملکوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہؤا ہے اور دونوں یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ پہل دوسری طرف سے کی گئی تھی۔ اس دوران پاکستان نے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان سے درخواست کی ہے کہ وہ برصغیر میں بھارت کی اشتعال انگیزی بند کروانے اور امن کی فضا بحال کروانے کے لئے کردار ادا کریں۔ اس خبروں سے یہ بات تو واضح ہوتی ہے کہ نئی دہلی اور اسلام آباد کویکساں طور سے جنگ کی تباہ کاری اور امن کی افادیت کا علم ہے ۔

دونوں ملک یہ جانتے ہیں کہ تصادم کی صورت میں ناقابل بیان نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ ان حالات میں طرفین کو صرف موجودہ اشتعال انگیزی کو بند کرنے کے لئے ہی نہیں بلکہ امن کو مستقل طور سے موقع دینے اور اس خطہ میں خوشحالی اور باہمی تعاون کے لئے سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح پاکستان اور بھارت کے شہریوں کے بہتر مستقبل کے لئے کام کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے اشتعال انگیزی بند کرنے کا فیصلہ خوش آئیند تو ہے لیکن اب یہ دیکھنا ہو گا کہ دونوں ملک کس طریقے سے جنگ کا ماحول ختم کرکے مواصلت اور بات چیت کے لئے فضا سازگار کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے دونوں ملکوں کو سب سے پہلے تند و تیز بیانات کا سلسلہ بند کرکے میڈیا کے ذریعے پیدا کئے گئے جنگ کے ماحول کو ختم کرنا ہو گا ۔ تاکہ دونوں ملکوں میں جنگ کے امکان سے سہمے ہوئے لوگ اور تجارتی شعبہ سکھ کا سانس لے سکے اور زندگی معمول پر واپس آسکے۔

بھارت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ اشتعال انگیزی بند کرنے کی خبر پاکستان کے انگریزی روزنامہ دی نیوز نے اسلام آباد کے باخبر ذرائع کے توسط سے دی ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ بھارت نے اشتعال انگیزی بند کرنے کے ساتھ وزیر اعظم نواز شریف کو یقین دلایا ہے کہ بھارت جنگ نہیں چاہتا کیوں کہ نئی دہلی کو اندازہ ہے کہ جنگ کی صورت میں بھارت کو ہی ذیادہ نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ 18 ستمبر کو اوڑی حملہ کے بعد بھارت کی طرف سے پاکستان پر اس حملہ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ جبکہ پاکستان کا خیال تھا کہ یا تو یہ ڈرامہ بھارت نے خود ہی رچایا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں عوام کے احتجاج اور بھارتی سیکورٹی فورسز کے مظالم کی بجائے عالمی فورمز پر پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کا واویلا کیا جاسکے۔ اوڑی حملہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستانی وزیر اعظم کی تقریر سے صرف دو روز قبل ہؤا تھا ۔ اس لئے یہ سوال اٹھنے لازم تھے آخر وہ کون سے عناصر ہیں جو اس موقع پر اس قسم کا حملہ کرکے پاکستان کی پوزیشن اور کشمیریوں کی جد و جہد کو پس منظر میں دھکیلنے کو کوشش کر سکتے ہیں۔

اس حوالے سے یہ بات بھی کہی جاتی رہی ہے اور نواز شریف نے بھی اس کا اظہار کیا تھا کہ کشمیر میں بھارتی تسلط کے خلاف مسلح جد و جہد کرنے والے کسی عسکری گروہ نے ہی یہ حملہ کیا ہو اور بھارت نے اس کا سارا الزام پاکستان پر عائد کرکے دنیا بھر میں پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم شروع کردی۔ تاہم دونوں صورتوں میں بھارت کو سیاسی لحاظ سے بھی اور سفارتی طور پر بھی اس حملہ سے فائدہ بھی ہؤا اور اس نے اس سے پورا استفادہ حاصل کرنے کی کوشش بھی کی۔ تاہم اس کے بعد سیاسی بیانات، نریندر مودی کی اشتعال انگیز تقریر ، میڈیا کے ذریعے پاکستان خلاف پروپیگنڈے اور سیاسی اقدامات کے ذریعے جنگ کا ماحول پیدا کردیا گیا تھا۔

دو روز قبل بھارت کے اس دعویٰ سے صورت حال نہایت سنگین ہو گئی تھی کہ اس کی فوج نے پاکستانی علاقے میں سرجیکل اسٹرائیک کی ہے اور متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیاہے۔ اگرچہ بھارت نے نہ تو کوئی ثبوت فراہم کئے اور نہ ہی اس علاقے کے بارے میں بتایا جہاں اس کے فوجی ذرائع کے مطابق بھارتی فوج نے پاکستان کے علاقے میں گھس کر کارروائی کی تھی، لیکن بھارتی میڈیا نے اس دعوے کو بنیاد بنا کر یوں ظاہر کیا کہ گویا بھارت نے اوڑی حملہ کا بدلہ لے لیا ہے۔ یہ صورت حال پاکستان کے لئے ناقابل قبول تھی اور اس کی طرف سے اس دعوی کی تردید کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ بھارت نے سیز فائر لائن کی خلاف ورزی ضرور کی ہے جس میں دو پاکستانی فوجی شہید اور متعدد بھارتی فوجی مارے گئے۔ بعد میں خبر آئی کہ پاکستان نے ایک بھارتی فوجی کو گرفتار کرلیا ہے۔ دونوں ملک اس گرفتاری کی تصدیق کرتے ہیں لیکن اس کے بارے میں مختلف وجوہات بیان کی جارہی ہیں۔ اب اخباری خبر میں بتایا گیا ہے کہ بھارت نے اعلیٰ سطحی مواصلت میں اعتراف کیا ہے کہ اشتعال انگیزی کا ماحول بھارتی عوام کی تشفی کے لئے پیدا کیا گیا تھا۔ لیکن بھارت پاکستان کے ساتھ جنگ کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

امید کی جانی چاہئے کہ یہ خبر درست ہو اور بھارت کے علاوہ پاکستان بھی جنگ کی طرف پیش قدمی کی بجائے اب امن بحال کرنے اور بات چیت کا آغاز کرنے کی کوشش کریں۔ بھارت نے جنگ کا جو ماحول پیدا کیا تھا اس سے باہمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے اور معاملات پہلے کے مقابلے میں ذیادہ پیچیدہ اور مشکل ہو گئے ہیں ۔لیکن اگر دونوں ملک تمام امور پر کھلے دل سے مذاکرات کا آغاز کرسکیں اور یہ سمجھ سکیں کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ جنگ سے مسائل اور مشکلوں میں مزید اضافہ ہو گا تو مستقبل کے لئے امید کی ایک شمع روشن کی جا سکتی ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali