مادہ منویہ اور دہنی مباشرت (ڈاکٹر خالد سہیل اور سید محمد زاہد کے مضامین کا جواب)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند روز پہلے ڈاکٹر خالد سہیل کا مضمون ”کیا آپ منی کے قطروں کو پاک سمجھتے ہیں؟ “ شائع ہوا جسے پڑھ کر اپنا نقطہء نظر ابھی حوالہء قرطاس کرنا چاہ رہا تھا کہ ایک اور تحریر بقلم سید محمد زاہد بعنوان ”ڈاکٹر خالد سہیل، یہ تم نے کیا کہہ دیا؟ “ بھی شائع ہو گئی۔

ڈاکٹر خالد سہیل نے اپنے مضمون میں بیک وقت دو اہم موضوعات (منی کا پاک ہونا، دہنی مباشرت) کو زیر بحث لاتے ہوئے اپنی بات عوام الناس تک پہنچائی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے مضمون کے تاثر میں سید محمد زاہد نے اپنی تحریر میں منی کے پاک ہونے پر تو بات کر لی لیکن دہنی مباشرت جیسے موضوع پر بات کرنے سے اجتناب برت گئے۔

اپنی اس تحریر میں ان دونوں صاحبانِ علم و حکمت کے نقطہ ہائے نظر سے جزوی اختلاف کی جسارت کرتے ہوئے اپنا نقطہء نظر بیان کرنے کی سعی کی ہے۔ امید ہے کشادگیء قلب کا مظاہرہ کرتے ہوئے بندہءناچیز کی باتوں کو مثبت لیا جائے گا۔

مادہء منویہ یا منی پاک ہے، ناپاک ہے، حلال ہے یا حرام؟ میری گفتگو کا یہ موضوع ہر گز نہیں۔ زیر نظر مضمون لکھنے کا مقصد منی کے پاک یا ناپاک اور حلال یا حرام، ہر ایک صورت کو مدنظر رکھتے ہوئے دہنی مباشرت پر بحث کرنا ہے۔

جن لوگوں کے نزدیک منی ایک ناپاک مادہ ہے ان کے لیے تو دہنی مباشرت پر بحث کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی لیکن جو لوگ دہنی مباشرت کو اس لیے جائز فعل قرار دیتے ہیں کہ منی ایک پاک مادہ ہے، منہ میں چلا بھی جائے تو غلط نہیں، ان سے میرا ایک سوال ہے کہ، ”کیا یہ ضروری ہے کہ ہر پاک چیز حلال بھی ہو؟ “۔ یقیناً ہر پاک چیز کا حلال ہونا ضروری نہیں جیسا کہ بلی اور گدھا پاک ہیں لیکن حرام نہیں جبکہ کتا اور خنزیر ناپاک بھی ہیں اور حرام بھی۔

کتے اور خنزیر کے چھو جانے سے کپڑے اور جسم کا وہ حصہ ناپاک ہو جاتا ہے لیکن بلی اگر گود میں ہی کیوں نہ بیٹھی ہو آپ اسی طرح اٹھ کر لباس تبدیل کیے بغیر نماز کے لیے جا سکتے ہیں۔ لیکن بلی کے پاک ہونے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ بلی کا گوشت بھی حلال ہو گیا۔ یہاں یہ بات ثابت ہوئی کہ کسی چیز کا پاک ہونا اس چیز کے حلال ہونے کی دلیل نہیں۔

اس ضمن میں کسی دوست کے ذہن میں یہ سوال آسکتا ہے کہ، ”منی اگر حرام مادہ ہے تو اس سے بننے والا انسانی جسم حرام کا وجود ہے؟ “۔ اس بات کا جواب یوں دیا جا سکتا ہے کہ فطری تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بیوی سے ہمبستری کی صورت میں منی جب اپنی منزل تک پہنچتی ہے تو حلال لیکن جب منی کا اخراج غیر فطری طریقوں (جلق، دہنی مباشرت، مباشرتِ مقعد) سے ہو تو منی حرام بن جاتی ہے۔

اپنی ذات میں منی حرام ہے یا حلال، اس بات سے قطع نظر سمجھنے کی بات یہ ہے کہ منی کے اخراج کا طریقہ حلال ہے یا حرام۔ جیسا کہ میاں بیوی کے باہمی ملاپ میں شریعت نے ثواب رکھا ہے جبکہ غیر فطری طریقوں سے اخراج منی کو شریعت نے منع کیا ہے۔ اس بات کو آپ ایسے بھی سمجھ سکتے ہیں کہ جائز کمائی سے خریدی گئی روٹی حلال ہے جبکہ ناجائز کمائی سے خریدی گئی روٹی حرام بھلے دونوں روٹیاں ایک ہی کھیت سے پیدا ہونے والی گندم سے کیوں نہ بنی ہوں یا پھر ذبح کرتے وقت اگر مرغ کی گردن اتر جائے تو حرام لیکن اگر شہہ رگ کاٹ کر خون بہنے کا انتظار کر کے گوشت بنایا جائے تو حلال۔ بات منی، روٹی یا گوشت کی نہیں، بات شریعت میں بتائے گئے طریقہ کار کی ہے۔

اب آتے ہیں اس نکتے کی طرف کہ، ”منی پاک بھی ہے اور اپنی ذات میں حلال بھی ہے“۔ اگر مان لیا جائے کہ منی پاک ہے اور اپنی ذات میں حلال مادہ بھی ہے، تو کیا ہر پاک اور حلال چیز کھائی یا پی جا سکتی ہے؟ کیا ناک کی رطوبت کھائی جا سکتی ہے؟ جبکہ وہ پاک مادہ ہے اور اس کے حرام ہونے کی کوئی دلیل بھی نہیں۔ کیا کوئی نارمل انسان پسینے کی بوندیں پینا پسند کرے گا؟ یقیناً کچھ پاک اور حلال چیزیں ایسی بھی ہیں جن کو کھانے پینے حتیٰ کہ زبان لگانے سے بھی کراہت محسوس ہوتی ہے۔ ایسی چیزوں میں موجود فاسد مادوں کے ساتھ ساتھ جراثیموں کی موجودگی اور حفظان صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کو کھانے پینے یا چاٹنے سے گریز کرنا چاہییے۔ ویسے بھی انسانی منی میں HPV پایا جاتا ہے جو منہ کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔

ایک نارمل انسان ہمیشہ نارمل طریقے سے ہی زندگی گزارتا یے۔ وہ مباشرت بھی نارمل طریقے سے کرنا پسند کرتا ہے۔ جو لوگ صنف مخالف میں کشش محسوس کرنے اور جنسی آسودگی حاصل کرنے کی بجائے اپنے ہم جنس میں کشش محسوس کرتے ہیں اور اپنے ہم جنسوں سے ہی جنسی آسودگی حاصل کرنے کے خواہاں رہتے ہیں ان میں کوئی ابنارملٹی ہوتی ہے یا وہ نفسیاتی طور پر سو فیصد صحت مند نہیں ہوتے۔ اسی طرح جو مرد یا عورت فطری طریقے سے ہمبستری کی بجائے غیر فطری مباشرت (جلق، دہنی مباشرت، مباشرت مقعد) زیادہ پسند کرتے ہیں وہ لوگ بھی نفسیاتی طور پر سو فیصد صحت مند نہیں ہوتے۔ اگر وہ نفسیاتی طور پر صحت مند ہوتے تو صحت مندانہ جنسی سرگرمی پر غیر فطری اور غیر صحت مندانہ جنسی سرگرمی کو ترجیح کیوں دیتے؟

ڈاکٹر خالد سہیل صاحب! آپ ماہر نفسیات ہیں۔ کیا آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہییے تھا کہ آپ اپنے کلائنٹ کی بیوی کی کونسلنگ کرتے، اسے مائل بہ فطری طریقہ ہائے مباشرت کرتے اور دہنی مباشرت کی لت سے اس کی جان چھڑاتے؟ الٹا آپ اپنے کلائنٹ کو دہنی مباشرت کے بعد اس کی منی سے بیوی کے بھرے منہ سے کِس کرنے پر راغب کر رہے ہیں۔ ماہر نفسیات تو فطرت کے قریب ہوتا ہے اور فطرت سے دور لوگوں (Abnormal people) کی درست سمت رہنمائی کر کے ان کا علاج کرتا ہے اور انہیں نارمل لوگوں کی صف میں کھڑا ہونے میں مدد دیتا ہے۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

سید محمد زاہد نے اپنی تحریر میں ایک حکایت کے ذریعے منی کو جیون جل بتایا ہے اور یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ جیون بخشنے والے جل کو حلال کہہ دینا کچھ غلط نہیں۔

سید محمد زاہد صاحب! یہ صرف جل ہے، اسے جیون جل بننے کے لیے بہت تپسیا کرنا پڑتی ہے۔ اس جل کو جیون جل بننے کے لیے بتائی گئی مخصوص جگہ پر جا کر نو مہینے مراقبے میں گزارنا پڑتے ہیں تب جا کر اس جل کو جیون دان ہوتا ہے۔ اگر یہ جل مخصوص جگہ پہنچنے میں ناکام رہے یا حالات سے گھبرا کر نو مہینے سے پہلے ہی مراقبہ توڑ دے تو ایسے جل کا مقدر جیون نہیں گٹر یا نالی ٹھہرتا ہے۔ دہنی مباشرت کے نتیجے میں یہ جل منہ میں گرے یا ادھر ادھر، یہ محض جل ہے، جیون جل نہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے انجکشن نٙس میں لگانے کی بجائے مریض کی ہتھیلی پر انڈیل دیا جائے۔

اس ضمن میں راقم کا ایک شعر ملاحظہ کیجییے

”وہ جل جیون جل کہلاوے جو جل جیون دان کروہے

منزل تک جو جل نہ جاوے وہ کیا جیون دان کروہے ”

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بچوں اور نوجوانوں کو جنسی تعلیم دینا انتہائی ضروری ہے لیکن جنسی تعلیم کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انہیں غیر فطری طریقوں کی طرف راغب کیا جائے بلکہ انہیں غیر فطری طریقوں کے نقصانات سے آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ نوجوانوں میں صحت مند سوچ پنپ سکے جو کہ صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔ جہاں تک پاکی اور پلیدی کی بات ہے اس میں ہر انسان اپنے اپنے مذہب، مسلک اور ذوق کے مطابق آزاد ہے۔

مضمون کی دم: اسلام دین فطرت ہے اور معاملات میں فطری تقاضوں اور طریقوں کو ہی پسند کرتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اشہد مہر زاد کی دیگر تحریریں
اشہد مہر زاد کی دیگر تحریریں