کشمیر، سیاسی قیادت رہنمائی کرے، نعرے بازی نہیں


وزیراعظم ہاؤس میں آج سیاسی قیادت کا جو اجلاس منعقد ہوا، وہ اس افسوسناک رویہ کا المناک چہرہ عیاں کرتا ہے۔ ہمارے سیاسی لیڈر نہ تو \"edit\"ملک کی قیادت کرنا چاہتے ہیں اور نہ وہ اپنی عقل اور بصیرت کے مطابق عوام کو درپیش مسائل حل کرنے کے خواہشمند ہیں۔ اس کی بجائے وہ عوام کے ووٹوں کے بھوکے ہیں اور ان کے ذریعے حق حکمرانی حاصل کر کے اقتدار کے مزے لوٹنا چاہتے ہیں۔ اگر ملک کی سیاسی پارٹیوں کے منشور علیحدہ ہوتے اور قومی مسائل کے حل کےلئے وہ مختلف طریقے اختیار کرنا چاہتے تو اس کا اظہار ان کے بیانات اور طرز عمل سے بھی ہونا چاہئے۔ پاکستانی سیاست میں نعرے اور مقبولیت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اسی لئے جلسے اور ریلیوں پر زور دیا جاتا ہے، ٹاک شوز میں گلا پھاڑ کر دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے اور برسر اقتدار آنے کے بعد ماضی میں اپوزیشن میں رہنے والی سیاسی پارٹی اور لیڈر وہی زبان استعمال کرتے ہیں اور اسی طریقے پر عمل کرتے ہیں، جو کوئی بھی حکمران اختیار کرتا ہے۔ اس طرح پاکستان کا جمہوری عمل ایک ایسے دائرے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جس میں ہر سیاسی لیڈر حکمرانی کےلئے اپنی باری کے انتظار میں پورے زور سے بھاگنے میں مصروف ہے۔ اس مقصد کےلئے وہ اسی دائرے میں دوڑنے والے دوسرے لوگوں کو دھکا دینے یا دائرے سے باہر نکالنے کا کوئی بھی طریقہ اختیار کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ اسی کو دھاندلی کہتے ہیں اور اسی کی کوکھ سے کرپشن جنم لیتی ہے۔ اور اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ لیکن صرف حکمران وقت کو بے لباس دکھا کر اپنی وقعت اور پاکبازی کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔

یعنی ملک کی قیادت رہنمائی کرنے کے نہ تو قابل ہے اور نہ اس کی قائل دکھائی دیتی ہے۔ کیوںکہ ان سیاسی رہنماؤں کی سیاسی تربیت میں یہ بنیادی عنصر بدرجہ اتم موجود ہے کہ اقتدار ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ اسی لئے یہ سارے لیڈر مقبول نعروں کے اسیر ہیں خواہ وہ نعرے تعصب ، جہالت ، گمراہی ، لاعلمی اور احمقانہ سماجی و سیاسی رویوں کی پیداوار ہوں۔ کوئی لیڈر یہ حوصلہ نہیں کرتا کہ وہ ان نعروں کے سحر سے لوگوں کو باہر نکال سکے۔ بتا سکے کہ اے ملک کے پیارے لوگو ۔۔۔۔۔۔ کوئی قوم خواب دیکھنے اور دعوے کرنے کی بنیاد پر آگے نہیں بڑھتی بلکہ اس کےلئے منصوبہ سازی اور سخت محنت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے ملک کے سیاستدان تو اپنے لوگوں کو ملک کےلئے اتنی محنت کرنے اور ایثار پر بھی تیار نہیں کرپاتے جتنی محنت کا تقاضہ وہ اپنی جلسہ گاہ بھرنے کےلئے اپنے کارکنوں سے کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں بڑے جلسے تو کرسکتی ہیں لیکن ملک کو بحران اور مشکل سے نکالنے کےلئے بڑے فیصلے اور بڑے کام نہیں کرسکتیں۔ اس کےلئے لوگوں کو محنت پر آمادہ کرنا پڑے گا۔ مقبول عام نعروں سے گریز کرنا پڑے گا۔ عام لوگوں کی کہی ہوئی بات کی تصدیق کرنے کی بجائے یہ بتانا پڑے گا کہ وہ جس راستے پر گامزن ہیں، وہ منزل کی طرف نہیں جاتا۔ ہمارے لیڈر یہ حوصلہ نہیں کرسکتے۔ اس لئے وہ قیادت کا مفہوم تبدیل کرکے اس قدر پست قد اور پست ذہن ہو چکے ہیں کہ اب برادریاں ، گروہ ، قبیلے یا تنظیمیں انہیں ووٹ اور حمایت کا لالچ دے کر، ان سے کوئی بھی کام نکلوا سکتی ہیں۔

وگرنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کشمیر اور قومی سلامتی جیسے اہم مسئلہ پر ملک کے تمام سیاسی لیڈروں کا اجتماع ہو اور وہ پندرہ نکات پر اتفاق رائے کو قومی اتحاد کا نام دیتے ہوئے، خود کو سرخرو اور قوم و ملک کو کامیاب قرار دیں۔ کشمیر اس ملک کا اہم ترین مسئلہ ہے لیکن سارے لیڈر اور ساری جماعتیں اس کا ایک ہی حل جانتی ہیں۔ یہ وہی حل ہے جو گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران اس ملک کے عوام کو ازبر کروایا گیا ہے۔ اس لئے نہ تو کوئی سیاسی جماعت اس روایتی انداز فکر سے ماورا ہو کر سوچنے کی صلاحیت و حوصلہ کرتی ہے اور نہ لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جس مسئلہ کو پانچ جنگیں حل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں، اسے حل کرنے کا کوئی نیا طریقہ سوچنے کی کوشش کی جائے۔ بھارت کی اس بات کو مسترد کرنا تو ضروری ہے کہ وہ ایک خطے کے عوام کی مرضی کے بغیر اسے اٹوٹ انگ قرار دیتا رہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بتانا بھی تو ضروری ہے کہ پاکستان جب کشمیریوں کی حمایت کرنے کا اعلان کرتا ہے تو خالصتاً انسانی ہمدردی ، جمہوری اصولوں اور عوام کے حق رائے دہی کی بنیاد پر یہ موقف اختیار کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اس تائید و حمایت میں اس کا کوئی دوسرا مقصد نہیں ہے۔ اگر پاکستان کو کشمیر اس لئے چاہئے کہ وہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، یا وہاں سے وہ سارے دریا بہتے ہیں جن کا پانی پاکستان کے کھیت سیراب کرنے کےلئے اہم ہے یا اس کی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے اس خطے کا پاکستان میں شامل ہونا ضروری ہے تو پاکستان کے موقف اور بھارت کے اٹوٹ انگ کے نعرے میں کیا فرق باقی رہ جاتا ہے۔

پاکستان اگر واقعی کشمیریوں کی آزادی کے بارے میں فکر مند ہے تو کوئی پاکستانی حکومت یا کوئی سیاسی پارٹی اقوام متحدہ کی قراردادوں سے آگے بڑھ کر کوئی موقف اختیار کرنے میں کیوں ناکام رہی ہے۔ کیا وجہ ہے جن قراردادوں کو اقوام متحدہ نے غیر ضروری یا ناکارہ امور کی فہرست میں شامل کر دیا ہے ۔۔۔۔۔۔ پاکستان کے لوگوں کا خون گرمانے کےلئے ہر پارٹی کیوں ان کا ہی حوالہ دے کر نعرے لگوانے اور اپنی مقبولیت کا سامان بہم پہنچانے کی کوشش کرتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ پاکستان سے یہ آواز بلند نہیں ہوتی کہ کشمیر کشمیریوں کا ہے۔ انہیں اپنی خود مختار ریاست بنانے کا حق حاصل ہے۔ اس حق کو تسلیم کرتے ہوئے پہلا قدم یہ اٹھایا جا سکتا ہے کہ ریاست کشمیر کی جغرافیائی حدود کا تعین کرنے کے بعد، ان علاقوں کو خود مختار مملکت کے طور پر کام کرنے اور اپنے غصب شدہ حصے واپس لینے کی جہدوجہد کرنے کا موقع دیا جائے، جو پاکستان کے قبضے میں ہیں۔ اس طرح بھارت نہ تو پاکستان پر یہ الزام لگا سکے گا کہ اس نے کمشیر کے بعض حصوں پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے اورنہ یہ کہا جا سکے گا کہ پاکستان اپنے زیر انتظام علاقوں کو بھارت میں دہشت گردی یا تخریب کاری کےلئے استعمال کرتا ہے۔ یا پاکستان مقبوضہ کشمیر میں ان تنظیموں اور لیڈروں کو مالی وسائل فراہم کرتا ہے جو وہاں پاکستان کا جھنڈا لہرانے اور ساری وادی کو پاکستان کا حصہ بنانے کےلئے کام کرتے ہیں۔

69 برس کی مختصر تاریخ میں نصف حصہ گنوانے اور باقی حصے میں افتراق کے بیج بونے کے تجربے سے گزرنے کے بعد تو حقیقی پاکستانی قیادت کو کشمیریوں سے اور خاص طور سے ان کشمیریوں سے جو کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانا چاہتے ہیں، یہ کہنا چاہئے کہ پاکستان کو خود متعدد مسائل درپیش ہیں، اس لئے آپ اپنی خود مختاری کی جدوجہد کریں۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ پاکستان کے ساتھ الحاق کر کے اپنے اور ہمارے مسائل میں اضافہ کرنے کا سبب نہ بنیں۔ ان سب باتوں میں صداقت ہے۔ لیکن ملک کی لاتعداد سیاسی جماعتوں میں سے کوئی بھی انہیں بیان کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکتی کیونکہ اس طرح ووٹروں کی اس اکثریت کی حمایت حاصل نہیں ہو سکے گی جو ناقص تاریخ بینی اور گمراہ کن تدریسی نظام کی پیداوار ہے۔ اس لئے مقبول نعرے لگاتے رہنے میں ہی عافیت سمجھی جاتی ہے۔ اسی لئے نہ مسائل کو سمجھنے کی کوشش ہوتی ہے اور نہ ان کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ آج اسلام آباد کے وزیراعظم ہاؤس میں بھی یہی کچھ ہوا ہے۔

پندرہ نکاتی اعلامیہ میں کشمیریوں کی جہدوجہد ، بھارت کی جارحیت ، ملکی سالمیت کےلئے اتحاد کا اظہار، سیز فائر کی خلاف ورزی ، بلوچستان کے بارے میں بھارت کے بیانات اور سرجیکل اسٹرائیک کے جھوٹے دعوؤں کے بارے میں تو بات کی گئی ہے لیکن اوڑی میں بھارتی فوجی ہیڈ کوارٹرز پر حملہ کی مذمت کا ایک لفظ شامل کرنا ضروری نہیں سمجھا گیا۔ اگر پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہے اور ایسے عناصر کے خلاف برسر جنگ ہے تو یہ کہنے میں کون سی چیز مانع ہے کہ اوڑی پر حملہ جس نے بھی کیا، غلط کیا اور ہم ایسی ہر تخریب کاری کی مذمت کرتے ہیں۔ سفارتی کامیابی کی خواہش کرنے والے ملک کےلئے کیا اس قسم کا دوٹوک اعلان، اس کی قدر و قیمت میں اضافہ کا سبب نہ بنتا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان اوڑی حملہ کی مذمت نہیں کر سکتا۔ آج بارہ مولا میں ہونے والے حملہ پر اظہار افسوس نہیں کر سکتا اور یہ اعلان نہیں کر سکتا کہ پاکستان میں جو گروہ اور جماعتیں بھارت کے خلاف مسلح جدوجہد کی بات کرتی ہیں، پاکستان انہیں مسترد کرتا ہے اور انہیں ملک کا نمائندہ نہیں سمجھتا۔

پاکستان کے اخباروں میں یہ خبر نمایاں طور سے شائع ہوئی ہے کہ چین نے جیش محمد کے قائد مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قراردینے کی بھارتی کوششوں کو ناکام بنانے کےلئے اقوام متحدہ کی کمیٹی میں مزید تین ماہ تک ویٹو کردیا ہے۔ مسعود اظہر نے اگر کوئی دوسرا جرم نہ بھی کیا ہو تو بھی اسے ایک طیارہ اغوا کر کے بھارتی جیل سے رہا کروایا گیا تھا۔ اس کا یہی جرم سرکاری سطح پر ایسے شخص سے لاتعلقی کا اعلان کرنے کےلئے ضروری ہونا چاہئے۔ پھر ہم کیوں چین کے ساتھ اپنی دوستی کو ایسے عناصر کی سرپرستی کےلئے استعمال کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں۔

آج جس قومی اتفاق رائے کا اظہار کیا گیا ہے، وہ کم حوصلہ سیاسی لیڈروں کے گروہ کا اعتراف حقیقت ہے کہ وہ خیرات میں ملی ہوئی جمہوریت کو حقیقی جمہوریت میں تبدیل کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ کیوں کہ اس طرح ملک پر حکمرانی کرنے کے خوابوں کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali