برصغیر میں غربت اہم ترین مسئلہ ہے


پاکستان اور بھارت میں جنگ کی باتیں کرنے اور ایک دوسرے کو طاقت کے زور پر نیچا دکھانے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ورلڈ \"mujahidبنک کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کا مطالعہ کرلیں۔ عالمی بنک کی رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں کو غربت سے نمٹنے کے دشوار اور مشکل مسئلہ کا سامنا ہے۔ بھارت میں 21 فیصد آبادی یا 25 کروڑ لوگ غربت کی عالمی شرح سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان میں یہ شرح ساڑھے آٹھ فیصد کے لگ بھگ ہے۔ یہ شرح دو ڈالریومیہ فی کس ہے۔ یعنی برصغیر کی بہت بڑی آبادی احتیاج اور تنگ دستی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ دنوں پاکستان کو غربت کے خاتمہ کے لئے بھارت سے سبق سیکھنے کا مشورہ دیا تھا لیکن اعداد و شمار کے مطابق انہیں خود بھی اس حوالے سے سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔

نریندر مودی نے کیرالہ میں کی گئی اس تقریر میں پاکستان کو ترقی کرنے اور عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے بھارت سے مقابلہ کرنے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ کی بجائے ہمیں غربت ، افلاس اور احتیاج کے خلاف جنگ کرنے کی ضرورت ہے ، پھر دیکھتے ہیں کہ کون جیتتا ہے۔ بدقسمتی سے وزیر اعظم کی طرف سے یہ دعویٰ کرنے کے بعد بھی بھارتی حکومت نے پاکستان کے خلاف طبل جنگ بجا رکھا ہے۔ سرحدوں پر مسلسل صورت حال کشیدہ ہے، پورے خطے کے لوگ اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ اگر یہ دونوں ملک ایک بار پھر مسلح تصادم کی طرف بڑھتے ہیں تو کاروبار اور معیار زندگی بری طرح متاثر ہو گا۔ مودی خود بھی یہ بات اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ ایسی صورت میں سب سے ذیادہ وہی لوگ متاثر ہوں گے جو پہلے ہی محروم ہیں۔ جو دو ڈالر فی کس یومیہ سے بھی کم پر زندگی بسر کرتے ہیں، جن کو سونے کے لئے چھت کا سایہ میسر نہیں ہے اور جو بیمار ہو جائیں تو انہیں علاج کی بجائے دعا ؤں پر گزارا کرنا پڑتا ہے۔

نریندر مودی اگر سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے کرنے کی بجائے یہ اعلان کرتے کہ وہ اپنے ہی اعلان کے مطابق غربت اور مجبوری کے

\"A

خلاف جنگ کا آغاز کر چکے ہیں۔ ان کی حکومت نے بیماروں کے لئے کتنے نئے اسپتالوں کے منصوبے شروع کئے، روزگار کے کتنے نئے مواقع پیدا کئے، کتنے بے گھروں کو گھر فراہم ہوں گے اور تعلیم کے شعبہ میں کیا پیش رفت کی گئی ہے ۔ اور ان اقدامات کو پاکستان کو چیلنج کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا تو بطور لیڈر ان کا قد کئی گنا ہو جاتا اور پاکستان کے عوام بھی ان کی مثال دے کر اپنے لیڈروں کو اسلحہ اور جنگ کی باتیں کرنے کی بجائے عوام کی فلاح اور ترقی کے لئے کام کرنے پر مجبور کرتے۔ لیکن بھارتی وزیر اعظم مقبول نعروں کے اسیر اور تصادم کی سیاست سے اپنی حکومت کا ’وکاس‘ تلاش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ ایسے میں عام آدمی کا وکاس کیوں کر ہو گا۔

بھارت کی قیادت بھی جانتی ہے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہے۔ اسے یہ اچھی طرح پتہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کو وہاں پر آباد لوگوں کی مرضی کے بغیر اپنا ’ اٹوٹ انگ ‘ قرار دینے کا اعلان خود کو دھوکہ دینے کے برابر ہے۔ لیکن اس کے باوجود ملک میں نعرے بازی اور پاکستان دشمنی کا ایسا ماحول پیدا کردیا گیا ہے کہ بھوکے ننگے لوگ جنگ کو ہی مسائل کا حل سجھنے لگے ہیں۔ اس صورت میں پاکستانی قیادت بھی پیچھے نہیں رہ سکتی۔ وہ بھی اپنے ملک میں ویسا ہی ماحول پیدا کررہی ہے۔ فوجوں کو تیاری کا حکم دیا جا رہا ہے اور لائن آف کنٹرول پر تصادم روز کا معمول بن چکا ہے۔ سرحد کے دونوں طرف مرنے والے فوجی یا شہری غریب اور اپنے خاندانوں کی امیدوں کا چراغ ہوتے ہیں۔ لیکن جنگ اور مقابلے کے جنون میں ان چراغوں کو گل کیا جا رہا ہے۔

ورلڈ بنک کی تازہ ترین رپورٹ میں جو اعداد و شمار دئے گئے ہیں ، ان سے پتہ چلتا ہے کہ جنگ کی باتیں کرنے والے لیڈروں کے کرنے \"poverty-india\"کے اہم کام رکے ہوئے ہیں یا وہ ان مقاصد کو حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ اور شاید اسی لئے جنگ اور دشمن کو للکارنے کی باتیں کرنا ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ یہ دیوانگی جس قدر جلد ختم ہو جائے سب کے لئے اتنا ہی بہتر ہے۔ عالمی بنک کی رپورٹ نے بتایا ہے کہ بھارت میں 58 فیصد آبادی تین ڈالر یومیہ سے کم پر گزرا کرتی ہے جبکہ پاکستان میں یہ شرح 45 فیصد ہے۔ پاکستان میں غریبوں کی آمدنی میں قومی پیداوار میں اضافہ کی رفتار سے قدرے زیادہ ہے یعنی چار فیصد سالانہ کے لگ بھگ اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن بھارت دنیا کی تیز رفتار سے ترقی کرنے والی معیشت ہونے کے باوجود اپنے غریبوں کی آمدنی میں قومی پیداوار کی رفتار سے اضافہ کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔ بھارت میں اوسط عمر 68 اور پاکستان میں 66 برس ہے جب کہ ترقی یافتہ ملکوں میں اوسط عمر نوے برس سے بھی زائد ہوتی ہے۔

بھارت میں خواتین میں خواندگی کی شرح 59 فیصد ہے اور پاکستان میں یہی شرح 42 ہے۔ بھارت میں بچوں کی اموات 38 فی ہزار ہے اور پاکستان میں یہ شرح 66 بچے فی ہزار ہے۔ بھارت میں 15فیصد لوگ خوراک کی قلت کا شکار ہیں اور پاکستان کے 22 فیصد لوگوں کو مناسب خوراک دستیاب نہیں ہے۔ دونوں ملکوں کے امیر اور غریب کے درمیان فرق میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ کیا یہ مسائل کم ہیں کہ اب جنگ کی باتیں کی جارہی ہیں جو ان مسائل میں کئی گنا اضافہ کا سبب بنے گی۔ اس وقت ہوشمندی سے کام لینے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali