کراچی:  باتیں کروڑوں کی، دکان پکوڑوں کی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے جب سمندری امور کی بجائے بری امور یعنی کراچی کی صفائی کا قصد کیا اور کیمروں کی چکا چوند میں دو ہفتوں میں شہر کو شیشے کی طرح صاف کرنے کا اعلان کیا تو یہ ایک ناقابل عمل منصوبہ تھا۔ خوش فہمی کا شکار ہو کر اگر کوئی اس منصوبے کے قابل عمل ہونے پر یقین کر بیٹھا تو اسے ہم فاتر العقل ہونے کا طعنہ نہیں دیتے لیکن اسے فورا کسی اچھے ماہر نفسیات سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ وہ اس بہکی سوچ کا علاج کر سکے۔

 علی زیدی نے شہر کا کچرا کتنا صاف کیا اس کا اندازہ شہر میں کچرے کے ڈھیروں سے لگایا جا سکتا ہے۔ علی زیدی پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھتے ہیں جو اس وقت کراچی کی سب سے بڑی سیاسی شراکت دار ہے۔ علی زیدی میڈیا پر بلند بانگ دعوؤں کے بعد اب کئی روز سے کچھ ایسے غائب ہیں جیسے ایک محاوراتی جانور کے سر سے سینگ غائب ہو جاتے ہیں۔

کراچی میں تین دہائیوں تک راج کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ المعروف ایم کیو ایم پاکستان کے پاس اس وقت کراچی کی شہر ی حکومت کا انتظام و انصرام ہے۔ اس کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے میئر کراچی وسیم اختر گزشتہ تین ساڑھے تین سال سے جب بھی میڈیا پر نمودار ہوتے ہیں تو وہ اس بہو کی طرح شکوے شکایتوں کے انبار لگا دیتے ہیں جو کسی خرانٹ ساس کے ہتھے چڑھ گئی ہو۔ وسیم اختر کی شکایتیں پی پی پی کی سندھ حکومت کے خلاف ہوتی ہیں کہ جس نے بقول وسیم اختر کے کراچی کی شہر ی حکومت کو اختیارات اور وسائل سے محروم کر کے عضو معطل بنا رکھا ہے۔

 وسیم اختر اور ان کی جماعت نے بھی گزشتہ ماہ کراچی کو صاف کرنے کا اعلان داغا تھا اور ایک معروف بلڈر کے ذریعے کراچی کے کچھ علاقوں کو چمکانے کا خوشنما منصوبہ تراشا لیکن کراچی کا کچرا ہے کہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ میئر کراچی کچرا تو صاف نہ کرسکے البتہ ان کے گلے میں فٹ ٹیپ ریکارڈر نے آن ہو کر دوبارہ زخم خوردہ بہو کی طرح وہی پرانی دہائیاں دینا شروع کر دیں کہ جنہیں سن سن کر کراچی والوں کے کانوں کے ساتھ ساتھ دماغ بھی پک گئے ہیں۔

سندھ کی سائیں سرکار جو گزشتہ گیارہ برس سے سندھ پر حکمرانی کے مزے لوٹ رہی ہے اس کے کریڈٹ پر ہر نوع کا کام ہو سکتا ہے سوائے اچھی گورننس کے۔ سائیں سرکار نے سندھ کے دارالحکومت کراچی کے ساتھ کیا برتاؤ کیا اس کے لیے کسی راکٹ سائنس کے فارمولے کو سمجھنے والے دماغ کی ضرورت نہیں بس کراچی کے کسی گلی کوچے، سڑک اور چوراہے پر نکل کھڑے ہوں آپ کو سائیں سرکار کے حکمرانی کے بد ترین نقوش ہر جگہ ملیں گے۔ سندھ کے وڈو وزیر یعنی وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ باہر ملک کی یونیورسٹی سے سند یافتہ ہیں لیکن گورننس کے معاملے میں قائم علی شاہ سے کچھ زیادہ مختلف نہیں جس کا ثبوت کراچی کی حالت زار سے ملتا ہے۔

 کچرے پر وزیر اعلیٰ سندھ کی رگ ظرافت بھی پھڑ پھڑ آئی اور انہوں نے چند ہفتے پہلے ”بلیو جیکٹ موومنٹ“ یعنی نیلی وردی تحریک کے آغاز کا اعلان کیا۔ اس تحریک کا مقصد کراچی کو کچرے سے صاف کر کے اسے ایک صاف ستھرے شہر میں ڈھالنا تھا۔ ایک مہینے سے زائد ہونے کو ہے اس تحریک کا کوئی اتا پتا نہیں کہ اس تحریک کو آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی۔ مراد علی شاہ سے کوئی استفسار کرے کہ کیمروں کے سامنے طمطراق سے تحریک کا اعلان کرنے سے کراچی صاف نہیں ہوگا بلکہ اس تحریک کے لیے خلوص نیت اور مصم ارادے کی ضرورت ہے جو کراچی کے معاملے میں سائیں سرکار میں مکمل طور پر عنقا ہے۔

 وزیر اعلیٰ سندھ کے زبانی جمع خرچ والی تحریک کو گمنامی کی موت مرے زیادہ دن نہیں گزرے کہ سندھ کے جواں سال وزیر مرتضیٰ وہاب نے عاشورے سے پہلے یہ مژدہ جانفزا کراچی والو کو سنایا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے کراچی میں کچرے اٹھانے کا کام اپنے ذمے لے لیا ہے اور عاشورہ کے بعد اس پر تندہی سے کام ہوگا۔ عاشورہ کو گزرے کئی دن گزر گئے لیکن وزیر اعلیٰ سندھ کے ذمے لگا کام ہنوز رہتا ہے۔

علی زیدی، وسیم اختر اور مراد علی شاہ کے ”کارناموں“ کی بازگشت ابھی تھمی نہیں تھی کہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کراچی کے معاملے پر آرٹیکل 149 کے استعمال کا ایک نیا شوشہ چھوڑ کر ملک میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اس آرٹیکل کے تحت وفاقی حکومت کسی صوبے کو امن و امان اور معیشت کی خراب صورتحال پر ہدایات دے سکتی ہے۔ کراچی کا کچرا کس طرح امن و امان کو متاثر کرتا ہے اس کے بارے میں تو جناب فروغ نسیم ایسا عالی دماغ ہی بتا سکتا ہے۔ البتہ معیشت کے پہلو سے اتنا ضرور ہوا ہے کہ کراچی کے تاجر اور صنعتکار کچرے اور غلاظت سے تنگ آ کر اکثر اوقات سراپا احتجاج رہتے ہیں۔ تاجروں اور صنعت کاروں کی جانب سے کی جانے والی فریادیں، اپیلیں اور دہائیاں آج تک وفاقی، صوبائی اور شہری کو خواب غفلت سے جگانے میں قاصر رہی ہیں۔

کراچی کے کچرے کی قومی میڈیا پر جتنی رونمائی ہوتی ہے اس کا عشر عشیر بھی دوسرے شہروں کے کچرے کے نصیب میں نہیں۔ قومی میڈیا پر اس کچرے کے بارے میں دن رات ہونے والی رپورٹنگ اور تبصروں کے باوجود کراچی کا کچرا اپنی جگہ پر استقامت سے جما ہوا پے۔ کراچی کے کچرے کا اپنی جگہ سے ہل کر لینڈ فل سائٹس پر نہ پہنچنے کے پس پردہ تینوں حکومتوں کی مربوط منصوبہ بندی و عملی اقدامات کی کمیابی سے بڑھ کر نا اہلی، نالائقی اور بے حسی کو دخل ہے جس کا ثبوت کراچی میں کچرے کے پہاڑ برابر ان گنت ڈھیر ہیں جو آسمان کو چھونے کی دوڑ میں شامل ہیں۔

 کراچی کو کچرے سے صاف کرنے کے لیے وفاقی، صوبائی اور شہری حکومت کے دعوے اور نعرے شاید اس لیے بھی کامیاب نہیں ہو سکے کہ یہاں بلند بانگ باتیں کرنا ایک عام بات ہے۔ اگر پکوڑوں کی دکان چلانے والا کروڑوں کی باتیں کر سکتا ہے تو پھر علی زیدی، مراد علی شاہ اور وسیم اختر کو کون مائی کا لال روک سکتا ہے کہ بڑھکیں مار کر پھر مزے سے لمبی تان کر سو جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •