پارلیمنٹ کا اجلاس اور عمران خان کی سولو فلائٹ


\"edit\"پاکستان میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں آج مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور لائن آف کنٹرول پر خلاف ورزیوں کی بات کی گئی۔ وزیراعظم سمیت تمام مقررین نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کرنے پر زور دیا اور اقوام متحدہ سے برصغیر میں امن کےلئے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی اپیل کی۔ وزیراعظم نواز شریف نے اپنی حکومت کی سفارتی کوششوں کا ذکر کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر ہم پر جنگ تھوپی گئی تو اس کا پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔ بھارتی وزیراعظم کی طرف سے چند روز قبل غربت اور بے روزگاری کے خاتمہ کے مقابلے کی دعوت کا بالواسطہ حوالہ دیتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ کھیتوں میں ٹینک چلانے اور بارود بونے سے غربت ختم نہیں ہو سکتی۔ پاکستان نے متعدد بار مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن بھارت نے ہر بار اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیریوں کی جہدوجہد ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ بھارت کی سات لاکھ فوج کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کچل نہیں سکتی اور نہ ہی کشمیریوں کو حق خود اختیاری سے محروم رکھا جا سکتا ہے۔ پارلیمنٹ کا یہ مشترکہ اجلاس محض علامتی حیثیت رکھتا تھا۔ دو روز قبل وزیراعظم ہاؤس میں تمام پارٹیوں کے اجلاس میں بھی اسی قسم کے جذبات کا اظہار سامنے آ چکا ہے۔

کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی اور پاک افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے اعلانات کے باوجود ملک کی سیاسی پارٹیوں کے درمیان اختلافات کا اظہار مشترکہ اجلاس کے دوران بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے حکومت کی سفارتی کوششوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا جبکہ اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اس مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ منگل کو پریس کانفرنس میں اس فیصلہ کا اعلان کرتے ہوئے عمران خان نے بتایا کہ اجلاس میں شرکت سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ ایک بدعنوان وزیراعظم کی موجودگی میں پارلیمنٹ کی بالا دستی کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح انہوں نے مشترکہ اجلاس شروع ہونے سے ایک روز پہلے ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ کشمیر ہو یا بھارت کے ساتھ کشیدگی کا معاملہ ملک کے سیاستدانوں کےلئے سیاسی داؤ پیچ سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔

عمران خان کا خیال ہے کہ اس مرحلہ پر حکمران جماعت کے ساتھ مل کر اہم ترین قومی مسائل کےلئے بھی جدوجہد نہیں کی جا سکتی۔ یہ عجیب و غریب اور افسوسناک طرزعمل ہے۔ ملک بوجوہ حالت جنگ میں ہے۔ لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے اور دونوں ملکوں کی فوجوں کو کسی بھی ممکنہ تصادم کےلئے تیار کیا جا رہا ہے۔ دونوں ملکوں میں آباد پرامن شہریوں کی اکثریت اس صورتحال کے خاتمہ کی خواہش رکھتی ہے۔ یہ امید بھی کی جا سکتی ہے کہ نئی دہلی اور اسلام آباد بہرحال اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ جنگ کے ذریعے کوئی مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے باوجود بھارت اور پاکستان میں انتہا پسند عناصر جس لب و لہجہ میں ثقافتی بائیکاٹ سے لے کرسرحدوں پر کٹ مرنے کے اعلانات کرتے ہیں، ان کی روشنی میں صورتحال بے قابو ہوتے دیر نہیں لگتی۔ اس لئے ایسے کشیدہ ماحول میں قومی یکجہتی کا اظہار بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اسی لئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا تھا تاکہ بھارت اور دنیا پر یہ واضح کیا جا سکے کہ اس ملک میں آباد لوگوں میں ہزار طرح کے اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن وہ قومی سلامتی کو لاحق خطرہ کی صورت میں ایک مٹھی کی مانند ہیں۔

بدقسمتی سے پارلیمنٹ کے اجلاس سے یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکا۔ ایوان کے تیس سے زیادہ ارکان نے نہ صرف اجلاس میں شرکت نہیں کی بلکہ ایک روز قبل ان کے لیڈر نے اس ایوان کی بالا دستی کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا۔ ان کے نزدیک جو ایوان نواز شریف کو منتخب کرتا ہے اور ان کے خلاف احتساب کی کارروائی کا آغاز کرنے میں ناکام رہتا ہے، اس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ جس پارلیمنٹ پر ملک کا ایک مقبول لیڈر عدم اعتماد کا اظہار کر رہا ہو، دنیا یا دشمن ملک، اس میں کی گئی تقریروں یا وہاں منظور کی گئی کسی قرارداد کو کیوں کر اہمیت دے گا۔ عمران خان نے موجودہ بحران شروع ہونے کے بعد جان بوجھ کر فوج کے ساتھ مل کر دشمن کا مقابلہ کرنے کی بات تو تواتر کے ساتھ کی ہے، لیکن وہ اکثریت کی بنیادی پر قائم ہونے والی حکومت کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔

یہ رویہ ملک کے سیاسی نظام پر مکمل عدم اعتماد کا اظہار ہے حالانکہ عمران خان کو خود بھی اسی لئے اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ ان کی پارٹی 2013 کے انتخابات میں قابل ذکر کارکردگی دکھانے میں کامیاب ہوئی تھی۔ اگر ان انتخابات میں بھی پاکستان تحریک انصاف 2002 یا اس سے پہلے منعقد ہونے والے انتخابات کی طرح قابل ذکر نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوتی تو میڈیا سے لے کر سیاستدانوں تک کی نظر میں ان کا قد کاٹھ اتنا ہی ہوتا جو اس وقت شیخ رشید کا ہے۔ اور جو عمران خان کے سحر میں مبتلا ہو کر اکٹھے ہونے والے مجمع میں زور خطابت دکھا کر اپنی محرومی اور ناکامی کا مرثیہ پڑھتے نظر آتے ہیں۔ ملک کا جمہوری نظام کام نہ کر رہا ہوتا تو عمران خان ایک منتخب نمائندے کے طور پر اہمیت حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوتے۔ اس لئے دھاندلی ، بدعنوانی اور بدانتظامی کا شور و غل مچانے کے باوجود انہیں یہ سچ بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ وہ اپنی موجودہ حیثیت کےلئے اسی ’’ناقص یا کرپٹ‘‘ نظام ہی کے مرہون منت ہیں۔ اور ان کی عزت افزائی اسی پارلیمنٹ کا رکن ہونے کی وجہ سے ہے، جسے تسلیم کرنے سے انہوں نے انکار کیا ہے۔

عمران خان کرکٹ کے نامور کھلاڑی رہے ہیں۔ وہ کھیل کے میدان میں ڈسپلن اور کپتان کے رول سے بھی بخوبی آگاہ ہیں کیونکہ وہ خود یہ کردار موثر طریقے سے ادا کرتے رہے ہیں۔ لیکن نجانے انہیں یہ ادراک کیوں نہیں ہوتا کہ سیاست میں بھی کچھ قواعد اور ضوابط کو مان کر کسی طریقے اور اصول پر عمل کرتے ہوئے ہی کوئی ارفع مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور سے ملک جب بحران کا شکار ہو۔ کسی قدرتی آفت کا سامنا کر رہا ہو یا موجودہ صورتحال کی طرح دشمن کے ساتھ جنگ کا خطرہ محسوس کر رہا ہو تو اسے ایک لیڈر کی قیادت میں متحد ہونے اور اس بحران سے باہر نکلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ذاتی جاہ پسندی اور ضد و ہٹ دھرمی کی وجہ سے عمران خان اس قدر بےبس ہو چکے ہیں کہ وہ مسائل کو سمجھنے اور قومی منظر نامہ میں مثبت کردار ادا کرنے میں مسلسل ناکام ہو رہے ہیں۔

اسی طرح وہ فوج کو مضبوط اور سیاسی نظام کو کمزور کرنے کےلئے جو کردار ادا کر رہے ہیں، اس کے سبب ملک میں نہ صرف جمہوریت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ تاریخ میں عمران خان کا نام انصاف پسند رہنما کی بجائے ایک ایسے لیڈر کے طور پر لکھا جائے گا جس نے اپنی کم عقلی کی وجہ سے ایک ایسے وقت میں جمہوری عمل میں رکاوٹ ڈالنے کا سلسلہ شروع کیا جب باقی سب سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی طرح اس نظام کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ تا کہ ماضی کی طرح کوئی فوجی جرنیل ایک بار پھر سیاستدانوں کو ناکام اور بدعنوان قرار دے کر ملک کے عوام کو جمہوریت کے راستے سے ہٹانے کا سبب نہ بنے۔ عمران خان کو علم ہونا چاہئے کہ جمہوری عمل میں اجتماعی کاوش اور صبر و تحمل سے مسائل حل کئے جاتے ہیں۔ رائے ونڈ کے اجتماع کے موقع پر عمران خان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ مل کر چلنے کے عادی نہیں ہیں۔ پیپلز پارٹی کے نوجوان رہنما بلاول بھٹو زرداری نے اسے عمران خان کی سولو فلائٹ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس مزاج سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود تحریک انصاف کے چیئرمین اپنی ضد پر قائم ہیں۔

یہ خبریں سامنے آ چکی ہیں کہ تحریک انصاف کے اجلاس میں منتخب ارکان کی اکثریت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن چند غیر منتخب لوگوں کے بہکاوے میں آ کر عمران خان بائیکاٹ پر تلے ہوئے تھے اور وہ پارٹی کو اپنی ضد ماننے پر مجبور کرنے میں کامیاب رہے۔ نواز شریف اور نظام کو للکارتے ہوئے مغربی جمہوری روایات کا حوالہ دینے والے عمران خان، کیا خود کسی روایت ، اصول یا قاعدے کے پابند نہیں ہیں۔ انہوں نے ذاتی پسند اور نا پسند ہی کی وجہ سے تحریک انصاف کے انتخابی عمل کو سبوتاژ کیا اور متعدد بانی اور مخلص ارکان اور رہنما پارٹی سے علیحدہ ہو گئے۔ اب وہ ایک اہم قومی مسئلہ پر ہٹ دھرمی کے ذریعے پارٹی کے مزید عناصر کو ناراض کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ فی الوقت انہیں ایسے مالدار حریص عناصر کی تائید حاصل ہے جو عمران خان کی مقبولیت کے ذریعے خود اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن جب یہ مقبولیت باقی نہیں رہے گی تو عمران خان بالکل تنہا کھڑے ہوں گے۔ ان کو گمراہ کرنے والے سارے عناصر نئے آشیانوں میں پناہ گزین ہو چکے ہوں گے۔

اس کے ساتھ ہی عمران خان کو یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ ملک میں بدعنوانی کا نظام بنیادی سماجی برائیوں ، اقتصادی عدم مساوات اور اقتدار کے غلط استعمال کی وجہ سے استوار ہوا ہے۔ لیکن یہ ساری خرابی صرف نواز شریف کی وجہ سے پیدا نہیں ہوئی اور نہ ہی صرف سیاستدان اس کے ذمہ دار ہیں۔ ملک کی تاریخ کی تین دہائیاں نظام کو درست کرنے کے دعویدار فوجی حکمرانوں کی نگرانی میں گزری ہیں۔ اس طرح فوج کے بعض عناصر بھی بدعنوانی اور بدانتظامی کے اتنے ہی ذمہ دار ہیں جس طرح بعض سیاستدان حکومت اور اقتدار کے ناجائز استعمال کے مرتکب ہوئے ہیں۔ یہ خرابی صرف سیاستدانوں کو گالیاں نکالنے اور ایک نواز شریف کے خلاف مہم جوئی سے دور نہیں ہو سکتی۔ گزشتہ ہفتے کے دوران اس ملک کے آخری فوجی آمر پرویز مشرف نے جمہوریت کو ملک کےلئے ناموزوں قرار دیا ہے۔ وہ خود آئین شکنی کے مقدمہ میں مطلوب ہیں۔ کیا عمران خان پرویز مشرف کی پشت پناہی کرنے پر فوج کے خلاف دھرنا دینے اور مطالبہ پورا نہ ہونے پر شہر بند کرنے کا اعلان کرنے پر آمادہ ہیں۔ اگر وہ یہ کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے تو نہ تو انہیں خود کو نڈر اور بہادر کہنے کا حق حاصل ہے اور نہ ہی نواز شریف کو کسی عدالتی حکم کے بغیر بدعنوان قرار دے کر ملک میں انتشار پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کرنا زیب دیتا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور بھارت کی اشتعال انگیزی کی وجہ سے پاکستان نہایت نازک صورتحال کا شکار ہے۔ اس بحران میں عمران خان ملک کی قیادت کے ہمراہ کھڑے ہو کر قوم کو اس مشکل سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ یہ مشکل وقت میں قوم کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ ان کی اس کوتاہی کو معاف نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت پارلیمنٹ میں تقریریں کرنے اور قراردادیں منظور کرنے کے علاوہ سیاسی لحاظ سے ہم آہنگی پیدا کرنے اور قومی مسائل پر مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے بھارت سے گلہ کیا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی ہر کوشش مسترد کرتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کے سیاستدان داخلی مسائل اور باہمی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی بجائے سڑکوں پر نکلنے اور شہر بند کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ صورتحال اور مزاج تبدیل کئے بغیر مستقبل میں نئے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali