انتشار کے لئے نوبل امن انعام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"nobel\"ناروے کی نوبل امن کمیٹی نے کولمبیا کے صدر جان مینوئل سانتوس Jaun Manuel Santosکو ملک میں پچاس سال سے جاری مسلح تنازعہ کو ختم کروانے کی کوشش کرنے پر 2016 کا امن انعام دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدر سانتوس نے تین سال تک مذاکرات کے بعد اگست میں مسلح جد وجہد کرنے والی مارکسسٹ تنظیم فارک کے رہنما روڈریگو لندونو Rodirigo Londonoکے ساتھ ایک امن معاہدہ کیا تھا۔ تاہم 2 اکتوبر کو ہونے والے ریفرنڈم میں عوام کی اکثریت نے اس معاہدہ کو مسترد کردیا تھا۔ البتہ نوبل کمیٹی کی سربراہ کاسی کلمان فیوے Kaci Kullmann Five نے اس فیصلہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کولمبیا میں امن کی کوششیں جاری ہیں اور عوام نے طے پانے والے معاہدہ کو مسترد کیا ہے ، امن کے خلاف ووٹ نہیں دیا۔

تاہم یہ بات بھی حیرت سے نوٹ کی گئی ہے کہ نوبل کمیٹی نے کولمبیا میں قیام امن کے لئے معاہدہ کے دوسرے اہم ترین فریق فارک FAARC اور اس کے رہنما لندونو کو اس امن انعام میں شریک کرنے کا حوصلہ نہیں کیا۔ کولمبیا میں پچاس سال سے جاری تنازعہ کے خاتمہ کے لئے امن معاہدہ ہونے اور اکتوبر میں منعقد ہونے والے ریفرنڈم سے پہلے نوبل امن انعام پر نظر رکھنے والے متعدد ماہرین اس تنازعہ کو حل کرنے کی کوشش کرنے والے فریقین کو امن انعام کا مضبوط امید وار سمجھ رہے تھے ۔ لیکن ریفرنڈم میں عوام نے معاہدہ مسترد کردیا تھا۔ اس طرح کولمبیا میں امن کی کوششوں کو شدید دھچکہ لگا تھا اور ملک میں ایک نئے تصادم اور انتشار کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود نوبل کمیٹی نے ماہرین کے اندازوں کے برعکس صدر سانتوس کو اس انعام کا مستحق قرار دیا ہے لیکن ان کے ساتھ معاہدہ کرنے والے لیڈر لندونو کو نظر انداز کرکے تنازعہ سے بچنے کی کوشش کی ہے۔ ناروے کے تمام سیاستدانوں نے اس فیصلہ کو مثبت قرار دیا ہے کیوں کہ کولمبیا کے تنازعہ میں پچاس برس کے دوران اڑھائی لاکھ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ساٹھ لاکھ بے گھر ہوئے ہیں۔ ناروے کے سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ اس طرح امن کے لئے کوششیں جاری رکھنے کے کام کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ تاہم فارک کے لیڈر کو نظر انداز کرنے کے سبب کئی سوال بھی اٹھائے جارہے ہیں۔ ناروے کی نوبل امن کمیٹی اور سیاست دان اس انعام کو الفریڈ نوبل کی وصیت کے مطابق قرار دے رہے ہیں۔

ناروے میں امن انعام پر نظر رکھنے والی ایک تنظیم نوبل پیس پرائز واچ نے اگرچہ اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یہ انعام دینے سے کولمبیا میں قیام امن کی کوششوں کی حوصلہ افزائی ہوگی تاہم اس تنظیم کے سربراہ اور امن انعام پر کتاب کے مصنف فریدرک ہیفرمل نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ یہ انعام الفریڈ نوبل کی وصیت کے مطابق ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر جان مینوئل سانتوس پہلے وزیر دفاع رہے ہیں اور مسئلہ کو عسکری اقدامات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش بھی کرچکے ہیں۔ جبکہ الفریڈ نوبل دنیا میں قیام امن اور اس مقصد کے لئے مسلح تصادم کو روکنے کی کوشش کرنے والے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے تھے۔

سال رواں کا امن انعام جنوبی امریکہ کے ایک ملک کے غیر حل شدہ تنازعہ کے ایک فریق کو دے کر نوبل کمیٹی نے تنازعہ سے بچنے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح دنیا میں ایسے اہم ترین تنازعات کو نظر انداز کیا گیا ہے جو عالمی امن کے لئے مستقل اندیشہ بنے ہوئے ہیں۔ ان میں کشمیر کا تنازعہ اور وہاں پر عوام کی آزادی کے لئے پر امن کوشش اور شام کی خانہ جنگی خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ انعام کا اعلان ہونے سے پہلے یہ خبریں بھی آ رہی تھیں کہ اس سال کا انعام ایران کو عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنے پر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ شام میں جنگ زدہ لوگوں کے لئے کام کرنے والے ایک گروپ ’وہائٹ ہیلمٹ‘ کا نام اہم امید واروں میں شامل تھا۔ نوبل کمیٹی نے کولمبیا کے صدر کو انعام دے کر متنازعہ علاقوں میں کام کرنے والے لوگوں اور تنظیموں کو نظر انداز کیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جد و جہد کے حوالے سے یہ فیصلہ اس لحاظ سے نہایت اہم ہو سکتا ہے کہ نوبل کمیٹی نے ایک ایسے معاہدہ کے لئے انعام دیا ہے جس کا ایک فریق پچاس برس تک اپنے مقاصد کے حصول کے لئے مسلح جدوجہد کرتا رہا ہے۔ کشمیری عوام کی جدوجہد پر امن ہے لیکن بھارتی حکومت عالمی سطح پر ہمیشہ اسے دہشت گردوں کی کارستانی بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ جو کشمیری گروہ عسکری جدوجہد کرتے ہیں انہیں بدترین مجرم قرار دیا جاتا ہے۔ جنگ آزادی کے ایسے ہی ایک مجاہد برہان وانی کو 8 جولائی کو ایک مسلح مقابلے میں مار دیا گیا تھا اور اسے مسلسل دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔ حالانکہ وہ اپنے عوام کی آزادی کے لئے کوشش کرتا ہؤا جاں بحق ہؤا تھا۔ نوبل کمیٹی نے سال رواں کے فیصلہ میں بالواسطہ طور سے تسلیم کیا ہے کہ اپنے حقوق اور آزادی کی جنگ کرنے والوں کو دہشت گرد قرار نہیں دیاجا سکتا۔ اس فیصلہ کا یہ پہلو اہم اور قابل غور ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1769 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply