ہیرو کی واپسی: کشمیر کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان اقوام متحدہ کے دورہ سے واپس پہنچے تو کابینہ کے ارکان، تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ان کا ہیرو کے طور پر استقبال کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے بھارت کے خلاف سفارتی مہم کی مایوس کن ناکامی کا اعتراف یوں کیاہے کہ ’ خواہ دنیا ساتھ دے یا نہ دے پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اللہ کو خوش کرنا چاہتے ہیں‘۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے معمول کے مطابق قوم کو دلاسہ دیا ہے کہ ’گھبرانا نہیں ہے‘۔

جمعہ کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عمران خان کی تقریر کے بعد پاکستان میں ان کے حامیوں نے ایک ہنگامہ خیز جذباتی کیفیت پیدا کی ہے۔ ایک ایسا میڈیا جو پوری طرح حکومت وقت کی دسترس میں ہے، اس تقریر کو تاریخ ساز کارنامہ قرار دینے میں اپنا پورا زور صرف کررہا ہے۔ بات تقریر کی توصیف اور عمران خان کی تعریف تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس تقریر کے مندرجات اور طریقہ استدلال سے اصولی اختلاف کرنے کی گنجائش بھی خطرناک حد تک ختم کی جارہی ہے۔ ہر حرف اعتراض کو ’بغض، مفاد پرستی یا ملک دشمنی ‘ قرار دیا جارہا ہے۔

وزیر اعظم کی یہ تقریر اس لحاظ سے قوم کے ’دل کی آواز‘ کہی جا سکتی ہے کہ اس میں وہ سارے نعرے اور جذبات سے لبریز باتیں شامل کی گئی تھیں جنہیں پاکستان میں ایک خاص مزاج کی تشکیل کے لئے روزمرہ کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ تاریخ اور مطالعہ پاکستان کی ایک خاص طریقے سے تفہیم نے ملک کے متعدد لوگوں کی سوچ کو دلیل سے عاری، حقائق سے نابلد اور نعروں سے لبریز کیا ہے۔ انہی نعروں کے بطن سے ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ کی سوچ پیدا ہوئی اور اسے پروان چڑھایا گیا۔ اسی تاریخی شعور کی انگلی پکڑ کر ہر گلی محلے میں محمود غزنوی پیدا کئے جاتے ہیں جومندروں کو گرانے اور اقلیتوں کو کم تر انسان سمجھنے کا عظیم کارنامہ سرانجام دیتے ہیں۔ عمران خان کی تقریر نے اس ’قومی جذبہ‘ کو عالمی اسٹیج پر پیش کرکے ضرور ایک عالی شان کارنامہ سرانجام دیا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم پاپولر لیڈروں کی اس کھیپ سے تعلق رکھتے ہیں جن میں ان کے دائیں بائیں نریندر مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ جیسے رہنما کھڑے ہوں گے جنہوں نے ’مہان بھارت اور امریکہ فرسٹ‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے گزشتہ چند دہائیوں کے دوران گلوبل ازم کے نام سے سامنے آنے والی اس سوچ کو مسترد کیا ہے جس میں باہمی تعاون، جغرافیائی سرحدوں کے باوجود بطور انسان ایک دوسرے کی مدد کے منصوبے، انسانوں میں وسیع تر رابطہ و تعلق اور اقوام عالم میں تجارت کو فروغ دینے کے لئے کام کیا ہے۔ قوم پرستی کے نئے نعرے میں اسی قومی و نسلی برتری کو اہمیت دی جاتی ہے جو عمران خان کو بھارت کے وزیر اعظم میں تو دکھائی دیتی ہے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمت عملی اور رویہ میں نظر نہیں آتی۔ وہ یہ سمجھنے اور ماننے سے بھی انکار کرتے ہیں کہ قوم پرستی کا یہی بڑھتا ہؤا رجحان اس اسلامو فوبیا یا نسل پرستی کو جنم دیتا ہے، جسے انہوں نے جنرل اسمبلی کی تقریر میں سختی سے مسترد کیا ہے۔

تحریک انصاف کے حامیوں اور عمران خان کے دیوانوں کو اپنے لیڈر کی ہر ادا پر قربان ہونے کا پورا حق حاصل ہے۔ لیکن ایک جمہوری نظام میں رہتے ہوئے ان کی سیاست، استدلال اور طریقہ سفارت سے اختلاف کو ملک دشمنی پر محمول کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لینا چاہئے کہ پاکستان سے محبت پر عمران خان یا ان کے حامیوں کی اجارہ داری نہیں ہے۔  اسی طرح پاکستان سے محبت یا قومی مفاد کی تفہیم کو عمران خان سے اتفاق یا اختلاف کے خانوں میں نہیں بانٹا جاسکتا۔ یہ خطرناک رجحان ہوگا۔ اس سے نہ جمہوریت مستحکم ہوگی اور نہ تحریک انصاف کی حکومت اپنا جواز ثابت کرنے میں کامیاب ہوسکے گی۔ آزادی رائے اور خود مختار میڈیا کا سہارا لے کر ہی عمران خان اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اب ان کی حکومت اسی شاخ کو کاٹ ڈالنا چاہتی ہے۔ عمران خان کی توصیف میں ہر جھوٹ جائز اور قابل قبول ہو چکا ہے اور مخالف نقطہ نظر کے اظہار کے لئے ایک بے ضرر کارٹون بھی مزاج نازک پر گراں گزرتا ہے۔

تحریک انصاف کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے لیڈر کا جس دھوم سے چاہیں استقبال کرے۔ انہیں پھولوں کے ہار پہنائیں یا سونے کی اینٹوں میں تولیں لیکن اس کار رائیگاں کو قومی فریضہ بنانے کی غلطی نہ کریں۔ پاکستانی عوام کا مزاج اس قسم کے ستم کو قبول کرنے کا عادی نہیں ہے۔ اس ملک میں فوجی آمروں کے استبداد کو بھی قبول کرنے سے انکار کیا جاتا رہا ہے۔ اس لئے اگر ایک سویلین لیڈر کو کسی مقدس دیوتا کا درجہ دینے کی کوشش میں عوام کے حق اظہار کو مسترد کرنے کی کوشش کی جائے گی تو اس سے گھٹن کا ماحول تو پیدا ہو گا لیکن حبس کا یہ موسم ہمیشہ ساتھ نہیں دے گا۔ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والا لیڈر اسی وقت تک سرخرو رہ سکتا ہے جب تک وہ عوام کے بنیاد ی حقوق کا احترام بھی کرے اور ان کا ضامن بھی بنے۔

جنرل اسمبلی میں عمران خان کی تقریر معرکتہ الآرا ہی ہوگی لیکن اس کے مندرجات پر بات کرتے ہوئے قومی مفادات، حکمت عملی اور ضرورتوں کے مطابق جائزہ لیا جائے گا۔ اقوام متحدہ میں ملک کے وزیر اعظم کا خطاب کسی تقریری مقابلے کا حصہ نہیں تھا کہ یہ دیکھا جائے کہ اس میں جذبات کی آمیزش کس قدر بروقت اور مناسب تھی، شعروں یاقرآنی آیات کا حوالہ کس حد تک درست تھا یا حجت کے تقاضے کیوں کر پورے کئے گئے تھے۔ اس تقریر کو قومی پالیسی، مقررہ اہداف اور ملک کے وسیع تر جغرافیائی، سفارتی اور سیاسی مفادات کے تناظر میں دیکھنا اور پرکھنا پڑے گا۔ حبّ عمران میں بھلے کچھ لوگ یہ کام کرنے سے قاصر ہوں لیکن جو لوگ بھی دیانتداری سے یہ کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی نیت پر شبہ کرنا بجائے خود بدنیتی ہوگا جو قومی مکالمہ کا راستہ روکے گا۔ جمہوری اختلاف کو ذاتی لڑائی میں تبدیل کرنے کا عمل معاشرے کو انتشار اور تصادم کی طرف دھکیلے گا۔

وزیر اعظم کی تقریر پر توصیف کے ڈونگرے برسانے والے تحریک انصاف اور عمران خان کے شیدائیوں کو اپنے محبوب لیڈر کی وطن واپسی پر استقبالیہ مجمع سے خطاب پر بھی غور کرنا چاہئے۔ انہوں نے خود ہی اعتراف کیا ہے کہ دنیا میں خواہ کوئی بھی ساتھ نہ دے لیکن پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ سوال ہے:

  1. کیا کسی پاکستانی لیڈر نے کشمیریوں کے حق خود اختیاری کے حوالے سے اس سے مختلف کوئی بات کی ہے۔ حتی کہ تمام تر سیاسی اختلاف کے باوجود اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے وزیر اعظم کی واپسی پر ایک بیان میں کہا ہے کہ کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے۔ کشمیر کے معاملہ پر قوم ایک چٹان کی طرح متحد اور مضبوط ہے۔
  2. عمران خان جب اچھی تقریر کرنے پر عوام اور خاص طور سے اپنی اہلیہ کی دعاؤں کا علی الاعلان شکریہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’کوشش کرنا انسان کا کام ہے، کامیابی دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے ‘ تو کیا اسے ایک سچے مسلمان کا عقیدہ سمجھ کر تحسین کے پھول نچھاور کئے جائیں یا ناکام سفارتی مہم کے بعد ایک لیڈر کا اعتراف شکست مان لیا جائے؟ یا دونوں امکانات کا آپشن برقرار رکھا جائے تاکہ ہرشخص اپنی صوابدید کے مطابق اس بات کا جائزہ لے سکے۔

اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران ہونے والی سفارتی کوششوں کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔ چین اور ملائیشیا کے سوا کسی ملک نے اس معاملہ پر پاکستان کا ساتھ دینے یا اس کے مؤقف کی تائید کرنے کی زحمت نہیں کی۔ اگر یہ عمران خان کی ناکامی یا ملک کی سفارتی تنہائی نہیں ہے تو اسے کیا نام دیاجائے گا؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نیویارک میں قیام کے دوران میڈیا، عالمی لیڈروں اور فورمز پر عمران خان کی پذیرائی کی گئی۔ اس مقبولیت کی ایک وجہ عمران خان کا اسٹارڈم کا سٹیٹس ہے تو دوسری وجہ وہ غیر روایتی باتیں ہیں جو وہ فی البدیہہ بولنے کی عادت میں منہ سے نکال بیٹھتے ہیں۔ اس قسم کے طرز گفتگو اور ہتھکنڈوں کی وجہ سے ایک زمانے میں یوگنڈا کے عیدی امین کو بھی یوں ہی عالمی میڈیا کی توجہ حاصل رہتی تھی۔ لیکن کیا اس سے عیدی امین کی عزت میں اضافہ ہؤا یا یوگنڈا کے مفادات محفوظ ہوگئے تھے؟

کشمیر پر بھارت سے جاری چپقلش ایک طویل اور جاں گسل جد و جہد ہے۔ اس کے لئے غیر معمولی سیاسی تبحر اور سفارتی حوصلہ کی ضرورت ہے۔ اس سفر میں کسی لیڈر کا سانس پھولنے لگے تو منزل مزید دور ہونے لگتی ہے۔ یقینی بنایا جائے کہ دلیل کو مؤثر بنانے کے لئے ایٹمی جنگ کی باتیں کسی قومی خوف کی علامت نہیں ہیں۔ کشمیر میں بھارتی افواج لوگوں کی آواز دبانے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہیں لیکن اسے خوں ریزی میں تبدیل ہوتے دیکھنا نہ پاکستان کے مفاد میں ہے اور نہ بھارت کو اس کا فائدہ ہوگا۔ بہتر ہوگا کہ دونوں ملک اس سچ کو تسلیم کرکے مذاکرات کا آغاز کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1280 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali