’ڈیپ نیوڈ‘ ٹیکنالوجی سے ملبوس خواتین کی برہنہ تصاویر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کمپیوٹر کی ’ڈیپ فیک‘ ٹیکنالوجی سے کسی بھی ویڈیو اور آڈیو کو انتہائی مہارت سے آپس میں ملا دیا جاتا ہے۔ عام لوگوں اور اداروں کے لیے اصل اور نقل کی تفریق ناممکن ہو جاتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ایک حقیقی عالمی سیاسی بحران پیدا کر رہی ہے۔

پیر سات اکتوبر کو شائع ہونے والی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر نام نہاد ’ڈیپ فیک ٹیکنالوجی‘ کے استعمال میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ رپورٹ ایمسٹرڈم کی سکیورٹی فرم ڈیپ ٹریس کی جانب سے شائع کی گئی ہے۔ اس فرم نے اس ٹیکنالوجی سے بچاؤ کے لیے خدمات فراہم کرنے کا باقاعدہ اعلان بھی کیا ہے۔ اس رپورٹ کی مطابق اس ٹیکنالوجی کو خاص طور پر فحش فلمیں تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے خاص طور پر کسی برہنہ خاتون یا مرد کا چہرہ ایسی مہارت سے کسی دوسرے چہرے کے ساتھ بدل دیا جاتا ہے کہ دیکھنے میں وہ دوسری شخصیت ہی ویڈیو کا مرکزی اور اصلی کردار معلوم ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ’ڈیپ فیک پورنوگرافی‘ کی صنعت وجود میں آ رہی ہے اور اس کے ناظرین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ دنیا کی آٹھ مشہور ترین پورنوگرافی ویب سائٹس پر ایسی کئی جعلی ویڈیوز موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے زیادہ تر امریکی اور برطانوی اداکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ایسی زیادہ تر ویڈیوز چین اور جنوبی کوریا میں تیار کی گئیں۔ اداکاروں کے بعد اسی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ’کے پاپ سٹار‘ نامی ایک میوزک گروپ کے رکن لڑکوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور ان کی بھی جعلی فحش فلمیں تیار کی گئیں۔

ڈیپ فیک ویڈیوز کا خطرہ

ڈیپ ٹریس کمپنی کے مطابق پورن فلموں میں زیادہ تر خواتین کے چہرے استعمال کرتے ہوئے انہیں نشانہ بنایا گیا جبکہ سیاستدانوں کی بھی ایسی جعلی ویڈیوز یوٹیوب پر اپ لوڈ کی گئیں۔ ایک ویڈیو امریکی ایوان نمائندگان کی خاتون اسپیکر نینسی پیلوسی کی بھی ہے، جس میں ان کی کردار کشی کی گئی ہے اور وہ ویڈیو بھی بالکل اصلی معلوم ہوتی ہے۔

ایسی ہی ایک ویڈیو کی وجہ سے ملائیشیا میں ایک حکومتی اسکینڈل بھی کھڑا ہو گیا اور گیبون میں بغاوت کی کوشش بھی کی گئی۔ ایک فیک ویڈیو میں یہ دکھایا گیا تھا کہ ملکی صدر کو فالج ہو گیا ہے۔ بعد ازاں علم ہوا کہ وہ ایک ’ڈیپ فیک ویڈیو‘ تھی۔ ڈیپ فیک ویڈیوز کے ساتھ ساتھ ’شیلو فیک‘ ویڈیوز کا رجحان بھی بڑھا ہے۔ شیلو فیک ویڈیوز کو سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس میں کسی سیاسی شخصیت کی حرکات و سکنات کے ساتھ ساتھ تقریر کا کوئی ایک یا چند لفظ بھی تبدیل کر دیے جاتے ہیں۔

اس رپورٹ میں خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس طرح کی موبائل ایپس میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ جعلی ویڈیوز تیار کرنے والے گروپ بھی وجود میں آ چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کئی ملکوں کی خفیہ ایجنسیاں بھی یہی ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہیں۔

رپورٹ میں ایک اور خطرناک ٹیکنالوجی کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا نام ’ڈیپ نیوڈ‘ ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی ذریعے ایک ملبوس خاتون کی تصویر لی جاتی ہے اور پھر ٹیکنالوجی اس کے جسمانی خد و خال کا جائزہ لیتے ہوئے ایک ایسی تصویر تیار کر دیتی ہے، جو برہنہ ہوتی ہے اور دیکھنے میں بالکل اصلی لگتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی صرف خواتین کے لیے تیار کی گئی ہے اور اس سے مردوں کی تصاویر تیار نہیں کی جاتیں۔ رپورٹ کے مطابق اس ویب سائٹ کو بند کر دیا گیا ہے لیکن یہ ٹیکنالوجی اب بھی استعمال ہو رہی ہے اور یہ سافٹ ویئر رواں برس جون میں ایک ’نامعلوم خریدار‘ کو بہت بڑی رقم کے عوض فروخت کر دیا گیا تھا۔

ڈیپ فیک کا لفظ پہلی مرتبہ ریڈاِٹ نامی ویب سائٹ پر ایک صارف نے استعمال کیا تھا۔ ہالینڈ کی کمپنی ڈیپ ٹریس کے مطابق گزشتہ ماہ اس کے کارکنوں نے ایسی 15 ہزار آن لائن فیک ویڈیوز تلاش کی تھیں اور یہ تعداد ستمبر 2018 ء کے مقابلے میں سو گنا زیادہ تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •