برطانوی شاہی جوڑا اور ہمارے شہزادے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہانیوں میں شہزادہ بہادر ہوتا ہے اور شہزادی ہمیشہ خوبصورت۔ باوقار‘ نرم دل اور عوام کی محبوب۔ پرنس ولیم کی والدہ پاکستانیوں کی محبوب تھیں۔ لیڈی ڈائنا نے شوکت خانم ہسپتال کے لئے فنڈز جمع کرنے میں مدد دی۔ پرنس ولیم نو آبادیاتی حکمران خاندان کے چشم و چراغ کی بجائے اپنی والدہ لیڈی ڈائنا کی نسبت سے پاکستانیوں میں مقبول ہیں جبکہ ان کی اہلیہ شہزادی کیتھرین (کیٹ مڈلٹن) نے لیڈی ڈائنا کی طرح کینسر کے مریض بچوں، ایس او ایس ویلج میں مقیم یتیم بچوں اور شہزادیوں سے محبت کرنے والے‘ خواب دیکھنے والے ان پاکستانیوں کو مسحور کر دیا ہے جن کو لوٹ مار کرنے والے خاندانوں کے بچے شہزادے شہزادیاں بنا کر دکھائے گئے۔

لاہور کی کرکٹ اکیڈمی کا وہ بیٹ ہمیشہ اس بات پر فخر کرتا رہے گا کہ اس کو شہزادی کیٹ نے تھاما ‘ جس خاتون کرکٹر نے شہزادی کیٹ کا کیچ چھوڑا وہ ساری زندگی اس کہانی کو سناتی رہے گی۔ ثنا میر اور شاہین شاہ آفریدی کا حافظہ شاہی مہمانوں کی بے تکلفانہ گفتگو یاد رکھے گا۔ کینسر زدہ اس بچے کو اللہ صحت دے جس کے لبوں پر مسکراہٹ دیکھنے کے لئے مستقبل کے بادشاہ ولیم نے اس کے کھلونوں میں سے کپ نکال کر جھوٹ موٹ کی چائے پی۔اسے ماضی کی غلامانہ سوچ کا طعنہ نہ دیا جائے تو مجھے کہنے دیں ہمارے جمہوری بادشاہ برطانیہ کے آئینی بادشاہوں جیسا بننے میں ایک ہزار سال پیچھے ہیں۔

جاتی امراء محل، بلاول ہائوس، کھوکھر پیلس جعلی بادشاہت کی نشانیاں۔ شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ میڈلٹن شاہی خاندان کی روایات کے مطابق ان علاقوں سے واقفیت کے لئے دورہ کرتے ہیں جو کبھی برطانوی سلطنت کی نوآبادی تھے۔ یہ مستقبل کے بادشاہ کا دورہ تھا اس لئے مہمانوں کی تواضع‘ آرام اور ذاتی معاملات کا خاص خیال رکھا گیا۔ شہزادہ ولیم کو شاید خبر نہ تھی کہ وہ پاکستان کا دورہ کریں گے تو ان کی بیگم کو شہزادی ڈائنا کی طرح لوگ آنکھوں اور دل میں بسا لیں گے۔ولیم اور کیٹ مڈلٹن نے کوہ ہندو کش کے دلفریب پہاڑوں کا نظارہ کیا۔ برطانیہ روانگی کے وقت دونوں یقینا محسوس کر رہے ہوں گے کہ ان کے دل سینوں سے نکل کر اس جنت نظیر علاقے کے بیابانوں میں کھو گئے ہیں۔

شاہی جوڑے نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے متعلق زیادہ آگاہی کی ضرورت پر بات کی۔ چترال کے سیلاب زدہ علاقے کا دورہ کرتے ہوئے مہمانوں کی ملاقات ایسی خاتون سے ہوئی جس کا نام پرنس ولیم کی ماں سے متاثر ہو کر ڈائنا رکھا گیا تھا۔ اس چترالی ڈائنا نے بھی اپنے ننھے منے شہزادے کا نام ولیم رکھا ہے۔ ہماری چترالی ڈائنا برطانوی تعاون سے کام کرنے والی ہنگامی ٹیم کا حصہ ہیں۔ اس علاقے میں گلیشئر درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کی وجہ سے ہر سال دس میٹر پگھل رہا ہے۔ اس گلیشئر کے پگھلنے کا سب سے پہلا نشانہ نیچے آباد گائوں ہوں گے۔ دوسرا نقصان پاکستان کے کروڑوں نفوس کو فراہم کئے جانے والے پانی کی معطلی ہے۔

شہزادہ ولیم نے پاکستان اور برطانیہ کو ان علاقوں میں ماحولیاتی تبدیلی کے نقصانات سے مشترکہ طور پر نمٹنے کا کہا ہے۔ برطانیہ کا شاہی خاندان کئی صدیاں پہلے سیاسی طاقت پارلیمنٹ کو منتقل کر چکا ہے۔ اب یہ خاندان‘اس کے عالیشان محل‘ وسیع اور دلکش باغات اور شاہی آداب ماضی کی یادگار کے طور پر محفوظ ہیں۔ ہمارے ہاں ایسا ہو سکتا تھا اگر ہم اپنی تاریخ کو محفوظ رکھنے کا شعور رکھتے۔ شاہی خاندان کے افراد سینکڑوں قسم کے خیراتی‘ فوجی، پیشہ ورانہ اور عوامی خدمت کے اداروں سے کسی نہ کسی طرح منسلک ہیں۔

اس خاندان کے کچھ افراد بہت مشہور اور معروف ہیں، کچھ مقامی سطح پر کام کرنے والے اداروں کے ساتھ گمنام ماہرین کے طور پر وابستہ ہیں۔ ادارے اور تنظیموں کو جب شاہی خاندان کے کسی فردکی سرپرستی یا عہدہ پر آمادگی ملتی ہے تو اس سے ان اداروں کی شہرت میں اضافہ ہوتا ہے‘ سماج کی خدمت کرنے کے حوالے سے ان کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ مثلاً دولت مشترکہ کے ریٹائرڈ فوجیوں کی مالی مدد کے لئے قائم رائل کامن ویلتھ ایکس سروسز لیگ کے سرپرست شہزادہ فلپ اور ملکہ ہیں۔1001نیچر ٹرسٹ کے سرپرست ڈیوک آف ایڈنبرگ (شہزادہ ولیم ہیں) یہ ایک بین الاقوامی ٹرسٹ ہے۔

100 ویمن ان فنانس‘ 16 سکواڈرن 1939-45 ئ‘ دی کوئنز رائل لانسرز رجمنٹل ایسوسی ایشن‘ فسٹ بٹالین دی رائفلز‘ فسٹ دی کوئنز ڈریگن گارڈز اور 21واں ڈان کاسٹر سکائوٹ گروپ جیسی بہت سی تنظیمیں۔ برطانیہ کے شاہی خاندان کے غیر ملکی دوروں کا اہتمام یا غیر ملکی شخصیت کی ان سے برطانیہ میں ملاقات فارن اینڈ کامن ویلتھ آفس کی سفارش پر ہوتی ہے۔ شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ مڈلٹن کے دورے کی درخواست اسی دفتر کی طرف سے پاکستان کو موصول ہوئی تھی۔ اگر کسی ریاست کا بادشاہ ‘ صدر یا وزیر اعظم ملکہ برطانیہ سے ملاقات کے لئے آئے تو بکنگھم پیلس کے وسیع و عریض ہال میں اس کے اعزاز میں دعوت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

دعوت میں عموماً 150 کے لگ بھگ مہمان مدعو ہوتے ہیں جن کا تعلق ثقافت‘ سفارت کاری اور معاشی شعبوں سے ہو سکتا ہے۔ پاکستان دولت مشترکہ کے رکن ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کیلئے برطانوی ماڈل کی پیروی کرتا ہے۔ اس لئے کاغذی سطح پر ایسے ہی انتظامات اور تفصیلات اسلام آباد میں بھی پیش نظر رکھے جاتے ہیں۔تاہم تحریک انصاف کے کچھ لوگوں نے شکوہ کیا ہے کہ انہیں شاہی جوڑے سے ملنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ دھرنے اور احتجاج کی دلدل میں پھنسی اپوزیشن کے بعض سرکردہ افراد بھی سمجھ رہے ہیں کہ ان کو نظر انداز کر کے جمہوریت کو خطرے میں ڈالا گیا۔

ایک بات قابل غور ہے کہ برطانوی جوڑے نے لاہور کے رکشے میں سفر کیا۔ ہیلی کاپٹر اور جہاز کے جھولے لئے۔ یتیم اور مریض بچوں کی آنکھوں میں دکھوں کے خیمے دیکھے‘ پاکستانیوں اور پوری دنیا کے لوگوں کو لاحق ماحولیاتی خطرات کا جائزہ لیا۔ چترال کے رقص اور اونی لباس سے راحت پائی۔ کاش ہماری حکومتوں‘ ہمارے اداروں اور ہم سب نے ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی ہوتی جو اعلیٰ درجے کا ادب تخلیق کر سکتے ہیں‘ جو زرعی و خلائی ٹیکنالوجی میں عقل کو حیران کر دینے والے کارنامے انجام دینے والے سائنسدان ہوتے۔ ہم کسی ایسے شخص کو نامور ہونے کا موقع دیتے جو گروہ بندی کے منفی تعصب سے جڑا نہ ہوتا بلکہ انسانی اقدار پر یقین رکھتا۔ شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ مڈلٹن اس ایدھی، اس فیض، اس استاد اللہ بخش، اس مائی بھاگی، اس صادقین سے بھی ملے ہوتے ۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •