’گستاخِ اقبال‘ سے چند گزارشات
بعینہٖ یہی حال ان دو اقتباسات کا ہے جن کی بنیاد پر دی گئی رائے کو ڈاکٹر ہود بھائی نے مکمل خطبۂ دوم کا مزاج متعین کرنے اور پھر مزاج کے اس تعین سے اقبال کو سائنس سے نابلد ہونے کا پُرزورفتویٰ دیا ہے۔ چونکہ ہماری کوتاہ قامتی بزرگوار پروفیسر صاحب سے بحث و مناظرے کی متحمل نہیں، لہٰذا تاریخ ِ سائنس بالخصوص سائنسی مادیت پسندی کے تناظر میں پورے خطبۂ دوم کی تشریح کو کسی اگلے مناسب موقع کے لیے اٹھا رکھتے ہیں جس میں مخاطب ہم ایسے فکری فقیر ہوں۔
فی الحال پیشِ نظر سوال صرف اہل تذبذب اور ’گستاخانِ اقبال‘ کے ساتھ مل کر سطحیت کی متفقہ تعریف متعین کرنے کا ہے تاکہ فریقین دونوں طرف کے اہلِ تعصب کو ان کی ترجیح کا جواز فراہم کرتے ہوئے آداب کہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ اگر اقبال کا مطالعہ اور فہم سطحی ہے تو ان کی آراء کو ایک ایسے شاعر کا بے بنیاد مبالغہ ماننا چاہیے جس نے آخری عمر میں شاعری کرتے کرتے اِدھراُدھر سے لیے گئے تصورات اٹھا کر تاریخ ِفکرِ اسلامی کے کینوس پر زیادہ سے زیادہ کچھ تجریدی نقش و نگار بنا دیے۔ نقادوں کی سطحیت پر آخرکوئی ذہن پاش رائے رکھی ہی کیوں جائے؟ وہ تو زیادہ سے زیادہ جائے عبرت اور کم سے کم جائے چشم پوشی ہے۔
گزارش ہے اگر اقبال کا مقام بطور سائنس کے قاری یعنی سائنسی تھیوری، فلسفۂ سائنس، تاریخ ِ سائنس یا دوسرے ضمنی متعلقات سے دلچسپی رکھنے والے اہلِ علم کے طور پر متعین کرنا ضروری ہی ٹھہرا ہے تو یہ یقیناً ایک سنجیدہ تحقیقی سوال ہے اور اس کی خاکہ بندی بھی اس نوعیت کے نیم تجرباتی مسائل ہی کی طرح ہونی چاہیے۔ ظاہر ہے کہ یہ تحقیق نہ تو ریاضی سے تعلق رکھتی ہے اور نہ ہی سائنس سے بلکہ یہ تو ادب سے متعلق مسئلہ ہے۔
یہاں تعبیر سے کافی پہلے تفہیم کا پڑاؤ آتا ہے۔ تفہیم کے مسائل اور اختلافات پر بات چیت کے بعد ہی کسی بھی تعبیر کو جواز دیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا پہلا بنیادی سوال یہی ہے کہ خطبات میں موجود ایسی عبارتیں جو کسی نہ کسی طرح سائنس سے متعلقہ ٹھہرتی ہیں، ان کے مآخذ کیا ہیں؟ اس سوال کے جواب میں کسی قسم کی قیاسی رائے کا کوئی امکان نہیں کیوں کہ سیدھا سادا حاشیہ نگاری اور شرح کا معاملہ ہے جس پر کافی ادب پہلے ہی سے موجود ہے؟
دوسرا سوال قیاسی نوعیت کا ہے اور وہ یہ کہ اقبال کا ان مآخذ سے کس حد تک گہرا رشتہ رہا؟ اس سوال کا جواب اقبال کا مقام بطور محقق متعین کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے جو یقیناً ان کے تحقیقی قدوقامت کی پیمائش بھی ہو گی۔ تیسرا سوال یہ ہے کہ ان مآخذ کو اقبال نے اپنے خطبات میں کس نوعیت میں استعمال کیا اور ان کی مدد سے جو نتائج نکالے، ان کا درجۂ صحت و سقم کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب وہی دے سکتا ہے جو پہلے خود ان مسائل پر کوئی محکم رائے رکھتا ہوں اور متعلقہ سائنسی یا فلسفیانہ روایت میں کسی جگہ پاؤں جما کر کھڑا ہو۔
بطور سامع، ہماری رائے میں پروفیسر ہودبھائی نے تینوں سوالوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اپنے غیرادبی اور غیرفلسفیانہ ذہنی رجحانات اور کچھ پہلے سے طے شدہ قیاسات کی بنیاد پر خطبات کا مطالعہ کیا ہے۔ ایسے میں یقیناً انہیں ایک ذہنی اضطراب کا سامنا ہوا ہے جو ان کی گفتگو سے صاف ظاہر ہے۔ بہرحال اہلِ تذبذب و تحقیق کو اقبال کے انگریزی زبان کی کتب پر مشتمل ذاتی مجموعۂ کتب (یعنی ’اقبال کولیکشن‘ ) سے رجوع کرنا چاہیے جس کا تقریباً اسی پچاسی فی صد حصہ اب انٹرنیٹ پر بھی دستیاب ہے۔
اقبال رویو اپریل 89 میں پروفیسر سعید شیخ صاحب کا ایک مضمون پانچ سو بیس کتابوں کے اس مجموعے میں شامل طبعی سائنسز کی کتب کا ایک اچھا خاکہ ہے۔ ان کتابوں میں کسی ایک موضوع پر سب سے زیادہ یعنی سترہ کتابیں آئن سٹائن کے نظریۂ اضافیت پر ہیں۔ ان سترہ کتب میں سے نو کو آج کل کی صنف میں پاپولر سائنسی ادب کہا جا سکتا ہے جب کہ بقیہ کتابیں ایسی مشہور ترین کتابیں ہیں جو نظریہ اضافیت، فزکس اور فلسفے سے جنم لینے والے دقیق مسائل پر ہیں۔
ان میں خود آئن سٹائن کی اپنی کتاب، طبعی کائنات کی خاکہ بندی کے موضوع پرایڈنگٹن کی مشہور کتاب، ولڈن کار، ہالڈین اور روگیر کی کتابیں شامل ہیں۔ ان کتابوں پر اقبال کے پاس یہ کتب پہنچنے کی تاریخ، قلم زد نشانات اور کچھ حاشیے وغیرہ بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ فی الوقت اتنا عرض کرنا کافی ہے کہ نہ صرف خطبات میں شامل سائنس سے متعلقہ تمام اقتباسات بلکہ اقبال کی رائے کی بنیادیں بھی ان کتابوں میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ کام وہی اہلِ تحقیق انجام دے سکتے ہیں جو اہلِ تذبذب بھی ہیں۔
لیکن ہماری رائے میں اگر طویل تحقیق نہ بھی کی جائے تو دس یا پندرہ کتابوں کے ایک چنیدہ ڈیٹا کی مدد سے مذکورہ بالا تینوں سوالوں کے عمومی جوابات فراہم کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے جس کے بعد اقبال کا مقام متعین کرنے میں آسانی ہو گی۔ اس کے بعدمحترم پروفیسر صاحب کی رائے جانچنے کے لیے خطبات کے خطبہ ٔ دوم کو ان جوابات کے تناظر میں پڑھنا مفید ہو گا۔ ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا ہو گا کہ 1920 کی دہائی میں لکھنے والے کئی مصنفین نے بھی اقبال کی طرح میٹرک میں سائنس نہیں پڑھی۔
پھر جنہوں نے پڑھی بھی (مثلاً ایڈنگٹن ) وہ خالص طبیعیات میں خالص مابعدالطبیعیات کی ملاوٹ سے باز نہیں آئے۔ ہودبھائی صاحب کے طلبا کو ان کتب کی ورق گردانی اور کئی ابواب کے عنوانات دیکھ کر حیرانی ہو گی کہ یہ مابعدالطبیعیات اور باطنیت و عرفان جیسے مسائل کا فزکس میں کیا کام! خوش گمانی قائم رکھیے کہ ایڈنگٹن جیسے سائنسی مفکرین جنہوں نے تجربات کے بعد آئن سٹائن کے نظریے کو ٹھوس بنیادیں فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہماری طرح ٹیکسٹ بک کے استبداد کا شکار نہیں تھے۔
