کیا اسلام کا ایک خالص معروضی مطالعہ ممکن ہے؟ یعنی ویسی ہی معروضیت جو مغربی درس گاہی نظام یعنی ’اکیڈمی‘ میں یہودیت اور عیسائیت کا وہ مطالعہ ممکن بناتی ہے جس کی رو سے ان دونوں کی تعریف ایسے ’مذاہب‘ کے طور پر کی جاتی ہے جن کے ماننے والے خود کو یہودی یا عیسائی کہتے ہیں۔ درس گاہی تناظر کی اس تنصیب کے بعد مذہب اور کلچر ایک ہی سکے کے دو رخ بن جاتے ہیں او ر یہودیت یا عیسائیت کے معنی کم وبیش یہودی اور عیسائی ثقافت کے ٹھہرتے ہیں۔
روایتی مطالعۂ اسلام شایداس لیے مذہب اور کلچر کی لاینحل دبدھا کا شکار ہے کہ خارجی روایتِ علم سے وارد ہونے والی ان دونوں اصطلاحات کو من وعن تسلیم کرتے ہوئے انہیں سماجی محاورے میں خاطرخواہ جگہ دی جا چکی ہے لیکن دوسری طرف دینِ اسلام اور مسلم ثقافت کے درمیان صحت و استناد کے سوال پرمسلسل کھینچا تانی جاری ہے۔ زمانۂ جدید میں اس کھینچا تانی کا ایک میدان تو روایتی اسلام اور متجددین کے درمیان جاری تعبیراتی کشمکش میں زمانی ومکانی استناد ہے جب کہ دوسرا میدان متقابل روایتی مظاہر کے درمیان وہ تعبیراتی کشمکش ہے جس میں ماضی کے ایک مستند دور سے سند لانا لازم مانا جاتا ہے۔
Read more