’گستاخِ اقبال‘ سے چند گزارشات

برادرم جمشید اقبال کے حالیہ مضمون سے معلوم ہوا کہ شہر میں ایک بار پھر اقبال کا قدوقامت ماپنے کے لیے دقیقہ شناسانِ فلسفہ و سائنس کی محفل سجائی گئی۔ سچ بات ہے کہ بحث کا عنوان ہی اس کی فرسودگی کی چغلی کھاتا تھا کیوں کہ اس قبیل کی بحثیں کم ہی تسکین کا…

Read more

ہمیشہ روئیو بے کس حسین کو زعفر

محرم کی آمد کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر جدید امویوں اور ہاشمیوں کی خشک قبائلی جنگیں دیکھ کر رہا نہیں گیا اوراس خشک موسم کو ذرا تر کرنے کی خاطر شوق پیدا ہوا کہ دوستوں کو زعفر جن کے قصے سے آگاہ کیا جائے جو واقعہ کربلا کی روایت کا ایک اہم اور نہایت…

Read more

کیا ایک نیا مذہبی بیانیہ ممکن ہے؟

میرا کلام ہمیشہ خارج میں کسی شعور کا محتاج ہے۔ میں آپ کو اپنا مخاطب بناتا ہوں تو آپ کی موجودگی میرے لئے ایک بدیہی مفروضہ ہوتا ہے، میں یہ فرض کرتا ہوں کہ آپ موجود ہیں اور میری بات آپ تک پہنچنی چاہئے۔ خود کلامی کی صورت میں بھی مفروضہ یہی ہوتا ہے کہ…

Read more

جدید مسلم ذہن میں علم کی دوئی کا مسئلہ

’مذہب پسند‘ کی اصطلاح کوا ن سب طبقات تک محدود کرتے ہوئے جو اس قضیے سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں کہ معاشرتی ڈھانچے کے سیاسی و سماجی خدوخال مرتب کرنے میں تن تنہا مذہب ہی ایک واحد بامعنی قدر ہے، اگر ان تمام طبقات کا ایک عمومی سا جائزہ لیا جائے تو…

Read more

اسلام کا بشریاتی تناظر

کیا اسلام کا ایک خالص معروضی مطالعہ ممکن ہے؟ یعنی ویسی ہی معروضیت جو مغربی درس گاہی نظام یعنی ’اکیڈمی‘ میں یہودیت اور عیسائیت کا وہ مطالعہ ممکن بناتی ہے جس کی رو سے ان دونوں کی تعریف ایسے ’مذاہب‘ کے طور پر کی جاتی ہے جن کے ماننے والے خود کو یہودی یا عیسائی کہتے ہیں۔ درس گاہی تناظر کی اس تنصیب کے بعد مذہب اور کلچر ایک ہی سکے کے دو رخ بن جاتے ہیں او ر یہودیت یا عیسائیت کے معنی کم وبیش یہودی اور عیسائی ثقافت کے ٹھہرتے ہیں۔

روایتی مطالعۂ اسلام شایداس لیے مذہب اور کلچر کی لاینحل دبدھا کا شکار ہے کہ خارجی روایتِ علم سے وارد ہونے والی ان دونوں اصطلاحات کو من وعن تسلیم کرتے ہوئے انہیں سماجی محاورے میں خاطرخواہ جگہ دی جا چکی ہے لیکن دوسری طرف دینِ اسلام اور مسلم ثقافت کے درمیان صحت و استناد کے سوال پرمسلسل کھینچا تانی جاری ہے۔ زمانۂ جدید میں اس کھینچا تانی کا ایک میدان تو روایتی اسلام اور متجددین کے درمیان جاری تعبیراتی کشمکش میں زمانی ومکانی استناد ہے جب کہ دوسرا میدان متقابل روایتی مظاہر کے درمیان وہ تعبیراتی کشمکش ہے جس میں ماضی کے ایک مستند دور سے سند لانا لازم مانا جاتا ہے۔

Read more

پیمائش کا مسئلہ اور اکیسویں صدی کا نیا کلوگرام

سات بنیادی اکائیوں کی نئی تعریفات بلاشبہ اس صدی کا اہم ترین سائنسی واقعہ ہیں۔ اس سلسلے میں حالیہ پیش رفت ابھی دو روز قبل ہوئی جب کلوگرام کی نئی تعریف پر دنیا بھر کے اہم ترین سائنس دانوں کا اجماع ہوا۔ ہمارے سماج کے لحاظ سے اس واقعے کی حیثیت دو چند ہے کیوں…

Read more

کیا ہمیں اقبال کو پھر سے پڑھنے کی ضرورت ہے؟

سوشل میڈیا کی ایک محفل میں دوست اس لطیفے سے لطف اٹھا رہے تھے کہ کسی مغربی یونیورسٹی میں اقبال کی شاعری سے شناسا فلسفے کے ایک پروفیسر صاحب کو خطباتِ اقبال پیشکیے گئے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی تو شاعری ہی ہے۔ اقبال چونکہ ہمارے ہاں ایک مفکر نہیں بلکہ ایک ایسا سیاسی و سماجی مسئلہ ہے جس پر دو متضاد آراء پائی جاتی ہیں، لہٰذا فریقین بھی دو فکری حلقوں میں تقسیم ہو گئے۔ ہمیشہ کی طرح طرفداران کا حلقہ پوری جذباتیت سے اقبال کے دفاع میں مصروف تھا اور نقاد حضرات یہ ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے کہ اقبال فلسفی تو کیا کوئی خاص مفکر بھی نہیں۔ ایسے میں راقم کو سید علی عباس جلال پوری کی شدت سے یاد آئی جنہوں نے کئی سال قبل اس درسی بحث کو کسی حد تک ایک حتمی نتیجے پر پہنچا کر کافی کوشش سے یہ ثابت کر دیا تھا کہ اقبال بنیادی طور پر ایک متکلم ہیں نہ کہ سکہ بند فلسفی۔

Read more

سائنس کی شعریات

پچھلے مضمون میں علم کی دوئی اور ایک مشترکہ منطق کی تلاش کے بارے میں اپنی رجائیت پسندی سے متعلق جو طالبعلمانہ دعوی قارئین کے ذوقِ تنقید کی نذر کیا تھا اس کی بنیادوں میں یہ احساس اور مشاہدہ کارفرما تھا کہ تعقلی اور نیم تعقلی رویوں کی دوئی جو زمانۂ قدیم ہی سے انسانی…

Read more

خاموشی کی تحریک

ایک  دوست نے  کل سوال کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے، کچھ لکھا کیوں نہیں؟ سادی سی بات تو یہی ہے کہ کچھ کہنے کو ہی نہیں۔ پچھلے دو دن کے حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ  ایک جنگ کا سا سماں ہے، فوجیں آمنے سامنے ہیں، نوحہ گری کے مقابلے جاری ہیں، ماتم…

Read more