بورخیس اور آپ

بورخیس کا مطالعہ ریاضیاتی معنوں میں ایک عجیب و غریب حلقہ دار سرگرمی ہے۔ اگر آپ ڈچ گرافک فن کار مورس اشر کے کام سے واقف ہیں تو ضرور جانتے ہوں گے کہ ناممکن اشیاء کے کیا معنی ہیں۔ ایسی ہی ایک ناممکن شے ”اشری سیڑھیاں“ ہیں جن پر چڑھنے یا اترنے والا مسلسل چڑھتا یا اترتا ہی رہتا ہے۔ یہ سوال کہ آیا وہ چڑھ رہا ہے یا اتر رہا ہے، سیڑھیاں دیکھنے والی آنکھ پر منحصر ہے۔ سو

Read more

ہمیشہ روئیو بے کس حسین کو زعفر

سوشل میڈیا پر جدید امویوں اور ہاشمیوں کی خشک قبائلی جنگیں دیکھ کر رہا نہیں گیا اوراس خشک موسم کو ذرا تر کرنے کی خاطر شوق پیدا ہوا کہ دوستوں کو زعفر جن کے قصے سے آگاہ کیا جائے جو واقعہ کربلا کی روایت کا ایک اہم اور نہایت دلچسپ قصہ ہے۔مختلف ذاکرین یہ قصہ مختلف طریقوں سے روایت کرتے ہیں، یہاں تک کہا جاتا ہے کہ زعفر جن کے خاندان سے ایک بچہ میر انیس کی مجلس میں ان

Read more

کیسی دبدھا، کاہے کی دبدھا؟

برادرم وقار احمد ملک نے دو ایک شب قبل فون پر یہ آگاہی دیتے ہوئے اسے ستم ظریفی کہا کہ ان کے قریبی حلقۂ احباب میں تین چار حضرات نے راقم کی کتاب ”دبدھا“ کے حصول میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ جو بات اس فقیر کے لیے نہایت مسرت کا باعث تھی، اسے نہ جانے کیوں وقار ملک نے ”ستم ظریفی“ قرار دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وقار ملک بخوبی جانتے ہیں کہ لغت کے اعتبار سے ستم ظریفی کے معنی ظرافت کے پردے میں ظلم کرنے کے ہیں۔

Read more

دو ہی کیوں؟

ڈاکٹر عاصم بخشی کی حال ہی میں سنگ میل پبلی کیشنز لاہور سے شائع ہونے والی کتاب ”دبدھا“ کا پہلا باب پیش خدمت ہے۔ کتاب کو سنگ میل پبلی کیشنز کی ویب گاہ کے درج ذیل لنک کے ذریعے آرڈر کیا جاسکتا ہے : Dubidha – Asim Bakhshi ***             *** فرض کیجیے آپ اپنے بہترین دوست کے ساتھ شہر میں کھلنے والے ایک نئے کافی ہاؤس میں موجود ہیں۔ کافی کی مختلف اقسام کا رسیا

Read more

قصہ ایک شعری تصرف کا

ایک قابل احترام ’ مولوی صاحب ‘نے ایک ہی سانس میں ’سکہ بند علمائے دیوبند‘ کا قصیدہ پڑھتے اور دوسرے سانس میں ’درباری شعرا‘ پر دو حرف بھیجتے ہوئے ، کس بے دردی سے ہمارے زمانے کے ایک عظیم شاعر کے شعر میں تصرف کیا اور ’مٹی کی محبت‘ کو ’امت کی محبت ‘ سے تبدیل کر دیا۔ یوں کہنے کو تو یہ بے ضرر سا شعری تصرف ہی ہے لیکن اگر دیکھیں تو اپنی تہوں میں کتنی عظیم المیاتی

Read more

آسمانی آفات اور ہمارے سماجی مباحث

اس میں کوئی شک نہیں کہ الہامی روایت مختلف معمولی و غیرمعمولی کونیاتی حقائق کی تعبیر خدا کی طرف سے ظاہر ہونے والی مختلف آیات یا نشانیوں کے طور پر کرتی ہے۔ لہٰذا کسی بھی آسمانی آفت کے ظاہر ہونے پر الہامی روایت پر ایمان رکھنے والوں کے ذہن کا اپنی روایت کے جانب علامتی طور پر مبذول ہونا ایک معقول سی بات ہے۔ اس لئے عام دیکھا گیا ہے کہ ایسی کسی بھی صورت میں مذہبی شعور ایک فوری

Read more

کیا ہمیں اقبال کو پھر سے پڑھنے کی ضرورت ہے؟

سوشل میڈیا کی ایک محفل میں دوست اس لطیفے سے لطف اٹھا رہے تھے کہ کسی مغربی یونیورسٹی میں اقبال کی شاعری سے شناسا فلسفے کے ایک پروفیسر صاحب کو خطباتِ اقبال پیشکیے گئے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی تو شاعری ہی ہے۔ اقبال چونکہ ہمارے ہاں ایک مفکر نہیں بلکہ ایک ایسا سیاسی و سماجی مسئلہ ہے جس پر دو متضاد آراء پائی جاتی ہیں، لہٰذا فریقین بھی دو فکری حلقوں میں تقسیم ہو گئے۔ ہمیشہ کی طرح طرفداران کا حلقہ پوری جذباتیت سے اقبال کے دفاع میں مصروف تھا اور نقاد حضرات یہ ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے کہ اقبال فلسفی تو کیا کوئی خاص مفکر بھی نہیں۔ ایسے میں راقم کو سید علی عباس جلال پوری کی شدت سے یاد آئی جنہوں نے کئی سال قبل اس درسی بحث کو کسی حد تک ایک حتمی نتیجے پر پہنچا کر کافی کوشش سے یہ ثابت کر دیا تھا کہ اقبال بنیادی طور پر ایک متکلم ہیں نہ کہ سکہ بند فلسفی۔

Read more

امواجِ ثقل، لبرل ازم اور بوسے کی مابعدالطبیعات

تین دلچسپ تحریریں اور ان پر اختلافی تبصرے نظر سے گزرے۔ یوں تو موضوعات کا آپس میں کوئی واضح تعلق نہ تھا لیکن بیچ سے گزرتی ایک مشترکہ فکری زنجیر نے قدم جکڑ لئے۔ برادرم ذیشان ہاشم نے اپنے پرمغز مضمون میں لبرل ازم کی مبسوط روایات کا احاطہ کرتے ہوئے اسے آزاد فرد، آزاد معاشرے اور آزاد معیشت کی مربوط مثلث قرار دیا۔ ان کا مرکزی دعویٰ یہ تھا کہ لبرل ازم کی روایت سماجی خاکہ بندی کے دوران

Read more

’گستاخِ اقبال‘ سے چند گزارشات

برادرم جمشید اقبال کے حالیہ مضمون سے معلوم ہوا کہ شہر میں ایک بار پھر اقبال کا قدوقامت ماپنے کے لیے دقیقہ شناسانِ فلسفہ و سائنس کی محفل سجائی گئی۔ سچ بات ہے کہ بحث کا عنوان ہی اس کی فرسودگی کی چغلی کھاتا تھا کیوں کہ اس قبیل کی بحثیں کم ہی تسکین کا سامان ہوتی ہیں۔ بہرحال یوٹیوب پر موجود پر پوری گفتگو اور سوال و جواب دیکھنے کے بعد یقیناً علم میں کچھ نہ کچھ اضافہ ہوا۔

Read more

کیا ایک نیا مذہبی بیانیہ ممکن ہے؟

میرا کلام ہمیشہ خارج میں کسی شعور کا محتاج ہے۔ میں آپ کو اپنا مخاطب بناتا ہوں تو آپ کی موجودگی میرے لئے ایک بدیہی مفروضہ ہوتا ہے، میں یہ فرض کرتا ہوں کہ آپ موجود ہیں اور میری بات آپ تک پہنچنی چاہئے۔ خود کلامی کی صورت میں بھی مفروضہ یہی ہوتا ہے کہ میرے اندر کوئی کان لگائے بیٹھا ہے جو میری مراد جاننا چاہتا ہے، اس کو معانی پہنانا چاہتا ہے، میرے کلام سے تعلق پیدا کرنا

Read more

جدید مسلم ذہن میں علم کی دوئی کا مسئلہ

’مذہب پسند‘ کی اصطلاح کوا ن سب طبقات تک محدود کرتے ہوئے جو اس قضیے سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں کہ معاشرتی ڈھانچے کے سیاسی و سماجی خدوخال مرتب کرنے میں تن تنہا مذہب ہی ایک واحد بامعنی قدر ہے، اگر ان تمام طبقات کا ایک عمومی سا جائزہ لیا جائے تو ہمارے ہاں فلسفہ و سائنس کو لے کر دو قسم کے فکری دھارے دیکھنے میں آتے ہیں۔ ان مذہب پسندوں میں سے ایک تو وہ

Read more

اسلام کا بشریاتی تناظر

کیا اسلام کا ایک خالص معروضی مطالعہ ممکن ہے؟ یعنی ویسی ہی معروضیت جو مغربی درس گاہی نظام یعنی ’اکیڈمی‘ میں یہودیت اور عیسائیت کا وہ مطالعہ ممکن بناتی ہے جس کی رو سے ان دونوں کی تعریف ایسے ’مذاہب‘ کے طور پر کی جاتی ہے جن کے ماننے والے خود کو یہودی یا عیسائی کہتے ہیں۔ درس گاہی تناظر کی اس تنصیب کے بعد مذہب اور کلچر ایک ہی سکے کے دو رخ بن جاتے ہیں او ر یہودیت یا عیسائیت کے معنی کم وبیش یہودی اور عیسائی ثقافت کے ٹھہرتے ہیں۔

روایتی مطالعۂ اسلام شایداس لیے مذہب اور کلچر کی لاینحل دبدھا کا شکار ہے کہ خارجی روایتِ علم سے وارد ہونے والی ان دونوں اصطلاحات کو من وعن تسلیم کرتے ہوئے انہیں سماجی محاورے میں خاطرخواہ جگہ دی جا چکی ہے لیکن دوسری طرف دینِ اسلام اور مسلم ثقافت کے درمیان صحت و استناد کے سوال پرمسلسل کھینچا تانی جاری ہے۔ زمانۂ جدید میں اس کھینچا تانی کا ایک میدان تو روایتی اسلام اور متجددین کے درمیان جاری تعبیراتی کشمکش میں زمانی ومکانی استناد ہے جب کہ دوسرا میدان متقابل روایتی مظاہر کے درمیان وہ تعبیراتی کشمکش ہے جس میں ماضی کے ایک مستند دور سے سند لانا لازم مانا جاتا ہے۔

Read more

پیمائش کا مسئلہ اور اکیسویں صدی کا نیا کلوگرام

سات بنیادی اکائیوں کی نئی تعریفات بلاشبہ اس صدی کا اہم ترین سائنسی واقعہ ہیں۔ اس سلسلے میں حالیہ پیش رفت ابھی دو روز قبل ہوئی جب کلوگرام کی نئی تعریف پر دنیا بھر کے اہم ترین سائنس دانوں کا اجماع ہوا۔ ہمارے سماج کے لحاظ سے اس واقعے کی حیثیت دو چند ہے کیوں کہ ہم اسے ہائی اسکول کے درجے پر سائنس کی رسمی تدریس اور اعلیٰ تعلیم کے درجے پر تاریخِ سائنس اور فلسفۂ سائنس کی غیررسمی

Read more

سائنس کی شعریات

پچھلے مضمون میں علم کی دوئی اور ایک مشترکہ منطق کی تلاش کے بارے میں اپنی رجائیت پسندی سے متعلق جو طالبعلمانہ دعوی قارئین کے ذوقِ تنقید کی نذر کیا تھا اس کی بنیادوں میں یہ احساس اور مشاہدہ کارفرما تھا کہ تعقلی اور نیم تعقلی رویوں کی دوئی جو زمانۂ قدیم ہی سے انسانی مزاج کا حصہ رہی ہے جدید دور تک پہنچتے پہنچتے کچھ ایسی شدت اختیار کر چکی ہے جس کی اولین بازگشت بہت سے انیسویں اور

Read more

خاموشی کی تحریک

ایک  دوست نے  کل سوال کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے، کچھ لکھا کیوں نہیں؟ سادی سی بات تو یہی ہے کہ کچھ کہنے کو ہی نہیں۔ پچھلے دو دن کے حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ  ایک جنگ کا سا سماں ہے، فوجیں آمنے سامنے ہیں، نوحہ گری کے مقابلے جاری ہیں، ماتم بھی چل رہا ہے اور ساتھ ہی  دل خوں آشامی پر بھی آمادہ ہے ۔ ایسے میں مجھ جیسے لوگ درمیان میں کھڑے ہیں اور

Read more

تبدیلی کی حرکیات

فرض کیجیے آپ کے پاس دو ایک جیسے برتنوں میں مختلف درجۂ حرارت پر گرم کی گئی پانی کی ایک جتنی مقدار موجود ہے۔ پہلے برتن میں موجود پانی کا درجۂ حرارت نوے جب کہ دوسرے برتن میں تیس ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ آپ دونوں برتنوں کو ایک ساتھ سرد خانے میں رکھ دیتے ہیں۔ کون سے برتن میں موجود پانی پہلے برف میں تبدیل ہو گا؟ صرف قیاس کی بنیاد پر جواب دیا جائے تو یقیناً دوسرے برتن میں

Read more

چندا ماما کی گمشدگی، چاند گرہن اور معاذ میاں کی تشکیک

حیاتِ انسانی میں شے یا مظہر سے جڑی رومانوی معنویت معدوم ہونے کے قریب ہے۔ منظر کو دیکھ کر ٹھٹک سا جانا، سحر میں مبتلا ہو جانا شاید اب بھی ممکن ہے لیکن یہ تجربہ اب کوئی عمومی تجربہ نہیں۔ اس کی ذمہ دار نوعِ انسانی کی وہ مخصوص وجودی حالت ہے جو اساطیری تناظرکو ایک دلچسپ اور معنی خیز تناظر ماننے سے جھجکتی ہے۔ اس جھجک میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس سے بھی شاید

Read more

کرپٹو کرنسی اور پاکستان کی ریاستی قدامت پسندی

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے حالیہ ماہ کے آغاز میں جاری کیے گئے ایک رسمی مراسلے میں عوام کو بِٹ کوائن سمیت تمام قسم کی کرپٹو کرنسیوں سے بچنے کی ہدایت کی ہے۔ مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کرنسیوں یعنی کوائنز اور ٹوکنز کے ذریعے پاکستان سے باہر رقم بھیجنے والے کسی بھی شخص سے ملکی قوانین کے مطابق بازپرس کی جائے گی۔ مزید برآں بینکوں اور کرنسی ڈیلروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس

Read more

سیکولرازم کیوں معقول ہے؟

 سیکولرازم کی بحث جاری تھی کہ کوئٹہ میں مسیحی ہم وطنوں پر یکے بعد دیگرے دو حملے ہو گئے۔ موقر اطلاعات کے مطابق داعش نے ان حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کر لی۔ اس کے بعد مذہب اور ریاست کی علیحدگی کے جواز کے لئے جیسے مزید کوئی سند مہیا کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ اسی پس منظر میں ہمارے کچھ روشن خیال مذہب پسند دوستوں نے رائے ظاہر کی کہ انتہا پسندی کی بجائے دہشت گردی سے

Read more