بھارتی سیاست میں فوجی مداخلت ہلاکت خیز ہوگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاک فوج نے بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت کے پاکستان اور آزاد کشمیر کے بارے میں ایک غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز بیان پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ٹوئٹ پیغامات میں بھارتی آرمی چیف کے بیان کو سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس قسم کی حرکتوں سے بھارت کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف بننا چاہتے ہیں۔ موجودہ کشیدہ صورت حال میں دونوں ملکوں کے فوجی لیڈروں کے بیانات حالات کو تصادم کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ بھارتی سیاست میں فوجی مداخلت سے برصغیر میں ہلاکت خیز صورت حال پیدا ہوگی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے یوم آزادی کے موقع پر نیا عہدہ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ چیف آف ڈیفنس اسٹاف بھارت کی فوج، فضائیہ اور بحریہ کا مشترکہ کمانڈر ہوگا۔ میجر جنرل آصف غفور نے جنرل بپن راوت کے ہتھکنڈوں کو غیر پیشہ وارانہ قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس طرح بھارتی فوج کو ایک غنڈہ فورس (روگ فورس) میں تبدیل کررہے ہیں اور ان کے ہاتھوں پر بے گناہ انسانوں کا خون ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت اپنے سیاسی ماسٹرز کے انتخابی مفادات کے لئے بیان دیتے ہیں۔ جعلی سرجیکل اسٹرائیکس سے لے کر اب تک انہیں کوئی کامیابی نہیں ملی۔ بھارتی آرمی چیف کے ہاتھ معصوموں کے خون سے رنگے ہیں۔ انہوں نے اپنی فوج کو روگ آرمی بنا لیا ہے۔ ان کا تازہ بیان پاکستان کے ہاتھوں اٹھائے جانے والے نقصانات کی خفت مٹانے کی کوشش ہے۔ ہر روز ان کے لوگ مررہے ہیں‘ ۔

بھارتی آرمی چیف کا بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا تھا جبکہ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں اور لائن آف کنٹرول کی صورت حال سنگین ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر خوں ریزی ہورہی ہے۔ پاکستانی فوج کے مطابق گزشتہ چھے ماہ کے دوران 60 بھارتی فوجی ہلاککیے گئے ہیں جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ اس دوران بھارتی گولہ باری سے پاکستانی فوجیوں کی شہادتوں کی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ لائن آف کنٹرول کے قریب آباد شہریوں کی بڑی تعداد بھی جاں بحق ہوئی ہے اور ان کے گھر اور کاروبار تباہ ہوئے ہیں۔

گزشتہ دنوں آزاد کشمیر کے جورا سیکٹر میں بھارتی فوج نے گولہ باری کی تھی۔ جنرل بپن راوت نے دعویٰ کیا تھا کہ ان حملوں میں بھارتی فوج نے ’دہشت گردوں کے کیمپس‘ تباہکیے تھے۔ تاہم پاکستان نے اس دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے اگلے روز ہی غیر ملکی سفاتکاروں کو اس علاقے کا دورہ کروایا تھا تاکہ بھارتی جھوٹ کا پردہ فاش ہوسکے۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے بھارتی سفارت خانہ کے ناظم الامور کو بھی اس موقع پر چلنے کی دعوت دی تھی لیکن انہوں نے اس دعوت کو قبول نہیں کیا تھا۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور وہاں انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی پر دنیا بھر سے احتجاج دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکہ اور اقوام متحدہ نے ایک بار پھر دونوں ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے صورت حال کو بہتر بنائیں۔ امریکہ کی قائم مقام اسسٹنٹ سیکریٹری برائے جنوب وسطی ایشیا ایلس ویلز نے کہا ہے کہ جب دو جوہری ریاستیں آمنے سامنے ہوں تو رابطے بحال کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کرنے ضرورت ہے۔

انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں مواصلات کا نظام اور کرفیو ہٹانے کا روڈ میپ فراہم کرے۔ اس صورت حال میں دونوں ملکوں کی سیاسی قیادت کو ہوشمندی سے کام لینے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرنے کی اشد ضرورت ہے لیکن بدقسمتی سے بھارت نے ایسے موقع پر اپنی فوج کے نمائندوں کو بے بنیاد اور خالص سیاسی بیانات دینے پر مامور کیا ہے۔ حالانکہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تصادم کی صورت حال کو بڑھانے کی بجائے، کم کرنے کی ضرورت ہے۔

جنرل بپن راوت کی وزیر اعظم نریندر مودی سے شیفتگی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے فوجی سربراہ سے زیادہ ایک سیاسی معاون کا کردار ادا کیا ہے۔ بھارت کے سیاسی انتظام میں یہ حیران کن تبدیلی ہے لیکن بی جے پی کی حکومت نے ایک طرف ملک میں ہندو قوم پرستی، تعصب، انتہا پسندی اور شدید مذہبی جذبات کو فروغ دیا ہے تو دوسری طرف فوج کو بھی سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سال فروری میں پاکستانی علاقے میں فضائی حملہ کرکے دہشت گردوں کا ایک بڑا کیمپ تباہ اور کئی سو دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیاتھا۔

پاکستان نے فوری طور پر اس کی تردید کی اور اگلے ہی روز ایک فضائی جھڑپ میں بھارت کے دو فائیٹر مار گرائے اور ایک پائیلٹ ابھی نندن گرفتار کرلیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے خیرسگالی کے اظہار کے لئے ابھی نندن کو رہا کردیالیکن بی جے پی اور نریندر مودی نے اسے سیاسی کامیابی ہی قرارنہیں دیا بلکہ ابھی نندن کو سیاسی پوسٹرز میں قومی ہیرو بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی۔ بھارت کے الیکشن کمیشن کو اس قسم کے پوسٹرز پر پابندی عائد کرنا پڑی تھی۔

اس کے بعد بھی متعدد بھارتی جنرل پاکستان اور کشمیر کے بارے میں اشتعال انگیز بیانات دیتے رہے ہیں۔ جنرل بپن راوت کا تازہ ترین بیان کشمیریوں کی طرف سے دنیا بھر میں 27 اکتوبر کو منائے جانے والے یوم سیاہ سے دو روز پہلے سامنے آیا ہے۔ اس بیان میں آزاد کشمیر کو پاکستانی حکومت کی بجائے دہشت گردوں کے زیر تسلط قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ پاکستان دنیا بھر کے مبصرین، سفارت کاروں اور صحافیوں کو آزاد کشمیر جانے اور صورت حال کا جائزہ لینے کی دعوت دیتا ہے جبکہ بھارت اپنے ہی شہریوں اور کشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت نہیں دیتا۔

بھارتی حکومت کا اصرار ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے بارے میں وہ جو بھی معلومات فراہم کرے اس من و عن قبول کرلیا جائے۔ ایک جابر حکومت کے ایسے بیان کو اب امریکی کانگرس کے ارکان نے بھی تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اور مطالبہ کیا جارہا ہے کہ غیر جانبدار لوگوں کو خود جاکر صورت حال کا جائزہ لینے کا موقع دیا جائے۔

ایسی صورت حال میں جنرل راوت کا آزاد کشمیر کو دہشت گردوں کا مسکن قرار دینے کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیری علاقوں پر بھارت کے ’حق ملکیت‘ پر اصرار، علاقے میں کشیدگی بڑھانے اور جنگ کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ بھارتی فوج کے سربراہ وزیر اعظم نریندر مودی کی آشیرواد سے فوج کو سیاسی معاملات میں ملوث کرنے کی ایک افسوسناک روایت قائم کررہے ہیں۔ دو روز قبل آزاد کشمیر پر دہشت گردوں کے قبضے والا بیان دیتے ہوئے انہوں نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے متنازعہ فیصلہ پر بھی رائے زنی کی۔

حالانکہ یہ خالص سیاسی معاملہ ہے۔ بھارتی حکومت نے ایک اقدام کیا ہے۔ کشمیری عوام بیک زبان اس کی مخالفت کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت کے متعدد سیاسی رہنما اس متنازعہ معاملہ پر حکومتی حکمت عملی کو مسترد کرچکے ہیں۔ یہ معاملہ بھارتی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لئے کسی سرکاری اہلکار کو اس پر زبان کھولنے کا حق نہیں ہوسکتا۔ کجا فوج کے سربراہ اس پر رائے زنی کریں اور ایک سیاسی، قانونی اور آئینی معاملہ میں حکومت کا کھل کر ساتھ دینے کا اعلان کرتے پھریں۔

کسی بھی جمہوری سیاسی انتظام میں فوج منتخب حکومت کے زیر فرمان ہوتی ہے۔ اسے اپنی پروفیشنل رائے بیانات کی بجائے مسلمہ طریقہ کار کے مطابق متعلقہ اداروں کے ذریعے سیاسی قیادت تک پہنچانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بھارت میں جمہوری نظام اسی لئے کامیاب رہا ہے کہ اس کی حکومتوں نے طاقت کا منبع جنرل ہیڈ کوارٹر زیا آرمی چیف کی مرضی کو قرار دینے کی بجائے لوک سبھا کو بنائے رکھا ہے۔ نریندر مودی بظاہر اس انتظام کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ رویہ پاکستان سے زیادہ بھارت کی جمہوریت اور نریندر مودی کے سیاسی مستقبل کے لئے خطرہ ہوگا۔

پاکستانی سیاست میں فوج کی مداخلت سے پیدا ہونے والے حالات بھارتی لیڈروں کے لئے بھی باعث عبرت ہونے چاہئیں۔ اگر وہ ویسی ہی غلطی کریں گے جو پاکستان میں کی گئی تھی تو اس کا نتیجہ بھی مختلف نہیں ہوگا۔ پاکستان اور بھارت اس وقت ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ ایسی صورت میں سیاسی قیادت کو ذمہ داری قبول کرنے اور فوجی تصادم سے گریز کا راستہ نکالنے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح دونوں ملکوں اور پورے خطے میں امن کی امید کی جاسکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1328 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali