ریاستی ادارہ بمقابلہ حکومت وقت اور سیرل المیڈا

\"mahmood-shafi-bhatti-2\"

وزارت داخلہ نے ڈان نیوز کے رپورٹر سیرل المیڈا کا نام جیسے ہی ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا، ملک میں صحافت کو خطرہ لاحق ہوگیا۔ ہمارا کارپوریٹ میڈیا بغیر کسی تحقیق اور تسلی کے غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے لگا۔ ایسا لگ رہا ہے کہ پتہ نہیں کیا ایسا ہوگیا کہ ایمرجنسی جیسی صورتحال ہوگئی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا کہ ہم نیا طارق فتح پیدا کرنے جارہے ہیں؟ اتنی اہم خبر کا خبر کا لیک ہونا کسی سانحہ سے کم نہیں۔ ایک عام پاکستانی میں یہ سوچ جاری ہے کہ ہم ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود اپنی اعلی سطحی معلومات کو اگر محفوظ نہیں کرسکتے تو، تو ملک کا دفاع کیسے کرتے ہیں؟ ہمارا ملک حالت جنگ میں ہے،لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ اتنی اہم معلومات لیک کیسے ہوئی؟ آخر وہ کون ہے جو اس ملک کی بد نامی چاہتا ہے۔ فوج کا امیج خراب کرنا چاہتا ہے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو ہر پاکستانی کے دماغ میں طوفان مچاۓ ہوۓ ہیں۔

شائع ہونے والی خبر کو اگر بغور پڑھا جاۓ تو اس خبر سے درج ذیل نکات حاصل ہوتے ہیں۔

۱۔ خبر کی لیک سے ایک طرح ہم نے اپنی فوج کے خلاف فرد جرم عائد کردی ہے۔ اور دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ فوج امن کے قیام میں بڑی رکاوٹ ہے۔

۲۔ حکومت اور فوج کے درمیان کشیدگی ہے اور حکومت جن ہشت گردوں کو پکڑتی ہے فوج ان کو دباؤ ڈال کر رہا کروا دیتی ہے۔ مطلب دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتی ہے۔ یعنی کہ بھارتی موقف کی مکمل تائید کرنا ہے۔

۳۔ اس خبر سے تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ملک میں فوج مخالف ماحول گرم ہے اور فوج مخالف نظریات کو تقویت مل رہی ہے۔ اور آزادئ صحافت کے نام پر جو فوج کے حق میں اب لکھے گا بوٹ پالشیے کا خطاب ملے گا۔ اور دنیا کو بتانا تھا کہ امن کے قیام میں فوج رکاوٹ ہے۔ حالانکہ سب کو پتہ ہے کہ کئی دہشت گرد پنجاب حکومت کے وزیر ہیں۔

یہ خبر انتہائی تجربہ کاری کے ساتھ لیک کی گئی جس کا مقصد صرف فوج کو بدنام کرنا تھا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایک اعلی سطحی میٹنگ اہم باتوں کو لیک کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا لیکن ایسا کیوں کیا گیا کہیں یہ خبر مریم نواز کے میڈیا سیل سے تو لیک نہیں کروائی گئی؟ یہ وہی میڈیا سیل ہے جس نے پنڈی سے چلنے والی شکریہ راحیل شریف مہم کو ایک لطیفہ بنا دیا تھا.کہیں ن لیگ کا میڈیا سیل نواز شریف کی سیاسی وارث مریم نواز کو ٹھکانے تو نہیں لگانا چاہتا تاکہ نواز لیگ کی صدارت شہباز فیملی کی طرف آۓ۔ لیکن میاں صاحب اپنی سیاسی وراثت کسی کو دینے کو تیارنہیں۔ کہیں نواز لیگ سیاسی شہید بننے کا ڈرامہ تو نہیں رچا خبر کی لیکیج سے دنیا کو یہ تاثر دینا کہ فوج ہمیں کام نہیں کرنے دے رہی ہے۔ کیونکہ حکومت اور فوج کے درمیان بعض معاملات پر سنجیدہ ٹینشن ہے۔ اور حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے سارا ملبہ فوج پر ڈال کر راہ فرار اختیار کر رہی ہے۔ لیکن دوسری طرف سیرل کا نام ای سی ایل ڈال کر اپنی سنجیدگی کا اظہار کرہی ہے۔ کیونکہ حکومت کو کمیشن بنا کر معاملات بگاڑنے کا کافی تجربہ ہے۔

فوج کی طرف سے میڈیا پر ابھی کوئی سنجیدہ ردعمل نہیں آیا بس معمول کے بیانات ہیں لیکن اندرون خانہ کافی کشیدگی ہے۔ ابھی اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ لیکن کافی چہ مگوئیاں جاری ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words