میرے ووٹ کو عزت دو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”یہ میں کہاں پیدا ہو گیا“ یہ چند الفاظ یقیناً میری عمر کے تمام پاکستانیوں نے کبھی نہ کبھی سوچے یا کسی سے کہے ضرور ہوں گے اور اپنے حساب سے ان کو جسٹیفائی بھی کیا ہوگا۔

اخبار کا مطالعہ کرتے کرتے نہ جانے یہ الفاظ میرے ذہن میں کیوں آئے کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کے مجھے اس پاک دھرتی سے بے انتہا محبت ہے اور اس کے نظام سے شدید نفرت، معافی چاہتا ہوں یہاں نظام کا ذکر کر بیٹھا ہوں دراصل اس ملک میں تو کوئی نظام ہی نہیں کبھی یہ مارشل لاء کے اندھیرے میں پلا تو کبھی یہاں سیاسی انجینئرنگ کے بادل منڈلاتے رہے اور آج کل تو ٹیکنالوجی کا درست استعمال کر کے ملک کو واٹس ایپ سے چلایا جا رہا ہے۔

اقبال کے شاہین ٹک ٹوک پر اپنی اداکاریاں پیش کر رہے ہیں تو کہیں ٹک ٹوک اسٹار ایوانوں میں آدھ ننگے گھوم رہے ہیں۔

ستم ظریفی دیکھئے کے ہر رات کو نیوز چینلز پر بھی 22 کروڑ عوام میں سے چن کر ہر اس بندے کو بٹھایا جاتا ہے جس کا کام چاہے کچھ بھی ہو پر سیاست نہ ہو، اور اسی سے سیاست پر تجزیہ کروایا جاتا ہے۔

صحافت کا جنازہ تو یہاں سے کافی عرصہ پہلے اٹھالیا گیا ہے بس اب تھوڑی بہت انٹرٹینمنٹ ہی نیوز چینلز پر نظر آتی ہے۔

ایسا لگتا ہے پاکستان میں بس کچھ ہی شہر ہیں جیسے کراچی، اسلام آباد، لاہور وغیرہ جن کی پوری ریپورٹنگ کی جاتی ہے باقی ملک میں ایلین رہتے ہیں مثال کے طور پر کچھ دن پہلے ہر نیوز پر خبر چلی کہ وانا میں چلغوزے ڈاکو لوٹ کر لے گئے یعنی کہ پرانے فاٹا اور نئے خیبرپختونخوا میں امن وامان قائم ہے ہر شہری کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کی جارہی ہیں تمام نوجوانوں کو بہترین روزگار میسر ہے، بس یہ چلغوزے چوری ہونا سال کا سب سے بڑا واقعہ وانا میں پیش آیا ہے۔ کچھ خدا کا خوف کیجیے کیوں ڈرتے ہیں آپ حقائق بتانے سے۔

خیر ان چینلز مالکان اور باضمیر صحافیوں کا بھی قصور نہیں یہ بھی ملک کے نظام کی طرح واٹس ایپ کی انسٹرکشنز پر چل رہے ہیں۔

ملک دن بدن تباہی کی طرف جارہا ہے معاشی حالات، نظام تعلیم، صحت کا نظام سب بد سے بدتر ہو رہا ہے بے روزگاری عروج پر ہے جرائم میں روز اضافہ ہو رہا ہے۔

100 دن میں نیا پاکستان بنانے والے ڈیڑھ سال میں کچھ نہ کرسکے جو تھا اسے بھی بربادی کی طرف دھکیل دیا۔

بقول سراج الحق صاحب اب تو ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ موجودہ حکومت کس کے توسط سے ایوانوں میں براجمان ہے۔

ان تمام حالات میں ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بغیر ایمپائر کے ہزاروں لاکھوں لوگ ملک میں سول سپریمیسی کے لئے سڑکوں پر ہیں یہ سب اس پاک وطن کے حقیقی فرزند اور خیرخواہ ہیں۔

ناکہ ہم جو روز بیرون ملک جانے کے لئے قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں اور یہ کہتے نہیں تھکتے کہ یہاں کی سیاست بہت گندی ہے پر ہم نے کبھی اس میں اتر کر اس کو صاف کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔

ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کو جس طرح مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی نے ہر زبان پر عام کیا ہے یہ حقیقی طور پر داد کے مستحق ہیں۔

پچھلے دنوں ڈی جی صاحب کی طرف سے مولانا صاحب کو حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ بھی دیا گیا سوال یہ ہے کہ انھوں نے اسٹیج پر کھڑے محمود خان کو کیوں نظر انداز کیا؟ کیا ان کی حب الوطنی پر شک ہے؟ یا پھر ڈی جی صاحب بھی اس بات سے واقف ہیں کہ ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ دراصل اچکزئی کا پیدا کردہ ہے جو پہلے نواز شریف اور اب مولانا کی زبان پر طاری ہے۔

آخر میں یہ کہوں گا کہ یہاں پیدا ہونے کا آپشن تو میرے پاس نہیں تھا لیکن اپنا نمائندہ چننے کے لئے میرے پاس ووٹ کا حق ہے لہذٰا میرے ”ووٹ کو عزت دو“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اولس یار کاکڑ کی دیگر تحریریں
اولس یار کاکڑ کی دیگر تحریریں