بلوچستان بنام پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"waqas-alam\" 27 مارچ 1948 کی شام مجھے بتایا گیا کہ میں آپ کی آغوشِ کفالت میں آ گیا ہوں۔ اب مجھے \”حصہ پاکستان\” کے نام سے جانا جائے گا ، میری جداگانہ حیثیت ہوگی، ایک مقام ہو گا ، میرے خطے کے لوگوں میں خوش حالی ہوگی۔

میں بہت خوش تھا کہ قائد و بانی محمد علی جناح بھی مجھ سے بے پناہ قربت رکھتے تھے۔ ان کے لاڈ کا اندازہ مجھے یوں تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام بھی میرے پاس گزارے ، ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں کے گرد لپٹا \”قائداعظم ریزیڈنسی\” آج بھی مجھے ان کے ساتھ بِتائے دن یاد دلاتا ہے۔ کیا پُر مسرت ایام تھے۔ 1948 کی دوپہر ان کی آخری سانس کے ساتھ ہی گویا پورا خطہ یتیم ہوگیا۔ ساری رونقیں مانند پڑ گئیں ، لیکن امید اچھی تھی، سو سنبھل گیا۔

پھر 1952 کی ایک شام مجھے بتایا گیا کہ میں \”قدرتی گیس\” جیسی دولت سے مالا مال ہوں۔ میں جھوم اٹھا کیوں کہ اب میری حیثیت خود ایک \”کفیل\” کی بن رہی تھی ، میں ایک فخریہ انداز میں \”آپ\” کی جانب دیکھنے لگا کہ شاید اب کی بار میری اس قدر کو مانا جائے گا یا کم از مجھے مجھ سے حاصل شدہ نعمتوں کے عوض کسی پر انحصار نہیں کرنا ہوگا…۔۔ مگر پھر ہوا یہ کہ مجھے پھر ایک آلہ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ مجھے میری گیس نہیں دی گئی۔ کوئٹہ، مکران ، لسبیلہ اور دیگر اضلاع سوالیوں کی طرح کشکول پھیلائے کھڑے رہے مگر لاہور ، بھکر ، پشاور اور باقی پاکستان مجھ سے حاصل شدہ نعمت کے مزے اڑاتا رہا ۔

میں رقبہ کے اعتبار سے ان تمام صوبوں سے بڑا ہوں لیکن ماضی کی چوٹیں اتنی کھا چکا ہوں کہ اب کمر جھک سی گئی ہے۔ 1970 سے پہلے تک یعنی 23 سال تک مجھے صوبہ تک کی حیثیت سے محروم رکھا آپ نے ، میں روتا تھا کہ کیوں میرے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے؟ کیوں مجھے باقی پاکستان سے جدا رکھا جاتا ہے۔ مانا کہ میرے لوگ خانہ بدوش ہیں، جدید دنیا کے اہل نہیں ہیں مگر انسان تو ہیں! ہیں تو اسی حصہ کے جس حصہ کو اسلامی دنیا کا قد آور ترین ملک کہا جاتا ہے۔

ہاں ! آپ کے کچھ احسانات کی گنتی بھی ہے مجھ جیسے \”بگڑے ہوئے\” ، \”بدتمیز\” اور \”بد اخلاق\” خطہ کو جو یاد ہے وہ ایک \”چاغی\” دھماکہ، سو روپے کے نوٹ کے پیچھے \”قائد اعظم ریزیڈنسی\” کی تصویر اور سرکاری محکموں میں \”کوٹہ سسٹم\”۔۔۔ میں بتا چکا ہوں۔ میں زمانہ سے چوٹ کھایا ہوا ہوں، مجھے یاد نہیں آپ کے دیگر ان گنت احسانات ۔

میں 69 بہاروں سمیت سارے موسم دیکھتا رہا ہوں۔ میں نے اسی زمین کے \”مریوں\” کو مرتے اور اپنی ہی زمین سے جلاوطن ہوتے دیکھا ، میں اسی زمین کے \”ہزارہ قوم\” کو اب تک لاشیں اٹھائے اور دھرنا دیتے دیکھ رہا تھا۔ بجلی، گیس، روٹی، کپڑا اور مکان کے تصور سے ناآشنا تو تھا ہی مگر رفتہ رفتہ اس بات کو بھی جان گیا کہ مجھے \” گونگا\” بننا پڑے گا۔ مجھے اس بات کو تسلیم کرلینا پڑے گا، مجھے یا میرے لوگوں کو \”بات\” کرنا نہ آجائے، سوال جیسی لعنت سے ہمیں دور رہنا پڑے گا۔۔۔

میری اس حالت پر بھی پھبتیاں کسی جاتی ہیں۔ میں اکثر سنتا رہتا ہوں کہ اس ملک کے مالک یعنی سردار و نواب \” پاکستان \” سے بدتمیزی پر اکساتے ہیں، اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لیے اپنی قوم کو تعلیم، روزگار اور سیاسی و سماجی شعور سے دور رکھتے ہیں، وغیرہ۔ لیکن ! کیا گوادر، پسنی، تربت، پنجگور، مند اور آواران جیسے علاقوں میں سرداری کا تصور موجود ہے؟ نہیں! پھر کیوں یہاں ترقی جیسے خواب کی تعبیر ہوتی نظر آتی ہے…… جب کہ لسبیلہ، نصیرآباد، جعفرآباد سمیت ایسے تمام اضلاع کے شب و روز تو \”پاکستان زندہ باد \” کے ورد سے شروع اور ختم ہوتے ہیں، پھر یہاں کیوں ترقی کے معنی ایک \”ٹریکٹر لینے\” تک محدود ہے؟ کیوں یہاں شعور باقی بلوچستان سے کوسوں نیچے ہے؟

آخر کیا وجہ ہے کیا میری تہذیب ، رہن سہن آپ کی لغت کے لفظ \”ترقی\” پر پورا نہیں اترتے؟ کیا میرے خطے کے لوگوں کی شلواریں، ہیئت اور ثقافت آپ کے جدید تقاضوں پر پورا اترنے کے قابل نہیں؟ کیوں کوئی اصل وجہ نہیں بتاتا؟ میں نے ریکوڈک دیا، سیندک دیا، آپ نے لیا اور بدلہ میں \”اپنوں\” ہی کی خون آلود پوشاکیں اچھالیں ، میں نے ریحان رند جیسے ہیرے پیدا کیے لیکن جہاں پر بخار میں مبتلا شخص بھی زندگی اور موت کے درمیان جھولتا ایک جسم ہو وہاں \” کینسر ہسپتال \” کا مطالبہ اپنی چادر سے زیادہ پاؤں پھیلانے والی بات ہے۔ واحد بلوچ کا واقعہ تو محض شہ سرخیاں ہیں جناب… مان لیا، وہ دہشت گرد ہے، مہلک علامت ہے اور ان سب سے اوپر وہ بلوچستان یعنی میرا سپوت ہے جو ان سب سے بھی بڑا گناہ اور قصور ہے…۔۔ تو کیا اس کے لیے عدالتیں ختم ہو گئی ہیں، کیا ملک میں آئین معطل ہو چکا، انصاف ناپید ہو چکا؟!

میرے ساتھ ہو رہے اس رویہ کو 69 سال کا عرصہ گزر گیا ہے، اور اب تک کسی کو معلوم نہیں کہ میری غلطی کیا ہے ؟

میری اب آپ سے صرف ایک ہی گزارش ہے کہ اب تک جو ہو چکا سو ہو چکا، آنے والی نسلوں کو مزید سبز باغ نہ دکھائے جائیں اور انہیں گمراہ نہ کیا جائے ۔

آپ کا اپنا
بلوچستان

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply