ڈارون کی ارتقا کی تھیوری غلط ہے
ارتقا کا جو ماڈل یہ سائنسدان پیش کرتے ہیں، اس کے مطابق تو جراثیم کو اس طرح حیوان بننے کے لئے کروڑوں سال کا عرصہ درکار ہے۔ مگر چرچ کی یونیورسٹیوں کی تحقیق میں بارہا یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ کرہ ارض کی عمر محض چھے سے دس ہزار سال ہے۔ ریڈیو کاربن نامی ایک انتہائی غیرمعیاری اور غیر سائنسی تکنیک استعمال کر کے جو لوگ اپنے تئیں یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ دنیا اربوں سال پرانی ہے اور یہاں حیات کروڑوں سال پہلے وجود میں آ گئی تھی، ان کے دعوے پر محض مسکرایا ہی جا سکتا ہے۔ ہم تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ لوگ بھی ارسطو کی ٹکر کے نابغے ہیں اور گوبر سے زندگی پیدا کر رہے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ کاربن ڈیٹنگ کا تجزیہ دس ہزار سال پرانی اشیا تک کے معاملے میں قابل بھروسہ ہوتا ہے، مگر اس سے زیادہ پرانی چیزوں کے بارے میں یہ بے انتہا غلط اعداد و شمار دیتی ہے کیونکہ اس کے لئے کاربن کے تابکار آئسوٹوپ کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ چند ہزار سال کے بعد ختم ہو جاتے ہیں اس لئے لاکھوں کروڑوں سال کی تو بات ہی نہیں کرنی چاہیے۔

خدا کو نا ماننے والے سائنسدان اسی وجہ سے ارتقا کی حمایت کرتے ہیں کہ اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان کو خدا کا وجود ماننا پڑے گا۔ اسی وجہ سے وہ بے بسی کے عالم میں ہٹ دھرمی پر تلے ہوئے ہیں۔ وہ پہلے ایک فیصلہ کرتے ہیں اور اس کے بعد اس کے حق میں تاویلیں گھڑتے ہیں۔ خدا کو نہایت سچے دل سے ماننے والے سائنسدان ارتقا کے نظریے کو تسلیم نہیں کرتے ہیں اور واشگاف الفاظ میں بتاتے ہیں کہ خدا نے ہر جاندار شے کو ویسے ہی تخلیق کیا ہے جیسی کہ وہ اب دکھائی دیتی ہے۔ اس پر گمراہ سائنسدان ان جراثیم کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو ادویات کے خلاف اپنی ہیئت چند ہفتوں یا برسوں میں تبدیل کر لیتے ہیں اور یوں اپنے تئیں ارتقا کو ثابت کر دیتے ہیں۔ اگر ایسی ہی بات ہوتی تو اب جبکہ انسان ہزاروں سال سے سواریاں استعمال کر رہا ہے، تو اس کی ٹانگیں کیوں ختم نہیں ہو گئی ہیں؟ خدا نے بس ان جراثیم کو یہ صلاحیت بخشی ہے کہ وہ بدلے ہوئے حالات کے مطابق اپنی ہیئت تبدیل کرتے رہیں تاکہ زندہ رہ سکیں۔
اگر دو مختلف جنس کے جاندار کراس بریڈنگ سے ایک نئی قسم کی زندگی تشکیل دیں، تو وہ اپنی نسل بڑھانے سے قاصر ہوتی ہے۔ جیسا کہ آپ نے دیکھا ہو گا کہ گھوڑے اور گدھے کے ملاپ سے پیدا ہونے والا خچر اپنی نسل چلانے سے قاصر ہوتا ہے۔ گھوڑے یا گدھے سے زیادہ پہاڑی علاقے خچر کے لئے موزوں ہوتے ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ خچر کی نسل وہاں پرورش نہیں پا سکتی ہے؟ اسی طرح ببر شیر اور ٹائیگر کے ملاپ سے پیدا ہونے والا لائیگر بھی افزائش نسل نہیں کر سکتا ہے۔ کیا یہ ثبوت کافی نہیں ہے کہ ارتقا ایک ناممکن امر رہے؟ یہی معاملہ جینیاتی طور پر تیار کیے گئے بیجوں کا ہے۔ وہ بیج اپنی فصل تو دے جاتے ہیں، مگر اس فصل سے یہ نئے بیج خود بخود قدرتی طریقے سے پیدا نہیں کیے جا سکتے ہیں۔ مصنوعی انسانی کوشش ایک نسل کا ارتقا تو پیدا کر سکتی ہے، مگر وہ نسل آگے چلنے سے قاصر ہوتی ہے۔
نیچرل سیلیکشن کے نظریے پر نگاہ ڈالی جائے تو اس سے ارتقا کسی طرح بھی ثابت نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات تو ظاہر ہے کہ اگر کسی جاندار کے لئے حالات موزوں نہ ہوں تو وہ مر سکتا ہے، مگر کیا کبھِی آپ نے یہ دیکھا ہے کہ آپ کی بھیڑ بکریاں سیلاب میں گھر جائیں تو ان کے پر نکل آئیں اور وہ اڑ جائیں؟ ارتقا کے حامی آدھے سچ میں آدھا جھوٹ ملا کر قوم کو گمراہ کرتے ہیں۔
ارتقا کے حامیوں کی جانب سے کمپیوٹر کا بھی استعمال کیا جانے لگا ہے۔ وہ کمپیوٹر ماڈل بنا کر دعویٰ کرتے ہیں کہ اس طرح جرثومے سے انسان بن گیا ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ کمپیوٹر پروگرامر اپنے عقائد کو اپنے پروگرام میں ڈال کر اپنی مرضی کا نتیجہ نکال سکتا ہے۔ کمپیوٹر تو وہی نتیجہ نکالے گا جو کہ پروگرامر چاہتا ہے۔ اس لئے ان پروگراموں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ صرف غیر جانبدار اور ذی فہم شخص کے کمپیوٹر پروگرام پر بھروسہ کرنا چاہیے مگر بدقسمتی سے ہمیں ابھی تک وقت نہیں ملا کہ یہ پروگرام بنا سکیں۔
کئی سائنسدان ان دلائل سے لاچار ہو کر یہ دعوی بھی کر دیتے ہیں کہ ارتقا خدا کے حکم سے ہی ہو رہا ہے۔ خدا نے ہی سمندر میں پہلا جرثومہ تخلیق کیا اور خدا کے حکم سے ہی وہ مختلف شکلوں کے جانداروں میں تبدیل ہو گیا۔ ہم ان سائنسدانوں کو یہی کہتے ہیں کہ
راہ پر اُن کو لگا لائے تو ہیں باتوں میں
اور کھُل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں
آدھی بات آپ مان گئے ہیں تو باقی بھی مان ہی جائیں گے کہ بھینس پہلے دن سے ہی بھینس ہے اور مچھلی پہلے دن سے ہی مچھلی ہے۔ اب نہیں تو ہزار دو ہزار سال میں آپ بھی ارسطو کی طرح مان جائیں گے کہ آپ کا دعوی غلط ہے۔ مشہور جرمن فلسفی نطشے نے سائنسی ترقی کے زعم میں کہا تھا کہ ”خدا مر چکا ہے“۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ نطشے مر چکا ہے اور اس کا نام کوئی نہیں لیتا، مگر خدا زندہ ہے اور اس کا نام ہر ایک کے لبوں پر جاری و ساری ہے۔ یہی آپ کے نظریہِ ارتقا کے ساتھ بھی ہو گا اور اگلے چند برس میں کوئی اس کا نام بھی نہیں لے گا۔
امید ہے کہ ہمارے دلائل دیکھ کر ہر صاحبِ دل شخص یہ تسلیم کر چکا ہو گا کہ ارتقا کی تھیوری ایک گمراہ کن نظریہ ہے اور منطقی اندازِ فکر رکھنے والے پروفیسروں اور سائنسدانوں کو اس کی ترویج بند کر دینی چاہیے اور طلبہ کو مزید گمراہ کرنے سے باز رہنا چاہیے۔

یہ مضمون پہلی مرتبہ ‘ہم سب’ پر کو شائع ہوا تھا۔




Such an idiot article . The writer is as dumb as it gets when it comes to science . But I am surprised at the editorial team how can you publish such scientific nonsense . This ,forme , undermines credibility of HUM SUb.
عجیب گھامڑ پن ہے اس مضمون میں دیے گئے دلائل اس قدر بودے اور احمقانہ ہیں کہ ذرا بھی عقل اور سائنس کی سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کوئی شخص اتنا احمق نہیں ہو سکتا اس لئے یقیناً یہ ایک طنز ہے ………..چلیے اگر طنز بھی ہے تو انتہائی احمقانہ طنز ہے جسے مذہبی سچ سمجھ کر بغلیں بجاتے پھر رہے ہیں
سر ہر پڑھنے والے کی فہم و دانش کو درست کرنا کب سے لکھنے والوں کی ذمہ داری ٹھہری ہے؟ جو شخص ایسا مطالبہ کرے اس کی فہم پر ہی سوال اٹھ جاتا ہے۔
Most reaction has not come from religiously oriented readers but from those having knowledge and exposure of science. Initially, the writer tried to defend his position by giving counterarguments and relying on religion but then the writer gave in and sought refuge in the word "satire”, without understanding even how satire was written. His minions also came to his defence by pretending that he was misunderstood. I hope that the writer will not repeat the mistake of exposing his again ignorance about science.
یقین نہیں اتا کے عدنان کاکڑ جیسا rationalist ایسا کالم بھی لکھ سکتا ہے
مجھے ابھی تک یہ سمجھ نہیں آئ .یہ ارتقا کے حق میں مضمون ہے یا اس کے خلاف ؟
بھرپور کوشش کے باوجود ویسا آرٹیکل نہیں لکھ پائے جیسا ڈان میں ملالہ کو یہودی اولاد ثابت کرنے کو لکھا گیا تھا اور مومنین و مومنات نے اسے ہزاروں کی تعداد میں شئیر کر لیا تھا۔
بہترین طنز
افسوس تو اس بات کا ہے کہ "ہم سب” جیسے جریدہ نے ان کی اس قسم کی غیرمدلل تحریر کو شائع کیا ہے ..
بہت ہی بیہودہ مضمون ہے۔ جاہلانہ طرزِ فکر کا شاہکار۔ اندرونی خلفشار کا اظہار۔ ایک "ریلکٹنٹ فنڈامینٹلسٹ” یہاں آشکار ہو رہا ہے۔ آپ اسے طنز کا نام دیں یا مزاح کا، اس سے حقیقت چھپا نہیں سکیں گے۔
Satire at its peaks. Great work
aur wysy bhe Bin Manas ka lafzi mana Insan ka byta (Olad) hai na k Insan ka baap…….