فلمی کيريئر ميں ترقی کے ليے جنسی روابط کو جنسی زيادتی نہيں سمجھنا چاہیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہالی وُوڈ کے پروڈيوسر ہاروی وائن اسٹائن کے وکيل نے ايک برطانوی اخبار کو ديے اپنے ايک انٹرويو ميں کہا ہے کہ فلمی کيريئر ميں آگے بڑھنے کے ليے پروڈيوسر کے ساتھ جنسی روابط رکھنے کو جنسی زيادتی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

بين بارفمين نے کہا، ’’اگر کوئی عورت يہ فيصلہ کرتی ہے کہ فلمی کيريئر ميں آگے بڑھنے کے ليے اُسے ہالی وُوڈ کے کسی پروڈيوسر کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا پڑے گا اور پھر وہ ايسا کر لينے کے بعد پورے معاملے سے نالاں ہے، تو يہ جنسی زيادتی کے زُمرے ميں نہيں آتا۔‘‘ انہوں نے يہ بيان ’دا ٹائمز‘ نامی اخبار کو ديا۔ بارفمين کے بقول متعلقہ خاتون يا خواتين نے دانستہ طور پر ايک ايسا فيصلہ کيا، جو گرچہ انہيں پسند نہيں ليکن ايسا انہوں نے ذاتی رضامندی سے اپنے کيرئير ميں کامیابی کے لیے کيا۔

يہ امر اہم ہے کہ ہالی ووڈ کے معروف فلم پروڈيوسر ہاروی وائن اسٹائن پر ايشلی جُوڈ، گيونتھ پيلتھرو، کيٹ بيکنسيل اور سلمہ ہائک سميت ديگر کئی معروف اداکاراؤں نے جنسی نوعيت کے مختلف الزامات لگائے ہيں۔ وائن اسٹائن دو شادياں کر چکے ہيں اور ان کی بچوں کی تعداد پانچ ہے۔ 2018 کی ابتدا سے برطانوی اور امريکی پوليس ان کے خلاف جنسی استحصال کے متعدد الزامات کی تحقيقات کر رہی ہيں ۔ انہیں اس دوران ایک بار گرفتار بھی کیا گیا تاہم بعد ازاں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ ہاروی وائن اسٹائن کسی بھی خاتون کے ساتھ اس کے مرضی کے خلاف جنسی روابط قائم کرنے کی ترديد کرتے ہيں۔

خبر رساں ادارے اے ايف پی کے رپورٹوں کے مطابق وائن اسٹائن کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور جنسی زيادتی کے الزامات کا سامنا ہے۔ انہوں نے اپنے دفاع کے ليے بين بارفمين کی خدمات حاصل کی ہيں، جن کا شمار امريکا کے چوٹی کے فوجداری یا کریمنل وکلاء ميں ہوتا ہے۔

ہاروی وائن اسٹائن کے خلاف پچھلے سال لگائے گئے ايسے الزامات سے عالمی سطح پر جنسی نوعيت کے جرائم کے خلاف اقدامات کو تحريک ملی اور پچھلے دنوں ہونے والی ايوارڈز کی مختلف تقاريب ميں يہ معاملہ منظر عام پر آتا رہا۔ کہيں ہالی ووڈ سے وابستہ خواتين فنکاروں نے احتجاجاً سياہ لباس زيب تن کيا تو کہيں مظاہرے کيے گئے۔

وائن اسٹائن کے وکيل بارفمين کے بقول ان کے موکل کا رويہ فلمی صنعت ميں پہلے سے موجود ايک رجحان کی عکاسی تو ضرور کرتا ہے تاہم وہ ’کاسٹنگ کاؤچ‘ کے موجد نہيں۔ فلمی دنيا کے سب سے معتبر اور بڑے آسکر ايوارڈز کی تقريب میں گزشتہ چار برس سے وائن اسٹائن شريک نہيں ہو سکے۔ ان کے خلاف احتجاج کی علامت کے طور پر مختلف فنکاروں نے ان کا ايک مجسمہ بنايا ہے، جس ميں وہ ’کاسٹنگ کاؤچ‘ پر ايوارڈ پکڑے بيٹھے ہيں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).