نڈر وزیراعظم ، بے خوف اپوزیشن ۔۔۔ انجام کیا ہو گا


\"edit\"خبر ہے کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے آج وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں وزیراعظم ہاؤس کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی خبر میڈیا تک پہنچانے والوں کے نام جاننے کےلئے ہونے والی تحقیقات کے بارے میں بات چیت کی گئی۔ وزیر داخلہ نے گزشتہ جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ اس حوالے سے تحقیقات تین چار روز میں مکمل ہو جائیں گی اور یہ کہ سیرل المیڈا کے علاوہ تین افراد کو بھی ملک سے باہر سفر کی اجازت نہیں ہے۔ جمعہ کو کور کمانڈر کانفرنس میں اس خبر کو قومی سلامتی کے خلاف قرار دیتے ہوئے یہ خبر گھڑنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تاہم اس کے فوری بعد سیرل المیڈا کا نام ای سی ایل سے نکال دیا گیا جبکہ صحافی اور اخبار ڈان اپنے اس موقف پر قائم رہے کہ ان کی خبر درست ہے۔ اس فیصلہ سے حکومت نے یہ تو واضح کر دیا کہ یہ خبر صحافی المیڈا کی من گھڑت نہیں تھی بلکہ اسے تیار کرنے اور المیڈا تک پہنچانے والے کچھ اور لوگ تھے۔ کل آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بارے میں گردش کرنے والی خبروں میں بھی یہی تاثر دیا جا رہا ہے کہ دونوں نے ڈان میں 6 اکتوبر کو شائع ہونے والی خبر کے بارے میں ہی بات کی ہے۔ تاہم قوم یہ توقع کر رہی ہے کہ حکومت اب اس خبر سے آگے بڑھ سکے گی اور دیگر ضروری معاملات پر بھی توجہ دی جا سکے گی۔

ایسے اہم معاملات میں ایک کا ظہور آج اسلام آباد میں ہوا جہاں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارٹی کنونشن نے نواز شریف کو ایک بار پھر اپنا لیڈر چن لیا ہے۔ اس اجلاس کے حوالے سے گزشتہ چند ہفتوں میں یہ چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں کہ وزیراعظم اپنی بیٹی مریم نواز کو پارٹی میں اہم پوزیشن دلوانا چاہتے تھے جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اپنے صاحبزادے حمزہ شہباز کو سیاسی طور پر آگے بڑھانے کے خواہشمند ہیں۔ دونوں کی خواہشات فی الحال تشنہ تکمیل ہیں۔ اسلام آباد سے افواہوں کا جو طوفان اٹھتا ہے، ان کے مطابق ڈان تک خبر پہنچانے میں مریم نواز کی زیر نگرانی کام کرنے والے میڈیا سیل کا نام آتا ہے۔ اس لئے فی الوقت ان کا سیاسی مستقبل گہنا گیا ہے۔ مریم نواز کا نام پاناما پیپرز میں بھی سامنے آیا ہے، جن کے بارے میں عمران خان اور کسی حد تک باقی اپوزیشن جماعتیں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کاغذات میں سامنے آنے والی معلومات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ نواز شریف اور ان کے اہل خاندان ملکی وسائل لوٹ کھسوٹ کر منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک لے گئے تھے۔ یہ معاملہ بدستور گرم ہے اور عمران خان 2 نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کے عزم سے پاکستان بھر سے اپنے کارکنوں کو دارالحکومت میں جمع ہونے کی ہدایات دے چکے ہیں۔ اس لئے ملک کی سیاسی صورتحال بھی مریم نواز کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے اگر اپنی صاحبزادی کو پارٹی قیادت دلوانے کا ارادہ کیا بھی ہوگا تو فی الوقت انہوں نے انتظار کرنے اور خود ہی باگ دوڑ اپنے ہاتھ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آج نواز شریف نے پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے ایسا کوئی تاثر نہیں دیا ہے کہ وہ تحریک انصاف کے دھاوے یا دھرنے اور فوج کی گھرکیوں سے پریشان ہیں یا ان کے اقتدار کو کوئی خطرہ ہے۔ پیالی میں برپا طوفان کو ملکی سیاست پر حاوی کرنے کے خواہشمند بہت سے مبصرین اور تجزیہ نگاروں کے نزدیک تو نواز شریف کے اقتدار کے دن گنے جا چکے۔ انہیں سیاسی میدان میں تحریک انصاف کے مارچ ، عدالتی محاذ پر ملکی جمہوریت کو بادشاہت سمجھنے والے چیف جسٹس اور عملی طور سے ایک حساس خبر کی اشاعت پر فوج کی ناراضگی سے شدید اندیشے لاحق ہیں۔ نواز شریف نے آج تقریر کرتے ہوئے اس قسم کے اندازوں کا اثر زائل کرنے کی بھرپور کوشش کی اور عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام ’’تبدیلی لانے کا دعویٰ کرنے والے‘‘ لیڈر کو تلاش کر رہے ہیں لیکن وہ عام طور سے کسی کنٹینر پر ٹھمکا لگاتے پایا جاتا ہے۔ پھر انہوں نے اپنی حکومت کی کارکردگی کی تفصیل بتاتے ہوئے دعویٰ کہا کہ 2018 کے بعد کے پی کے KPK میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہو گی۔ وہ قومی اسمبلی میں ایک بار پھر اکثریت حاصل کرنے کے یقین کا اظہار کرتے ہی رہتے ہیں۔ ایک طرف عمران خان تخت یا تختہ کا نعرہ لگاتے ہوئے اسلام آباد کی طرف بڑھنے اور حکومت کو جزو معطل بنا دینے کا اعلان کر رہے ہیں تو دوسری طرف وزیراعظم اور ان کے وزیر یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ اسلام آباد کو بند نہیں ہونے دیں گے۔

اس سیاسی چومکھی میں صرف عمران خان بمقابلہ نواز شریف ہی سرگرم عمل نہیں ہیں۔ اتوار کو کراچی میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری نے بھی حکومت کو لانگ مارچ کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کو چار مطالبے ماننے کا مشورہ دیا ہے۔ وگرنہ پیپلز پارٹی بھی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان مطالبوں میں پاناما پیپرز کے حوالے سے تحقیقات کےلئے مسودہ قانون کو منظور کرنے کا مطالبہ سب سے اہم ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے سینیٹ میں اپنی اکثریت کے بل پر یہ مسودہ منظور کر لیا ہے لیکن مسلم لیگ (ن) سے مفاہمت کے بغیر قومی اسمبلی میں اسے منظور نہیں کروایا جا سکتا۔ حکمران جماعت اگرچہ سب کا منصفانہ احتساب کرنے کے اصول پر متفق ہے لیکن اس کے خیال میں اس قانون میں جو قواعد تجویز کئے گئے ہیں، وہ نواز شریف کی ذات تک محدود ہیں جبکہ تحقیقات ہر اس شخص کے خلاف ہونی چاہئے جو بدعنوانی میں ملوث رہا ہے۔ ملک سے باہر دولت لے جانے میں اس کا نام آتا ہو یا اس نے آف شور کمپنیاں قائم کر رکھی ہوں۔ یہ اختلاف اب اس حد تک شدید ہو چکا ہے کہ نومبر کے پہلے ہفتے میں اسلام آباد میں دما دم مست قلندر کرنے کا اعلان سامنے آ چکا ہے۔ عمران خان کا مطالبہ سادہ ہے: وزیراعظم استعفیٰ دیں یا تلاشی دیں۔ اس معاملے میں قباحت صرف یہ ہے کہ اگر نواز شریف استعفیٰ دیں تو بھی اگر انہوں نے کرپشن کی ہے اور ملک کی دولت لوٹی ہے تو انہیں صرف استعفیٰ دے کر علیحدہ ہونے کی صورت میں کیوں کر معاف کیا جا سکتا ہے۔

اس لئے واقفان حال کہتے ہیں کہ عمران خان بھی جانتے ہیں کہ نواز شریف نہ تو استعفیٰ دیں گے اور نہ ہی ٹی او آرز کا قانون منظور ہونے دیں گے۔ اسی لئے تخت یا تختہ قسم کا دھرنا عمران خان کو وزیراعظم بنوانے کےلئے ضروری ہے۔ دور کی کوڑی لانے والے عدالت کی خود مختاری (اگر چیف جسٹس کی جمہوریت اور بادشات والی آبزرویشن سے اس کا ثبوت ملتا ہے) اور فوج کی ناراضگی کو ملا کر عمران خان کی کامیابی کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ جمہوریت میں اندازے اور امیدیں لگانے پر کوئی قدغن عائد نہیں ہو سکتی لیکن اس قسم کے اندازے پانی پر نقش بنانے کے مترادف ہی کہے جا سکتے ہیں۔ پاناما پیپرز کے سوال پر جو اپوزیشن چند ماہ پہلے تک شیر و شکر دکھائی دیتی تھی اب وہ حکومت سے ٹکر لینے سے پہلے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں زیادہ تندہی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ علامہ طاہر القادری اور پیپلز پارٹی کو سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ تحریک انصاف ان سے مشورہ کئے بغیر جلسہ یا احتجاج کی تاریخ کا اعلان کیوں کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آخر ہم بھی قابل عزت پارٹیاں ہیں۔ عمران خان کا جواب ہمیشہ کی طرح معصومانہ اور سادہ ہے کہ یہ کوئی رشتہ کرنے کروانے کا معاملہ تو ہے نہیں، ایک بدعنوان وزیراعظم کو ہٹانے کی بات ہے جو پوری قوم کا مطالبہ ہے۔ اس میں مشورہ کرنے اور پہل کرنے یا نہ کرنے کا سوال کیسے پیدا ہو سکتا ہے۔

عمران خان کا یہی گمان کہ قوم ان کی ایک آواز پر اٹھ کھڑی ہوگی اور ان کی سیاسی طاقت طوفان کی طرح حکومت سمیت بات نہ ماننے والی تمام اپوزیشن پارٹیوں کو بھی بہا لے جائے گی ۔۔۔۔۔۔ انہیں اس مقام پر لے آیا ہے جہاں سے ان کےلئے واپسی کا کوئی باوقار راستہ نہیں بچا ہے۔ انہیں بہرطور اسلام آباد پہنچ کر شہری زندگی معطل کرنے اور حکومت کو عاجز کرنے کے اعلان پر عمل کرنا ہوگا۔ اس صورت میں اگر کسی قسم کی خوں ریزی ہوتی ہے تو عمران خان اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ حکومت کے پاس اس مسئلہ سے نمٹنے کے کئی راستے ہیں لیکن کوئی بھی راستہ مشکلات سے خالی نہیں ہے۔ حکومت ٹی او آرز کے بل کو منظور کرنے پر راضی ہو کر اس مارچ کے غبارے سے ہوا نکال سکتی ہے۔ اس طرح اگرچہ تحریک انصاف کا مقصد تو پورا نہیں ہوگا لیکن اس کے پاس احتجاج موخر کرنے اور منظور شدہ قانون کے مطابق تحقیقات کا انتظار کرنے کے سوا چارہ بھی نہیں ہو گا۔ نواز شریف کی طرف سے 2 نومبر سے پہلے اس قسم کا اعلان موجودہ سیاسی بساط پر اپوزیشن کو شہ مات دینے سے کم نہیں ہو گا۔ عدالتی کارروائی کے دوران نواز شریف اپنی بے گناہی ثابت کرنے کےلئے حسب ضرورت وقت استعمال کرسکتے ہیں۔ انہیں اپوزیشن کے تجویز کردہ ٹی او آرز سے اختلاف کے باوجود کسی عدالتی کمیشن سے کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہئے۔ وہاں بہرحال فیصلہ سڑکوں اور گلیوں کی بجائے عدالت کے کمرہ میں ہوگا اور نعرہ اور دشنام طرازی کی بجائے دلیل اور شواہد کی روشنی میں رائے دی جائے گی۔

نواز شریف کے طرز سیاست کو جاننے والے سمجھتے ہیں کہ وہ اس قسم کی سیاسی رعایت نہیں دیں گے۔ اس طرح ان کی اتھارٹی چیلنج ہو گی اور اپوزیشن اسے حکومت کی کمزوری سمجھے گی۔ آئندہ انتخابات میں اس پسپائی کو مسلم لیگ (ن) کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ اگرچہ عمران خان کی الٹی میٹم قسم کی سیاست جمہوری نظام کی روح کے برعکس ہے لیکن کوئی بھی جمہوری حکومت تصادم کی صورتحال سے بچنے کی کوشش کرتی ہے۔ اسلام آباد میں تحریک انصاف کے حامیوں اور پولیس کے درمیان تصادم سے بچنے کا دوسرا طریقہ عمران خان سمیت تحریک انصاف کی قیادت کی گرفتاریوں کے ذریعے بحران کو ٹالنا ہو سکتا ہے۔ جمہوری حکومت سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ کسی سیاسی پارٹی کے احتجاج کو روکنے کےلئے اس قسم کا انتہائی اقدام کرے گی۔ اس صورت میں مسلم لیگ (ن) کے طرز حکومت کے بارے میں متعدد سوالات کھڑے ہوں گے جو آئندہ انتخابات میں اس کے خلاف استعمال کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ دیگر اپوزیشن پارٹیاں اگرچہ اس وقت تحریک انصاف کے خلاف بات کر رہی ہیں لیکن اس کی قیادت کے خلاف سرکاری ایکشن کی صورت میں جو غم و غصہ پیدا ہو گا ۔۔۔۔۔۔ دیگر اپوزیشن پارٹیاں اس سے فائدہ اٹھائیں گی اور حکومت کو بہرحال چین نصیب نہیں ہوگا۔ اس بحران سے نمٹنے کا تیسرا طریقہ یہ ہے کہ 2014 کی طرح حکومت صبر سے تحریک انصاف کو اسلام آباد میں اودھم مچانے دے تاآنکہ اس کے کارکن تھک کر خود ہی گھروں کو واپس جانے لگیں۔ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے لب و لہجہ سے یہ اندازہ کیا جا رہا ہے کہ وہ ماضی کی طرح واپس جانے کی بجائے کوئی ایسا ’’کھڑاک‘‘ کرنا چاہیں گے جس میں انہیں فائدہ ہو یا نہ ہو حکومت کو گھر جانا پڑے۔

اس دوران یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جن ’’کشمیر دوست‘‘ عناصر کی خبر باہر آنے پر حکومت ڈان سے اور فوج حکومت سے ناراض ہے ۔۔۔۔۔۔ وہ بھی عمران خان کے احتجاج کا حصہ بن کر نواز شریف کےلئے مشکلات پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ انہیں شکوہ ہے کہ وزیراعظم فوج کو ان کے خلاف کارروائی پر اکسا رہے ہیں حالانکہ وہ تو کشمیر کی آزادی کےلئے سر سے کفن باندھے ہوئے ہیں۔ ایسی کسی صورت میں فوج کا رویہ فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔ کیا وہ واقعی عالمی رائے اور ملکی ضرورتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک بار پھر نواز شریف کو شکار کرنے یا کروانے کی اجازت دے گی۔ اس تناظر میں اسلام آباد کی طرف تحریک انصاف کا مارچ ایک فیصلہ کن باب کا اضافہ کر سکتا ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali