معیشت: سناٹے سے ڈھٹائی تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موجودہ حکومت کے معاشی منیجرز اور وزراء ان دنوں معیشت میں بہتری کے غباروں میں ہوا پھونکتے پھر رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں اس بات کا زور و شور سے ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے کہ معیشت مستحکم ہو چکی ہے اور بس اڑان بھرنے کو ہے۔ خوبصور ت اور قیمتی سوٹوں میں ملبوس حکومتی معاشی ٹیم دلفریب اعداد و شمار میں ملفوف اعلانات کے ذریعے ایک ایسے سنہرے دور کے سندیسے دیتے پھر رہے ہیں کہ جب گلی محلوں میں سونا اچھلے گا اور اشرفیوں اور جواہر و لال کی برسات ہو گی۔

حکومتی وزراء بھی بیچارے کیا کریں؟ کیونکہ انہوں نے اسی کا زور و شور سے واویلا کرنا ہے جو بریفنگ میں انہیں بتایا جاتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے وزارت خزانہ کے منصب جلیلہ پر فائز وزیر سے لے کر اس وزارت کے اعلیٰ و ادنیٰ بابو ایسے اعداد و شمار میں مشاق ہو چکے ہیں کہ جن سے معیشت کی ایک خوش کن اور دلنشیں تصویر پیش کر کے اس درماندہ اور بد حال قوم کی ڈھارس باندھی جائے جو مہنگائی، قوت خرید میں کمی، بیروزگاری جیسی بلاؤں سے لڑ لڑ کر نڈھال ہو چکی ہو۔

معیشت میں بہتری کے دلفریب اعداد و شمار اس چراغ کی مانند ہوتے ہیں جس کے تلے اندھیرا ہی ہوتا ہے کیونکہ عوام کی زندگیوں میں ایک ایسا اندھیرا چھایا ہوتا ہے کہ جو چھٹنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ وزارت خزانہ کے سرکاری بابو اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے مستعار لیے گئے ان کے سر پرست اعلیٰ ہر دور میں اس کمال خوبصورتی سے اپنے باس کے ساتھ ساتھ قوم کو بھی بے وقوف بناتے ہیں کہ ان کی اس مہارت پر آدمی عش عش کر اٹھے۔

پرویز مشرف کا دور ہو یا آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کا، یا پھر آج عمران خان کا ہر دور میں معاشی اعداد و شمار کا ایک خوبصورت شاہکار تراش کر قوم کو اس سے دل بہلانے کی تلقین کی جاتی ہے۔ یہاں پرویز مشرف کے دور کے ایک واقعے کا تذکرہ بر محل ہے۔ سن 2002 ء کے انتخابات سے پہلے جب پرویز مشرف چیف ایگزیکٹو کا خود ساختہ عہد ہ سنبھال کر ملک میں سیاہ و سفید کے مالک بنے ہوئے تھے تو ان کی کابینہ کے ایک وزیر نے ان سے عرض کیا کہ اس وقت ملک میں اسمبلیاں وجود نہیں رکھتیں اس لیے لوگوں کے مسائل پر بحث کے لیے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ایک سیشن اس کے لیے مختص ہونا چاہیے جس میں ان کے مسائل کے حل کے لیے قابل عمل تجاویز دی جا سکیں۔

پہلے تو اس تجویز کی کوئی شنوائی نہ ہوئی لیکن وزیر صاحب کے اصرار پر مشرف صاحب وزیر خزانہ شوکت عزیز کو کابینہ کو پریزینٹیشن دینے کے لیے کہا جس میں مہنگائی، اشیائے خوردو نوش کی فراہمی اور ان جیسے دوسرے موضوعات شامل ہوں۔ وزارت خزانہ کے سرکاری بابوؤں نے ایک رسمی اور روایتی سیپریزینٹیشن بنا کر شوکت عزیز کے ہاتھ میں تھما دی جن میں اعداد و شمار کے ساتھ یہ ثابت کیا گیا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح کم ہوئی ہے۔

پرویز مشرف نے ان وزیر سے کہا کہ اب تو آپ مطمئن ہیں کہ مہنگائی کی شرح ہمارے دور میں کم ہوئی ہے۔ ان وزیر صاحب نے کہا، سر! ان اعداد و شمار کی حقیقت تو ان کے تیار کرنے والوں کو ہی پتا ہوگا۔ میں تو اپنا کچن خود چلاتا ہوں۔ مجھے پتا ہے کہ مہنگائی کس طرح بڑھی ہے۔ ان وزیر صاحب نے آٹے کی قیمت کا بتایا کہ یہ پہلے چھ سات روپے کلو تھا۔ اب دس روپے کلو مل رہا ہے۔ اسی طرح گوشت کی قیمت کے بارے میں بتایا کہ نواز شریف دور میں چھوٹا گوشت ایک سو بیس روپے کلو تھا اب یہ ڈھائی سو روپے کلو بک رہا ہے۔

اسی طرح دوسری اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے بارے میں بھی گوش گزار کیا کہ یہ کس برق رفتاری سے اوپر جا رہی ہیں۔ ان وزیر صاحب نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کی بھی نشاندہی کی۔ کافی بحث و تمحیص کے بعد پرویز مشرف نے کہا کہ میرے دور میں مہنگائی زیادہ نہیں بڑھی جب کہ ان وزیر صاحب کا اصرار تھا کہ مہنگائی بہت تیزی سے اوپر گئی ہے۔ ان وزیر صاحب نے اپنے باس سے کہا کہ اگر وزیر خزانہ شوکت عزیز اس موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ مہنگائی کی شرح میں اضافہ نہیں ہوا ہے تو وہ ان کے ساتھ شہرکے کسی چوراہے یا بازار میں چلیں اور بر سر عام اعلان کریں کہ اس دور میں مہنگائی نہیں ہوئی۔

اب شوکت عزیز نے جا کر بازار میں اعلان کیا یا نہیں اس پر راوی خاموش ہے اور شنید یہی ہے کہ وہ ایسے کسی تکلف میں نہیں پڑے ہوں گے کیونکہ سر بازار ایسا دعویٰ کرنا ایسی بلاؤ ں کو دعوت دے سکتا تھا جس میں عزت سادات کھونے کا پورا پورا احتما ل تھا۔ پرویز مشرف کے دور کے بعد جمہوری دور میں آصف زرداری کے وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم نے بھی شرح ترقی میں اضافے اور مہنگائی میں کمی کی لڈیاں ڈالیں لیکن جب وہ روانہ ہوئے تو بد ترین گورننس کا ورثہ چھوڑ کر گئے جس نے پی پی پی کو دیہی سندھ کے علاوہ ہر جگہ ناکام و نامراد بنایا۔

نواز شریف کے ڈالر فیم وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی وہی کچھ کیا جو ان کے پیشرو کرتے رہے۔ معاشی انقلاب کے بلند بانگ دعوے کرنے والے اسحاق ڈار نے جب ملک سے راہ فرار اختیار کی تو معیشت قرضوں اور بیرونی کھاتوں کی بد ترین صورت میں اس کو ہ گراں کے نیچے دبی ہوئی تھی کہ اس پر تقریباً نزع کا عالم طاری تھا۔ آج کی معاشی ٹیم بھی جب اقتصادیات کی ایک سنہری تصویر پینٹ کر کے قوم کے سامنے پیش کر رہی ہے تو قوم کی آہو ں اور سسکیوں کو ان میں سے سننے والا شاید ایک بھی نہیں کہ جو مہنگائی اور بیروزگار ی کے پہاڑ تلے دب کر ان کے حلق سے بر آمد ہو رہی ہیں۔

موڈیز کی ریٹنگ پر معاشی ٹیم کی اچھل کود تھمنے میں ہی نہیں آرہی اور حکومتی وزیر اس بات پر شادیانے بجاتے پھر رہے ہیں کہ معیشت اپنے پاؤں پر دوبارہ کھڑی ہو گئی ہے۔ ایک عام آدمی کی معیشت کس بدحالی کا شکار ہے اس کے بارے میں وزارت خزانہ کے بابوؤں او ر ان کے سرپرست کو ذرا برابر بھی فکر نہیں۔ عجیب دور آن نکلا ہے۔ شاعر نے ایوب خان کے دور میں آٹے کی قیمت میں اضافے پر کہا تھا ”بیس روپے من آٹا، اس پر بھی ہے سناٹا“۔ آج آٹا ساٹھ روپے فی کلو سے زائد قیمت پر بک رہا ہے اور حکومتی وزراء نے سر آسمان پر اٹھایا ہوا کہ ہے معیشت سدھر گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •