الیکشن کمیشن اور تحریک انصاف


\"edit\"

بعض معاملات میں حیرت انگیز اتفاقات شبہات کو جنم دیتے ہیں اور سرکاری نظام اور خود مختار اداروں کی غیر جانبداری کے بارے میں سوالات سامنے آتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان اور سینئر لیڈر جہانگیر ترین کو قومی اسمبلی سے نااہلی کے ریفرنس کی سماعت کے لئے 2 نومبرکو صبح 10بجے ذاتی طور پر یا وکیل کے ذریعے پیش ہونے کا نوٹس بھیجا ہے۔ اسی روز عمران خان نے اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے اور تمام اہم سرکاری اداروں کے کام کو معطل کروانے کے لئے دھرنا دینے اور سڑکیں روکنے کا اعلان کیا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ عمران خان کا یہ فیصلہ کس حد تک درست ہے اور وہ اس میں کامیاب ہوسکتے ہیں یا نہیں، الیکشن کمیشن کی طرف سے انہیں اور جہانگیر ترین کو اسی روز طلب کرنے کا حکم جانبداری کا تاثر دیتا ہے۔

عمران خان کی جد و جہد ملک میں بد عنوانی کے خلاف ہے۔ وہ ملک کے وزیر اعظم کو لٹیرا قرار دیتے ہوئے ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے ہیں اور ان کی دو نومبر کی ریلی اور دھرنا بھی اسی احتجاج کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ انہیں یہ بھی شکایت ہے کہ ملک کے تمام خود مختار ادارے جن میں الیکشن کمیشن کے علاوہ نیب ، ایف آئی اے اور ایف بی آر وغیرہ شامل ہیں، دیانتداری سے اپنے فرائض ادا کرنے کی بجائے حکومت کی سہولت اور صوابدید کے مطابق کام کرتے ہیں۔ اسی لئے ملک میں کبھی بدعنوان حکمرانوں کے خلاف کارروائی دیکھنے میں نہیں آتی اور وہ الزامات عائد ہونے کے باوجود قانون کے شکنجے سے محفوظ رہتے ہیں۔

اس حوالے سے عمران خان ترقی یافتہ ملکوں کے جمہوری نظام کا حوالہ دیتے ہیں اور ان اقدار کو یہاں نافذ دیکھنا چاہتے ہیں جن کا مظاہرہ برطانیہ یا دیگر مغربی جمہوری ملکوں میں دیکھنے میں آتا ہے۔ تاہم وہاں پر سیاسی لیڈر باہمی لڑائی میں ریاست کے اداروں کوبدنام اور کمزور کرنے کی کوشش نہیں کرتے اور نہ ہی پولیس شہری زندگی کو معطل کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ کوئی سیاسی جماعت خواہ وہ ملک میں حکمران ہی کیوں نہ ہو ، پولیس کے مقرر کردہ ضوابط کی خلاف ورزی کرنے کا حوصلہ نہیں کرتی۔ اس کے برعکس تحریک انصاف اور عمران خان پولیس کو حکومت کا حصہ قرار دے کر اس کی اتھارٹی اور احکامات ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ اسلام آباد بند کرنے کی مہم میں بھی وہ پولیس سے براہ راست تصادم کی بات کررہے ہیں۔ اس طرح سیاسی مطالبات کو انتظامی معاملات کے ساتھ ملانے کی افسوسناک روایت کو مستحکم کیا جارہا ہے، جو مسلمہ جمہوری اقدار سے متصادم رویہ ہے۔

اسی طرح وہ دیگر سرکاری اداروں اور ان کے سربراہوں کے بارے میں بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے ۔ اس کے ارکان کی تقرری پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی رائے سے کی جاتی ہے۔ تاہم تحریک انصاف چونکہ ابھی تک اس عمل کا حصہ نہیں رہی ہے ، اس لئے عمران خان الیکشن کمیشن کے ارکان کو سیاست دانوں کے مہرے قرار دیتے ہیں،جو ان پارٹیوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے کام کرتے ہیں ۔ اس طرح بقول عمران خان تحریک انصاف کی شکایتوں پر انصاف نہیں کیا جاتا۔ جانبداری کا مظاہرہ قومی اسمبلی میں بھی دیکھنے میں آیا تھا۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے نواز شریف اور ان کے اہل خاندان کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجنے سے انکار کردیا تھا جبکہ ویسے ہی الزامات کی بنیاد پر مسلم لیگ (ن) کے بعض ارکان کی طرف سے عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف ریفرنس حتمی فیصلہ کے لئے الیکشن کمیشن کو بھیج دئے تھے۔

الیکشن کمیشن کے پاس ایک ماہ قبل بھیجے گئے ان ریفرنسز پر فیصلہ کرنے کے لئے تین ماہ کی مدت تھی لیکن اس نے عین اس روز عمران خان اور جہانگیر ترین کو طلب کرنے کا حکم دیا ہے جس روز تحریک انصاف اسلام آباد میں سیاسی قوت کا مظاہرہ کرے گی۔ یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ یہ فیصلہ بد نیتی پر مشتمل ہے لیکن بعض اتفاقات اپوزیشن کو ان اقدامت کو جانبداری قرار دینے کا موقع دیتے ہیں۔ اس لئے غیر جانبدار اداروں کو اس صورت حال سے بچنا چاہئے۔ الیکشن کمیشن کو ان حساسیات سے باخبر ہونا چاہئے تھا۔ پاکستان میں کون نہیں جانتا کہ 2 نومبر سیاسی لحاظ سے تحریک انصاف اور عمران خان کے لئے اہم دن ہو گا ۔ وہ اس روز الیکشن کمیشن میں حاضر ہونے یا وکیل کے ذریعے اپنے معاملہ کی پیروی کرنے کی بجائے جلسہ میں الیکشن کمیشن سمیت سرکاری اداروں کو مطعون کررہے ہوں گے۔ اس طرح الیکشن کمیشن نے اسی تاریخ کو عمران خان اور جہانگیر ترین کو بلوا کر اپنی خودمختاری اور غیر جانبداری کے بارے میں سنگین سوالات اٹھانے کا موقع فراہم کیا ہے۔ یہ صورت حال افسوسناک ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali