خُدو اور خُدو کا گاؤں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خُدو 67 سالہ ہینڈسم ایک گاؤں کا ہونہار لڑکا جو ہر ایک کے کام آتا، ہوشیار، بولنے میں اچھے اچھوں کو لاجواب کردے، خُدو کے ابا کی خواہش تھی کے خُدو محنت کرے اور اپنے بل بُوتے پر گاؤں کا مُکیہ ٰ بنے اور گاؤں میں تبدیلی لے آئے حالانکہ کے سب کچھ خُدو کے ابا کے ہاتھ میں تھا کی کون کتنے وقت کے لیے مُکیہٰ رہیگا، لیکن ابا نہیں چاہتے تھے کی بیٹھے بیٹھائے خُدو کو سب کچھ مل جائے۔

خُدو کی کڑی محنت، جس میں لوگوں کو اکَٹھا کرنا، لفظوں کے معیار پر تبدیلی کے دعوے کرنا، پرانے مُکیہٰ کو سبق سیکھانا، گاؤں کے لوگوں کو خوشحال کرنا اور بھی دیگر خواب خُدو نے گاؤن والوں کو دِیکھائے، سب خوابوں کا دورانیہ 10 سال تھا تاہم 10 سال بعد ہینڈسم خُدو کو گاؤں کا مُکیہٰ چُنا گیا۔

مُکیہٰ بنتے ہی خُدو ا پنے لفظوں کا معیار رکھتے ہوئے سارے پچھلے مُکیاؤں کو قید کرتا گیا۔ ہر اُس مُکیہٰ کو جس جس نے گاؤں میں جرگے کرو ا کر ابا کو خوش کیا تھا۔ خُدو کے یہ سب کارنامے دیکھ کر گاؤں والے بہت خوش ہوئے ہر جگہ خُدو کے چرچے ہونے لگے۔ خُدو کے چرچوں میں پرانے مُکیہٰ کے چاہنے والے ہرگز خوش نہ تھے چنانچہ سب نے خُدو کو ابا کا لاڈلا کہنا شروع کردیا۔

لیکن کیسے بھی کرکے اپنی محنت کے بَل بُوتے پر خُدو نے چار مہینے تک جَرگے جمائے رکھے۔ خُدو کے گاؤں میں خوشحالی تو نہیں آئی بلکہ غربت گھر گھر کی زینت بن گئی اور گاؤں کا خزانہ تو پہلے ہی خالی تھا تو اس کو بھرنے کے لئے خُدو نے کاروباری لوگوں سے رابطہ کیا جہاں سے خُدو کو اپنے جیسے ہوشیار لوگوں نے سراہا اور مشورہ دیا کہ ہر طرف سے کمائی کا ذریعہ نکالے اس طرح سے ابا بھی خوش ہوجائیں گے اور خزانہ بھی بھر جائے گا۔ خُدو نے نہ دیر کی سنی نہ خیر کی لگا دیے ہر جگہ سے پہرے، گاؤں کا دروازہ پھلانگ کر آنے والے سے بھی پیسے لیے تو جانے والے سے بھی۔

ہر وہ چیز جو گاؤں میں بنتی تھی اس کی قیمت بڑھادی۔ گاؤں میں جس کے پاس جتنا تھا اس کا دو ٹکا گاؤں کے خزانے میں جمع کرانے کا حکم کیا اور اس طرح سے گاؤں کا خزانہ بھرنا شروع ہوا۔ گھر گھر استعمال ہونے والی اشیاء کی بھی قیمتوں میں اضافہ کیا تا کہ جلدی خزانہ بھر جائے اور خوشحالی آجائے، اس طرح سے خُدو تو خوش تھا لیکن گاؤں کے لوگوں کو دھیرے دھیرے پرانے مُکیہٰ یاد آنے لگے اور لے دے کے خُدو کے ابا کو قصور وار کہتے رہے۔

جیسے تیسے کرکے خزانہ بھرنے لگا، خزانہ بھرنے پر خُدو کے ابا بہت خوش تھے چنانچہ خُدو کے ابا کو خُدو سے اور بھی بہت ساری امیدیں تھی کے ایک نہ ایک دن ہینڈسم خُدو اپنے پڑوسی دشمن شہر کے قبضے سے اپنے دوسرے گاؤں کو آزادی دلوائیگا۔ خُدو نے اپنے لوگوں کو دشمن شہر سے آزادی اور اس کے قبضہ چھڑانے کی ٹھان لی۔ جس کے بعد خُدو نے بڑے بڑے شہروں میں جا کر اپنے برابر کے گاؤں کے لیے آوازیں اٹھائیں۔ خُدو بولنے کا تو ہوشیار تھا اور ایسا ہوشیار کے کسی اور کو بولنے کا موقعہ تک نہ دے۔

سب اچھا چل رہا تھا کے اچانک ہینڈسم خُدو کے ابا کو ہٹانے کی بات ابا کے والد یعنی خُدو کے داد ا نے چھیڑدی، پھر خُدو نے ہر طرف سے دھیان چھڑا کر ابا بچانے کی مہم شروع کردی، دھیرے دھیرے ابا بچانے کی مہم کامیاب ہوگئی لیکن کچھ دن قبل خبر آئی کے ہینڈسم خُدو کے چاچا جو کہ کسی بڑے شہر کے ہسپتال میں بیمار پڑے تھے ان کو ابا کے والد یعنی خُدو کے داد ا جی نے غدار کہہ کر پھانسی کی سزا سنائی یہ بتا کر کہ جب چچا گاؤں کے مُکیہٰ تھے تب انھونے گاؤں کے لوگوں کے حق چھینے اور آواز اٹھانے والوں کو خاموش کروا دیا تھا۔

یہ ساری صورت حال دیکھنے کے بعد خُدو اور ابا کے چہرے پر مسکینی چھا گئی۔ خُدو نے نہ اِدھر کی سنی نہ اُدھر کی اور چچا بچاؤ مہم کا آغاز کیا اور اِسی طرح خُدو کبھی چاچا یا ابا بچاؤ مہم تو کبھی گاؤں کی ترقی میں مصروف رہا۔ لیکن گاؤں والوں کے دکھ درد کی آواز خُدو کے کان تک نہ پہنچی چنانچہ خُدو اب چاچا بچاؤ مہم کا آغاز کرنے جا رہا ہے اور برابر میں اپنا گاؤں جو کی پڑوسی شہر کے قبضے میں تھا وہ وہیں آج بھی 137 دن گزرنے کے بعد بھی کرفیو میں ہے اور لوگ بھوکے مر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ خُدو کے گاؤں میں ہر طرف بھوک ہے، روزگار نہیں ہے، مہنگائی اتنی ہے کی جو چیز 50 پیسے کی ملتی تھی آج وہی چیز 4 روپے کی ہے اور جو گدھا 80 روپے میں گھومتا تھا وہ اب 116 روپے پر بھی ملاوٹی خوراک پر چل رہا ہے لیکن کوئی نہ ابا تو خوش ہیں، سہہ لینگے تھوڑا سا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
وقار میمن کی دیگر تحریریں