امی کا جنازہ اور بدعت
رحمان اور غفور گھر کے چوکیداروں نے سارے انتظامات سنبھال لئے تھے۔ محلے کی مسجد سے سپارے لاکر رکھ دیے گئے اور ڈرائنگ روم میں سامان ایک طرف کر کے دانے رکھ دیے گئے تھے جو ایسے موقع پر ہوتا ہے کہ کچھ لوگ سپارے نہیں پڑھتے ہیں بلکہ دانوں پر ورد کرتے ہیں، دُعا پڑھتے ہیں۔
ان پانچوں خواتین کا چہرہ میں نے نہیں دیکھا مگر مجھے ان پر غصہ بہت آیا تھا ان میں جوان سی ایک لڑکی تھی اس نے بتایاکہ وہ اخبار میں موت کا اعلان دیکھ کر آئے ہیں اور اب ہم لوگوں کو اور خاص طور پر امی کو قبر کے عذاب سے بچائیں گے جو رشتہ داروں کی حماقت اور بدعت کی وجہ سے متوفی کو ہوتا ہے۔
اس نے ایک تقریر کرڈالی کہ موت برحق ہے اور ہر ایک نے واپس جانا ہے اور ہمارے مذہب میں ہے کہ موت کا صدمہ نہیں اٹھانا چاہیے موت پر غم نہیں کرنا چاہیے اور ساتھ ہی اس نے کہا تھا کہ کسی کی موت پر سپارے پڑھنا، دانوں پر گنتی کرکے ورد کرنا، دُعا پڑھنا، سوئم منانا، تیرہویں اور چالیسواں کرنا بدعت ہے حرام ہے۔ یہ فرض ہے کہ لاش کو جلد ازجلد دفن کردیا جائے اگر کسی وجہ سے نہیں کیا گیا تو دفنا نے کے بعد سوئم منانے سے مرنے والے کے گناہوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے، دنیا میں ہی کچھ ایسا ہوتا ہے جس سے خاندان اُجڑ جاتے ہیں۔ جوان بچے مرجاتے ہیں، اللہ کی نافرمانی کیا کیا گل کھلاتی ہے، یہ صرف سمجھنے والے ہی سمجھ سکتے ہیں۔
میری سمجھ میں نہیں آیا کہ میں کیا کہوں میں نے ان سب سے درخواست کی کہ وہ مہربانی کرکے میرا گھر خالی کردیں۔ مجھے گھر میں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے یہ میرا مسئلہ ہے۔ میں ناراض نہیں ہوتا چاہتی تھی اور نہ ہی غصہ کرنا چاہتی تھی، یہ وقت غصہ کرنے کا نہیں تھا، میری ماں کی لاش مردہ خانے میں تھی، میرے گھر والے ہوائی جہازوں میں تھے، میرا دل خالی تھا، میں غصہ کیسے کرتی، مجھے رونا ضرور آگیا ان لوگوں کی باتیں سن کر۔ انہیں احساس تک نہیں تھا کہ ان کی باتوں سے مجھے کتنی تکلیف ہوئی تھی۔ وہ لوگ چلے گئے اور ان کے جانے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ سارے سپارے اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔
میں نے رحمان کو اردو بازار بھیج کر سپاروں کے دو سیٹ منگائے تھے رحمان نے ہی مجھے بتایا کہ یہ خواتین سفید رنگ کی ٹویوٹا کیری میں آئی تھیں اور ان کے ساتھ ایک وین بھی تھی جو گھر کے سامنے کھڑی رہی تھی جس میں پانچ لمبی داڑھی والے افراد بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ رحمان نے ایک کے پاس پستول بھی دیکھا تھا۔ شام تک میں یہ واقعہ تقریباً بھول گئی۔ رات گئے سلیم، دونوں بھائی اور دونوں بہنیں پہنچ گئی تھیں ہم سب گلے لگ لگ کر روتے رہے۔ امی کو یاد کرتے رہے ان کی باتیں ان کے طریقے ان کا غصہ، ان کا ہنسنا سب کچھ یاد آتا رہا۔ زندگی کتنی بے رحم ہوتی ہے یہاں تک کہ ماں بھی مرجاتی ہے، اوپر والے کے بھید اوپر والا ہی جانے۔
دوسرے دن میت آغاخان اسپتال سے گھر آئی۔
آنسوؤں کے سیلاب میں امی کو قبرستان بھیج دیا گیا۔ شام کو راتوں کے جاگے ہوئے ہم سب باہر ورانڈے میں ہی بیٹھے ہوئے تھے کہ وہ پانچوں خواتین یکا یک گھر میں داخل ہوگئیں اور باآواز بلند انہوں نے میرے بھائیوں سے کہا کہ اب آپ لوگوں کو سوئم، تیرہویں اور چالیسواں کی بدعت کرنے کی ضرورت نہیں ہے یہ سب کچھ حرام ہے اللہ کو پسند نہیں، یہ تو ہندوؤں کی رسومات ہیں، بدعت ہیں جو ہم میں آگئی ہیں اور اگر آپ لوگوں نے یہ کیا تو نہ صرف یہ کہ آپ کی والدہ کو گناہ ہوگا جس کی معافی مانگنے کی اب ان کی حیثیت نہیں ہے۔
آپ لوگوں کو تو گناہ کے ساتھ بڑی سزا بھی ہوسکتی ہے اللہ کے ہاتھ میں کیا کیا ہے اس کا اندازہ نہیں ہے آپ کو، وہ رحیم ہے، رحم کرتا ہے مگر اس کا قہر ایسا ہے کہ آپ سے برداشت نہیں ہوگا۔ ہم اللہ کے لئے اللہ کی طرف سے آپ لوگوں کو سمجھارہے ہیں اگر آپ مانیں گے تو آپ کا ہی بھلا ہے اور نہیں مانیں گے تو آپ کا ہی نقصان ہے۔
میرے بھائی نے کہا کہ یہ اُن کا مسئلہ نہیں ہے کہ ہم کیا کریں اور کیا نہ کریں سپارے پڑھیں، کہ ورد کریں، سوئم منائیں کہ چالیسواں کریں اور مناسب یہ ہے کہ وہ لوگ فوراً ہمارا گھر چھوڑ جائیں۔ ہمیں مسلمانی کی سند آپ سے نہیں چاہیے، ہم کیسے خدا کی اطاعت کرتے ہیں اور کیسے عبادت کرتے یہں، یہ سب کچھ ہمارا مسئلہ ہے۔ آپ لوگ بغیر کسی دعوت کے ہمارے گھر میں گھس آئے ہیں اور ہمیں اپنی طرح کا اسلام پڑھانے کی کوشش کررہے ہیں جو کہ بالکل ہی قابل قبول نہیں ہے۔
یہ آپ کا گھر ہے اور آپ کے کہنے پر ہم چھوڑ بھی جائیں گے مگر میں آپ لوگوں کو بتا دوں ko پچھلے مہینے فیز چار کے ایک گھر والوں نے ہماری بات نہیں مانی اور وہ ساری بدعتیں کی تھیں جو منع ہیں اس کا انجام یہ ہوا کہ وہاں دو بھائیوں کی ایک ساتھ موت ہوگئی آپ لوگ بھی باہر سے آئے ہیں آپ کو بھی واپس جانا ہے۔ اس طرح کی بدعت کے بعد آپ لوگوں کا بھی جہاز پھٹ سکتا ہے راستے میں حادثہ ہوسکتا ہے۔ جل جلالہ کب کیا کردیں کس کو پتہ ہے مگر آپ لوگوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ اللہ نے شرک اور بدعت کو نا پسند کیا ہے۔ آخر میں یہ بھی کہ آپ اللہ کا نام لیں خدا نہیں کہیں کہ یہ بھی غیر اسلامی ہے۔ ہمارا کام سمجھانا ہے جو ہم نے اللہ کے حکم سے کردیا ہے، اب اللہ ہی آپ سے سمجھے گا۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ آپ تک ہم نے اللہ کی بات اورحکم پہنچایا نہیں ہے۔ ”یہ کہہ کر وہ لوگ چلے گئے۔
سلیم کو بہت غصہ آیا یہ کیا بکواس ہے یہ کون لوگ ہیں یہ جو ہمیں آکر اسلام پڑھا رہے ہیں ہماری مرضی ہے ہم بدعت کریں کہ نہ کریں۔ غصہ تو سب کو ہی آیا تھا مگر اظہار سلیم نے کیا بلکہ سلیم نے فوراً ہی پولیس اسٹیشن فون کیا اور تھانیدار کو بتایا کہ اس طرح سے گھر میں عورتیں آئیں جن کے ساتھ ایک وین میں لوگ بھی تھے اور ان کے پاس اسلحہ بھی تھا۔
ہم سب حیران ہوگئے جب سلیم نے بتایا کہ تھانیدار کو اس بات کا علم تھا، نہ صرف یہ کہ اسے علم تھا بلکہ اس نے بھی سمجھایا کہ وہ عورتیں صحیح اسلام پھیلارہی ہیں اور اسلامی ملک میں صحیح اسلام پھیلانے سے کیسے روکا جاسکتا ہے۔ پاکستان اسلامی ملک ہے اور اس کے شہریوں کا فرض ہے کہ وہ اسلام کے پیغام کو سمجھیں۔ یہ تو نیک کام کرنے والی، راہ راست پر چلنے والی، اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی دینے والی پارسا خواتین ہیں جو سوسائٹی میں پھیلی ہوئی بدعت کو ختم کرنا چاہتی ہیں اوراس کام کے لئے شہید بھی ہونے کو تیار ہیں۔ پھر یہ سوال بھی کیا کہ کیا آپ لوگ نہیں چاہتے ہیں کہ اس اسلامی ملک میں صحیح اسلام پھیلے۔ لوگ بدعت نہ کریں، شرک نہ کریں، موت و پیدائش پر اللہ کے قانون کے مطابق کام کریں۔ یہ عورتیں اور یہ لوگ تو اچھا کام کررہے ہیں اچھے کام سے انہیں کیسے روکا جاسکتا ہے۔
یہ بات بڑی تشویش کی تھی کسی کے سمجھ میں کچھ نہیں آیا میرے دونوں بھائیوں کا خیال تھا کہ کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں ہے امی کو دفن کردیا گیا ہے اور اب خاموش ہی رہنا چاہیے۔ ویسے بھی وہ عورتیں بری بری بدعائیں دے کر گئی ہیں پولیس والے بھی ان کے ساتھ ہیں کچھ بھی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
پھر یہی ہوا تھا نہ سپارے پڑھے گئے نا دانوں پر ورد ہوا نہ سوئم میں لوگ جمع ہوئے۔ امریکہ، کینیڈا سے آنے والے بھائی بہن بُری طرح سے ڈرگئے تھے۔ ان کا ڈرنا بھی بجا تھا۔ پاکستان کے بارے میں وہ لوگ وہاں پر عجیب و غریب باتیں پڑھتے اور سنتے رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے یہ مذہبی لوگ بدعت کے خلاف جہاد کرنے کے لئے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ شاید ان کی بات صحیح بھی ہو۔
دس دن میں بھائی بہن اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے گئے سلیم پندرہ دن کے بعد گیا یہ کہہ کر کہ تین ماہ میں اس کا کنٹریکٹ ختم ہوجائے گا پھر وہ واپس آجائے گا۔ امی کی موت کا صدمہ تو تھا ہی مگر یہ سب کچھ بہت برا لگا تھا مجھے۔ اپنا ہی گھر غیر کا گھر ہوگیا تھا جہاں آنے والے مہمان اس قدر خوفزدہ ہوگئے کہ کچھ کہہ سکے نہ کچھ کرسکے۔ رشتہ داروں کو گھر بلا کر نہ مل سکے، نہ سُن سکے، نہ روسکے، نہ دعا کرسکے۔ ایک تشنگی لئے ہوئے سب لوگ واپس چلے گئے۔ ڈرے ہوئے سہمے ہوئے کہ کہیں جہاز نہ پھٹ جائے۔
میں سوچتی رہی اور سمجھنے کی کوشش کرتی رہی بھائی بہنوں کے فون مسلسل آرہے تھے جو واپس جاکر سمجھنے کی کوشش کررہے تھے کہ یہ کون سا تبلیغ کا طریقہ تھا یہ کیسے لوگ تھے کون لوگ تھے جنہیں پولیس کی حمایت حاصل تھی جن کی مرضی سے بدعت کے خلاف جنگ لڑی جارہی تھی اگر پولیس بھی یہی سب کچھ کرے گی تو عام لوگ کیا کریں گے۔ کون محفوظ ہے بدعت کے خلاف جہاد کرنے والوں سے۔
مجھے سوچنے اور فیصلہ کرنے میں بہت دیر نہیں لگی۔ میں نے سلیم کو فون کرکے کہہ دیا کہ وہ پاکستان واپس نہ آئے میں بھی امریکہ آرہی ہوں وہیں رہوں گی، ماں کے لئے سپارہ تو پڑھ سکوں گی سوئم پر روتو سکوں گی پولیس تو مجھے نہیں روکے گی نا، گھر میں تو کوئی نہیں گھسے گا میرا گھر میرا ہی گھر ہوگا چاہے میں بدعت کروں یا نہ کروں، میرا خدا میرا حساب لے گا یہ جہادی نہیں!

