19  سال کی عمر میں بار بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا: لیڈی گاگا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی پاپ گلوکارہ 32 سالہ لیڈی گاگا نے اعتراف کیا ہے کہ محض 19 سال کی عمر میں انہیں متعدد مرتبہ ’ریپ‘ کا نشانہ بننے کی وجہ سے ذہنی تناؤ اور پریشانیوں سامنا کرنا پڑا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ لیڈی گاگا نے ذہنی صحت اور تناؤ پر کھل کر بات کی ہے اور اعتراف کیا ہے کہ اپنے ساتھ ہونے والے نامناسب واقعات کی وجہ سے ہی وہ ذہنی مسائل کا شکار ہوئیں۔

لیڈی گاگا نے پہلی مرتبہ نومبر 2018 میں انکشاف کیا تھا کہ انہیں کیریئر کے آغاز میں 19 سال کی عمر میں ’ریپ‘ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ لیڈی گاگا نے 2018 میں بتایا تھا کہ ’ریپ‘ کے معاملے پر انہیں پہلے ہی بولنا چاہیے تھا مگر افسوس وہ ایسا نہیں کر سکیں۔ اور اب انہوں نے اس حوالے سے مزید بات کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ایک مرتبہ نہیں بلکہ متعدد بار ’ریپ‘ کا نشانہ بنایا گیا۔

امریکی فیشن میگزین ’ٹین ووگ‘ کے مطابق لیڈی گاگا نے اوپرا ونفرے کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں اپنے ساتھ ہونے والے نامناسب واقعات اور ذہنی صحت کے مسائل پر کھل کر بات کی اور اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ وہ ذہنی مسائل سے دوچار خواتین کی مدد کرتی رہیں گی۔

لیڈی گاگا اپنی نوجوانی کی بات کرتے ہوئے آبدیدہ بھی ہوگئیں اور انہوں نے اشکبار ہوتے ہوئے کہا کہ انہیں 19 برس کی عمر میں ایک بار نہیں بلکہ بار بار ’ریپ‘ کا نشانہ بنایا گیا جس وجہ سے وہ ذہنی تناؤ اور پریشانی کا شکار بھی ہوگئیں۔

پاپ گلوکارہ کے مطابق بار بار ریپ کیے جانے کی وجہ سے ان کے ذہن پر منفی اور برے اثرات مرتب ہوئے تاہم ان کی خوش قسمتی ہے کہ وہ جلد ہی معروف گلوکارہ بن گئیں اور انہوں نے امریکا سے نکل کر دنیا کے دوسرے ممالک کا دورہ بھی کیا جس وجہ سے ان کی ذہنی الجھن کم ہوئی۔

گلوکارہ نے انٹرویو کے دوران یہ بھی کہا کہ جب ان کے ساتھ نامناسب واقعات پیش آئے اور وہ ذہنی مسائل کا شکار ہوئیں تو کوئی بھی ان کی بات سمجھنے یا ان کی مدد کرنے کے لیے موجود نہیں تھا یہاں تک کے ڈاکٹرز بھی ان کے مسائل کو سمجھنے سے قاصر تھے۔

گلوکارہ کا کہنا تھا کہ ذہنی مسائل اور تناؤ کی وجہ سے انہیں دوائیاں بھی نارمل رکھنے میں مددگار ثابت نہیں ہو رہی تھیں کیوں کہ درحقیقت ان کے ذہنی مسائل کو درست انداز میں سمجھا ہی نہیں جا رہا تھا۔ لیڈی گاگا کے مطابق متعدد بار ’ریپ‘ کیے جانے کی وجہ سے وہ نہ صرف ذہنی بلکہ جسمانی طور پر بھی متاثر ہوئیں اور انہیں ذہنی صدموں سے نکلنے میں کچھ وقت لگا۔

گلوکارہ نے انٹرویو کے دوران اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ نہ صرف ہراسانی کا شکار خواتین بلکہ ذہنی مسائل اور تناؤ کا شکار رہنے والی خواتین کی مدد کے لیے پرعزم ہیں اور وہ ان کا ساتھ کبھی بھی نہیں چھوڑیں گی۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ جب وہ ذہنی صحت کا شکار ہوئیں تو تنہا تھیں تاہم آج ذہنی مسائل کی شکار خواتین اکیلی نہیں ہیں اور وہ ان کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *