کیا آرمی ایکٹ میں ترمیم سے پارلیمانی جمہوریت دفن ہو گئی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پارلیمنٹ سے عجلت اور تقریباً اتفاق رائے سے آرمی ایکٹ میں ترمیم منظور ہونے کے بعد ملک میں جمہوریت کے حوالے سے سنجیدہ سوالا ت سامنے آئے ہیں۔ ان سوالوں کی نوعیت یوں مزید سنگین ہوگئی ہے کہ  تحریک انصاف کی حکومت اور دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں نے شدید اختلافات اور ایک دوسرے کے بارے  بداعتمادی کے باوجود نہایت سرعت سے ان بلوں کو منظور کیا اور ملکی قانون کا حصہ بنانے کے لئے صدر مملکت کو روانہ کردیا۔

زیادہ تشویشناک امر یہ حقیقت ہے کہ   آرمی ایکٹ میں ترمیم  موجودہ آرمی چیف کے عہدے کی مدت میں توسیع کے لئے   ضروری ہوگئی تھی۔ گزشتہ سال نومبر میں اس معاملہ پر غور کرتے ہوئے سپریم  کورٹ نے وزیر اعظم کے اس استحقاق کو ماننے سے انکار کردیا تھا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق  آرمی چیف کی مدت  ملازمت میں مزید تین برس کی توسیع کرسکتے ہیں۔ اس حکم میں اگرچہ پارلیمنٹ سے  قانونی ابہام  دور کرنے کے لئے کہا گیا تھا لیکن حکومت نے اس فیصلہ کو  آئینی شقات  کی خلاف ورزی اور حکومتی اختیار پر عدالتی حملہ قرار دیتے ہوئے  28   نومبر کے عدالتی حکم پر نظر ثانی کی درخواست دائر کی تھی۔ 

اس طرح یہ امید کی جارہی تھی کہ ابھی سپریم کورٹ  ہی اس معاملہ پر حتمی رائے دے گی۔ تاہم  نئے سال کا سورج طلوع ہوتے  ہی کابینہ کا ہنگامی اجلاس بلا کر آرمی ایکٹ میں ترامیم کا معاملہ پارلیمنٹ میں لے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اسی روز اٹارنی جنرل نے  سپریم کورٹ سے   حکم امتناع  دینے کی درخواست بھی کی تھی۔  گویا کابینہ کے اجلاس سے پہلے حکومت کے قانونی معاملات دیکھنے والی ٹیم کو بھی یہ علم نہیں تھا کہ جس عدالتی حکم کو غیر آئینی سمجھتے  ہوئے  چیلنج کیاگیا ہے، اب اسے تسلیم کرکے پارلیمنٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ بہر حال پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے کثرت رائے سے قانونی مسودہ  منظور ہونے  کے بعد  اب صدر عارف علوی کے دستخط سے قانون کا حصہ بن جائے گا۔ اس قانون  میں اتفاق رائے سے شامل کی گئی ایک شق کے تحت کوئی عدالت اس قانون پر غور کرنے یا اس میں  رد و بدل کا تقاضہ کرنے کی مجاز نہیں  ہوگی۔

اس قانون کی منظور سے صرف  ملک کی عدلیہ کو ہی جزو معطل نہیں بنایا گیا بلکہ یوں لگتا ہے کہ اس فیصلہ سے ملکی سیاسی نظام، جمہوری روایت اور ملک  میں سول حکمرانی کو بھی  سرد خانے میں ڈال دیاگیا ہے۔ عجلت میں اور اتفاق رائے سے آرمی ایکٹ  میں ترامیم منظور  کروانے کے عمل سے  یہ سوال سامنے آیا ہے  کہ ایک  ایسی پارلیمنٹ جس میں حکمران جماعت اپوزیشن  لیڈروں کو لٹیرے، چور اچکے اور مافیا قرار دے کر  کیفر کردار تک پہنچانے کا دعویٰ کرتی رہی ہو  اور اپوزیشن مسلسل یہ نوید دے رہی ہو کہ 2020 انتخابات یا کم از کم عمران خان کے زوال کا سال ہوگا۔ اور اسی امید پر وہ عمران خان اور تحریک انصاف کے لئے  کوئی کلمہ خیر کہنے پر تیار نہ رہی ہو۔ اس پارلیمنٹ میں  ایک دوسرے کے لئے عظیم خیر سگالی کا اظہار کیوں کر ممکن اور  ضروری ہوگیا  تھا؟  یہ  رویہ  اگر آرمی ایکٹ کے علاوہ کسی  دوسرے معاملہ  میں بھی  اختیار کیا جاتا تب بھی اس ناگہانی تعاون کے بارے میں ضرور سوال اٹھائے جاتے۔  لیکن ایک تو آرمی ایکٹ میں ترامیم اور دوسرے حاضر سروس آرمی چیف کو توسیع دینے کے لئے کی جانے والی  قانون سازی پر حکومت و اپوزیشن کا یہ تعاون  ملک میں جمہوری زوال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

نواز شریف  2018 کے انتخابات سے پہلے پاناما کیس میں  ملنے والی سزا بھگتنے کے لئے  اپنی بیمار بیوی کو بستر مرگ پر چھوڑ کر پاکستان واپس آئے تھے۔ انہوں نے اپنی بیٹی مریم نواز کے ساتھ گرفتاری دی اور اس  کے بعد اس کیس میں ضمانت ہونے کے باوجود العزیزیہ ریفرنس میں سزا پاکر وہ دوبارہ جیل  پہنچ گئے۔ تاہم وقتاً فوقتاً ان کی طرف سے  یہی آواز سنائی دیتی کہ اب ان کے پاس کھونے کے لئے کیا بچا ہے۔ وہ کسی قیمت پر ’ووٹ کو عزت دو ‘کے  سلوگن پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اس کا واضح مقصد یہ تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی طے شدہ پالیسی یہ تھی کہ فوج کو اپنی غلطیوں کا ادراک کرنا چاہئے اور ملک  میں سول  جمہوری انتظام  کے حوالے سے زیادہ لچک دکھانی چاہئے۔ نواز شریف کی مقبولیت میں اضافہ  اور مسلم لیگی لیڈروں کی پے در پے گرفتاریوں کے باوجود  مستقل مزاجی  کی وجہ سے  ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا ہو گیا تھا کہ لگنے لگا تھا کہ  سیاست میں فوج کے کردار کو محدود کرنے کے لئے کچھ پیش رفت کا وقت سر  پر آپہنچا ہے۔ یہ ملک  کے جمہوریت پسند حلقوں کے لئے نہایت خوش آئند بات تھی۔

ملک کے مقتدر حلقے جمہوری  انتخاب کے ذریعے پارلیمنٹ یا  اقتدار تک پہنچنے والے  سیاست دانوں کے بارے میں ہمیشہ سے یہ گمان رکھتے رہے ہیں کہ انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکا جاسکتا ہے۔ اسی لئے 2017  میں  نواز شریف کے معزول ہونے اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اسٹبلشمنٹ کے تعلقات خراب ہونے  کے بعد یہ سمجھا جارہا تھا کہ جولائی 2018 کے انتخابات فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ اگر مسلم لیگ (ن) واضح اکثریت حاصل نہ کرسکی تو اس میں نقب لگا کر ایسا سیاسی  ماحول پیدا کرلیا جائے گا جس میں نواز شریف کی سیاسی حیثیت ختم ہوجائے گی۔  انتخابات کے بعد اگرچہ چھوٹی بڑی پا رٹیوں اور  آزاد ارکان کو ساتھ ملاکر مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کو اقتدار دلوا دیا گیا لیکن اس کے باوجود دو سال کی لگاتار کوشش  میں   مسلم لیگ (ن) کے کسی رکن کو توڑا نہیں جاسکا اور  پارٹی  سیاسی قوت  برقرارکھنے میں  کامیاب  رہی۔ اسی لئے  نواز شریف کو طاقت ور لیڈر اور عمران خان  کو ’کٹھ پتلی وزیر اعظم‘ سمجھا جانے لگا تھا۔ یہ صورت حال جمہوری    مستقبل کے لئے امید افزا سمجھی جارہی تھی۔

مسلم لیگ (ن) کی  اس حیثیت کے بارے میں اس وقت شبہات نے جنم لیا جب  گزشتہ برس اگست میں اپوزیشن  جماعتیں سینیٹ میں واضح اکثریت کے باوجود   چئیرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور نہ کرواسکیں۔  اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اس موقع پر ’غداری‘ کرنے والے سینیٹرز کا سراغ لگانے اور انہیں عبرت کا نشان بنانے کے دعوے کرنے کے باوجود کوئی عملی کارروائی نہیں  کی۔ اس طرح پہلی بار یہ واضح  ہؤا کہ اسٹبلشمنٹ صرف حکومت سازی کا کارنامہ ہی انجام نہیں دیتی بلکہ وہ  اپنے ’بندوں‘ کی حفاظت کرنے کا اہتمام بھی کرتی ہے۔ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی کوشش کامیاب ہونے کا مقصد  جمہوری طریقہ کی کامیابی اور جمہوریت کے خلاف ساز باز کرنے والے عناصر کی ناکامی ہوتا۔ اپوزیشن اس مقصد میں ناکام ہوئی تو اسے اسٹبلشمنٹ کی طاقت کے آگے بعض افراد  کاسرنگوں ہونا سمجھا گیا۔

اپوزیشن کے امتحان کا دوسرا  موقع  گزشتہ سال اکتوبر میں مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے موقع پر دیکھنے میں آیا۔  اپوزیشن جماعتوں کے درمیان  طویل مشاورت اور  بظاہر اتفاق رائے کے باوجود  اس احتجاج سے عدم دلچسپی سے  یہ  دھرنا  صرف جمیعت علمائے اسلام کی طاقت کا مظاہرہ بن کر رہ گیا۔  آزادی مارچ شروع ہونے سے پہلے نواز شریف نے نیب عدالت میں ایک  پیشی کے  موقع پر  کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اس احتجاج میں بھرپور حصہ لے گی۔ یہ اعلان شہباز شریف کی مصالحانہ حکمت عملی کے  برعکس تھا لیکن نواز شریف کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس سلسلہ میں  نواز شریف نے شہباز شریف کو تفصیلی ہدایات  جاری کردی ہیں۔ لیکن نتیجہ وہی ڈھاک  کے تین پات رہا۔ یعنی مسلم لیگ (ن) اس احتجاج سے عملی طور پر غائب رہی۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع پر سپریم کورٹ کے تحفظات  کی صورت میں  ملک کی سیاسی اپوزیشن  کو ویسا ہی موقع ملا تھا جو اسٹبلشمنٹ کو پاناماپیپرز کے افشا کی صورت میں نواز شریف کو  ’غیر مؤثر‘ کرنے کے  لئے ملا تھا۔   امید کی جارہی تھی کہ  متحدہ اپوزیشن مل کر آرمی ایکٹ میں ترمیم سے  متعلق کسی بھی کوشش کو ناکام بنا کر پارلیمانی جمہوریت کو  مستحکم کرنے کی کوشش کرے گی۔ جب حکومت نے پارلیمنٹ میں جانے سے پہلے سپریم کورٹ میں ہی نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا تو اسے قانون  سازی کے بارے میں حکمران اتحاد کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت سمجھا گیا۔ لیکن  چند روز بعد ہی اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں نے کسی حیل و حجت کے بغیر آرمی ایکٹ کو منظور کرکے سیاسی اختیار کی جنگ  کے اہم موڑ پر پسپائی اختیار کی ہے۔

اسی لئے  عام طور سے یہ سوال سامنے آرہا ہے کہ  موجودہ سیاسی پارٹیاں ملک میں جمہوریت کو درپیش اندیشوں سے نمٹنے کا حوصلہ نہیں رکھتیں۔  وہ اپنے وقتی مفاد کے لئے اسٹبلشمنٹ کو راضی کرنے کی حکمت عملی پر  کاربند رہتی ہیں اور ووٹ کو عزت دو کا نعرہ دراصل   سیاسی  ہتھکنڈےکے طورپر اختیار کیا جاتا ہے۔  آرمی ایکٹ میں ترمیم اگر موجودہ آرمی چیف کی توسیع کے سوال سے مشروط نہ ہوتی تو بھی اس معاملہ پر اپوزیشن لیڈروں کی عذر خواہی قابل قبول ہوسکتی  تھی۔ لیکن  پارلیمنٹ  میں ایک فرد کو خوش کرنے کی قومی ایکسرسائز کے بعد  ملک کی پارلیمانی جمہوریت کے مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ سوال سامنے آئے ہیں۔  یہ بات طے ہوچکی ہے  کہ اپوزیشن جماعتیں اقتدار کی جد و جہد تو کرسکتی ہیں اور تحریک انصاف کے متبادل کے طور پر اپنا نام پیش کرنے میں بھی سرگرم رہیں گی لیکن موجودہ سیاسی قیادت عوامی حکمرانی کے مقصد   سے کوئی واضح اہداف حاصل کرنے اور ملکی سیاست میں  عسکری مداخلت کی روک تھام کے لئے  کچھ   حدود و قیود مقرر کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکتی۔

مسلم لیگ کی قیادت کارکنوں اور عام لوگوں کے شدید احتجاج  کے باوجود نہایت ڈھٹائی سے دعویٰ کررہی ہے کہ ملک میں جمہوری ادارے کبھی مکمل طور سے خود مختار نہیں ہوسکتے۔  سیاسی قیادت کی پسپائی کے بعد   آئین کی بالادستی کے لئے عدالتی نظام سے  بہت زیادہ   توقع نہیں باندھی جاسکتی۔ ہماری عدالتیں ماضی میں  فوجی آمروں کے ہاتھوں آئین کی پامالی کو قبول و منظور کرتی رہی ہیں۔ اب تو پارلیمنٹ نے خود ہی اپنے ہاتھ پاؤں باندھ کو  اپنی محتاجی کا ناقابل یقین مظاہرہ کیا ہے۔

اس ماحول میں  اٹھارویں ترمیم کے تحت وفاقی اکائیوں کو ملنے والے اختیارات  پر حملہ بھی ممکن ہے اور مرکز کو مضبوط کرنے کے  نام پر ایسے ہتھکنڈے بھی اختیار کئے جاسکتے ہیں  جن سے  وزیر اعظم  کی بجائے صدر  کو طاقت ور بنانے کی کوشش کی جائے۔  وفاق میں اختیارات اور وسائل کی تقسیم کے حوالے سے صورت حال  اس وقت خطرناک طور پر غیر واضح ہوچکی ہے۔      میڈیا  پر عائد پابندیاں اور سیاسی لیڈروں کی پسپائی کے بعد بظاہر مزاحمت کا  کوئی امکان   موجود نہیں ۔    

جمہوری سیاسی عمل ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح  جامد و ساکت ہوچکا ہے۔ اس میں کسی  بڑی تحریک کے بغیر جمہوریت ہی نہیں پاکستان کی سالمیت کے  لئے بھی نئے خطرات پیدا ہوں گے۔ اس حوالے سے  صوبوں میں پیدا ہونے والی بےچینی  سب  سے زیادہ  خطرناک ہوگی۔

 

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1389 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *