پرویز مشرف اصل کمانڈو ثابت ہوئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پورے عدالتی نظام کی پانچ سالہ مشقت رائگاں کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے پانچ دن کی محنت شاقہ سے یہ معلوم کیا کہ سابق صدر پرویز مشرف پر بغاوت کے الزام میں مقدمہ چلانا ہی غیر قانونی اور غیر آئینی تھا ۔ بلکہ  اس وقت کی حکومت نے جس طریقے سے یہ کام سرانجام دیا تھا، وہ بھی مسلمہ ضابطوں اور اصولوں سے متصادم تھا۔

 اس طرح بفضل الہی مملکت خداد پاکستان کو لاحق انجانی سازشوں اور بھیانک خدشات سے بچا لیا گیا ہے۔ اب پاک فوج کے ترجمان کی یہ بات بھی درست ثابت ہو گئی ہے کہ پاک فوج میں چالیس برس تک خدمات انجام دینے والا جنرل جو آرمی چیف، چئیرمین جوائنٹ کمیٹی آف چیفس آف اسٹاف اور صدر مملکت کے عہدے پر فائز رہا ہو، کس طرح غدار ہو سکتا ہے۔ خصوصی عدالت نے گزشتہ ماہ دھماکہ خیز فیصلہ صادر کر کے اس ملک میں انہونی روایت قائم کرنے کی جو کوشش کی تھی، لاہور ہائی کورٹ کے چوکنے اور آئین پسند ججوں نے نہ صرف اس کو بھانپ لیا بلکہ ان غیر آئینی پہلوؤں کا بھی سراغ لگا لیا جو نہ تو خصوصی عدالت کی سربراہی پر متعین ہونے والے متعدد جج صاحبان تلاش کر سکے اور نہ ہی سپریم کورٹ بار بار خصوصی عدالت کے ججوں کی منظوری دیتے ہوئے پتہ لگا سکی کہ جس کام کو انجام دینے کے لئے یہ درد سر مول لیا جا رہا ہے اس کا تو کوئی آئینی و قانونی جواز ہی نہیں ہے۔ سلامت رہے عدل کا یہ شفاف نظام جس میں ہائی کورٹ کے تین فاضل ججوں نے اس غلطی کو بالآخر پکڑ لیا جس کے موجود رہنے سے ملک میں انصاف کے دامن پر بدنما داغ لگ سکتا تھا۔

گزشتہ ہفتہ کے دوران قومی اسمبلی اور سینیٹ نے بے مثال یک جہتی کا مظاہرہ اور قومی مفاد سے گہری وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے مسلح افواج کے سربراہان کے عہدوں میں توسیع اور ان کی ملازمت کی عمر 64 سال مقررکرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ آج لاہور ہائی کورٹ نے یہ قرار دے کر کہ ’غیر معمولی حالات میں کوئی صدر ایمرجنسی نہیں لگائے گا تو کیا کرے گا‘ یہ طے کر دیا کہ ملک کی عدالتیں بھی فرض شناس اور حب الوطن پارلیمنٹیرینز سے کم وطن دوست نہیں ہیں۔ انہیں بھی ملک کی عزت، مفاد کی حفاظت اور اداروں کے وقار کا پورا خیال ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ پرویز مشرف نے نومبر 2007 میں ایمرجنسی لگا کر کوئی آئین شکنی نہیں کی تھی بلکہ سابق صدر اور آرمی چیف پر یہ الزام عائد کرکے دراصل ایسی بھیانک آئین شکنی کا ارتکاب ہونے والا تھا کہ اس کی اصلاح کے بغیر اس ملک کے عوام اور ان کی نمائیندہ عدالتیں تاریخ میں سیاہ حروف سے یاد رکھی جاتیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے ان تمام روشن خیال ججوں کی روایت کو زندہ کیا ہے جنہوں نے نظریہ ضرورت ایجاد کر کے دراصل ہر مشکل مرحلے پر اس ملک کو بحران اور آفت سے بچایا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ کے فاضل ججوں نے فرمایا ہے کہ ایمرجنسی لگانا آئین کے مطابق جائز ہے اور استفسار کیا ہے کہ ’اگر کوئی حکومت آئین کے مطابق ایمرجنسی عائد کرتی ہے تو کیا بعد میں پوری کابینہ کے خلاف شق 6 کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا؟‘ اس سوال کا جواب دینے کے لئے عدالت عالیہ میں کوئی موجود نہیں تھا کیوں کہ جس حکومت کو اس دعویٰ میں استغاثہ کا کردا ادا کرنا تھا، وہ تو پہلے ہی اس سے دستبردار ہونے کا اعلان کرچکی تھی۔ لاہور ہائی کورٹ میں پرویز مشرف کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت کرتے ہوئے عدالت عالیہ میں خصوصی عدالت کے فیصلہ کو درست بتانے والا کوئی وکیل موجود نہیں تھا۔ یعنی خصوصی عدالت پر پرویز مشرف کا بیان لئے بغیر اور ان کے وکلا کے دلائل سنے بغیر یک طرف طور سے فیصلہ کرنے کا جو الزام عائد کیا گیا تھا، لاہور ہائی کورٹ نے اسی خصوصی عدالت کے خلاف یک طرفہ طور سے ایک طرف کے دلائل سننے کے بعد حکم جاری کردیا۔ یعنی جیسی کرنی ویسی بھرنی کی زندہ مثال قائم کردی۔ اس سے زیادہ انصاف کی سربلندی بھلا کیا ہو سکتی ہے۔

ویسے بھی جس ملک کی پارلیمنٹ وسیع تر قومی اتحاد کے لئے بحث اور حجت سے گریز کی پالیسی کر لے، اس کی عدالت کیوں کر کوئی ایسا سوال اٹھا سکتی تھی جس سے مسلمہ قومی مفاد کے بارے میں کوئی شبہ پیدا ہونے کا امکان ہو۔ اور یہ کون نہیں جانتا کہ قومی مفاد اور اس کی سرفرازی اسی میں ہے کہ قومی اداروں کے احترام میں اضافہ کیا جائے۔ ہر ظلم کے بعد زندہ باد کا نعرہ لگایا جائے اور ان قربانیوں کی ایک طویل فہرست گنوائی جائے جن کی وجہ سے ملک کے شہری محفوظ ہیں ورنہ بھارت میں کشمیر کے الحاق اور شہریت قانون کے نفاذ کے بعد مسلمانوں کو جس صورت حال کا سامنا ہے، اس سے عبرت پکڑنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ کسی مرحلے پر کوئی ایسی غلطی سرزد نہ ہو کہ نظریہ پاکستان اور اس ملک کے قیام کے لئے دی جانے والی قربانیوں کو نظر انداز کرنے کا شبہ پیدا ہو۔ لاہور ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کی طرف سے پیدا کئے جانے والے ایسے ہی شبہ کا سدباب کیا ہے۔

یوں تو گزشتہ ہفتہ کے دوران ملک کی پارلیمنٹ میں تمام بڑی پارٹیوں کے نمائیندوں نے ایک دوسرے کو نااہل، بدعنوان یا جرائم پیشہ سمجھنے اور قرار دینے کے باوجود اچھے بچوں کی طرح مل جل کر آرمی ایکٹ جیسا مقدس قانون منظور کرلیا تھا اور دشمن عناصر کی اس چال کو ناکام بنادیا تھا جو جمہوریت کے نام پر دراصل ملک کے استحکام کے ذمہ دار ادارے کو نیچا دکھانے کی مذموم کوشش تھی۔ رہی سہی کسر اب لاہور ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت نام کا ’کلنک‘ ملکی تاریخ کے ماتھے سے مٹا کر پوری کردی ہے۔ اور واضح کر دیا ہے کہ قومی محافظوں کے وقار اور عزت کی حفاظت کے لئے ملک کی عدالتیں بھی کسی سے پیچھے نہیں رہیں گی۔

حیرت تو اس بات پر ہونی چاہئے کہ سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ جیسا قانونی دماغ بھی یہ نہ جان سکا کہ خصوصی عدالت کا ڈھونگ دراصل قومی مفاد پر حملہ ہے اور نواز شریف کے انتقامی مزاج کا شاخسانہ تھا۔ حالانکہ یہی جج پانامہ کیس کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ دور کی کوڑی لائے تھے نواز شریف سیاست دان نہیں بلکہ مافیا کا سرغنہ ہے۔ اسی تشریح کو فراخدلی سے استعمال کرتے ہوئے نئے پاکستان کے معمار، وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے نواز شریف کا کچا چٹھا عوام کے سامنے کھول کر رکھ دیا تھا۔ وہ تو لندن جا کر انہیں اندازہ ہؤا کہ عوامی حکمرانی کے نام پر جو بیان بازی انہوں نے اپنی بیٹی مریم کے ساتھ مل کر شروع کی تھی وہ تو دراصل ان کے انتقام کی آگ تھی جو کسی صورت بجھنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ اسی لئے خصوصی عدالت نے جب پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا دینے کا حکم دیا تو نواز شریف سمیت مسلم لیگ (ن) کے سارے زعما منہ چھپائے پھرتے تھے۔ اور جنہوں نے اس ’ناجائز فیصلہ‘ کی توصیف کرنے کی کوشش کی وہ اب عدالتوں کا ریمانڈ بھگت رہے ہیں۔

پھر بھی جسٹس (ر) آصف سعید کھوسہ کو نہ جانے اپنی بے پایاں صلاحیت پر ایسا کیا گمان ہو گیا تھا کہ اپنی ملازمت کے کے آخری دنوں میں آرمی چیف کی توسیع جیسے مقدس معاملہ پر سوالات اٹھائے اور پوری قوم کو پریشان کیا اور ایک موقع پر تو حد ہی کردی کہ پرویز مشرف جیسے کمانڈو کے انداز میں مکا دکھا کر اعلان کیا کہ ’ سابقہ مرد آہن کے معاملہ میں بھی انصاف جلد ہونے والا ہے‘۔ حالانکہ اب لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ یہ سارا معاملہ کسی آئینی اختیار کے بغیر ہی چلایا جا رہا تھا۔ اندھیر ہے، ایک دہائی کے لگ بھگ ملک کی خدمت کرنے والے جری سپاہی کے خلاف کسی قانونی اختیار کے بغیر مقدمہ چلایا جائے اور ملک کا چیف جسٹس اسے انصاف کا نام دے۔ لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ پرویز مشرف آخر سرخرو ہوئے۔ ثابت ہؤا کہ وہی اصل کمانڈو ہیں۔ اور کمانڈو وہ ہوتا ہے جو کبھی شکست تسلیم نہیں کرتا۔ وہ فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد بھی فوج کی حفاظت میں رہتا ہے اور وہ خواہ ہسپتال کے بستر پر ہی لیٹا ہو، رہتا کمانڈو ہی ہے ۔

اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی اہل وطن کو مکرر یاد کروا دی گئی کہ اس ملک میں غلطیاں صرف سیاست دانوں نے کی ہیں۔ انہوں نے ایسے حالات پیدا کئے کہ بیچارے فوجی جرنیلوں کو آئین ہاتھ میں لینا پڑا۔ لیکن انصاف کی نگاہ سے دیکھا جائے تو ایسا کرتے ہوئے بھی انہوں نے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا ضروری سمجھا۔ ہر بار عدالت سے پوچھا گیا کہ’ یہ ٹھیک کیا نا؟‘ جب وہاں سے تصدیق ہوگئی تب ہی قومی سدھار کے مقدس کام کا آغاز کیا گیا۔ پس قوم کے جوان اور بوڑھے، مرد و خواتین ، چھوٹے بڑے یکساں طور سےجان لیں کہ سیاست دان ہی بدعنوان ہوتا ہے اور سازشیں کرتا ہے، ملک کو پیچھے لے جانے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ پھر فوج کو آگے بڑھ کر غلطیاں درست کرنا پڑتی ہیں۔ وہی سیاست دان پھر ایک فوجی کو غدار قرار دلوانے کی مذموم کوشش کرتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے لاہور ہائی کورٹ نے عدالت کے ماتھے سے یہ کلنک دھو دیا۔

آج کا فیصلہ اس لحاظ سے لافانی ہے کہ اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا بلکہ سب ہی راضی ہیں۔ پرویز مشرف کراچی کے رہائشی ہیں اور اسلام آباد میں مبینہ ’آئین شکنی‘ کے مرتکب ہوئے تھے لیکن انہوں نے اپیل لاہور ہائی کورٹ میں کی۔ بفضل تعالیٰ اس انصاف پسند عدالت نے انہیں اور ’قوم‘ کومایوس نہیں کیا۔ خصوصی عدالت کا سربراہ ایک ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تھا۔ اس کے سارے معاملات سپریم کورٹ دیکھ رہی تھی لیکن اس کی غیر آئینی حیثیت بتانے کا اعزاز لاہور ہائی کورٹ کے تین ججوں کے حصے میں آیا۔ اب سرکار بھی راضی اور پرویز مشرف بھی خوش۔ نہ کوئی اسے سپریم کورٹ میں لے کر جائے گا اور نہ ہی توسیع کے معاملہ کی طرح اس فیصلہ کی بھد اڑائی جائے گی۔

کہتے ہیں جنرل ضیا نے ایک بار یہ سچائی بیان کی تھی کہ آئین کاغذوں کا ایک پلندہ ہے جسے جب چاہوں اٹھا کر پھینک دوں۔ لاہور ہائی کورٹ کے ججوں نے مرحوم جرنیل کی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے یہ اضافہ کیا ہے کہ آئین موم کی ناک بھی ہے جسے جب چاہا موڑ لیا۔ نہ ہینگ لگے نہ پھٹکری، رنگ بھی چوکھا آئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1511 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “پرویز مشرف اصل کمانڈو ثابت ہوئے

  • 14/01/2020 at 12:17 pm
    Permalink

    So if someone displaces me from my home and occupies my home by force, I can not go to court as a petitioner because I have a manifest prejudice against that person. Subhan Allah..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *