اجازت دیں تو تھوڑا گھبرا لیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خدو کا گاؤں 1990 کی خیبر کار بن چکا ہے، جس کے پارٹس سستے ہیں اور خراب بھی بار بار ہو رہے ہیں، سیفٹی کی کوئی گارنٹی بھی نہیں اور نہ ہی کہیں لمبے سفر پر لے جانے لائق ہے، ذرا سے بریک لگانے پر چیختی ہے، ڈر لگتا ہے کی پرزے کہیں نکل نہ جائیں، لیکن پھر بھی عوام کی تو مجبوری ہے سفر اسی خیبر پر کرنا ہے۔

اور خدو ہے کہ خیبر اور اس میں بیٹھے مسافروں کو کہتا رہتا ہے گھبرانا نہیں ہے، یہ سن کر بالی ووڈ کی ایک فلم یاد آجاتی ہے جس میں جانی لیور اکشے کمار کے روڈ رولر کو ٹھیک کرتے ہوے کہتے ہیں، ابھی ٹھیک کرکے دیتا ہوں، بس ابھی ٹھیک ہوجائے گا، اور پھر آخرکار اُس روڈ رولر کو ہاتھی کا سہارا دے کر گھر لے کر جانا پڑتا ہے، خیر بات یہ نہیں خیبر کار کھٹارا ہے بات یہ ہے کہ گھبرائیں کیوں نہیں؟

، ہر بریکر پر کوئی نہ کوئی چیز ٹوٹ کر منہ پر آکر لگتی ہے، پھر بھی گھبرانا نہیں ہے

انجن بار بار جنرل ہونے پر جتنا خرچا ہو رہا ہے اتنے میں کوئی اچھی کمپنی کا نیا ماڈل آ جاتا۔

خرچے سے یاد آیا، پیٹرول تو مسافر بھر رہے ہیں، جناب بہت خرچا ہو رہا ہے، اتنے پیسے خرچ کرنے کے بعد بھی بند پڑجاتی ہے اور دھکا لگانا پڑتا ہے اسٹارٹ نہیں ہوتی، لیکن آپ ہیں کہ گھبرانا نہیں ہے۔

یہ سب سن کر ایک دن خدو نے سوچا کیوں نہ عوام سے مخاطب ہوکر کوئی دلاسا ہی دے دوں کہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ ہم ابھی زندہ ہیں۔

کچھ سستائی بھی ہوگی تھوڑا صبر کریں، باہر سے لوگ آئیں گے تو کمائی ہوگی، یہ سب دعوے تو خدو نے پہلے بھی کیے تھے اس دفعہ اس نے عوام کے لئے آرام کا نیا پیکج بنایا اور عوام سے مخاطب ہوا۔

خدو: گاؤں کی عوام گھبرانا نہیں ہے، میں ابھی زندہ ہوں، آپ سب پریشان ہیں جانتا ہوں، آپ کی مشکلات ختم ہوجائیں گی، لیکن آپ کو یہ یاد رکھنا ہوگا کی ہنسی خوشی زندگی بسر کرنا صرف کہانیوں میں ہوتا ہے، زندگی اونچ نیچ کا نام ہے، اصل سکون صرف قبر میں ہی ہے، اور بات کرتا چلوں کی ابھی کوئی نوکریاں نہیں ہیں آپ سب کے لئے۔ اس میں وقت لگے گا، سب ٹھیک ہوجائے گا، آپ نے گھبرانا نہیں ہے، یہ گاؤں آپ سب کا ہے، اسے آپ نے ہی ترقی کی راہوں پر لے کر جانا ہے آپ سب کا درد میں سمجھ سکتا ہوں لیکن اصل مشکلات کے بعد ہی کامیابی ہے۔

جنابِ اعلیٰ کا یہ سن کر یاد آیا کہ چلیں اُن کو گاؤں والوں کا خیال تو آیا، لیکن صرف ڈرائیور کی طرح شیشے سے تاڑ کر مایوس نگاہوں سے پیٹرول کے پیسے مانگنے کے لیے، لیکن یہ سوچنے پر کانوں میں یہ بات گونجنے لگتی ہے کی گھبرانا نہیں ہے، قبر پر کوئی ٹیکس نہیں اور اصل سکون وہیں ہے۔

کچھ دن قبل گاؤں کا ایک بڑا علاقہ جس کی آمدنی سے گاؤں کا خزانہ بھرا جارہا ہے، وہیں کے ایک محلے کورنگی میں میر حسن نے بیروزگاری سے تنگ آکر خود کو آگ لگادی، اہل خانہ کا کہنا تھا، میر حسن تین ماھ سے بیروزگار تھا لہٰذا میر حسن نے گاؤں کے مکھیا کو نوکری کے لیے درخواست بھی بھیجی تھی، بچوں کی سردی کے بچاؤ کے لئے گرم کپڑوں کی فرمائش نے میر حسن کو کہا ”بابا اصل سکون قبر میں ہے“ اور میر حسن نے زندگی کو اس آسرے پر آگ میں جھلس دیا کہ شاید، سکون صرف قبر میں ہی ہو۔

تو جنابِ اعلیٰ اب تھوڑا گھبرا لیں؟ کیوں کہ اس گاؤں میں تو غریب کے لئے کوئی آرام نہیں، نوکریاں پڑھے لکھوں کے لئے بھی نہیں، آپ نے کہا تھا لوگ باہر سے نوکریاں کرنے آئیں گے تو کیا ہوا؟ کیا وہ ہمارا بھی حق مار گئے؟ کہاں گئے آپ کے لاکھوں گھروں کے وعدے؟

عوام کی مظلوم بیٹیاں جنوری کی ٹھنڈ میں سڑکوں پر بھوکی سونے پر مجبور ہیں جن کا چہرہ ٹھنڈ کے مارے سفید ہوگیا ہے اور کانپتے ہونٹ سوکھ چکے ہیں جب کی سردی کی لپیٹ میں اُن کا جسم تھرتھرا رہا ہے، بھیک مانگنے پر ضمیر گوارا نہیں کرتا، زندگی بسر کرنے کو پتھر کھا نہیں سکتے، جوانوں کی خودکشی روز کا معمول ہے، تعلیم کا حال یہ ہے کی کتابیں پیٹ بھر نہیں سکتیں، لیکن آپ صحیح بول رہے تھے، سکون صرف قبر میں ہے۔

جنابِ اعلیٰ اب اگر اجازت ہو تو تھوڑا گھبرا لیں، اور کتنا سہیں گے، سہہ نہیں سکتے، اجازت دیں تو تھوڑا گھبرا لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
وقار میمن کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *