پی ٹی آئی کے اتحادیوں کا سیاسی فٹبال میچ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو ہفتے قبل تحریک انصاف کی حکومت جن خطرات کا شکار دکھائی دیتی تھی آج وہ ان خطرات سے نجات پا چکی ہے۔ بغاوت پر آمادہ اتحادی اب اپنے طرز عمل کو مشورے اور اصلاح احوال کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ پنجاب میں ن لیگ‘ پی پی اور ق لیگ کے بعض ارکان تو مخلوط حکومت کی صورت میں وزارت اعلیٰ‘ سپیکر شپ اور وزارتوں تک کی منصوبہ بندی کر بیٹھے تھے۔ صورت حال اس قدر تشویشناک تھی کہ صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن کی ریکوزیشن پر بلایا گیا اجلاس سات روز تک جاری رہا‘ وزیر اعظم کے منع کرنے کے باوجود آئی جی پولیس کو اسمبلی میں طلب کیا گیا اور پورے اجلاس میں پی ٹی آئی ارکان تقریر کے لئے وقت مانگتے رہے۔

فوری طور پر خطرہ ٹال دیا گیا ہے لیکن متبادل بندوبست کا ایک امکان ضرور پیدا ہو گیا ہے۔ سیاسی ضرورتوں نے پلٹا کھایا تو ممکن ہے پنجاب میں کوئی نیا اتحاد بن جائے۔ دوستی ہمیشہ بے غرض‘ بے لوث اور ایک دوسرے کے لئے جذباتی سہارے کی شکل میں موجود ہوتی۔ اتحادی ایک سیاسی اصطلاح ہے۔ ایسی سیاسی جماعتیں جو اپنی طاقت اور مینڈیٹ کو کچھ مفادات کے عوض کسی جماعت یا شخصیت کی حمایت میں دے دیتی ہیں اتحادی کہلاتی ہیں۔

اتحادی کا بے غرض‘ بے لوث اور دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنے والا ہونا ضروری نہیں۔ اتحادی کا کوئی اصول اور اخلاقیات نہیں ہوتیں۔ اخلاقیات سیاسی مفادات کے راستے میں رکاوٹ سمجھی جاتی ہیں۔ آصف علی زرداری کی مولانا فضل الرحمن اور اسفند یار ولی سے بیک وقت دوستی ہے۔ آصف علی زرداری کی چودھری پرویز الٰہی سے دوستی ہے۔ مونس الٰہی بھی ان کا احترام کرتے ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ ایم کیو ایم ایک اتحادی جماعت ہے اس لئے سب اس کے فیصلوں کو مفادات کے پہلو سے دیکھتے ہیں۔

ویسے سچ یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن سے بڑا اتحادی موجودہ دور میں کوئی نہیں۔مولانا عمران خان سے لاکھ اختلاف سہی حکومت انہیں آج اتحادی بنا لے تو مولانا سات خون معاف کنے پر تیار ہو سکتے ہیں۔

عمران خان کے پاس ایسی ریکارڈنگز پہنچ چکی ہیں جن میں ان کے اتحادی کچھ منصوبہ بندی کرتے معلوم ہوتے ہیں۔ شنید ہے کہ وہ قوت جسے اسٹیبلشمنٹ کہتے ہیں اسے اتحادیوں کی سرگرمیوں پر سخت اعتراض ہوا ہے۔ عمران خان کو پیغام دیا گیا کہ وہ بطور وزیر اعظم اپنے اتحادیوں کے جائز مطالبات پر توجہ دیں ‘ساتھ ہی اتحادیوں کو پیغام ملا کہ جس نے ملک کے سیاسی استحکام کو دائو پر لگانے کی کوشش کی وہ نتائج کا خود ذمہ دار ہو گا۔

ایک منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ عسکری و سیاسی قیادت کی پارٹنر شپ کامیابی سے چل رہی ہے۔ مدت سے نظر انداز قومی مفادات پر یکساں موقف آیا ہے۔امریکہ کو کوئی دراڑ نہیں مل رہی‘ بھارت کو تسلی بخش جواب مل رہا ہے۔ جو مخالف ٹیم سے ملے گا وہ کھیل سے باہر ہو جائے گا۔ عمران خان بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے مفادات کے لئے لڑ رہے ہیں۔ عمران خان کے لئے سیاسی مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تو اتحادیوں کی ساکھ اور نیک نامی کی دولت چٹکی بجاتے بھسم ہو جائے گی۔ وہ لمحہ حساب میں نہیں آ سکے گا جب سیاسی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینے کا سوچا گیا۔

بے نظیر بھٹو مقبول رہنما تھیں لیکن بھاری مینڈیٹ ہمیشہ ان کے مقابل نواز شریف کو دلوایا گیا۔ اس ماڈل میں جو سیاسی قوتیں مددگار نہیں انہیں اسٹیبلشمنٹ کی جماعتیں کہا جاتا ہے۔ یہ جماعتیں اپنی محدود پذیرائی کے باعث خود کچھ نہیں‘ بس انہیں حکومت کا اتحادی بنا دیں تو یہ آکاس بیلیں پھلتی پھولتی رہتی ہیں۔ اتحادیوں کی مدد سے بنائی گئی حکومت کوئی اچھا تجربہ نہیں۔ اس کے لئے سیاسی بلوغت کی ضرورت ہوتی ہے جو پاکستان کی جلد باز سیاسی جماعتوں کے ہاں موجود نہیں۔ اکثریتی پارٹی کا انتخابی ایجنڈا مکمل نہیں ہو پاتا بلکہ اتحادیوں کی فرمائشوں پر وسائل اور وقت خرچ ہو جاتے ہیں۔

ایم کیو ایم اگلے انتخابات میں کامیابی کی خاطر اپنے غیر قانونی دفاتر کھلوانا چاہتی ہے‘ کچھ کارکنوں اور رہنمائوں کے خلاف مقدمات میں ریلیف چاہتی ہے‘ وزارتوں کے معاملات میں کسی ادارے یا شخصیت کی نگرانی انہیں قبول نہیں‘ جی ڈی اے ہزاروں ایکڑ اراضی کے مالک وڈیروں کی جماعت ہے۔ اس کا کوئی نظریہ نہیں بس جاگیردارانہ مفادات ہیں۔ وڈیرہ شاہی کے خلاف لڑنے کا وعدہ کرنے والی پی ٹی آئی قابل رحم حالت میں ہے کہ وہ ان جاگیرداروں کی حمایت حاصل کرنے پر مجبور ہے۔

خسرو بختیار کی سربراہی میں ایک گروپ جنوبی پنجاب صوبہ کے مطالبے پر حکومت کا اتحادی بنا۔ پارلیمنٹ میں اگر آرمی ایکٹ کی منظوری جیسا ماحول بنے تو شاید الگ صوبہ بن جائے ورنہ تحریک انصاف اس گروپ کا مطالبہ پورا کرنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتی۔ بس ان کو با اختیار بنا کر مدت پوری کی جا سکتی ہے۔چند واقعات پیش خدمت ہیں شاید کوئی اتحادی ان سے سبق سیکھ لے۔ کیا آپ جانتے ہیں‘ ایک سکینڈ میں اربوں روپے کا نقصان ہو جائے تو انسان کیسا محسوس کرتا ہے‘ لوگ ایک لمحے کے لئے غلط اندازہ لگاتے ہیں اور بھاری نقصان سے دوچار ہو جاتے ہیں۔

گولف کے شہرہ آفاق کھلاڑی ٹائیگر ووڈز نے اپنی بیوی سے بے وفائی کی۔ ایلن نور گرین  نے طلاق کا مقدمہ کر دیا۔ ٹائیگر کو 750ملین ڈالر ادا کرنا پڑے۔ کیپٹن ایڈورڈ سمتھ ٹائی ٹینک کو آئس برگ کی طرف لے گیا اور 7.5ملین ڈالر کا جہاز غرق کر دیا۔ بہت سی زندگیاں الگ سے ضائع گئیں۔انگلینڈمیں ایک معمر خاتون کی 181ملین ڈالر کی لاٹری نکل آئی۔ بدقسمتی یہ کہ اس کے شوہر نے لاٹری ٹکٹ کوڑے میں پھینک دیا۔ایک دانا نے کہا تھا کہ آپ کو اگر بہت سی معلومات مل جائیں تو ضروری نہیں کہ وہ سب لکھ دی جائیں۔ یہی کہہ کر اکتفا کرتے ہیں کہ پنجاب میں اتحادیوں کے مابین ایک فٹ بال میچ ہو رہا ہے جسے وقتی طور پر روک دیا گیا ہے۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *