کمال کے شہر میں تین باکمال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ادب کے مؤرّخین نے اکثر یہ بات محسوس کی ہے کہ بعض بعض شہروں کی زندگی (یا شخصیت) کا بڑا حصّہ ان شعرا اور فن کاروں کا مرہونِ منّت ہوتا ہے جو وہاں قیام پذیر ہوتے ہیں۔ انّیسویں صدی کا پیرس تو خیر اس معاملے میں لاجواب بلکہ عدیم النّظیر ہے، کہ اس پوری صدی میں وہاں ایک سے ایک نامور مصوّر، ایک سے ایک بلند درجہ شاعر، ایک سے ایک بڑھ کر ناول نگار، تمام دنیا میں ممتاز اداکار اور اداکارائیں، وہاں وہ سب موجود تھا کہ جو کسی شہر کو فنونِ لطیفہ کا دارالخلافہ قرار دیے جانے کا استحقاق عطا کرتا ہے۔ اٹھارویں اور انّیسویں صدی میں (خاص کر اٹھارویں صدی کے ربع دوم سے لے کر انّیسویں صدی کے نصف اوّل تک) ہماری دہلی بھی پوری طرح فن اور علم کا دارالخلافہ کہلانے کی مستحق تھی۔ انگریز، یا انگریز پرست مورّخین (جن میں ہماری اُردوکے اکثر بڑے لوگ شامل ہیں)، کچھ بھی کہیں، لیکن ان کم و بیش پندرہ دہائیوں میں دلّی کا کوچہ کوچہ ایسے لوگوں سے بسا ہوا تھا جو ایک فن نہیں، بلکہ مختلف اور اکثر متغائر فنون میں، یدِطولیٰ رکھتے تھے۔ تاج محل اور دوسری عمارتوں کے معماروں کے خاندان کے چشم و چراغ خیر اللہ مہندّس ایسے ہی ایک ّمحیر العقل شخص تھے۔ جنتر منتر کی پیچیدہ اور سائنسی مزاج کی عمارت انھیں کی تعمیر کی ہوئی ہے۔ اور اپنے عظیم الشّان لغت ’فرہنگِ آنند راج‘ میں اکثر کسی نکتے یا محاورے پر بحث کرتے ہوے ٹیک چند بہار نے جن ’خیر المدقّقین‘ کا حوالہ دیا ہے وہ یہی خیر اللہ مہندّس ہیں۔

دلّی کی میراث کچھ حد تک، او ر کچھ مدّت کے لیے، لکھنو کو ملی۔ انّیسویں صدی کے ربع اوّل سے لے کر بیسویں صدی کے ربع اوّل کا لکھنو بھی ایک گنجِ باد آورد تھا جہاں ہر طرح اور ہر رنگ کے جوہرِ قابل جگمگا رہے تھے۔ اس کی تھوڑی بہت تفصیل ہمارے عزیز دوست اسلم محمود مرحوم نے اپنی قابلِ قدر کتاب Awadh Symphony میں درج کر دی ہے۔ لیکن باہر والوں کے لیے (خاص کر دہلی سے آنے والوں کے لیے) لکھنو بس لکھنو ہی رہا، دلّی نہ بن سکا۔ میر یہاں کم و بیش خوشحال رہے اور مصحفی اکثر بدحال، بلکہ بے حال رہے۔ لیکن لکھنو کے لیے نہ میر کے دل میں محبت آسکی اور نہ مصحفی کے دل میں:

خرابہ دہلی کا دہ چند بہتر لکھنو سے تھا

وہیں اے کاش مر جاتا، سراسیمہ نہ آتا یاں

آباد، اُجڑا لکھنؤ، چغدوں سے اب ہوا

مشکل ہے اس خرابے میں آدم کا بودوباش

گو لکھنؤ ویراں ہوا، ہم اور آبادی میں جا

مقسوم اپنا لائیں گے، خلقِ خدا ملکِ خدا

یہ شعر تو میر کے مختلف دیوانوں سے مجھے بر وقت یاد آئے اور میں نے حاضر کیے۔ مصحفی کے صرف ایک دیوان (چہارم) سے کچھ شعر دیکھیے:

ذرا اے مصحفی ان لکھنؤ والوں سے بچتا رہ

کہ تو ہے بے شر اور یاں دور ہے ناداں شریروں کا

زر ہاتھ لگا نہ لکھنؤ میں

ہے مصحفی یہ دیارِ بے فیض

رونق تھی لکھنؤ کی تو آصف سے مصحفی

اب کیا کرے گا رہ کے کوئی اس دیار میں

یہاں میر بھی یاد آ گئے :

خالی پڑا ہے خانہِ دولت وزیر کا

باور نہ ہو تو آصف آصف پکار دیکھ

یہ دونوں شعر شاید اس زمانے کے ہوں جب آصف الدّولہ کے بعد کچھ ہفتوں کے لیے وزیر علی خان مسند نشین ہوے اور ہر طرف کچھ افراتفری سی تھی۔ بالآخر انگریز بہادر نے انھیں معزول کر کے اور سعادت علی خان کو بنارس سے بلا کرمسند آرا کر کے ہی سانس لی۔

بعد کے زمانے میں مجاز اور عرفان صدّیقی لکھنؤ کے پرستاروں میں تھے، لیکن ایمان کی کہیے تو لکھنؤ اور ان کی وحدت اس طرح ناگزیر نہ تھی جس طرح میر انیس اور میرزا دبیر اور غفراں مآب اور خان علّامہ کے لیے تھی، کہ لگتا تھا لکھنو ان کے لیے ہے اور وہ لکھنؤ کے لیے۔ مجاز کے لیے لکھن وشہرِ نگاراں تھا اور عرفان صدّیقی نے دلّی کی ’جلا وطنی‘ کے زمانے میں کہا: میرے بغیرلکھنؤ دشتِ غزال کے بغیر۔ مگر مجاز اور عرفان تک آتے آتے زمانہ کہیں کا کہیں پہنچ گیا تھا۔ اور کیا لکھنؤ کے لیے مجاز ویسے ہی تھے جیسے اختر شیرانی کے لیے لاہور، یا کرشن چندر کے لیے لاہور؟

لاہور کو اُردو والوں کا لاہور بنتے عرصہ لگا۔ لیکن ہزار برس پہلے کا مسعود سعد سلمان لاہور کی یاد میں آٹھ آٹھ آنسو رو چکا تھا اور اسے لہانور کہتا تھا۔ پھرکیا عجب کی بات کہ لاہور میں نہ رہنے والی لیکن لاہور کو سمجھنے والی عصمت چغتائی نے لکھا: ’لاہور کی ہوا میں نور گھلا ہوا ہے۔‘ ا ور لاہور کے عاشقِ زار کرشن چندر نے افسانے کے پردے میں کہا:’ ’جب کبھی انسانیت میں میرا ایمان ڈگمگانے لگتا ہے میں اس گلی کی خاک کو اپنی آنکھوں سے لگا لیتا ہوں اور پھر زندہ ہو جاتا ہوں۔ “

یوں تو ہمارے ادب کے مراکز متعدّد ہوئے ہیں، اور ہر ایک کی اپنی متانت ہے اور اپنا طنطنہ بھی۔ ہمارے زمانے میں حیدرآباد، ہم سے پہلے رامپور، مرشد آباد، عظیم آباد، اور کئی ان سے بھی چھوٹے لیکن توانائی اور رنگ سے بھرے ہوے، لیکن لاہور والی بات کسی میں نہ آئی۔ محمد حسین آزاد اور الطاف حسین حالی کے زمانے میں بھی لاہور ادبی مرکز تھا، نئی باتوں کا سر چشمہ تھا۔ لیکن اس لاہور میں وہ بات نہ تھی جو بیسویں صدی کی دوسری چوتھائی سے کچھ پہلے روشنی دینے لگی تھی، اور وہ روشنی کچھ معطّر معطّر سی بھی تھی۔ جس جس درجے میں وہ بات بڑھی اسی درجے میں لاہور کے عشّاق میں اضافہ ہوتا رہا۔ اور جیسے عاشق لاہور کو نصیب ہوے (اور میں تو کہتا ہوں کہ اب بھی ہیں) ویسے کم از کم ادب کے میدان میں دلّی کو بھی نصیب نہ ہوے۔ کچھ تو بات یہاں ہو گی جو ’ کرشمہ دامنِ دل می کشد کہ جا ایں جاست‘ والا رمز رکھتی ہو گی؟

محمود الحسن بھی ایک چھوٹے موٹے لاہور ہیں۔ خاموش رہتے ہیں تو لگتا ہے کسی کالج میں پڑھتے ہوں گے۔ بولنا شروع کرتے ہیں تو ان کی حسِ مزاح، دنیا اور دنیا والوں کے تئیں ان کی طنزیہ نگاہ، ان کا وسیع مطالعہ اور اتنا ہی اچھا حافظہ متحیر کر دیتے ہیں۔ انتظار حسین اور محمود الحسن کی عمروں میں، خاندانی اور تاریخی (اور جغرافیائی) پس منظر میں، کس قدر تفاوت تھا، لیکن ایک وقت وہ آیا جب محمود الحسن اور انتظار بزرگ اور خورد نہیں، استاد اور شاگرد نہیں، مدّاح اور ممدوح اور ہم مشرب ادب دوست اور کبھی کبھی تو انتظار حسین کے نفسِ ناطقہ نظر آنے لگے۔ انتظار صاحب ڈبائی جیسی چھوٹی موٹی کم و بیش گمنام جگہ سے اٹھے (مجھے ڈبائی کا نام اس لیے لڑکپن ہی میں معلوم تھا کہ میں نے دعا ڈبائیوی کی بہت سی نظمیں پڑھی تھیں، لیکن مجھے یہ نہ معلوم تھا کہ ڈبائی کس ضلعے میں ہے)، خیر، انتظار صاحب ڈبائی سے اٹھے اور میرٹھ ہوتے ہوے لاہور پہنچ گئے اور پھر لاہور نے ان کو اپنا لیا۔ کچھ ایسا ہی معاملہ کرشن چندر، بیدی اور کنھیا لال کپور صاحبان کا تھا، اس فرق کے ساتھ کہ لاہور نے انھیں اپنایا ضرور، اور انھوں نے لاہور کو اپنے دلوں میں وہ رتبہ دیا جو میر نے اپنے معشوق کو دیا تھا: ’قبلہ و کعبہ خداوند و ملاذ و مشفق‘ لیکن چرخِ کج رفتار کو دلوں کا یہ میل پسند نہ آیا۔ وہ اس میل کو ہم اُردو والوں کے ’میل‘ میں تو نہ بدل سکا لیکن تفرقہ پردازی میں کامیاب ضرور ہوا۔ اب لاہور وہ لاہور نہ تھا جس میں کرشن اور کنھیا کے قہقہے تھے اور بیدی کی آہیں تھیں۔

کتنی اچھی بات ہے کہ محمود الحسن نے ان نابغہِ روزگار عشّاقِ لاہور کو لاہور میں رکھ کر ہمیں دکھا دیا کہ شہر ہو تو ایسا ہو، عاشق ہوں تو ایسے ہوں۔ اس بیان میں گوپال متّل کا نام بھی کہیں کہیں آگیا ہے، کچھ ذرا ان کا تذکرہ بھی آ جاتا اور لطف کی بات ہوتی، لیکن اب بھی جتنا ہے وہ میں نے کہیں اور نہیں دیکھا۔ ہم سب کو محمود الحسن کا شکر گزار ہونا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شمس الرحمن فاروقی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *