طاعون نے کیسے نئی دنیا تشکیل دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

طاعون کی وبا نے دنیا میں انسانی جانوں کو تلف کرنے کے ساتھ ایک نئی دنیا بھی تشکیل دی تھی۔ چودہویں صدی عیسوی میں طاعون کی وبا نے دنیا کے ایک بہت بڑے حصے کو متاثر کیا۔ یہ بیماری چین سے سلک روٹ کے ذریعے دنیا میں پھیلی۔ اس بیماری نے جلد ہی قسطنطنیہ، شمالی افریقہ، فرانس، اٹلی اور ان سے متصلہ خطوں میں ایسی تباہی پھیلائی کہ ان کی آدھی ابادی صفحہ ہستی سے مٹ گئی۔ برطانیہ کے لوگوں کو پتا تھا کہ یہ بیماری ان کے ملک میں بھی پہنچنے والی ہے اس لیے بادشاہ کے حکم سے چرچ میں اس وبا سے بچاؤ کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا لیکن وبا آئی اور برطانیہ کی آدھی آبادی کو نگل گئی۔

اس آفت نے معاشرے کو بری طرح متاثر کیا۔ کچھ لوگ پاگل ہوگئے تو کچھ نے نشے میں پناہ حاصل کی۔ کچھ نے عیاشی کے اڈوں کو ٹھکانہ بنا لیا کہ جو دن بچے ہیں وہ دنیاوی مسرتوں میں گزارے جائیں۔ اس وقت یورپی بشمول برطانوی معاشرے میں جاگیردارانہ نظام نافذ تھا۔ طاعون کی وبا سے کسانوں کی آباد ی کا ایک بڑا حصہ بھی صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔ بچ کچھے کسانوں نے زمینوں پر کام کرنے کے لیے اپنی مزدوری میں اضافے کا مطالبہ کیا اور اس کے ساتھ ساتھ ان جرمانوں کا خاتمہ بھی چاہا جو بادشاہ اور جاگیردار حیلے بہانوں سے ان سے وصول کرتے رہتے تھے۔

ان کے مطالبات کو مانتے ہوئے نئے معاہدے ترتیب دیے گئے۔ تاہم اس وقت کی برطانوی حکومت نے ان معاہدوں کو منسوخ کرنے کے لیے ایک حکم نامہ جاری کیا جس کے تحت پرانے معاوضے پر کھیتوں میں کام کرنے والے کسانوں اور مزدوروں کو کام کرنے کا پابند بنایا گیا۔ تاہم اس وقت کنگ ایڈورڈ سوئم کی جانب سے جاری کیے جانے والے اس حکم کے خلاف کسانوں نے احتجاج اور بغاوت برپا کر دی۔ واٹ ٹیلر کی سربراہی میں ان باغیوں نے لندن تک پر قبضہ کر کیا۔

تاہم اس بغاوت کو جلد ہی فرو کر دیا گیا اور ٹیلر کو پکڑ کر پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ اگرچہ باغیوں کو کچل دیا گیا تاہم شاہی حکم پر عمل درآمد کے لیے کوئی نئی حکومتی کوشش بروئے کار نہیں لائی گئی۔ فیوڈل لیبر مارکیٹ بتدریج تحلیل ہونے لگی جس کے نتیجے میں شمولیتی لیبر مارکیٹ نے جگہ بنانا شروع کر دی۔ طاعون کی وبا نے دنیا کے دوسرے خطوں کی طرح مشرقی یورپ کو بھی متاثر کیا۔ وہاں بھی جاگیردارانہ نظام قائم تھا۔ جب طاعون کی وبا نے آبادیوں کو صفایا کیا تو کسانوں کی بھی قلت پڑ گئی۔

تاہم مشرقی یورپ میں کسی ایسی تحریک نے جنم نہیں لیا کہ جو فیوڈل لیبر مارکیٹ کے مقابلے میں شمولیتی لیبر مارکیٹ کو فروغ دے پاتی۔ چودہویں صدی عیسوی کے وسط تک مغربی اور مشرقی یورپ کے سیاسی اور اور معاشی ادارے تقریباً یکساں تھے۔ لیکن سترہویں صدی عیسوی کے شروع تک دونوں دو مختلف انتہاؤں پر کھڑے تھے۔ مغربی یورپ میں مزدور اور کسان استحصال سے نجات پا چکے تھے جبکہ مشرقی یورپ میں مزدور و کسان کا بد ترین استحصال جاری رہا۔

طاعون کی اس وبا سے ہونے والی ہلاکتوں پر اسے بلیک ڈیتھ یعنی سیاہ موت قرار دیا گیا تھا لیکن یہ تاریخ کو اہم موڑ بھی ثابت ہوئی۔ تاریخ کا نازک دوراھا دو دھاری تلوار کی طرح ہوتا ہے جو کسی کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیتی ہے یا پھر اس تلوار سے اس نا انصافی، استحصال اور ظالمانہ رسم و رواج کا قلع قمع ہوتا ہے جو کسی معاشرے یا ملک کا خون چوس رہے ہوتے ہیں۔ طاعون کی وبا کی ہلاکت خیزیوں کے بعد برطانیہ میں فیوڈل نظام زمین بوس ہوا اور شمولیتی معاشی اداروں کو فروغ حاصل ہوا۔

اس کے بالمقابل مشرقی یورپ میں اس وبا نے انسانی جانوں کا خراج وصول تو کیا لیکن یہ خطہ اس طوفان کے بعد بھی صدیوں پرانے نظام میں بدستور جکڑا رہا۔ طاعون کی وبا کے بعد برطانیہ میں شمولیتی معاشی اداروں کو فروغ ملا اور اس کے اثرات نے گردو نواح کے ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس سفر کی شروعات نے معاشی شمولیتی اداروں کے بعد سیاسی شمولیتی اداروں کی راہ کو ہموار کیا اور یہ سفر بڑھتے بڑھتے صنعتی انقلاب تک بڑھتا چلا گیا۔ ایک وقت آیا کہ برطانیہ اپنی صنعتی قوت کی بنا ء پر ”ورلڈ ورکشاپ ’کہلایا۔ طاعون کی وبا مسائل اور تکالیف کے ساتھ ساتھ وہ مواقع بھی لائی کہ جسے برطانیہ کا معاشرہ اپنی دام گرفت میں لایا اور اس سفر پر گامزن ہوا کہ اس کی سلطنت کا سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔

آج کرونا وائرس کی تباہ کاریوں سے چین اور دنیا لرزہ اندام ہے۔ اس آفت کی ہلاکت خیزیوں نے چین کو سب سے زیادہ اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی یہ وائرس پہنچ چکا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے۔ دنیا اس سے لڑنے کے لیے کمربستہ ہو چکی ہے۔ سب سے بڑھ کر چین اس سے نبرد آزما ہونے کے لیے پوری طرح مستعد ہے۔ چینی صدر نے کرونا وائرس کے خلاف مہم کو ”پیپلز وار“ قرار دیا ہے۔

چینی قوم اس سے جوانمردی اور پورے عزم کے ساتھ لڑنے کے لیے تیار ہے اور جس قسم کی اطلاعات پہنچ رہی ہیں اس سے قوی امکان ہے کہ چینی قوم اس آفت کو زیر کر ڈالے گی۔ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔ دنیا کی صف اول کی معیشت بننے کے لیے اسے امریکہ کو پچھاڑنا ہو گا لیکن کرونا وائرس نے چین کے اس منصوبے کو فی الحال بری طرح مجروح کیا ہے۔ تاہم چینی قوم کے لیے یہ کرونا وائرس شاید وہ مواقع لایا ہو کہ جو ان کی مشکلات اور مسائل سے لڑنے کی صلاحیت کو دوچند کر دے۔

اسی صلاحیت کی بنیاد پر چین اپنے صف اول کے معاشی حریف کو مستقبل قریب یا بعید میں شکست دے کر دنیا کی سب سے مضبوط و بڑی معیشت کا جھومر اپنی ماتھے پر سجا لے۔ ہر قوم کے لیے ان تاریخی واقعات، حادثات اور سانحات میں سبق پنہاں ہوتے ہیں۔ ہم جیسی قومیں ان حادثات و سانحات پر عجیب و غریب رویے اپنا کر کبھی انہیں آسمان سے نازل بلائیں سمجھتے ہیں تو کبھی برطانیہ کے چرچ کے پادریوں کی طرح دعاؤں میں ہی وقت گزار دیتے ہیں جو طاعون کی وبا کو دعاؤں سے دور کرنے کے خبط میں مبتلا تھے۔ زندگی کی کشتی عمل کے بھاری پتواروں کو ہلانے سے آگے بڑھتی ہے اور شاعر نے طوفان سے آشنا ہونے کی تمنا اس لیے کی تھی کہ شاید وہ ہمیں بیدار کر دے جو صدیوں سے عالم مدہوشی میں مبتلا ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *