اچھے شاعر اور ڈاکو شاعر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوئی بے سرا یا لطیف جذبات و احساسات سے عاری شخص ہی ہوگا جسے شاعری پسند نہ ہو۔ ورنہ آج کل لوگ نثر سے زیادہ شاعری کو پسند کرتے ہیں۔ اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو سروے کرلے آج کل شاعری کو نثر سے زیادہ پذیرائی ملتی ہے۔ ہر بندے کو برے شاعروں کے نہ سہی اچھے شاعروں کے چند اشعار ضرور یاد ہوں گے۔ چونکہ پاکستان کے لوگ زیادہ جذباتی ہوتے ہیں اور شاعری میں جذباتیت بڑھانے کے لئے کافی مواد موجود ہوتا ہے۔

اسی ولولہ انگیز شاعری کو بروئے کار لاکر مسجد کا مولوی، جلسہ گاہ میں سیاستدان، محفل موسیقی میں گائیک اور کلاس میں ٹیچر کے علاوہ لاتعداد شعبوں سے تعلق رکھنے والے سپیکرز اپنے سامعین سے واہ واہ کی داد وصول کرتے ہیں۔ علامہ اقبال کی شاعری کو خادم حسین رضوی نے فیض آباد دھرنے میں اپنے مریدین کا لہو گرمانے کے لئے استعمال کیا۔ علامہ اقبال نے اپنی شاعری کو خوابیدہ قوم کو جگانے کے لئے استعمال کیا۔ جبکہ حبیب جالب اور فیض نے اپنی شاعری کو نظام بدلنے اور حکومت وقت کو للکارنے کے لئے استعمال کیا۔

جون ایلیا، محسن نقوی اور احمد فراز نے اپنی شاعری سے رومانس کی ایک نئی کیفیت پیدا کی۔ ان شعراء کو پڑھ کرکچھ نوجوان رومانس سے جھومنے لگے، کچھ نوستلجیا کی دنیا میں کھو گئے، اور بعض انقلابی بن گئے۔ یہ لوگ شاعروں کی ہر ادا پہ فدا ہوتے ہیں اور ان کے نظموں اور غزلوں کو گنگناتے ہیں اور ڈھول کی تاپ پر ان کے ساتھ رقص بھی کرتے ہیں۔

یہ ہمیں معلوم ہیں کہ کچھ شاعروں کو یہ صلاحیت خداداد ملتی ہے اور کئی تک بندی سے شاعر بنتے ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ جب آپ کے گردوپیش میں مصیبت کا سماں ہو، غم و الم ہو، عشق ناتمام ہو، دل ڈوبا ہوا ہو یا کوئی خاص کام نہ ہو تو شاعری انگڑائیاں لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس ملک میں بے روزگاری زیادہ ہو وہاں شاعروں کی ایک کھیپ تیار ہوتی ہے۔

بعض لوگ تو شاعری کی الف ب سے بھی واقف نہیں ہوتے مگر شاعری سے اپنے دل کا بھڑاس باہر نکالتے ہیں۔ مثلا ایک ویلے شاعر سے میں نے کہا کہ آپ شاعری کیوں کرتے ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ میرے دادا شاعر تھے اس لیے میں بھی اس ڈگر پر چل پڑا۔ میں نے ان کی توجہ دلائی کہ آپ کی شاعری سرکار کے خلاف ہیں یا معاشرے کے جبر وستم کے خلاف یا رومانیت سے بھری پڑی ہے؟ اس نے میری طرف ایسی حیرانگی سے دیکھا جیسے میں نے ارسطو اور افلاطون کا فلسفہ پوچھا ہے۔

فرمایا کہ اور تو میں کچھ نہیں جانتا مگر شعر میں وزن لانا میرے بائیں ہاتھ کاکام ہے۔ میں نے مذید پوچھ گچھ کی کہ اس نے کون سے شعراء کو پڑھا ہے تو فرمایا کہ نویں اور دسویں جماعت میں اردو کے مضمون میں بہادرشاہ ظفر اور حالی کو پڑھا ہے جس کے بعد میں نے بھی شاعری کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنادیا ا ور اب تک کئی غزلیں لکھ کر دادا وصول کی ہے۔ میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی تعریف کی اور ان کے کلام سے مزید بچنے کے لئے اپنی راہ لے لی۔

شاعروں میں بعض ڈاکو شاعر بھی ہوتے ہیں جن میں شعر بنانے کی تخلیقی صلاحیت ہوتی ہے اور نہ ہی ان پر شعر بارش کی طرح اوپر سے برستے ہیں۔ مگر ان کے پاس ایک مجرب نسخہ ہوتا ہے۔ وہ دوسرے شاعروں سے الفاظ اور خیالات چراتے ہیں اور اسی کاپی پیسٹ سے وہ کئی کئی کتابوں کے مصنف بن جاتے ہیں۔ اسی پر ایک واقعہ پڑھ لیجیے۔ میرے بابا کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ کے نانا (جو کہ اپنے علاقے کے مشہور شاعر تھے ) کے کلام کو اسی کے ایک شاگرد نے ڈاکٹر اعظم اعظم کو سنائی (پروفیسر ڈاکٹر اعظم اعظم پشاور یونیورسٹی میں پشتو پڑھاتے تھے ) ۔

پروفیسر صاحب شاگرد کے اس کلام سے بہت متاثر ہوئے۔ بعد میں جب میرے نانا کی ملاقات ڈاکٹر اعظم سے ہوئی تو اس نے یہی کہا کہ آپ کے علاقے کا ایک نوجوان ہے جو اچھا شاعر ہے۔ میرے نانا نے کہا کہ مجھے بھی ان کا کلام سنائیں۔ مختصر یہ کہ شاعری میرے نانا کی تھی مگر مقطع میں شاگرد صاحب نے اپنا نام ڈالا تھا۔ اس چوری پر بعد میں اس شاگرد کی گالیوں سے خوب تواضع کی گئی۔

کچھ شاعر ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی شاعری میں کوئی خاص مقصد یا پیغام نہیں ہوتا مگر اپنے اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اپنی شاعری کو بام عروج تک پہنچا دیتے ہیں۔ وہ سنگرز کو پیسے دے کر اپنا کلام سنانے کے قابل بنادیتا ہے۔ ریڈیو اور ٹی وی کے دوستوں کا منت ترلا کرکے کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ایسے شاعروں کی مثال اس ڈاکٹر کی سی ہے جس کا ڈھنڈورا خواتین گھر گھر پیٹتی ہے کہ فلاں ڈاکٹر بہت اچھا ہے۔ اس سے علاج کراؤ۔ وہ ڈاکٹر کئی عرصے تک پروپیگنڈے کی وجہ سے مشہور ہوتا ہے۔ لیکن بعد میں وہی خواتین اس ڈاکٹر کو برا بھلا کہتی ہے۔ کیونکہ محلے میں کسی نئے ڈاکٹر کی آمد ہوتی ہے۔

کچھ فیس بکئے شاعر بھی ہوتے ہیں جو فیس بک اور دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے اپنا نیا کلام پیش کرتے ہیں۔ ایسے شاعر ردیف، قافیہ، نظم، غزل، مرثیہ، قصیدہ، مثنوی، رباعی، مرثیہ، آزاد نظم وغیرہ میں فرق نہیں کرسکتے مگر اپنے شعروں کی محفل سجائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ ایک مرتبہ ایک نابالغ شاعر نے اپنی شاعری فیس بک پر پوسٹ کردی۔ کئی لوگوں نے اس پر واہ واہ کا کمنٹ کیا۔ بہت سو ں نے کئی قسم کے ایجیکٹیوز (اسم صفت) استعمال کیے، چند لوگوں نے اس کے کلام کو جون ایلیا سے جوڑ لیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ اس شاعر نے اپنے کئی دوستوں سے براستہ ایس ایم ایس شعروں کی تعریف کے لئے پیغام بھیجا تھا۔

دنیا میں اور پھر خاص طور پر پاکستان میں ایسے شاعر گزرے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری سے لوگوں میں شعور پیدا کیا۔ اپنی شاعری سے تعلیم دی۔ اور نئی نئی دریافتیں کیں۔ اور کئی شاعر ایسے بھی تھے اور ہیں جو غالب کے بقول بنا ہیں شاہ کا مصاحب پھرے ہیں اتراتا، جو حکومت وقت کی تعریفیں کرتے ہیں۔ وہ اپنے الفاظ بیچتے ہیں اور ان کے قلم کی سیاہی بطور پروپیگنڈہ استعمال ہوتی ہے۔

بات شاعری کی ہو رہی تھی تو شاعری ایک فن ہے اور اس فن کو تخیل اور مشاہدے سے رنگین کیا جاسکتا ہے۔ اگرآپ کے پاس مناسب الفاظ نہ ہو تو شاعری کا ستیاناس ہوسکتا ہے۔ بعض اوقات آپ اپنے الفاظ کا اظہار صحیح طریقے سے نہیں کر پاتے۔ اگر آپ کے پاس الفاظ ہو، زبان کی فہم ہو، اپنے رسوم و رواج سے آشنائی ہو اور شاعری سے بے انتہا محبت ہو تو پھر الفاظ خود بخود آپ کی گرفت میں آتے ہیں۔ شاعری بعض اوقات کی نہیں جاتی بلکہ ہو جاتی ہے۔

شیلے، جان کیٹس، ویلیم بلیک، ملٹن، ٹی سیلیٹ اور ورڈزورتھ نے انگریزی شاعری کو عظمت کی بلندیوں پر پہنچایا۔ اسی طرح اردو شاعری کو غالب اور میر سے لیکرجوش ملیح آبادی، جگر مرادآبادی فیض احمد فیض، احمد فراز وغیرہ نے نقطہ عروج تک پہنچایا۔ ان کے موضوعات بہت ہی متنوع ہیں۔ جن میں فلسفہ قدرت، رومانیت، عشق مجازی اور عشق حقیقی، سیاست اور معاشرت کی کشمکش اور خوبصورت تخیل کی رنگینی نمایاں ہیں۔ ان شاعروں کے تخیلاتی اڑان اور لفظوں کی مٹھاس اب تک قائم ہیں۔ دوسری طرف ڈاکو شاعر بھی ہیں جن کو لوگ پڑھتے ہیں اور نہ ہی ان کا ادب میں کوئی مقام ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *