تنازعہ کشمیر: نعروں کی بجائے ٹھوس پالیسی  بنانے پر غور کیا جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو روز قبل نئی دہلی سے ڈی پورٹ ہونے والی برطانوی پارلیمنٹیرین ڈیبی ابراہمس  آج اپنےوفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچیں۔  وہ  برطانوی پارلیمنٹ کے کشمیر گروپ کی سربراہ ہیں اور  لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف  انسانی حقوق کی صورت حال  کا جائزہ لینے کے لئے برصغیر کا دورہ کررہی ہیں۔ تاہم بھارتی حکومت نے  انہیں  ملک میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔

آج اسلام آباد میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور برطانوی پارلیمنٹ کے رکن  عمران حسین کے ہمراہ انہوں  ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس دوران مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے  واضح کیا گیا کہ انسانی حقوق کا معاملہ نہ تو کسی ریاست کا داخلی معاملہ ہے اور نہ ہی  اسے دو ملکوں کے درمیان تنازعہ  کی حیثیت دی جاسکتی ہے۔  اس معاملہ پر اقوام عالم کو چوکنا رہنے اور مل کر بنیادی حقوق کی بحالی کے لئے کام کرنے کی ضرورت  ہے۔  ڈیبی ابراہمس نے اس حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور حکومت پاکستان کی طرف سے  مثبت طرز عمل اختیار کرنے پر توصیف کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ  اقوام متحدہ نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں جو رپورٹ تیار کی ہے، اس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی  حقوق کے خلاف کئے گئے اقدامات کا ہی ذکر موجود نہیں  ہے بلکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر  میں بھی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بھارت کے برعکس پاکستان نے البتہ  ا س کمی کا اعتراف کیا ہے جو کہ ایک مثبت اور قابل تعریف رویہ ہے۔   ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو بھی پاکستان کی طرح مثبت  طریقہ سے کھلے دل سے انسانی حقوق کی صورت حال کا جائزہ لے کر ان کی اصلاح کے لئے  کام کرنا چاہئے۔

پاکستان  کو مسئلہ کشمیر پر اس حد تک  تو کامیابی نصیب ہوئی ہے کہ دنیا کے مختلف دارالحکومتوں میں انسانی حقوق کے بارے میں غور و فکر کرنے والے  پارلیمنٹیرینز یا  اس حوالے سے سرگرم عالمی تنظیمیں،  بھارتی اقدامات  پر تشویش کا اظہار کرتی  ہیں اور ان کی اصلاح کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ تاہم اس صورت حال کو پاکستان کی سفارتی کامیابی سے زیادہ  بھارت کی ہٹ دھرمی اور سخت گیر رویہ پر ردعمل قرار دیا جانا چاہئے۔ حکومت پاکستان کو بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے  ہوئے    کشمیر پالیسی کے بارے میں  از سر نو غور و فکر کرنے اور بھارتی ہٹ دھرمی سے پیدا ہونے والی صورت حال سے استفادہ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔   اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے سب سے  پہلے اس غلط فہمی سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے کہ   دنیا کے مختلف ملکوں میں کشمیریوں کی حمایت  میں اٹھنے والی آوازیں پاکستان کی سفارتی کامیابی کے لئے کافی ہیں۔ البتہ عالمی سطح پر انسان دوست  عناصر کی بے چینی اور سرگرمیوں  نے پاکستان کو یہ موقع ضرور فراہم کیا ہے کہ  وہ اپنی کشمیر پالیسی پر نظر ثانی کرکے ایسا لائحہ عمل اختیار کرسکے جو بھارت کی ہٹ دھرمی کے باوجود  کشمیر کاز پر مثبت پیش رفت کا سبب  بن سکے۔ اس حوالے سے چند امور  کو پیش نظر رکھنا ضروری ہوگا:

1۔پاکستانی حکومت اور قیادت کو  یہ یقینی بنانا چاہئے کہ ان کا ردعمل محض جذباتی گفتگو   تک محدود نہ ہو۔ اور اسے صرف  داخلی سیاسی ضرورتوں کے لئے استعمال کرنے کا طریقہ ترک کیا جائے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ جب مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بھارتی اقدامات کی وجہ سے کشمیریوں میں  بڑھنے والی بے چینی کا ذکر کیا جائے تو اس کے لئے ٹھوس شواہد اور دستاویزی ثبوت فراہم کرنے کا اہتمام بھی کیا جائے۔ متعدد عالمی ادارے جن میں اقوام متحدہ بھی شامل ہے ،کشمیر  میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں رپورٹس تیار کرتے رہے ہیں لیکن پاکستان نے اس حوالے سے  باقاعدہ  کام نہیں کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی ماہرین اور لیڈروں کی باتیں یا تو نعروں  پر مشتمل ہوتی ہیں یا ان میں   عالمی رپورٹس کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ اسی لئے 2017    کے دوران  اقوام متحدہ میں ایک گفتگو کے دوران سابق پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی  نے فلسطینی بچوں کی تصویر کو کشمیر میں ہونے والے ظلم کے ثبوت کے طور پر پیش کیا تھا۔ اس وجہ سے پاکستانی مؤقف  کو شدید نقصان بھی ہؤا تھا اور خفت بھی اٹھانا پڑی تھی۔  پاکستان  کے پاس آزاد کشمیر میں آباد لوگوں کے ذریعے یا دیگر ذرائع سے  مقبوضہ علاقوں   سے معلومات حاصل کرنا اور ان کو مدون کرکے علمی لحاظ سے پیش کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے۔ تاہم اس طرف فوری توجہ دینے  ضرورت ہے۔

2۔پاکستانی لیڈروں کو تسلیم کرلینا چاہئے کہ یہ کسی ایک پارٹی کا معاملہ نہیں  ہے بلکہ پوری قوم کشمیریوں کے حق خود اختیاری کی حمایت کرتی ہے اور کشمیریوں کی محرومیوں کو ختم کرنے   کا خواب دیکھتی ہے۔ اس لئے کشمیر کے معاملہ پر عالمی اتفاق رائے کی کوشش کرنے سے پہلے قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کی کشمیر پالیسی کو پچاس کی دہائی کی فرسودہ  سوچ سے نکال کر جدید عہد اور ضرورتوں کے مطابق استوار کیاجاسکے۔اس وقت حکومت، سیاسی لیڈر اور ماہرین اگرچہ کشمیر کے سوال پر یکسان جوش و خروش سے بات کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن وہ کسی حکمت عملی پر متفق نہیں ہوتے بلکہ موقع ملتے ہی ایک دوسرے  پر کشمیر کا سودا کرنے کا الزام لگادیا جاتا ہے۔ اس ماحول کو تبدیل کئے بغیر اور کشمیر پر حقیقی قومی یک جہتی پیدا کئے بغیر  مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مثبت پیش رفت کا امکان نہیں  ہے۔

3۔برطانوی پارلیمنٹیرین ڈیبی ابراہمس نے آج پریس کانفرنس میں بھی واضح طور سے  کہا  ہے کہ ان کا کشمیر گروپ نہ تو بھارت کے خلاف ہے اور نہ ہی پاکستان کا حامی ہے بلکہ اسے صرف کشمیریوں کے حقوق سے مطلب ہے۔ اسی لئے اس پریس کانفرنس میں مقبوضہ کشمیر کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر میں بھی انسانی حقوق کی صورت حال کا حوالہ دیا گیا۔  اس تنقید کو فراخ دلی سے قبول کرلینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ  کشمیر پر پاکستان کا مقدمہ مضبوط بنانے کے لئے ضروری ہے کہ  پاکستان ان تمام کمزوریوں کو دور کرے جن کا حوالہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں آیا ہے ۔ آزاد کشمیر کے شہریوں  کے حقوق کے حوالے سے سرکاری حکمت عملی کو  واضح کیا جائے تاکہ اس بارے میں قومی یا عالمی سطح پر کوئی غلط فہمی  پیدا نہ ہو۔

4۔ پاکستان نے کچھ عرصہ سے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ  کشمیر یوں کے لئے اس کی حمایت سیاسی اور سفارتی اعانت تک محدود ہے اور وہ اسے جنگ یا تشدد کے ذریعے حل کرنے پر یقین نہیں رکھتا۔ اسی لئے پاکستان  ان الزامات کو مسترد کرتا ہے کہ پاکستان سے جنگجو عناصر مقبوضہ علاقوں میں جاکر انتشار پیدا کرتے ہیں۔ اس کے باوجود کشمیر کےحوالے سے گفتگو کا رخ کسی نہ کسی حوالے سے جنگ  کی دھمکیوں اور دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی طرف  مڑ جاتا ہے۔ اس طرح کشمیر کی بجائے برصغیر کی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ممکنہ جنگ کو ٹالنے کے بارے میں تشویش کا اظہار ہونے لگتا ہے۔ پاکستان  اگر کشمیر کا سیاسی و سفارتی حل چاہتا ہے تو اس حوالے سے جنگجوئی اور تصادم  کی باتوں  سے گریز کی حکمت عملی اختیار کی جائے۔  یہ بات واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ معاملہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کے اندیشے کے بارے میں نہیں  ہے بلکہ ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق اور  آزادی سے متعلق ہے۔

5۔ اس حوالے سے پاکستان کا مؤقف سامنے لانے اور اس کے مختلف پہلوؤں  پر   مباحث کے بعد قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے قومی اسمبلی یا  پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا یا جائے۔ یہ اجلاس ماضی میں منعقد ہونے والے اجلاسوں سے مختلف ہونا چاہئے۔ ابھی حال ہی میں قومی اسمبلی کے ایک ایسے ہی اجلاس میں  وزیر اعظم اور وزیر خارجہ  کے علاوہ اپوزیشن کی اہم قیادت بھی  موجود نہیں  تھی۔ مباحثہ کے دوران   حکومتی اور اپوزیشن نمائیندوں نے ایک دوسرے پر الزام تراشی کی اور آخر میں ایک ’متفقہ‘ قرار منظور کرلی گئی۔ یہ طرز عمل کشمیر کے مسئلہ پر پاکستانی قیادت کی عدم دلچسپی اور کمزوری کا اعلان نامہ  بن جاتی  ہے۔ پارلیمنٹ کو پالیسی ساز ادارے کے طور پر استعمال کیاجائے جس میں وزیراعظم سمیت تمام پارلیمانی لیڈر خود شریک ہوں اور کشمیر پر حکومتی پالیسی کے خد و خال واضح کئے جائیں تاکہ بے یقینی اور شکوک و شبہات کی فضا ختم ہوسکے۔

6۔ پاکستان اور اس کے لیڈروں کو سمجھ  لینا چاہئے کہ یہ ایک طویل اور مشکل لڑائی ہے۔ اس کے لئے مضبوط اعصاب اور ٹھوس حکمت عملی کی ضرورت ہے۔  اس معاملہ  میں بھارت کو دھمکیاں دے کر اپنے عوام کو جوش دلانے یا  پاکستانی فوج کی صلاحیتوں اور کارکردگی کے اعلان  سے خوف و ہراس کی کیفیت پیدا کرنے سے گریز کیا جائے۔ کشمیر کے سوال پر  عقلی استددلال  کو بروئے کارلانا بے حد ضروری ہے ۔ اس کے لئے جذباتی ماحول کو ختم کرنا اہم ہے۔

کشمیریوں کے لئے پاکستان کے اخلاص پر  کسی کو شبہ نہیں  لیکن  پاکستان کی حکمت عملی اور اس کے لیڈروں کا طریقہ کار  اس اخلاص کا پرتو نہیں رہا۔   اس کام کا آغاز کئے بغیر  کشمیر کے حوالے سے پاکستان مستقبل قریب میں غیر متعلق  فریق کی حیثیت اختیار کرسکتا  ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1457 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *