پاکستان میں افغان مہاجرین کے قیام کے چالیس سال مکمل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں افغان مہاجرین کے قیام کے چالیس سال مکمل ہونے پر اسلام آباد میں انعقاد کیا گیاجس میں پاکستان کی جانب سے مہاجرین کے لئے قربانیاں دینے کا اعتراف کیا گیا۔ کی۔ افغان مہاجرین کے پاکستان میں 40 سالہ قیام اور یکجہتی سے متعلق نئی پارٹنرشپ کے موضوع پر ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینتونیو گیتوریز، قائم مقام امریکی نائب وزیر برائے آبادکاری مہاجرین وتارکین وطن کیرول تھامپسن اوکونیل، اور امریکی نمائندہ برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے شرکت بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ کانفرنس ایک ایسے اہم وقت پر ہو رہی ہے، جب افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین کے مطابق پاکستان میں اس وقت 14 لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود ہیں جب کہ غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم غیر رجسٹرڈ مہاجرین کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے کمشنر فلپو گرینڈی کا کہنا ہے افغانستان میں صورتحال تاحال مستحکم نہیں، وہاں بڑی تعداد میں افغان پناہ گزینوں کی واپسی خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بنے گی جو کہ کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں صورتحال غیر مستحکم ہے اور وہاں روزگار اور معاش کے ذرائع بھی کم ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ افغانستان میں موجودہ صورتحال میں تمام افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے حوالے سے اقوام متحدہ کا ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) بھی ہچکچاہٹ کا شکار ہے کیونکہ بڑی تعداد میں لوگوں کی واپسی افغانستان میں مزید عدم استحکام کا باعث بنے گی۔ ‘

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق دنیا میں 8 کروڑسے زائدپناہ گزینوں کو اپنے گھر خانہ جنگیوں و جنگ کے باعث چھوڑنے پڑے۔ افغانستان میں 40 سال سے مہاجرین کا مسئلہ اقوام متحدہ حل نہیں کراسکی اورسوویت یونین کی مداخلت کو روکنے کے لئے پاکستان کو امریکہ نے ساتھ ملا کر افغانستان میں طویل جنگ لڑی، جس کے نتیجے میں دنیا میں سب سے زیادہ مہاجرین پاکستان میں آئے اور ان کی دو نسلیں اب تک یہاں جوان ہوچکی ہیں۔

گمان غالب تھا کہ سوویت یونین کی شکست کے بعد افغانستان میں امن قائم ہوجائے گا، لیکن متحارب گروپوں کی آپس کی خانہ جنگی میں اٖفغان عوام اپنے ملک نہیں جا سکے اور ان کی بڑی تعداد ایران میں پناہ لینے پر مجبور ہوئی، ایران نے پاکستان کے مقابلے میں، افغان مہاجرین کو شہروں سے دور، کیمپوں کی حد تک محدود رکھا اور گیارہ لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو ایران میں، پاکستان کی طرح آزادی نہیں دی گئی، پاکستان میں 40 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین نے تبدیل کردیا اور پاکستان کے بڑے شہروں میں مستقل آباد ہوگئے۔

افغان مہاجرین کی جہاں دو نسلیں پاکستان میں پروان چڑھی ہیں، وہاں ان کا پاکستانی معیشت میں انہوں نے قدم جمایا، اربوں روپوں کی سرمایہ کاری، اور پاکستانی خاندانوں میں رشتوں کے بعد سماجی طور پر بھی افغان مہاجرین پاکستان میں بس گئے۔ چھٹی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں جس طرح اشرف غنی، اور نریندر مودی، پاکستان کے خلاف زہر افشانی کرتے رہے، اس سے صاف عیاں تھا، کہ افغان مہاجرین کی میزبانی پر پاکستان کی تعریف تو کی جاسکتی ہے لیکن لاکھوں افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لئے امن فارمولا ان کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے، اقوام متحدہ کا کردار یہاں بھی انتہائی غیر موثر ثابت ہوا۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے کمشنر فلپو گرینڈی و افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے حوالے سے اقوام متحدہ کا ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) بھی ہچکچاہٹ کا شکار ہونے کی بنیادی وجوہ میں افغانستان میں غنی انتظامیہ کی انتظامی کمزوری و نیٹو و امریکی افواج کا افغانستان میں عدم کنٹرول ہے۔ اس لئے افغان مہاجرین کی واپسی کو افغانستان میں مزید عدم استحکام کا سبب سمجھا جاتا ہے تاہم فغانستان کا جنگی حل کے بجائے اگر قطر کے سیاسی دفتر کا استعمال مسلسل کیا جاتا رہتا تو آج لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کو اپنے وطن افغانستان میں بسایا جا سکتا تھا، جہاں سے وہ پاکستان کے قانون کے مطابق دوبارہ، پاکستان میں اپنا کاروبار بھی جاری رکھ سکتے تھے، اور جنھوں نے پاکستانی خاندانوں میں رشتے کیے ہیں، ان کے لئے بھی پاکستانی آئین کے مطابق گنجائش موجود ہے۔

دنیا بھر میں ہونے والی ہجرتوں کا تجزیہ کرنا ممکن نہیں ہے، لیکن یہ تجزیہ ضرور کیا جاسکتا ہے کہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہجرت کا شکار، مسلم امہ ہے۔ جس کی بنیادی وجہ مسلمانوں کے درمیان خانہ جنگی ہے، تمام مسلمان اس خانہ جنگی کا حصہ نہیں ہیں، یہ چند گروپ ہیں، جو اپنے مسلمان بھائیوں کو ہی ہجرت پر مجبور کرکے غیر مسلم ادارے اقوام متحدہ اور مغربی ممالک کے رحم و کرم پر وطن چھوڑنے پر مجبورکررہے ہیں۔ ان گروپس کی پشت پناہی کھلے عام ایران، کیسے ملک کررہے ہیں، جو اپنے ایجنڈے کے تحت مسلم امہ کے لئے ایک انتہائی نا پسندیدہ کردار ادا کررہا ہے، اور اقوام متحدہ اُن معاملات میں زیادہ متحرک ہے، جہاں مسلمانوں کے خلاف جنگ ہو، ان پر حملہ ہو، ان کی حکومتوں کو تباہ کرنا ہو، اقوام متحدہ جہاں ہجرت کی ذمے دار ہے وہاں اقوام متحدہ کی غیر فعالی نسلی، لسانی اور مذہبی نفرتوں اور مسلمانوں کے درمیا ن یک جہتی کے فروغ میں خلیج بھی پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے۔

ضروری ہے کہ غیر قانونی طور پر جو مہاجرین پاکستان میں موجود ہیں، انھیں ترغیب دی جائے کہ وہ خود کورجسٹرڈ کرائیں، تاکہ ان کے حقوق کی بحالی کے لئے مربوط پروگرام بنایا جا سکے، اس سلسلے میں قانون نافذ کرنے والوں کو اہم کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ ایسے غیر ملکی مہاجرین کو ان اداروں میں رجسٹرڈ کرائیں، جو خوف کی زندگی بسر کررہے ہیں، پاکستان کے موجودہ حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ اب کسی بھی غیر ملکی بھی اعتبار کرنا، آسان نہیں ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ان ر ملکی مہاجرین کی وجہ سے ان کی قومیت کی وجہ سے، ان کے اپنے ہم قوم بھی پریشانی کا شکار ہوگئے ہیں، انھیں بھی شکوک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، ان کے ساتھ بھی برتاؤ زیادہ تر وہی کیا جاتا ہے جو کسی غیر قانونی طور رہنے والے مہاجر کا ہوتا ہے، اقوام متحدہ کو امن کے قیام کے لئے سنجیدہ رویہ اختیار کرنا ہوگا۔

اگر کسی ملک کی عوام وہاں کے روایتی و ثقافت کے مطابق کسی نظام کو پسند کرتے ہیں تو ان پر زبردستی کسی ایسے نظام کو نافذ کرنے سے گریز کرنا چاہیے، جس سے خانہ جنگی کو فروغ مل رہا ہے۔ افغانستان، شام، صومالیہ، عراق، لبنان، یمن، فلسطین، برما اور پاکستان سمیت جہاں جہاں مسلم ممالک ہیں، وہ عالمی قوتوں کے ایجنڈے کا شکار ہو رہے ہیں، 14 مسلم ممالک کی اپنی غیر فعال تنظیم کو فعال کرنے کی ضرورت ہے، مال و دولت سے مالا مال عرب ممالک اپنے خزانے اُن ممالک میں رکھتے ہیں جس کی وجہ سے مسلم دشمن ممالک اپنی معیشت کو مضبوط کرکے مسلم ممالک کے درمیان غلط فہمیوں، خانہ جنگیوں، بغاوتوں پر اکساتے ہیں، اور عالمی مالیاتی اداروں کی مدد سے ترقی پذیر ممالک کو بلیک میل کرکے اپنی سودی پالیسیاں مسلط کرتے ہیں، جس سے اس مملکت کو اپنے پیروں میں کھڑے میں سالوں سال نکل جاتے ہیں، اور جہاں وہ اس قابل ہوتا ہے کہ اپنی معاشی نظام میں استحکام پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائے تو ترکی، مصر، لیبیا، عراق جیسے ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ انھیں عالمی تنازعات و جنگوں میں الجھا دیا جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *