ادب و فن میں فحش کا مسئلہ (1)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے مہینے اپنی باتوں کے سلسلے میں فراق صاحب نے چند اشعار لیے تھے جنھیں عام طور پر فحش سمجھا جاتا ہے اور بتایا تھا کہ وہ کیوں فحش نہیں ہیں۔ ہر بحث میں اور خصوصاً اس فحش نگاری کی بحث میں کلیے قائم کرنے اور مطلق اصولوں پر جھگڑنے سے کہیں بہتر یہ ہے کہ ٹھوس مثالیں لے کر ان کے حسن و قبح پر غور کیا جائے۔ اور سطح کے نیچے جا کر محض لغوی مطلب کے علاوہ انھیں معنی کی دوسری قسموں (ارادہ، مزاج، لہجہ وغیرہ) کی روشنی میں بھی دیکھا جائے۔ بحث کو صاف اور واضح کرنے کے علاوہ اس میں ایک عام تعلیمی اور تہذیبی فائدہ بھی ہے۔

لیکن میں اتنا خوش یقین نہیں کہ نئے ادب پر عریانی کا الزام لگانے والوں کو بھی اس مقصد سے متاثر ہوتا ہوا سمجھوں۔ جے۔ کے۔ دی ماں، فرانسیسی فطرت نگاروں میں سے ایک تھا اور بعضوں کے نزدیک ان میں سب سے ممتاز۔ اس کے ادبی اصولوں میں سے سماجی مقصد نہیں تھا بلکہ بدی کی رزمیہ لکھنا۔ اس کتاب “Against The Grant” کو، جو آ سکر وائلڈ (Oscar Wilde) کے حلقہ میں پوجی جاتی تھی، شاید جنسی تخریبات کی انسائیکلوپیڈیا کہنا بجا ہو گا۔ لیکن آخر میں اس نے توبہ کر لی تھی اور اکثر بدی کی پرستش کرنے والے مصنفوں کی طرح رومن کیتھولک ہو گیا تھا۔ اسی زمانے میں اناتول فرانس (Anatole France)کے پاس پیغام بھیجا کہ بس اب بہت گندگی سے کھیل چکے، توبہ کرو اور سچے عیسائی بن جاؤ۔ اناتول فرانس نے بصد ادب جواب دیا، “مسیودی ماں کو میرا سلام پہنچانا اور کہنا میسو فرانس انھیں صلاح دیتے ہیں کہ وہ اپنے قارورے کا امتحان کرائیں۔ “

فراق صاحب کی طرح میں نے بھی بحث کے لیے چند مثالیں چنی ہیں۔ ان میں سے کچھ مصوری اور مجسمہ سازی سے تعلق رکھتی ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ان پر لکیر، سطح، تناسب اور حجم کے نقطۂ نظر سے غور کیا جاتا، لیکن میں ان فنون میں کورا ہوں۔ میں نے تو صرف ورق گردانی کرتے ہوئے دو چار مثالیں ایسی چھانٹ لی ہیں، جنھیں فحش سمجھا گیا ہے یا بعض پاک بیں حضرات سمجھ سکتے ہیں۔ میں نے خاص طور پر مذہبی آرٹ کی مثالیں چھانٹی ہیں۔

لیکن مذہبی آرٹ پر ہم اس وقت تک انصاف کے ساتھ غور نہیں کر سکتے جب تک کہ ہم دوسروں کے احساسات کو بھی اتنا ہی قابل وقعت نہ سمجھیں جتنا کہ اپنے معتقدات کو۔ غالباً احساسات کا درجہ معتقدات سے بلند تر ہے ؛ کم سے کم آرٹ کی دنیا میں۔ اور مذہب ہے کیا سوائے زندگی اور کائنات کے بارے میں ایک خاص نقطۂ نظر قائم کرنے کے ؟ ممکن ہے کہ میرے مذہبی اعتقاد کی رو سے سانپوں کو پوجنے والے حبشی کا اعتقاد غلط ہو لیکن اگر میں ایمان دار ہوں تو اس جذبے کی گہرائی، خلوص اور بنیادی حیثیت سے انکار نہیں کر سکتا جس نے اسے سانپ پوجنے پر مجبور کیا۔ بلکہ ممکن ہے، اس کا جذبہ میری توحید پرستی سے زیادہ پر زور، زیادہ سچا ہو اور روح کائنات سے رشتہ قائم کرنے میں اس کی زیادہ مدد کرتا ہو۔ شاید میری باتیں اسلام کے خلاف ہوں لیکن میرا یقین ہے کہ میں “قرآں در زبان پہلوی” کے الفاظ دہرا رہا ہوں : “موسیا، آداب داناں دیگر اند۔ “

 Agostino Di Duccio

تو غرضیکہ ہم کسی زمانے، کسی قوم کے مذہبی آرٹ کو اس وجہ سے رد نہیں کر سکتے کہ اس میں ہمارے مذہبی معتقدات نہیں پائے جاتے۔ اس بنیادی اصول کو ماننے کے بعد زمانہ قبل از تاریخ اور افریقی قوموں کی نقاشی اور مصوری (جو سو فی صدی مذہبی ہے ) سے لے کر مصری، ہندو اور عیسائی مذہبی آرٹ تک دیکھ جائیے۔ پاکیزہ ترین تصویروں اور مجسموں میں بھی جنسی اعضا کو چھپانے کی کوشش نہیں کی گئی، حالاں کہ ان موقعوں پر کسی غیر اور نامناسب جذبے کی مداخلت گوارا نہیں ہو سکتی تھی۔ ایک لمحے کے لیے بھی تصور نہیں کیا جا سکتا کہ ایسے سنجیدہ موقع پر جہاں کائنات کے متعلق صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری جماعت کا رد عمل دکھانا منظور ہو، وہاں کوئی ایسے عنا صر داخل کیے گئے ہوں گے جن کا مقصد جنسی ترغیب و تحریک یا جنسی تجسس ہو۔ جہاں فن کار کی ساری روح ستائش و نیائش یا خوف و ہیبت کے جذبوں میں سمٹ آئی ہو، وہاں اسے جنسی لذت کا خیال کیسے آ سکتا ہے ؟ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ کوئی فن کار اپنے فن پارے کی وحدت تاثر اتنی آسانی سے کیسے برباد کر سکتا ہے ؟ اور خصوصاً جب کہ وہ محض اپنے جذبوں کا اظہار نہ کر رہا ہو بلکہ پوری قوم نے ایک اہم فرض اس کے سپرد کیا ہو…جہاں ذرا سی لغزش میں اسے ابدی لعنت مول لینے کا خدشہ ہو۔ ایسے مقام پر صرف ایسے لوگوں کا ذہن جنس کی طرف جا سکتا ہے جن میں جمالیاتی احساس غائب ہو، یا جن کے دل سے چھچھورے اور سستے مزے کا خیال کبھی نہ جاتا ہو۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ مجسموں اور تصویروں میں جنسی اعضا اس وقت چھپائے جانے شروع ہوتے ہیں، جب زمانہ انحطاط پذیر اور انحطاط پسند ہوتا ہے، جب روحانی جذبے کی شدت باقی نہیں رہتی اور خیالات بھٹکنے لگتے ہیں۔ جب فن کار ڈرتا ہے کہ وہ اپنے ناظرین کی توجہ اصلی چیز پر مرکوز نہیں رکھ سکے گا۔ پتے اس وقت ڈھکے جانے شروع ہوتے ہیں جب فن پارے کی وحدت قوم کی نظر میں باقی نہیں رہتی اور وہ اسے مختلف ٹکڑوں کا مجموعہ سمجھنے لگتی ہے۔ ان چیزوں سے قطع نظر، بعض دفعہ تھوڑا سا پردہ تصویر کو کہیں زیادہ فحش بنا دیتا ہے اور ذہن کو لامحالہ برے پہلوؤں کی طرف لے جاتا ہے، کیوں کہ اس میں وہی sneaking کی صفت پیدا ہو جاتی ہے جس کا ذکر فراق صاحب کیا ہے۔ اس کی درخشاں مثالیں رائل اکیڈمی کی تصویریں اور مجسمے ہیں، جسے انجیر کا پتہ استعمال کرنا پڑے وہ صرف اخلاقی حیثیت سے ہی کمزور نہیں بلکہ شاید اچھا فن کار بھی نہیں ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ بعض اعضا کو اپنے نقش میں کس طرح بٹھائے۔ انجیر کے پتے کے پیچھے وہ عریانی نہیں چھپاتا بلکہ اپنی فنی کمزوری۔ برہنہ جسم دیکھنے اور دکھانے کے لیے بھی بڑی قوت مردمی، بڑی سنجیدگی اور بڑے گہرے اخلاقی اور روحانی احساس کی ضرورت ہے۔ جسم اور جنسی اعضا کو پاک سمجھنا غالباً سب سے مشکل مسئلہ ہے جو انسانی روح کے سامنے آ سکتا ہے۔ جسم کو روح کے برابر پاکیزہ اور لطیف محسوس کرنا ایک ایسا

مقام ہے جو فرد اور قوم دونوں کو تہذیب کی انتہائی بلندی پر ہی پہنچ کر حاصل ہوتا ہے اور یہ دنیا کے دو بڑے تمدنوں، ہندو اور یونانی کا ما بہ الامتیاز ہے۔ اور یہ دونوں آرٹ جسمانی حقیقتوں سے آنکھیں نہیں چراتے۔ یہاں میں یونانی آرٹ کی ایک خصوصیت کا ذکر کروں گا۔ یونانی آرٹ کا اصول آدرش اور مکمل ترین نمونے کی تلاش ہے۔ وہ حقیقت کو بگاڑتا ہے، اسے حسین تر ین شکل میں پیش کرنے کے لیے۔ اس نے اپنی ساری توجہ عورت کے جسم پر ہی صرف نہیں کی بلکہ ایک زمانے میں مرد کا جسم ہی حسن کا آدرش تھا۔ یونانی آرٹ نے دکھایا ہے کہ مرد کے اعضائے تناسل میں بھی اتنا ہی حسن، صداقت اور نیکی ہوتی ہے جتنی وینس (Venus) کے سینے میں۔ اگر حسن نام ہے توازن، تناسب اور آہنگ کا، اور حسن صداقت ہے تو ان مظاہر میں بھی اتنا ہی حسن، صداقت اور نیکی ہے جتنا اپولو (Apollo) کے چہرے میں۔ یہاں پھر یہ یاد رکھیے کہ یونانی آرٹ بھی بہت حد تک مذہبی ہے، خواہ اس کی پرستش کا مرکز کوئی موہوم ہستی نہیں بلکہ انسان ہیں۔ وہ الگ الگ چیزوں کے بارے میں نہیں بلکہ پوری کائنات کے متعلق ایک نقطۂ نظر کا اظہار ہے۔ یونان کے آخر ی دور میں لذت پرستی آ گئی ہو لیکن شروع کا زمانہ قطعاً معصوم ہے۔

یہ نہ سمجھیے کہ تصویر میں جنسی اعضا کی شمولیت کی وجہ جواز محض حقیقت نمائی کا اصول…چونکہ وہ جسم کا حصہ ہیں، اس لیے دکھانا پڑتا ہے۔ نہیں، بلکہ اگر فن کار میں صلاحیت ہے تو یہ حصے اظہار میں اس کی اتنی ہی مدد کر سکتے ہیں جتنی کوئی اور۔ گہری سے گہری روحانی کیفیتیں ان کے صحیح استعمال سے زیادہ واضح کی جا سکتی ہیں۔ فن پارہ ایک وحدت ہوتا ہے۔ اس کے ہر جز کو مرکزی جذبہ کا صرف تابع ہی نہیں ہونا پڑتا بلکہ اسے اظہار اور وضاحت میں بھی معاونت کرنی پڑتی ہے۔ اور پھر بڑا فن کار تو ذرا سے نقطے کو بھی اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ میرے سامنے افریقہ کے ایک چوبی مجسمے کی تصویر ہے جس میں روح کائنات سے خوف زدہ ہونے اور ہیبت سے جم کر رہ جانے کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ صرف دیکھنے ہی سے یہ پتہ چل سکتا ہے کہ مڑی ہوئی متشنج رانوں کے درمیان اور باقی جسم کے تناسب سے ایک چھوٹے سے لکڑی کے ٹکڑے نے اثر میں کیا اضافہ کر دیا ہے …اگوستینو دی دو چیو کی سنگ مرمرپر ابھری ہوئی تصویر ہے؛ “میڈونا اور بچہ” …عیسیٰ کے بچپن کی جتنی تصویریں میں نے دیکھی ہیں، ان میں یہ مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔ کیوں کہ عام طور پر مصور سارا زور تقدس پیدا کرنے میں صرف کر دیتے ہیں لیکن یہاں ایک ایسی چیز پیش کی گئی ہے جو تقدس اور طہارت سے کہیں بلند ہے۔ یعنی بچے میں زندگی کا ابھار، زندگی کا مچلنا، یہ معصوم شوخی اور تبسم کی لہریں جیسی چہرے پر نمایاں ہیں، بالکل ویسی ہی رانوں کی سلوٹوں میں بھی۔ اور جس کیفیت سے جنسی اعضا دکھائے گئے ہیں، وہ چہرے کی معصومیت کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔

مائیکل اینجلو(Michael Angelo) کی مشہور تصویر ہے ؛ “تدفین”۔ عیسیٰ کو بالکل برہنہ دکھایا گیا ہے، کیوں کہ موت کے اثر کو جسم کے ہر حصے سے ظاہر کرنا مقصود تھا اور خصوصاً ٹانگوں سے چہرے پر انتہائی سکون اور روحانیت طاری ہے۔ مصور کو یقین تھا کہ جنسی حصے عریاں کر دینے سے اس روحانی جمال پر کوئی برا اثر نہیں پڑے گا۔ اگر اس کا ذرا سا بھی شائبہ ہوتا تو مائیکل اینجلو جیسا مصور کبھی بھی عریانی کی خاطر عریانی پسند نہ کرتا۔ چنانچہ روبنز نے اپنی تصویر “مردہ مسیح ” میں تھوڑا سا حصہ ڈھک دیا ہے، حالاں کہ یہاں چہرہ پر جمال نہیں بلکہ کسی عام مصلوب لاش کا سا ہے۔ یہ پردہ اس وجہ سے کہ سر پیچھے کی طرف ڈھلکا ہوا ہے۔ اگر جنسی حصے جن کی جگہ تصویر میں آگے ہے، کھلے ہوتے تو وہ نظروں کو وہیں روک لیتے اور بازوؤں کی قوت اظہار میں بھی حارج ہوتے۔ یہ فیصلہ تو فن کارانہ احساس ہی کرتا ہے کہ کسی جگہ عریانی موزوں ہے کہاں نا موزوں۔

بلیک (Blake) کی تصویر “شیطان باغی فرشتوں کو ابھار رہا ہے۔ ” جنسی حصہ پیٹ کے عضلات سے مل کر ایک مثلث بناتا ہے جس کی لکیریں ٹانگوں کو اوپر کے جسم سے الگ کرتی معلوم ہوتی ہیں۔ اس فرق سے ٹانگیں ستون بن جاتی ہیں اور مضبوطی سے اپنی جگہ گڑی ہوئی معلوم ہونے لگتی ہیں اور شیطان کو تو غالباً انجیر کا پتہ سجتا بھی نہیں۔

رودیں (Rodin) کے مجسمے (Bronze Age) پر غور کیجیے۔ یہاں انسان کے اندر فطرت کا احساس بیدار ہوتا ہوا دکھایا گیا ہے۔ یہ احساس پیروں سے سر تک چڑھتا چلا گیا ہے اور جذبہ کی شدت سے آدمی کے ہاتھ اوپر اٹھ گئے ہیں۔ کپڑے پہنا کر تو خیر یہ خیال ظاہر ہو ہی نہیں سکتا تھا اور اگر ہوتا بھی تو اتنا قوی اور صحت ور نہ ہوتا۔ لیکن اگر بیچ میں ذرا سی دھجی ہوتی تو یہ فائدہ ضرور تھا کہ نیک لوگوں کو اسے دیکھ کر آنکھیں نیچی نہ کرنی پڑتیں، مگر لائنوں کا تسلسل ٹوٹ جاتا۔ نظر بیچ میں اٹک جاتی اور ساتھ ہی اس احساس کی روانی بھی وہیں ٹوٹ جاتی اور مجسمے میں وہ بے اختیاری اور از خود رفتگی نہ رہتی جو اب ہے۔ اب تو شدت تاثر اور ہم آہنگی کا یہ عالم ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ سارا جسم سن ہو گیا ہے اور سارا احساس کھنچ کر سر اور بندھی ہوئی مٹھی میں آ گیا ہے …گویا روح ایک نقطے پر یکایک جل اٹھی ہے۔ یہاں جنسی اعضا کی سکون پذیری کیا اثر پیدا کرتی ہے ؟ شاید جسم اور روح کا فرق مٹ جاتا ہے۔

عریانی کی وجہ سے ایسٹپائن جیسا مطعون و مردود رہا ہے، وہ تو بجائے خود ایک داستان ہے۔ اس نے اسٹرینڈ کی ایک عمارت کے لیے عورت اور مرد کی زندگیوں کے مختلف مدارج کے مجسمے بنائے تھے اور اپنی ساری معصومیت اور طہارت قلب صرف کر دی تھی۔ وہ دراصل مرد اور عورت کے تعلقات کے مثالی نمونے تھے اور نیا ئشانہ جذبے سے پر۔ مگر شریف عورتوں نے یہاں صرف عیاشانہ جذبہ دیکھا اور پھر اپنی شکایتوں کے باوجود انھیں دیکھنے بھی جوق در جوق آئیں۔ اسی طرح اس کے مجسمے “پیدائش” کو بھی فحش اور گندا کہا گیا۔ لیکن پھر وینس دی میدیچی (Venus de’ Medici) کو فحش کیوں نہیں کہا جاتا؟ غالباً اس وجہ سے کہ اس کے پستان بہت شہوت انگیز ہوتے ہیں اور ایسٹپائن کا مجسمہ لوگوں کے لیے محض وحشت انگیز تھا۔ رائل اکیڈمی تو چونکہ نارنگیوں اور سنگتروں کی روایت تازہ کرتی رہتی ہے، اس لیے اس کے کارناموں سے ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن محض ایک پھولا ہوا پیٹ اور بدنما پستان دکھا کر ایسٹپائن اخلاق کا دشمن بن گیا تھا۔ حالاں کہ یہاں وہ جنسیت کی بنیادوں تک پہنچ گیا ہے۔ بعضوں نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ یہ حاملہ نہیں بلکہ دھرتی ماتا ہے۔ اسے دیکھنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ جنس کی اہمیت اور عظمت کیا ہے۔

ایسٹپائن ہی کا مجسمہ ہے “آدم”، جسے دیکھ کر خاتونوں کے ہاتھوں سےعینکیں گر گر پڑی ہیں اور جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ مجسمہ ایک آدمی نے نہیں بنایا بلکہ پوری نسل انسانی نے۔ لیکن نسل انسانی نے بھی حیا سوزی کی انتہا کر دی ہے کہ آدمی کو ابو الابا کے جسم میں خیزش دکھائی ہے۔ اول تو آدم کے بارے میں یہ بدگمانی اور پھر اس کیفیت میں۔ چھی چھی!!

لیکن اس مجسمے کے لیے مبالغہ آمیز اسم صفت گنوانے کی بجائے میں اس جسارت کی فنی اہمیت دریافت کرنے کی کوشش کروں گا۔ یونانی اور دوسرے قدیم مجسمہ ساز حرکت دکھاتے ہوں یا نہ دکھاتے ہوں مگر جس دن سے لیسنگ نے فتویٰ دیا ہے کہ مجسمہ حرکت کا اظہار نہیں کر سکتا، صرف سکون کو یا حرکت کو ایک جگہ ٹھہرا کر مجسمہ بنایا جا سکتا ہے ؛ اس دن سے مجسمہ ساز اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ اس روایت کو توڑنے کے لیے رودیں نے چلتے پھرتے آدمیوں کے مجسمے بنائے ہیں لیکن نئے مجسمہ ساز مثلاً ایسٹپائن یا ہنری مور (Henry Moore) اس مادے کا بہت احترام کرتے ہیں جس سے وہ مجسمہ بنا رہے ہوں۔ چنانچہ یہ لوگ پتھر کو وہ شکلیں اختیار کرنے پر مجبور نہیں کرتے جو گوشت و پوست سے مخصوص ہیں۔ حرکت کے اظہار کے لیے وہ پتھر کے اندر سے حرکت پیدا کرتے ہیں۔ اسے اوپر سے توڑتے مروڑتے نہیں۔ اس مجسمہ میں ایسٹپائن کو انسان کی ہمیشہ ترقی کرتے رہنے کی لگن اور مشکلوں سے مقابلہ کی جرأت دکھانی تھی۔ لیکن اس نے آدم کو بھاگتا ہوا نہیں دکھایا بلکہ ہاتھ تک بدن سے جڑے ہوئے ہیں۔ مجسمے کے اندر ایک ایسی اینٹھن، ایک ایسا ابھار اور قوت پیدا کی گئی ہے کہ معلوم ہوتا ہے، آدم زمین سے اٹھ کر اوپر کھنچا چلا جا رہا ہے اور اس میں اپنی انتہائی طاقت صرف کر رہا ہے۔ خود سوچ لیجیے کہ وہ تھوڑی سی بدتمیزی کیا نشوونما پاتی ہے۔ یہاں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جنس انسان کی ترقی میں رکاوٹ نہیں بلکہ مددگار ہے اور اس کی پرورش بھی اتنی ہی ضروری جتنی ذہنی اور روحانی صلاحیتوں کی ہے۔

ہاں، ایک سب سے زیادہ مذہبی زمانہ کو تو میں بھولا ہی جا رہا تھا یعنی یورپ کا عہد وسطیٰ۔ اس زمانہ کی جنسی حقیقت پسندی اور ظرافت کی عریانی تو مشہور ہی ہے لیکن یہ چیزیں مذہبی ڈراموں تک میں داخل ہو گئی تھیں۔ یہ ڈرامے محض تفریح طبع کا ذریعہ نہیں تھے بلکہ ایک قسم کی عبادت۔ لیکن ان میں بھی کھلے کھلے جنسی اشارے معیوب نہیں سمجھے جاتے تھے۔ نوح اور ان کی بیوی اسی ٹھاٹھ سے لڑتے تھے جیسے کوئی اور میاں بیوی۔ اور نوح کی بیوی کی زبان کسی عام عورت سے پاک تر نہیں خیال کی جاتی تھی۔

عریانی سے کیا کام لیے جا سکتے ہیں، دیکھنا ہو تو زولا کے یہاں چلیے۔ کسی عورت کا ذکر آ جائے تو اس کے پستانوں کا حال بیان کیے بغیر وہ مشکل ہی سے بڑھتا ہے۔ شاید کسی سائنس داں نے بھی اتنی قسمیں نہ بیان کی ہوں گی جتنی زولا نے ایک کتاب میں۔ لیکن یہ لذت پرستی نہیں ہے بلکہ نفسیات اور کردار نگاری۔ عورت کے سلسلے میں تیس فی صدی کردار تو وہ پستانوں کے ساتھ ہی بیان کر دیتا ہے اور اس کی داستان حیات بھی۔ زولا کا شاہ کار “جرمینل” ہے۔ یہ سرمایہ اور محنت کی جنگ کی رزمیہ ہے اور اس کا درجہ اتنا بلند ہے کہ آندرے ژید کے خیال میں اسے فرانسیسی میں نہیں بلکہ کسی بین الاقوامی زبان میں لکھا جانا چاہیے تھا۔ مزدوروں نے بغاوت کی ہے اور وہ ہر چیز برباد کرتے پھر رہے ہیں۔ اسی جوش میں وہ ایک سوداگر کو، جو ان کی لڑکیوں کو خراب کیا کرتا تھا، مار ڈالتے ہیں اور اس کے عضو مخصوص کو کاٹ کر ایک سلاخ میں پرو لیتے ہیں۔ زولا کی ذہنی گندگی…لیکن یہ موقع نہایت سنجیدہ ہے اور یہاں اس کی گنجائش ہو ہی نہیں سکتی، اور خصوصاً اس کتاب میں جہاں زولا کھلم کھلا پرولتاری انقلاب کی حمایت کر رہا ہے۔ زولا گروہوں اور ہجوموں کی نفسیات کا ماہر ہے۔ اس میں ٹالسٹائے کے علاوہ مشکل ہی سے کوئی اس کی برابری کر سکتا ہے۔ مزدوروں کی یہ حرکت ایک مشتعل گروہ کے جنون کا آخری درجہ ہے اور نفسیات کے مالک کی طرح زولا اسے دکھانے میں نہیں جھجکا ہے اور اسی سلسلے میں وہ متوسط درجے کے اخلاق پر اور نئی اقدار کے بڑھتے ہوئے حملے کے سامنے بیچارگی اور ریاکاری پر ایک بڑی سخت چوٹ بھی کر گیا ہے۔ جب مزدور اس حالت میں کارخانہ کے منیجر کے مکان کے سامنے سے گذرتے ہیں تو اس کی بیٹی اپنے باپ (یا ماں ) سے پوچھتی ہے کہ یہ کیا ہے ؟ اسے کوئی جواب نہیں ملتا اور آخر دونوں جھینپ کر کھڑکی سے ہٹ آتے ہیں۔ نفسیات کے سلسلے میں شیکسپیئر کی مثال لیجیے۔ اس کے مزاحیہ کرداروں اور بہت سے مردوں کی زبانوں سے تو خیر بڑے تر و تازہ پھول جھڑتے ہیں لیکن یہ گمان بھی نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنی کسی ہیروئن کو مبتذل بنا سکتا ہے اور پھر المیہ کی ہیروئن کلوپیٹرا کو اس نے محض شہوت پرست نہیں دکھایا بلکہ بلند نظر اور پر جلال بھی۔ بری سے بری چیزیں بھی اس کے اندر بھلی معلوم ہونے لگتی ہیں۔ لیکن اس کی گفتگو جنسی علامتوں سے بھری پڑی ہے اور اینٹینی کے روم چلے جانے کے بعد تو یہ عنصر اور بھی بڑھ جاتا ہے اور ہر ہر بات میں اس کی جنسی بے قراری مچلتی ہوئی نظر آتی ہے۔

کلوپیٹرا سے یہ باتیں کہلوا کر شیکسپیئر اسے شورڈچ کی رنڈی نہیں بنا رہا تھا بلکہ اس کی نفسیاتی بصیرت وہ چیز پیش کر رہی تھی جس کا تجزیہ اب آ کر فرائیڈ نے کیا ہے۔ اور نہ اس سے کردار کی بلندی میں کوئی فرق پڑتا ہے بلکہ کلوپیٹرا کی انسانیت اور بڑھ جاتی ہے۔ جنسی جذبے کی شدت اس کی قربانی کو اور بھی پر وقعت بنا دیتی ہے۔ شیکسپیئر مقابلے سے بڑے کام لیتا ہے۔ “اوتھیلو” میں ایک طرف تو ڈیسڈی مونا کی انتہائی معصومیت اور بھولپن ہے، اس کی زبان سے لفظ رنڈی بھی نہیں نکلتا۔ دوسری ایاگو کی دریدہ دہنی ہے جو کسی وقت فحاشی سے باز نہیں آتا اور آخر اس کا اثر اوتھیلو پر بھی پڑتا ہے اور اس کے دماغ پر جنسی ہولناکیاں مسلط ہو جاتی ہیں۔ یقیناً یہ فحش برائے فحش نہیں، نہ چونی والوں کی تسکین کا سامان۔ یہ شدید اور بعض وقت اعصاب زدہ فحش گوئی کی فضا جو اس ڈرامے پر چھائی ہوئی ہے، ڈیسڈی مونا کی شرافت نفس اور سادگی میں چار چاند لگا دیتی ہے اور وہ شیطانوں کے درمیان گھری ہوئی فرشتہ نظر آنے لگتی ہے۔

(جاری ہے)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *