مرشد ہمارے واسطے بس ایک شخص تھا: ڈاکٹر مبشر حسن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

غالباً 2004ء کا وفاقی بجٹ پیش کیا گیا تو استاد مکرم اطہر ندیم مرحوم نے ڈاکٹر صاحب سے مضمون لکھوانے کی ہدایت کی۔ ڈاکٹر صاحب کے گھر میں پی ٹی سی ایل کا فون تھا۔ ان کے تمام ملنے والے جانتے تھے کہ وہ دن کے مخصوص اوقات میں دو تین گھنٹوں کے دوران آنے والے فون سنتے ہیں۔ اس کے بعد کسی کا فون اٹینڈ نہیں ہوتا۔

گلبرگ مین بلیوارڈ پر جہاں ایک سڑک منی مارکیٹ کو مڑتی ہے وہاں نکر پر وہ کشادہ یک منزلہ سادہ سا گھر ہے۔ اسی گھر میں پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ گیٹ کھلا تھا۔ سامنے برآمدہ نما حصہ تھا۔ بیل دی تو ڈاکٹر صاحب خود اندرونی دروازہ کھولنے آئے۔ پوچھا کتنے الفاظ کا مضمون چاہیے میں نے بتا دیا۔ کہنے لگے لکھو! میں لکھنے لگا۔ کوئی آدھ گھنٹہ بعد بولے! بتائو کتنے الفاظ ہو گئے۔ میں نے اندازے سے بتایا کہ کچھ کم ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے قطعیت کے ساتھ کہا: نہیں ‘ پورے ہو گئے۔

دفتر آ کر ٹائپ کروائے تو بالکل پورے تھے۔ بعد میں کئی بار انہوں نے اسی طرح مضمون ڈکٹیٹ کرایا۔ کمال یہ کہ آغاز اور اختتام سمیت مضمون کی پوری باڈی ایسی ہوتی گویا زبان نہیں قلم سے خود لکھا۔مجھے میرے ایک سوال پر بولے کہ بجٹ میں غریبوں کے لئے کچھ نہیں ہوتا صرف پولیس اور عوام پر جبر کرنے والے اداروں کے فنڈز بڑھائے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب سے پہلی ملاقات نے ایسا نقش چھوڑا کہ پھر کئی بار ملا۔ ایک بار پوچھا! فوجی آمریت کا رستہ کیسے روکا جا سکتا ہے۔ کہنے لگے میرے ساتھ سیاست میں آ جائو۔ سو فیصد کارگر علاج بتائوں گا۔ میں نے کہا میرا کام صحافت ہے مجھے صحافی رہنے دیں۔ ڈاکٹر صاحب مرتضیٰ بھٹو کی بیوہ غنویٰ بھٹو کی شہید بھٹو پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما کے طور پر کام کر رہے تھے۔ وہ بے نظیر بھٹو کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مرتضیٰ بھٹو کی بیٹی ذوالفقار علی بھٹو کے نظریات کے نفاذ کے لئے زیادہ کام کر سکتی ہے۔

ایک بار کسی ماہانہ کے لئے ڈاکٹر صاحب کا تفصیلی انٹرویو کیا۔ پوچھا آپ نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں ملازمت کی مگر نکال دیے گئے۔ کیا جرم کیا تھا۔ بولے‘ حکم عدولی۔ لاہور کے نواح میں نوکری تھی۔ یہی مغل پورہ کے پاس شاید۔ روز نہروں میں چھوڑے پانی کی مقدار بتانا ہوتی تھی۔ کچھ سرکاری لوگ غلط اعداد و شمار بتا رہے تھے۔ ان کے کوئی مقاصد تھے۔ میں نے مسلسل درست رپورٹنگ کی تو انہوں نے شکایات کا سلسلہ شروع کر دیا۔

ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ان کے آبائی علاقے پانی پت میں حضرت بو علی قلندرؒ کے ملنگ ننگ دھڑنگ پھرا کرتے سب برداشت کرتے‘ کسی کا رویہ انتہا پسندانہ نہیں تھا۔ کوئی اعتراض کرتا نہ کسی کو ان میں بے حیائی دکھائی دیتی۔ رواداری تھی۔ ان ملنگوں کے لئے ہندوئوں کے دل میں بھی احترام تھا۔

ڈاکٹر مبشر حسن 22جنوری 1922ء کو پانی پت میں پیدا ہوئے۔ مولانا الطاف حسین حالی سے قرابت داری تھی۔ سول انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ امریکہ سے پی ایچ ڈی کی اور انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں استاد رہے۔ 1967ء میں سیاسی زندگی کا آغاز’’اے ڈکلیریشن آف یونٹی آف پیپل‘‘ کے عنوان سے سیاسی منشور لکھ کر کیا۔ ان دنوں وہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں انجینئرنگ فزکس پر لیکچر دے رہے تھے‘ ڈاکٹر صاحب کی متعدد تصانیف ہیں۔

(1) شاہراہ انقلاب‘ رزم زندگی‘ غالب‘ کائنات میں انسان کا مقام‘ پاکستان کے ناخواندہ لیڈر(انگریزی) اور بھی بہت سی۔

ڈاکٹر صاحب وہ پہلے سیاسی رہنما تھے جنہوں نے پاکستان میں کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق دینے کی بات کی بلکہ حقوق دلائے بھی۔ بھٹو صاحب کی کابینہ میں ڈاکٹر صاحب وزیر خزانہ تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے غریب جھگی نشینوں کو اس جگہ کا مالک بنوا دیا جہاں لوگوں نے سر چھپانے کا انتظام کیا تھا۔ اپنے نظریات پر سختی سے کاربند ڈاکٹر صاحب کو جونہی احساس ہوا کہ بھٹو صاحب کی حکومت ان کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہو رہی ہے انہوں نے وزارت خزانہ سے استعفیٰ دیدیا۔

لاہور شہر میں کتنے ہی دانشور اور سیاسی کارکن ہیں جن کی تربیت کے لئے ڈاکٹر صاحب نے کردار ادا کیا۔ وہ پیپلز پارٹی کی تباہی کی ذمہ داری آصف علی زرداری پر عائد کرتے تھے مگر بے نظیر بھٹو سے ذاتی طور پر اچھے تعلقات تھے ۔پیپلز پارٹی یا اس کی قیادت کے خلاف ڈاکٹر صاحب نے کبھی ایسی بیان بازی نہیں کی جسے اخلاقی حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہو۔ مشہور ٹی وی اینکر افتخار احمد‘ نامور دانشور فرخ سہیل گوئندی‘ تجزیہ کارسلمان عابد‘ سیاسی کارکن آصف بٹ اور جانے کون کون سے پرخلوص لوگ ڈاکٹر صاحب کے گرد رہا کرتے۔

ڈاکٹر مبشر حسن کے کزن ڈاکٹر مہدی حسن پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کے چیئرمین رہے ہیں۔ ڈاکٹر مبشر حسن تین سال پہلے تک شاید اپنی انیس سو ساٹھ ماڈل فوکسی کار خود چلاتے نظر آتے تھے‘ ان کی شکل میں لاہور کی سیاسی تربیت گاہ موجود تھی۔ وہ پاکستان کو عوامی جمہوریت کے طور پر مضبوط دیکھنے کے آرزو مند رہے۔

چھ فٹ کے لمبے تڑنگے دبلے پتلے‘ سرخ گالوں اور سفید بھنوئوں والے ڈاکٹر مبشر حسن کا لہجہ انتہائی شائستہ تھا لیکن وہ کسی کو اپنی نرم گفتاری کا ناجائز فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں دیتے تھے۔ ان کی شکل میں ایسے نظریات زندہ تھے جو افلاس زدہ طبقات کو زیادہ سے زیادہ سیاسی اختیار دینے کی حمایت کرتے تھے۔ میں نے ایک بار پوچھا کہ بھٹو صاحب کے دور میں مزدوروں کو زیادہ حقوق دینے کی وجہ سے ٹریڈ یونین کو بدمعاشی کا لائسنس نہیں مل گیا تھا؟ ڈاکٹر صاحب سے جو واحد اختلاف تھا وہ ان کے اس جواب پر رہا کہ :مزدوروں کے خلاف سیٹھ لوگوں نے اتحاد کر لیا تھا اور وہ مزدوروں کی بدمعاشی کا پروپیگنڈہ کر کے ضیاء الحق کے سیاسی ایجنڈے کو توانا کرتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ایک انمول شخصیت تھے۔ ان کو تولنے کے لئے لفظ کہاں سے لائوں۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *