ڈارون کا مفروضہ ارتقا کیوں باطل ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مذہب کو ماننے والے انسانوں کی غالب اکثریت یہ تسلیم کرتی ہے مختلف نباتات اور حیوانات اپنی پیدائش کے وقت سے اسی شکل و صورت میں پائے جاتے ہیں جو آج ہمارے سامنے ہے۔ ایسا نہیں ہوا کہ ابتداء میں صرف ایک خلیہ کسی طرح پیدا ہوا اور ہزاروں لاکھوں سال گزرنے کے دوران تمام جاندار اُسی ایک ابتدائی خلیے سے وجود میں آتے گئے اور روئے زمین پر پھیل گئے۔ جبکہ کچھ لوگوں کا خیال اس کے برعکس ہے۔ اس نسبتاَ َ نئے نظریے کا پس منظر یہ ہے : لامارک ( 1744۔ 1829 ) نے بقائے اصلح یا قانون ِ انتخاب کا نظریہ یا خیال پیش کیا یعنی جانوروں اور پودوں میں وہی جنس باقی رہتی ہے جس میں باقی رہنے کی صلاحیت ہو۔ کچھ برس بعد انگریز ماہر ِ اقتصادیات مالتھس ( 1766۔ 1834 ) کی تصنیف ’آبادی‘ منظر ِ عام پر آئی جس کا لب ِ لباب یہ تھا کہ معاشی وسائل کے مقابلے میں آبادی میں اضافے کی رفتار زیادہ ہے۔ لامارک اور مالتھس کے خیالات پر غور و فکر کرتے ہوئے چارلس رابرٹ ڈارون ( 1809۔ 1882 ) نے ایک نیا خیال پیش کیا جسے نظریہ ارتقا کا نام دیا گیا۔ اس تصور کے مطابق حیوانات و نباتات کی موجودہ شکل ان کی اولین یا قدیم ترین شکل نہیں ہے بلکہ موجودہ شکل ایک تدریجی ترقی یا ارتقا کا نتیجہ ہے۔ چونکہ یہ تدریجی ترقی یا تبدیلی کا مشاہدے میں آنا ممکن نہ تھا، لہٰذا ڈارون نے یہ مفروضہ پیش کیا کہ صدیوں بعد انتہائی معمولی تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ یہ تمام تصورات ایسے تھے کہ ان کا سائنسی طریقہ کار کے مطابق تحقیق و تنقید یا تجربہ و استقراء کے مراحل سے گزار کر ثابت کرنا ممکن نہ تھا۔

اس لیے یہ نظریات مفروضے سے بڑھ کر حقیقت کے درجے تک نہیں پہنچ سکے۔ خود ڈارون نے اپنی تصنیف ’اصل الانواع‘ میں اپنے اس تصور پر بحث کرتے ہوئے اور ارتقا کی کڑیاں ملاتے ہوئے متعدد مرتبہ محض ظن و تخمین سے کام لینے کا یا پھر بالکل لاجواب ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ محض ایک نظریہ، خیال، تصور اور مفروضہ ہے تو اس کی دنیا بھر میں دھوم کیوں ہے؟ اس کا جواب ان شا ء اللہ آئندہ مضمون میں پیش کرنے کی جسارت کروں گا۔ س سر ِ دست اس نظریے پر اٹھنے والے چند ایسے اعتراضات پر روشنی ڈالنا مناسب ہے جو اس کو بے بنیاد ثابت کرنے کے لیے کافی ہہیں۔ اور نظریہ ء ِ ارتقا کو سائنسی حقیقت کے طور پر پیش کرنے والے ظن و تخمین کے علاوہ ان اعتراضات کا جواب آج تک پیش نہیں کر سکے۔

مفروضہ ارتقا پر چند اعتراضات :

1۔ دنیا کی حقیقت خود قانون ِ انتخاب یا بقائے اصلح کے خلاف گواہی دے رہی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آج بھی دنیا میں کمزور ترین سے لے کر طاقتور ترین تک ہر طرح کے جانور پائے جاتے ہیں۔ انتہائی نازک پرندے اور شاہباز، نازک اندام ہرن، درندے اور انسان، ہر قسم کے جاندار موجود ہیں۔ جبکہ ارتقا کا تقاضا تو یہ تھا کہ ضعیف و ناتواں جانور اپنے نقطہ آغاز سے کچھ آگے بڑھ چکے ہوتے۔ یا کم از کم اتنا ہوتا کہ آج یک خلوی عضویے یعنی ایک خلیے والے نامیے دنیا میں نہ ہوتے بلکہ لاکھوں برس میں ارتقا پذیر ہو کر ترقی کر چکے ہوتے۔

2۔ بقائے اصلح کے مطابق حیوانات کی باہمی کشمکش یا مقابلے کے نتیجے میں کمزور موت سے ہمکنار ہوتا ہے اور طاقتور باقی رہتا ہے۔ جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ نہ تو موت نے اپنے لیے کمزوروں کا انتخاب کیا ہے اور نہ ہی نجات نے طاقتوروں ں کو ترجیح دی ہے۔ قدرتی آفات یا فطری عوامل کے نتیجے میں آنے والی موت کی لہر جانوروں کی صفات کی بناء پر ان کو گلے نہیں لگاتی۔ اگر صرف کمزور ترجیحا َ َ موت کا شکار بنتے تو ڈائنوسار جیسے دیو ہیکل جانور ہرگز ناپید نہ ہوتے۔

3۔ اگر بقائے اصلح کو تسلیم کرنے کا ارادہ کیا جائے تو ذہن میں سوال ابھرتا ہے کہ وہ کیا قانون ہے جو اصلح اور غیر اصلح میں تمیز کرتا ہے۔ وہ کون سی حد ہے جس سے برتر صفات کے حامل جانوروں کو ماحول کے مطابق ڈھل جانے والے جانوروں کے زمرے میں رکھا جائے گا اور اس حد سے کم تر صفات رکھنے والے جانوروں کا فطرت ( قانون ِ انتخاب کو بروئے کار لاتے ہوئے ) قلع قمع کر دے گی۔ ایک مزید سوال یہ کہ اگر غیر اصلح یا کم تر صفات کے حامل جانوروں کا مقدر موت ہی تھا تو ان کی گزشتہ نسلوں کی اس غیر موزوں ماحول میں پیدائش اور بودوباش کیونکر ممکن تھی۔

4۔ بقائے اصلح کا ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ وہی جانور بقاء کی منزلیں طے کرتے ہیں جو ماحول کے مطابق ڈھل جاتے ہیں۔ ڈارونی ارتقا کے حامی کہتے ہیں کہ قدیم ترین زرافے کی گردن لمبی نہیں تھی۔ جب زمین پر چوپایوں کی خوراک میں کمی واقع ہوئی تو زرافہ بلند درختوں کی طرف متوجہ ہوا، اس طرح بتدریج کئی نسلوں کے ارتقا کے عمل کے بعد رفتہ رفتہ زرافے کیکی گردن لمبی ہوتی گئی۔ جبکہ یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ ہر طرح کے جانور ایک ہی ماحولیاتی نظام میں ہزاروں سال سے موجود ہیں۔

جیسے افریقہ کے جنگلات میں بلند درختوں سے کھانے والا زرافہ، زمین سے گھاس چرنے والا زیبرا اور جنگلی بھینس وغیرہ۔ علاوہ ازیں انہی جنگلات میں مگرمچھ، دریائی گھوڑا، شیر، چیتا، گینڈا ہر قسم کے جانور پائے جاتے ہیں جو جسمانی ساخت میں ایک دوسرے سے نہایت مختلف ہیں۔ اگر ڈارونی ارتقا کے مطابق یہ جانور بتدریج ترقی کے عمل سے گزرتے تو یہ ضرور ایک مشترکہ جسمانی ساخت کے حصول کی طرف گامزن ہوتے۔ لیکن ہزاروں سال پرانے آثار یہی ثابت کرتے ہیں کہ یہ سب جانور ہمیشہ سے اسی ہیئت ِ کذائی اور جسمانی ساخت کے مالک تھے اور کسی طرح کے تغیر و تبدل کے عمل سے نہیں گزرے۔

جبکہ وہ جانور اور پودے جو معدوم ہو گئے وہ اپنی صفات میں کسی طرح کی ترقی کیے بغیر نابود ہو گئے۔ مشہور یونانی مؤرخ ہیروڈوٹس نے کم و بیش اڑھائی ہزار سال پہلے سفرنامۂ مصر میں مگرمچھ اور دیگر جانوروں کی جو جسمانی خصوصیات بیان کی ہیں وہ سب جانور آج بھی اُسی حالت میں پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح قدیم مجسمے اور حنوط شدہ اجسام آج کے جانوروں سے مکمل مشابہت رکھتے ہیں۔

5۔ اگر ارتقا تمام حیوانات کے لیے یکساں فائدہ مند ہے تو پھر کوئی اور نوع آج تک انسانوں جیسی سوچنے سمجھنے کی زبردست صلاحیتیں حاصل کیوں نہیں کر سکی۔ مثال کے طور پر بندر یا بن مانس کی عقلیں انسانی عقل کی طرح یا اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہیں۔ دیگر بے شمار اعتراضات کی طرح اس اعتراض کا ذکر ڈارون نے خود اپنی کتاب ’اصل الانواع‘ میں کیا ہے اور اس کا کوئی جواب نہیں بن سکا۔ اور حاشیہ میں مزید بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”یہ بہت ہی مشکل سوال ہے جبکہ ہم تو اس سے کم درجے کے بے شمار سوالات کے جواب بھی نہیں جانتے“۔ اب آپ اُن لوگوں کے حال پر غور کیجیے جو مفت میں ڈارونی ارتقا کے دفاع کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

6۔ آخری اور اہم نکتہ یہ کہ ڈارونی ارتقا کے مطابق موجودہ انسان بندر کی ترقی یافتہ صورت ہے اور خود بندر کسی اور جانور کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ اس پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ بندر اور جدید انسان ( ہومو سیپی انز ) کے درمیان جو کم از کم پندرہ بیس صورتیں گنوائی جاتی ہیں وہ آج روئے زمین پر کہیں بھی موجود کیوں نہیں ہیں؟ یہ بات عقل سے بالاتر ہے کہ بندروں کی ایک بڑی تعداد آج بھی جوں کی توں موجود ہو، دوسری طرف بہت سے بندر ترقی کر کے جدید انسان کے درجے تک پہنچ چکے ہوں اور اس دوران بندر سے انسان کے درمیان ظہور پذیر ہونے والی جانداروں کی تمام قسمیں دنیا میں کہیں بھی موجود نہ ہوں۔

چہ بوالعجبی است؟ اگر درمیانی حالتوں کو معدوم ہوئے ہزاروں برس گزر گئے ہیں تو اس دوران کسی دوسرے مقام پر بندروں نے ارتقا کا سفر شروع کیوں نہیں کیا؟ اس اعتراض سے بچنے کے لیے کچھ لوگوں نے ’جدید ڈارونی نظریہ‘ پیش کیا ہے۔ اس نظریے کے مطابق تغیر اور تبدیلی ایک سست رفتار اور تدریجی عمل نہیں ہے بلکہ تغیرات موروثی ذخیرے میں جمع ہوتے رہتے ہیں اور اتفاقی طور پر اچانک ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ یعنی ارتقا طفرہ کی بنیاد پر قائم ہے۔

طفرہ عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب ہے چھلانگ، زقند، جست، پھلانگنا۔ جدید ڈارونی نظریے نے ایک تو قانون ِ انتخاب اور بقائے اصلح کا خود ہی قلع قمع کر دیا اور دوسری طرفف ایک ایسا دعوٰی کر دیا جس نے سنجیدہ سائنس دانوں کے لیے بھی مزاح کا سامان پیدا کر دیا۔ یعنی ’جدید ڈارونی نظریے‘ کے مطابق اگر تبدیلی اچانک چھلانگ کا عمل اختیار کرتی ہے تو ہمیں توقع رکھنی چاہیے کہ ایک جنگل جو خشک سالی اور قحط کا شکار ہو رہا ہو، وہاں کے زیبرے کچھ نسلوں کے بعد اچانک زرافے میں تبدیل ہو جائیں۔ یا کسی جنگل میں جہاں ’نیشنل جیو گرافی‘ کے محققین بندروں کی عادات کے مطالعے میں مصروف ہوں، وہاں اگلی ہی صبح بہت سے بندر انسان یا انسان جیسی کسی ہیئت میں گھوم رہے ہوں۔

7۔ کہا جاتا ہے کہ جدید انسان یا ہومو سیپی انز کا ظہور قریب تین لاکھ سال پہلے افریقہ میں ہوا۔ اس سے قبل بندر اور انسان کے درمیان گِنوائی جانے والی انواع میں سے چند ایک لاکھ سال سے بھی کم عرصہ زمین پر رہ سکی تھیں۔ اگر تین لاکھ سال کا عدد درست تسلیم کیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ جدید انسان جو تین لاکھ سال پہلے رونما ہوا اور آج تک جوں کا توں موجود ہے، اِسے اپنی ہیئت مزید تبدیل کرنے سے کیا شے مانع ہے؟ اور اگر کہا جائے کہ یہی ارتقا کی آخری منزل ہے اور اب مزید تبدیلی کا ظہور نہیں ہو گا تو یہ جواب بجائے خود اُس موقف کو تقویت دے گا جو اِس مضمون کی ابتدائی سطور میں بیان کیا گیا ہے۔

خلاصہ :

خلاصۂ کلام یہ کہ ڈارون نے حیوانات ( اور نباتات ) کی ظاہری نشوونما میں ایک دوسرے سے مشابہت کا اعتبار کیا ہے۔ بہت سے لوگ مشابہت کو ثابت کرنے کے لیے مختلف جانداروں مثلاَ َ انسان اور بندر یا بن مانس وغیرہ کے ڈی۔ این۔ اے اور آر۔ این۔ اے کی ساخت اور ان کے ریاضیاتی تعلقات میں پائی جانے والی مشابہت کا سہارا لیتے ہیں۔ حالانکہ محض مشابہت ثابت کرنے کے لیے اتنی عرق ریزی کی ضرورت ہی کیا ہے؟ یہ مشابہت تو وہ لوگ ان جانداروں کے عضلات، بافتوں اور ہڈیوں کی کیمیائی ترکیب سے بھی ثابت کر سکتے ہیں۔

تشریح الاعضاء اور افعال الاعضاء کے ماہرین مختلف انواع کے مابین پائی جانے والی مشابہتوں کی طویل فہرست مہیا کر سکتے ہیں۔ لیکن مشابہت ثابت کرنے سے یہ کیسے ثابت ہو گا کہ ان سب کے آبا و اجداد مشترکہ ہیں۔ ڈارون کے مفروضے کی ترویج کے لیے کبھی کبھار جس علمی خیانت سے کام لیا جاتا ہے اُس سے آگاہی حاصصل کرنے لیے ’پِلٹ ڈاؤن آدمی‘ کا تعارف مفید ہو گا۔ بنانے والوں نے بندر اور انسان کی ہڈیوں کے سفوف کی آمیزش سے ایک ڈھانچہ تیار کیا تھا۔ تاہم سائنس کی تاریخ کی مشہور ترین بد دیانتی بے نقاب ہونے کے بعد 1954 میں اس ڈھانچے کو انگلستان کے نیچرل ہسٹری میوزیم سے باہر پھینک دیا گیا۔

یہاں نہایت اختصار کے ساتھ چند نکات کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ اُن تمام اعتراضات کا بہت معمولی سا حصہ ہے جو ڈارون کے مفروضہ ارتقا پر وارِد ہوتے ہیں۔ اگر مزید تفصیلات کا شوق ہو تو شام کے معروف عالم ِ دین ڈاکٹر سعید رمضان البوطی کی تصنیف ’اسلامی عقائد‘ کا مطالعہ کیجیے۔ اِس مضمون کی تیاری میں اس کتاب سے خاصی مدد لی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر انور عبدالحلیم کی عربی تصنیف ’قصۃ التطور‘ یعنی ارتقا کی داستان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی تصنیف ’اسلام اور جدید سائنس‘ میں اس موضوع پر نفیس بحث کی گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
خلیل رفاعی کی دیگر تحریریں

One thought on “ڈارون کا مفروضہ ارتقا کیوں باطل ہے؟

  • 19/03/2020 at 10:40 am
    Permalink

    ایسے موضوعات پر لکھنا چاہیے۔ اسی طرح سوچنے سمجھنے کی تحریک پیدا ہوتی ہے۔ لیکن لکھنے سے پہلے موضوع پر کچھ پڑھنا بھی بہتر ہوتا ہے۔

Leave a Reply