کیا مارشل لا ہی پاکستان کو تباہی سے بچا سکتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک کی حکومت اور اپوزیشن پارٹیاں بدستور ایک دوسرے سے فاصلے پر کھڑی ہیں۔ اگرچہ اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چئیرمیں بلاول بھٹو زرداری نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا مطالبہ کیا ہے لیکن وزیر اعظم بدستور اس کی مخالفت کررہے ہیں۔ وہ اپوزیشن کے ساتھ کسی بھی قسم کا ڈائیلاگ کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں ۔ اسی لئے آج قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کی طرف سے پارلیمانی لیڈروں کا اجلاس ناکام رہا۔ وزیراعظم خود اس اجلاس میں شریک نہیں ہوئے بلکہ ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا اور لاک ڈاؤن پر اصرار کرنے اور صوبوں کو اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کا مشورہ دینے کے بعد ، انہوں نے رابطہ منقطع کر دیا۔

شہباز شریف گزشتہ ہفتہ کو پاکستان میں تمام بین الاقوامی پروازوں پر دو ہفتے کی پابندی سے عین پہلے پاکستان واپس پہنچے تھے تاکہ وہ کورونا بحران کے موقع پر اپنے لوگوں کے درمیان موجود ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ اس فیصلہ کے سیاسی مقاصد بھی ہوں لیکن اس سے اگلے ہی روز شہباز شریف نے ایک ویڈیو پیغام میں حکومت کو مکمل تعاون کا یقین دلایا اور مل کر اس قومی چیلنج اور بحران کا سامنا کرنے کی پیش کش کی۔ پیپلز پارٹی کے چئیر میں بلاول بھٹو زرداری گزشتہ ہفتہ کے شروع میں کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں وزیر اعظم کو اسی قسم کی پیش کش کرچکے تھے۔ انہوں نے ملک بھر میں فوری لاک ڈاؤن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس وبا کو روکنے کے لئے ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔ وقت ہاتھ سے نکلنے سے پہلے ہمیں لاک ڈاؤن کے ذریعے اس وائرس کو روکنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس پریس کانفرنس میں ان سے عمران خان اور مرکزی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے بھی سوال کئے گئے تھے لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے ان سوالوں کا جواب دینے سے انکار کردیا کہ یہ وقت سیاسی اختلافات نمایاں کرنے کے لئے موزوں نہیں ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا اس وقت ہم سب کو مل کر کورونا وائرس سے پیدا شدہ صورت حال کا سامنا کرنا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی سندھ میں پہلے رضاکارانہ لاک ڈاؤن کی کوشش کی گئی تاہم اس میں ناکام ہو کر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مکمل لاک ڈاؤن کا حکم دیا اور اس بندش سے متاثر ہونے والے غریب خاندانوں کے لئے متعدد سہولتیں فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا۔ ملک بھر میں مراد علی شاہ کی کوششوں اور خلوص نیت کو سراہا جا رہا ہے۔ وہ کورونا وائرس کے خلاف مزاحمت کی علامت بن چکے ہیں اور بلاشبہ انہیں ایک قومی ہیرو کا درجہ دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ ہونے اور وفاقی حکومت کی شدید مزاحمت اور عدم تعاون کی حکمت علی کے باوجود کورونا کی روک تھام کے لئے کسی بیان بازی کے بغیر بڑے فیصلے اور اقدامات کئے ہیں۔

قومی اسمبلی کے پارلیمانی اجلاس سے ویڈیو لنک پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے قوم کے طور پر کام کرنے کی ضرورت پر ضرور زور دیا۔ انہوں نے پارلیمانی لیڈروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت تن تنہا نہ یہ جنگ لڑ سکتی ہے اور نہ ہی جیت سکتی ہے۔ اس کے لئے پوری قوم کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ تب ہی ہم اس بحران میں سرخرو ہوسکتے ہیں‘۔ عمران خان نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پنجاب، خیبر پختون خوا اور بلوچستان کی حکومتوں نے بھی سندھ میں لاک ڈاؤن کے بعد جزوی لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ فیصلہ میڈیا کے دباؤ میں کیا گیا ہے اور متنبہ کیا کہ دباؤ اور خوف میں کئے گئے فیصلوں کا معاشرہ پرمنفی اثر مرتب ہوتا ہے۔ اس سے ملکی معیشت تباہ ہوگی اور غریب متاثر ہوں گے۔ عمران خان کا دعویٰ تھا کہ ’دنیا میں کسی ملک نے بھی ابتدائی طور پر مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ نہیں کیا تھا۔ پاکستان میں بھی اس معاملہ پر بے یقینی موجود ہے‘۔

وزیر اعظم نے پارلیمانی لیڈروں کو اپنی رائے سے آگاہ کرکے اور لاک ڈاؤن کے خلاف پرانے دلائل دہرا کر ، ویڈیو رابطہ منقطع کیا اور اجلاس سے چلے گئے۔ اپوزیشن لیڈروں نے جب دیکھا کہ وزیر اعظم تو اجلاس میں شریک ہی نہیں ہیں تو انہوں نے بھی اجلاس میں بیٹھنے سے انکار کردیا۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ ’ ہم اس وقت تاریخ کے بدترین بحران کا سامنا کررہے ہیں۔ اس وقت کوئی سیاسی معاملہ درپیش نہیں ہے اور نہ ہی ہم سیاست کررہے ہیں۔ لیکن اگر حکومت کی غیر سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ وزیر اعظم پارلیمانی لیڈروں کی تجاویز سننے کے لئے ہی تیار نہیں ہے تو اس اجلاس کا کوئی فائدہ نہیں۔ میں اس اجلاس کا حصہ نہیں بن سکتا‘۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کے چئیرمیں بلاول بھٹو زرداری نے بھی وزیر اعظم کی عدم موجودگی پر اجلاس سے واک آؤٹ کردیا۔ بعد میں اپوزیشن اور حکمران پارٹی کے نمائیندے ایک دوسرے پر غیر ذمہ داری کا الزام لگاتے رہے۔

وزیر اعظم کا مؤقف بدستور اس قیاس پر استوار ہے کہ پاکستان میں گرم موسم آنے کے بعد کورو نا وائرس کا پھیلاؤ رک جائے گا ۔ اس لئے کورونا پھیلنے کے خوف کی وجہ سے لاک ڈاؤن نہیں کرنا چاہئے تاکہ معیشت کا پہیہ چلتا رہے۔ یہ تصویر کا ایک پہلو اور پیچیدہ بحث میں ایک مؤقف ہے۔ عمران خان البتہ جمہوی رویہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے متبادل اور مختلف رائے کا جائزہ لینے اور قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ دنیا کے تجربے اور معلوم حقائق کی بنیاد پر لاک ڈاؤن کو ہی کورونا کا مقابلہ کرنے کا واحد مؤثر اور قابل بھروسہ حل سمجھا جارہا ہے۔ بھارت نے گزشتہ روز پورے ملک میں لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔ اس سے ایک روز پہلے برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے ابتدا میں لاک ڈاؤن کی تجویزکو مسترد کرتے ہوئے بالآخر ملک بھر میں سخت لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔ دنیا کی تجارت کا مرکز نیویارک گزشتہ تین روز سے بند ہے۔ امریکہ کے ایک چوتھائی شہری اس وقت مکمل لاک ڈاؤن کا سامنا کررہے ہیں۔ یہی صورت حال یورپ ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے بیشتر ممالک میں موجود ہے۔ سعودی عرب نے تو رات بھر کا کرفیو نافذ کررکھا ہے اور حرمیں شریف کو ہفتہ عشرہ پہلے ہی مکمل طور سے بند کردیا گیا تھا۔

عمران خان اگر معلوم ا نسانی تاریخ کے اس بدترین بحران سے نمٹنے کے لئے واقعی قومی اتفاق رائے پیدا کرنا چاہتے ہیں اور وہ دل سے یہ سمجھتے ہیں کی حکومت تن تنہا کچھ نہیں کرسکتی تو انہیں اس کے لئے عملی اقدام کرنے کی ضرورت تھی۔ انہیں اپوزیشن کے ساتھ فوری مکالمہ کے علاوہ صوبائی وزرائے اعلیٰ کے ساتھ مل کر قومی حکمت عملی کے لئے کام کرنا چاہئے تھا۔ لیکن وزیر اعظم کی جد و جہد اب بھی پر جوش تقریروں اور دوسروں کو غلط قرار دینے تک محدود ہے۔ وہ حکومت سندھ کی پریشانی اور مراد علی شاہ کی پہل کاری کو سراہنے کی بجائے لاک ڈاؤن اور کرفیو کا فرق واضح کرنے اور مزدوروں کا روزگار چھن جانے کا قصہ سنا کر بات ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اب وہ پنجاب اور خیبر پختون خوا میں جزوی لاک ڈاؤن کو ’میڈیا کے دباؤ‘ کا کرشمہ قرار دے رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے میڈیا سمیت سماجی ماہرین اور طبی پروفیشنلز کے کسی ٹھوس اور وسیع البنیاد گروپ سے بھی رائے لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ وہ خوشامدیوں کے ایک خاص گروہ میں گھرے ہوئے ہیں اور دوا سے زیادہ دعا کو اس مسئلہ کا حل سمجھ رہے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کا یہی خیال ہے کہ جس طرح 1992 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں بعض اتفاقات نے پاکستان کو یہ کپ جیتنے کا موقع فراہم کردیاتھا یا جس طرح بعض بیساکھیوں کی مدد سے وہ 2018 کا انتخاب جیت کر وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ اب بھی کوئی ایسا ہی واقعہ کورونا وائرس کا زور توڑ دے گا اور وہ اس بحران سے سرخرو باہر نکل آئیں گے۔ عمران خان اب تک 28 سال پہلے جیتے ہوئے ورلڈ کپ کے اسیر ہیں۔ وہ اسی کلیے کی بنیاد پر پاکستان کو بھی بحران سے نکالنے کا خواب دیکھتے ہیں۔

عمران خان کی حکومت کو چونکہ ایک پیج کی حکومت بھی کہا جاتا ہے اور عام تاثر ہے کہ ملکی اسٹبلشمنٹ انہیں اقتدار میں لانے کا سبب بنی تھی اور ان کی اصل سیاسی طاقت فوج کی غیر مشروط حمایت ہی ہے، اسی لئے یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ موجودہ بحران میں حکومت کی لاتعلقی اور کمزوری کا اصل ذمہ دار کون ہے۔ عمران خان موجودہ صورت حال میں سیاسی تنہائی کے علاوہ سماجی ہیجان کا جو ماحول پیدا کررہے ہیں ، اس کے وہ تن تنہا ذمہ دار ہیں یا انہیں ان فیصلوں میں فوج کی حمایت بھی حاصل ہے۔ کیا حکومت کے سب غلط اور مہلک فیصلوں کی ذمہ داری، اس مقتدرہ پر بھی عائد ہوگی جو سیاست کے اسٹیج پر کٹھ پتلیوں کا تماشا لگائے رکھتی ہے؟ اسی لئے بعض حلقوں کا اصرار ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ایسی خطرناک صورت حال پیدا ہوچکی ہے کہ فوج کو معاملات اپنے ہاتھ میں لے لینے چاہئیں۔ اس سے پیشتر یہ ملک چار مارشل لا بھگت چکا ہے۔ اس وقت تو انسانی جانوں کو بچانے کے لئے انتہائی اقدامات کرنا ہی مسئلہ کا حل ہے۔

سوال ہے کہ کیا کورونا وائرس پاکستان سے جمہوریت کا ڈھونگ ختم کروانے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ یا اس سے بھی اہم سوال کیا کوئی فوجی حکومت اس بحران سے قوم و ملک کو باحفاظت باہر نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ سوال آنے والے دنوں میں شدت اختیار کریں گے۔ جمہوریت کے شدید حامی بھی موجودہ بحران میں جاری سیاسی تعطل اور حکومت کی عاقبت نااندیشی کی صورت حال میں امید کی کوئی کرن دیکھنے سے قاصر ہیں۔ وزیر اعظم اپنی محدود سوچ کا دروازہ کھولنے اور ’بدعنوان سیاسی عناصر ‘ کے ساتھ بیٹھ کر قومی مشکل کو جمہوری طریقے سے حل کرنے سے انکار کرہے ہیں۔ وہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے کے باوجود پارلیمنٹ کو اپنی سیاسی طاقت کا سرچشمہ سمجھنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔

پارلیمنٹ اگر غیر مؤثر اور حکومت لاچار ہوجائے تو کیا آئین واقعی بے معنی اور جمہوریت لفظی عیاشی بن جاتی ہے؟ کورونا کے عذاب کا شکار بے شمار لوگ اس رائے سے اتفاق کررہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ یہ رائے ہر آنے والے دن میں تقویت پکڑےگی۔ جمہوریت پر عام آدمی کا اعتماد کمزور پڑنے لگے گا۔ فوجی حکومت کسی مسئلہ کاحل نہیں ہے لیکن جمہوری لیڈروں و اداروں کی ناکامی، ملک کو اسی اندھیرے گڑھے کی طرف دھکیل رہی ہے۔

***     ***

مدیر اعلیٰ کا اختلافی نوٹ:

برادر بزرگ سید مجاہد علی میرے استاد اور محسن ہیں۔ ہم سب کا اداریہ ان کی صحافتی بصیرت اور علمی استعداد کا منہ بولتا ثبوت ہوتا ہے۔ سید مجاہد علی نے مولانا غلام رسول مہر کے بعد تن تنہا اردو صحافت میں اداریے کا وقار بحال کرنے کا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ وہ واقعاتی صداقت، بیان کی سلاست اور استدلال کی قوت، غرضیکہ کسی پہلو پر سمجھوتہ کرنے کے قائل نہیں۔ انہوں نے بغیر کسی منفعت کے ساڑھے چار برس میں “ہم سب” کو 1400 سے زائد اداریوں سے ثروت مند کیا ہے۔ بحیثیت ایک ہم کار اور مدیر مجھے اگر کہیں ان کی رائے سے جزوی اختلاف بھی پیدا ہو، تو پیشہ ورانہ اصولوں کے عین مطابق ان کی رائے کو تقدیم دیتا ہوں۔ “ہم سب” کی پالیسی آزادی اظہار، رواداری اور مکالمے کے جمہوری اصولوں پر مبنی ہے ۔ یہ اصول ادارے کے معتبر ترین صحافی سے کیسے غصب کئے جا سکتے ہیں۔ تاہم آج کچھ ایسی ہی صورت حال درپیش ہے کہ سید مجاہد علی کا اداریہ ان کے اپنے لفظوں میں من و عن پڑھنے والوں تک پہنچے گا۔ میں ایک قاری اور رفیق کار کے طور پر اپنا اختلاف بصد احترام درج کر رہا ہوں۔

میرا موقف ہے کہ پاکستان کسی صورت میں دستوری طریقہ کار سے انحراف کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ جو بحران ملک کی منتخب سیاسی قوتیں عوام کی تائید سے حل نہیں کر سکتیں، اسے غیر منتخب اور غیر آئینی راستے سے بھی حل نہیں کیا جا سکتا۔ دستور کی شق 245 کے عین مطابق سول حکومت نے فوج کی خدمات طلب کی ہیں۔ یہی ایک جائز اور قابل عمل طریقہ کار ہے جو دستور کی بالادستی کے علاوہ فوج کے ادارے کے احترام کی بھی ضمانت دیتا ہے ۔ اس سے بڑھ کر فوج کاغیر عسکری معاملات میں کوئی کردار ہے اور نہ وہ ایسا کوئی معجزہ سرانجام دے سکتی ہے۔ مارشل لا کسی بحران کا حل نہیں بلکہ خود ایک ہمہ گیر بحران کا نام ہے۔ پاکستان کے تلخ تاریخی پس منظر میں وطن دوست حلقوں کو مارشل لا کی اصطلاح ہی کو سیاسی لغت سے خارج کر دینا چاہیے۔ پاکستان کے دستور میں ایسے کسی بندوبست کے لئے کوئی گنجائش نہیں۔ 2018ء کے انتخابات پر بہت سے سوالیہ نشان موجود ہیں۔ عمران حکومت کی کارکردگی پر تنقید کی گنجائش بھی بہرصورت موجود ہے لیکن کسی منتخب حکومت کی بدترین کارکردگی بھی دستور سے انحراف کا جواز فراہم نہیں کرتی۔ پارلیمنٹ کے اندر حکومت تبدیل کرنے کا طریقہ کار موجود ہے اور اگر اسے بروئے کار لانے میں کوئی رکاوٹ ہے تو ہم سب پاکستانیوں کو آئندہ انتخابات کا انتظار کرنا چاہیے۔ مزید براں، حالیہ کورونا وائرس بحران میں جہاں تک ممکن ہو، ملک کو کسی سیاسی بحران میں مبتلا کرنے کی بجائے حکومتی اقدامات کو کامیاب بنانے میں اپنی سی کوشش کرنی چاہیے۔ شہریوں کی جانیں بچانا اس وقت مقدم ترین ہدف ہونا چاہیے۔ اگر حزب اختلاف سمیت ملک میں بہت سے حلقے موجودہ حکومت کے قیام کو سیاسی انجنیئرنگ کا شاخسانہ سمجھتے ہیں تو ایسی انجنیئرنگ کے حقیقی ماخذ سے یہ توقع باندھنا عبث ہے کہ وہ موجودہ بحران اور ملک کو درپیش طویل مدتی مسائل کے حل میں کوئی مفید کردار ادا کر سکے گا۔ ۔ و-مسعود

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1573 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *