قیادت کا بروقت اور قابل تعریف فیصلہ


\"edit\"پاکستان سپریم کورٹ نے پاناما پیپرز کے بعد سامنے آنے والے الزامات کی تحقیقات کے لئے کمیشن قائم کرنے کا عندیہ دے کر ملک میں ایک بڑے سیاسی بحران کو ختم کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔عدالت نے حکمران پاکستان مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف سے کہا کہ وہ پاناما پیپرز کے کمیشن کے لئے اپنے ٹی او آرز عدالت میں جمع کروائیں ۔ اگر دونوں پارٹیاں ان پر اتفاق نہیں کر سکتیں تو عدالت قواعد کا تعین کرے گی۔ بینچ نے واضح کیا ہے کہ کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ کا فیصلہ سمجھا جائے گا اور فریقین کو لازمی اسے ماننا پڑے گا۔ عمران خان نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو اپنی فتح قرار دیتے ہوئے 2 نومبرکے احتجاج کو یوم تشکر میں بدلنے کا اعلان کیا ہے۔

حکومت نے عدالت کی طرف سے تحقیقاتی کمیشن کے قیام کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم تحریک انصاف کے لیڈر شاہ محمود قریشی نے عدالتی کارروائی کے بعد کہا اگر کمیشن کے ٹی او آرز اپوزیشن کی تجاویز کے مطابق ہوئے تو وہ انہیں تسلیم کریں گے۔ اس طرح تحریک انصاف کی طرف سے ابھی سے یہ گنجائش رکھی جا رہی ہے کہ سپریم کورٹ کے جج کی سرکردگی میں قائم ہونے والے کمیشن کی کارروائی یا اس کے فیصلہ سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ ملک کی سیاست میں اسی رویہ کی وجہ سے جو معاملات پارلیمنٹ میں طے ہونے چاہئیں تھے ، ان پر غور کرنے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا ۔ عدالت نے 3 نومبر دوبارہ اس معاملہ کی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سماعت کے دوران دونوں پارٹیاں کمیشن کے قواعد کے بارے میں اپنا مؤقف پیش کریں گی۔ اس کے بعد عدالت قواعد مرتب کرنے کا حتمی فیصلہ کرے گی اور کمیشن کے قیام کا اعلان کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اس معاملہ کو قومی اور عوامی اہمیت کا حامل قرار دے کر یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ اس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جا سکتی ہے۔ یہ امید کی جا سکتی ہے کہ اس فیصلہ کے بعد ملک کے سیاست دان اب ایک دوسرے کو مطعون کرنے اور غیر پارلیمانی الزامات سے گریز کرتے ہوئے عدالت اور اس کے کمیشن سے مکمل تعاون کریں گے تاکہ ملک کو پاناما پیپرز کے انکشافات کے بعد جس بے یقینی کا سامنا کرنا پڑا تھا ، اس سے باہر نکلا جا سکے۔

سپریم کورٹ کی طرف سے اس معاملہ کو پوری طرح اپنے ہاتھ میں لینے کے فیصلہ کے بعد بھی تحریک انصاف کے ترجمان نعیم الحق دو نومبر کو اسلام آباد شٹ ڈاؤن احتجاج کرنے کا اعلان کررہے تھے، تاہم پارٹی کے لیڈر عمران خان نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بنی گالہ میں اپنے حامیوں اور میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے اس احتجاج کو مؤخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو اپنے مؤقف کی فتح قرار دیا۔ انہوں نے البتہ کل اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں یوم تشکر منانے اور عظیم الشان جلسہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس جلسہ میں دس لاکھ لوگ شریک ہوں گے۔ یہ فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایت کے عین مطابق ہے۔

عمران خان کا اعلان دراصل سپریم کورٹ کے فیصلہ کی آڑ میں اس ناخوشگوار صورت حال سے بچنے کی کوشش ہے جو احتجاج اور دھرنے کے لئے لوگوں کو جمع کرنے کے حوالے سے تحریک انصاف کو درپیش تھی۔ اگرچہ عمران خان اور ان کے ساتھی مسلسل یہ دعویٰ کررہے تھے کہ وہ دس سے پندرہ لاکھ لوگ اسلام آباد میں جمع کرکے شہری زندگی معطل کردیں گے لیکن عملی طور سے وہ لوگوں کو متحرک کرنے اور بڑے اجتماع کے لئے لوگوں کو دارالحکومت لانے میں ناکام ہو رہے تھے۔ اس کی جزوی وجہ یہ بھی تھی کہ حکومت نے شاہراہوں اور موٹر وے کو رکاوٹوں کے ذریعے بند کردیا تھا۔ کل وزیر اعلیٰ پختون خوا اپنی پوری کابینہ کے ساتھ ایک ہجوم لے کر اسلام آباد آرہے تھے تو انہیں کنٹینر کھڑے کرکے اور آنسو گیس کے استعمال سے راستے میں ہی روک لیا گیا۔ لیکن وہ بھی لوگوں کا بہت بڑا انبوہ ساتھ لانے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ رپورٹوں کے مطابق یہ تعداد چند ہزار سے ذیادہ نہیں تھی۔ اسی طرح عمران خان نے جب گزشتہ جمعہ کو ملک بھر میں تحریک انصاف کے کارکنوں پر پولیس تشدد کے خلاف احتجاج کرنے کی کال دی تھی تو بھی کسی بھی شہر میں کوئی بڑا احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ عمران خان نے خود راولپنڈی جانے سے گریز کیا تھا اور شیخ رشید کو اس مشکل میں تنہا چھوڑ دیا تھا۔

تحریک کی تمام اہم قیادت بھی بنی گالہ میں ’محصور‘ رہی اور اپنے علاقوں میں جا کر لوگوں کو لانے کی کوئی منظم کوشش نہیں کی گئی۔ اس صورت حال میں اگر عمران خان اسلام آباد بند کرنے کا اعلان واپس نہ لیتے اور احتجاج کرنے کی کوشش کرتے تو ایک طرف انہیں عدالتی فیصلہ کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا جاتا تو دوسری طرف ورکروں کی قلیل تعداد کے سبب انہیں پریشانی کا سامنا ہوتا۔ پھر حکومت بھی اپنی پوری قوت کے ساتھ ان کا راستہ روکنے کے لئے تیار تھی ۔ اس طرح کوئی ناخوشگوار سانحہ تو ہو سکتا تھا لیکن کوئی بڑا سیاسی مقصد حاصل کرنا ممکن نہیں تھا۔

حکومت نے بھی تحریک انصاف کی طرف سے شٹ ڈاؤن کا اعلان واپس لینے کے بعد کنٹینر ہٹانے کا کام شروع کردیا ہے۔ اس طرح ملک بھر کے عوام گزشتہ چند روز سے جس ذہنی پریشانی کا شکار تھے ، انہیں وقتی طور پر اس مشکل سے نجات ملی ہے اور معمولات زندگی بحال ہونے شروع ہوں گے۔ سیاسی جماعتوں کو تصادم کی اس صورت حال سے سبق سیکھنے اور مستقبل میں اس سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت اگر پاناما پیپرز کی تحقیقات کے لئے غیر ضروری مزاحمت نہ کرتی اور قواعد کے بارے میں اپوزیشن کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرلیتی تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ اسی طرح عمران خان اگر اپنی مقبولیت اور پارٹی کی صلاحیتوں کے بارے میں خوش فہمی کا شکار نہ ہوتے اور ریاست کے ہر ادارے پر بداعتمادی کا اظہار نہ کرتے تو مسائل کو بہتر انداز میں حل کیا جا سکتا تھا۔

اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔ اس نے کمیشن بنانے اور تحقیقات کروانے کا اعلان کیا ہے۔ تمام سیاسی پارٹیوں کو اس کام میں عدالت عظمیٰ کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے تاکہ یہ کام جلد از جلد پایہ تکمیل کو پہنچ سکے۔بد اعتمادی اور الزام تراشی کی فضا ختم کرنا ملک میں جمہوری روایت کو مستحکم کرنے کے لئے ضروری ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali